🎴 ابن بطوطہ کا پہلا سفر
طنجہ کا نوجوان حج کے لیے نکا اور تاریخ کا عظیم ترین سیاح بنا — بارہ کارڈز میں۔
طنجہ
ابن بطوطہ 1304ء میں طنجہ میں بربر قاضیوں کے گھرانے میں پیدا ہوا۔
ارادہ
اکیس برس کی عمر میں اس نے حج کی نیت کی اور تن تنہا نکل پڑا۔
زمینی راستہ
وہ زمینی راستے سے تلمسان، بجایہ اور قسنطینہ ہوتے ہوئے تونس گیا۔
شادی
تونس میں اس نے قاضی کی بیٹی سے شادی کی اور سسرال میں دو مہینے رہا۔
طرابلس
وہ طرابلس پھر برقہ جانے والے قافلے میں شامل ہوا، دلہن ساتھ۔
اسکندریہ
وہ اسکندریہ پہنچا اور اس کا مینار، کھجوریں اور قدیم مدارس دیکھے۔
ولی
ایک صالح شخص نے اس سے کہا: میں تم پر سفر کی محبت دیکھتا ہوں۔
قاہرہ
قاہرہ اسے بہت بھایا — اس نے اسے ام البلاد اور دنیا کا مشرق کہا۔
دریائے نیل
وہ نیل پر صعید مصر تک گیا پھر حجاج کے قافلے سے ملنے لوٹا۔
عیداب
اس نے عیداب سے جدہ جانا چاہا مگر نہ ہوا، تو لوٹا اور راستہ بدلا۔
دمشق اور مدینہ
وہ دمشق سے گزرا وہاں کے مقامات دیکھے، پھر مدینہ اور مسجدِ نبوی۔
مکہ آخرکار
وہ حاجی بن کر مکہ داخل ہوا، اور اس کے سفر ختم نہ ہوئے — تیس برس اور پچہتر ہزار میل۔
1 / 12
- طنجہ
ابن بطوطہ 1304ء میں طنجہ میں بربر قاضیوں کے گھرانے میں پیدا ہوا۔ - ارادہ
اکیس برس کی عمر میں اس نے حج کی نیت کی اور تن تنہا نکل پڑا۔ - زمینی راستہ
وہ زمینی راستے سے تلمسان، بجایہ اور قسنطینہ ہوتے ہوئے تونس گیا۔ - شادی
تونس میں اس نے قاضی کی بیٹی سے شادی کی اور سسرال میں دو مہینے رہا۔ - طرابلس
وہ طرابلس پھر برقہ جانے والے قافلے میں شامل ہوا، دلہن ساتھ۔ - اسکندریہ
وہ اسکندریہ پہنچا اور اس کا مینار، کھجوریں اور قدیم مدارس دیکھے۔ - ولی
ایک صالح شخص نے اس سے کہا: میں تم پر سفر کی محبت دیکھتا ہوں۔ - قاہرہ
قاہرہ اسے بہت بھایا — اس نے اسے ام البلاد اور دنیا کا مشرق کہا۔ - دریائے نیل
وہ نیل پر صعید مصر تک گیا پھر حجاج کے قافلے سے ملنے لوٹا۔ - عیداب
اس نے عیداب سے جدہ جانا چاہا مگر نہ ہوا، تو لوٹا اور راستہ بدلا۔ - دمشق اور مدینہ
وہ دمشق سے گزرا وہاں کے مقامات دیکھے، پھر مدینہ اور مسجدِ نبوی۔ - مکہ آخرکار
وہ حاجی بن کر مکہ داخل ہوا، اور اس کے سفر ختم نہ ہوئے — تیس برس اور پچہتر ہزار میل۔
وہ کتابیں جن سے یہ کہانی بیان ہوئی ہے