🎴 سمرقند کا رصد خانہ
ایک شہزادہ جس نے ستارے اس درستگی سے ناپے کہ دوربین سے پہلے کوئی نہ پہنچا — بارہ کارڈز میں۔
شہزادہ
الغ بیگ، پندرہویں صدی میں سمرقند کا حاکم، تیمور کا پوتا تھا۔
عالم
وہ بادشاہی سے زیادہ ریاضی اور فلکیات سے محبت رکھتا تھا اور علماء کو جمع کیا۔
مدرسہ
اس نے ریگستان چوک میں مدرسہ بنایا جہاں فلکیات، فقہ اور نحو پڑھائی جاتی۔
پہاڑی
شہر کے شمال میں کوہک کی پہاڑی پر اس نے رصد خانہ بنایا — اپنے زمانے کا سب سے بڑا۔
ربع دائرہ
رصد خانے کے فرش میں ایک بڑا ربع دائرہ نصب ہوا — آدھا زمین میں، آدھا اوپر۔
پیمائش
اس نے سورج اور ستاروں کی بلندی درجے کے ثانیوں تک درستگی سے ناپی۔
فلکی دان
قاضی زادہ رومی، علی قشجی اور جمشید کاشی اس کے ساتھ کام کرتے تھے۔
سال
اس نے نجومی سال کی لمبائی نکالی: 365 دن، 6 گھنٹے، 10 منٹ، 8 سیکنڈ۔
زیج
اس نے زیجِ سلطانی لکھی — ہزار ستاروں کے مقامات، طلوع اور فاصلے۔
درستگی
اس کی جدولیں دنیا کی درست ترین رہیں یہاں تک ڈیڑھ صدی بعد ٹائیکو براہی آیا۔
اختتام
1449ء میں اپنے بیٹے کے حکم سے اس دنیا سے رخصت ہوا اور رصد خانہ گرا دیا گیا — صرف ربع دائرہ بچا۔
میراث
رصد خانے کے کھنڈر 1908ء میں ملے؛ ربع دائرہ آج بھی سمرقند میں کھڑا ہے۔
1 / 12
- شہزادہ
الغ بیگ، پندرہویں صدی میں سمرقند کا حاکم، تیمور کا پوتا تھا۔ - عالم
وہ بادشاہی سے زیادہ ریاضی اور فلکیات سے محبت رکھتا تھا اور علماء کو جمع کیا۔ - مدرسہ
اس نے ریگستان چوک میں مدرسہ بنایا جہاں فلکیات، فقہ اور نحو پڑھائی جاتی۔ - پہاڑی
شہر کے شمال میں کوہک کی پہاڑی پر اس نے رصد خانہ بنایا — اپنے زمانے کا سب سے بڑا۔ - ربع دائرہ
رصد خانے کے فرش میں ایک بڑا ربع دائرہ نصب ہوا — آدھا زمین میں، آدھا اوپر۔ - پیمائش
اس نے سورج اور ستاروں کی بلندی درجے کے ثانیوں تک درستگی سے ناپی۔ - فلکی دان
قاضی زادہ رومی، علی قشجی اور جمشید کاشی اس کے ساتھ کام کرتے تھے۔ - سال
اس نے نجومی سال کی لمبائی نکالی: 365 دن، 6 گھنٹے، 10 منٹ، 8 سیکنڈ۔ - زیج
اس نے زیجِ سلطانی لکھی — ہزار ستاروں کے مقامات، طلوع اور فاصلے۔ - درستگی
اس کی جدولیں دنیا کی درست ترین رہیں یہاں تک ڈیڑھ صدی بعد ٹائیکو براہی آیا۔ - اختتام
1449ء میں اپنے بیٹے کے حکم سے اس دنیا سے رخصت ہوا اور رصد خانہ گرا دیا گیا — صرف ربع دائرہ بچا۔ - میراث
رصد خانے کے کھنڈر 1908ء میں ملے؛ ربع دائرہ آج بھی سمرقند میں کھڑا ہے۔
وہ کتابیں جن سے یہ کہانی بیان ہوئی ہے