ایک نظر میں
- دور
- العصر النبوي
- خطہ
- global
- جائزہ
- مسودہ تکمیل 1/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
خلاصہ
فقہاء کی اصطلاح میں کدک وہ چیز ہے جو دکان میں مستقل طور پر قائم کی جائے اور آسانی سے منتقل نہ ہو، جیسے عمارت، جڑی ہوئی الماریاں اور کنڈیاں؛ کتاب میں اسے سکنیٰ بھی کہا گیا ہے 1۔ اس لفظ کا اطلاق دکان میں غیر مستقل طور پر رکھی ہوئی چیزوں پر، اور اس رقم پر بھی ہوتا ہے جو انتفاع کے حق کے بدلے دی جائے، جسے خلو کہتے ہیں 1 7۔
متعلقہ الفاظ
کردار وہ عمارت، پودا یا زمین کو مٹی سے بھرنا ہے جو کرایہ دار یا کاشتکار واقف یا ناظر کی اجازت سے زمین میں کرے، اور یہ کدک سے عام ہے 7۔ مرصد وہ مستقل قرض ہے جو وقف پر اس کرایہ دار کا ہو جس نے اپنے مال سے ضروری مرمت کی ہو، اور اسے عمارت بیچنے کا حق نہیں 7۔ مسکہ دوسرے کی زمین میں ہل چلانے کا حق ہے، جس کی قیمت نہیں لگتی اور نہ وہ بیچی یا وراثت میں دی جاتی ہے 7۔ خلو مالک کو وقف کی منفعت کا حصہ دیتا ہے نہ کہ اعیان کو، جبکہ کدک کرایہ دار کی ملکیت کی اعیان ہیں 2۔
وقف عمارت میں حقِ قرار
وقف عمارت میں کرایہ دار اگر ایسی چیز بنائے جو مستقل رہنے کے لیے ہو تو اسے حقِ قرار حاصل ہوتا ہے، بشرطیکہ وہ کدک کے بغیر دکان کی اجرت مثل ادا کرتا رہے؛ یہ حنفیہ کا مذہب ہے اور مالکیہ بھی اسی کے قائل ہیں 2۔ مرشد الحیران کے مطابق زمین سے متصل عمارت، پودا یا مستقل تنصیب کدک ہے، جو متقوم مال ہے، بیچا اور وراثت میں دیا جاتا ہے، اور اس کے مالکوں کو اجرت مثل پر برقرار رکھنے کا حق ہے 2۔
ان فقہاء کے نزدیک اس کی شرائط یہ ہیں: ناظر کی اجازت، کیونکہ بغیر اجازت رکھا گیا کدک معتبر نہیں؛ وقف کو نقصان سے بچانے کے لیے اجرت مثل کی ادائیگی؛ اور نقصان کا نہ ہونا، اگر کرایہ دار سے وقف کی بنیاد کو خطرہ ہو تو قاضی اجارہ فسخ کر کے اسے نکال دیتا ہے 3 8۔ عقد کے بعد اجرت مثل بہت بڑھ جائے تو حنفیہ کے اصح قول کے مطابق بڑھی ہوئی اجرت پر عقد کی تجدید واجب ہے 8۔
نجی ملکیت میں کدک
اگر کدک مملوک دکان میں ہو تو مالک کرایہ دار کو اسے ہٹانے کا پابند کر سکتا ہے، کیونکہ اجارہ مدت گزرنے پر ختم ہو جاتا ہے اور اس کا کوئی اثر باقی نہیں رہتا، جس پر اجماع ہے۔ ابن عابدین نے مالک کا حق (جو اپنی ملکیت کو کرائے پر نہ دینا چاہے) اور وقف کا فرق بیان کیا، جو کرائے پر دیا جانا ضروری ہے 4۔ نووی اور شافعیہ و حنابلہ کے نزدیک کرائے کی زمین پر بنائی گئی عمارت یا پودا کرایہ دار کی ملک ہے، اور ابن رجب کے مطابق مدت ختم ہونے کے بعد مالک اسے قیمت پر لے سکتا ہے؛ شرطِ قلع کے اثر میں اختلاف ہے 9۔
کدک کا وقف اور بیع
حنفیہ کدک کا وقف جائز نہیں کہتے، کیونکہ اس کا عام رواج نہیں، جبکہ عمارت اور درختوں کا وقف رائج ہے؛ مالکیہ کی عبارات سے اس کا جواز سمجھا جاتا ہے، اور غرقاوی کے مطابق خلو کے وقف کی صحت پر عمل رہا ہے 9 5۔ شافعیہ اور حنابلہ کی کدک کے وقف پر کوئی صریح نص کتاب میں نہیں ملا، البتہ وہ عمارت اور پودوں کا وقف جائز کہتے ہیں 5۔
جس کرایہ دار کو حقِ قرار حاصل ہو وہ اپنا لگایا ہوا کدک بیچ سکتا ہے، اور حقِ قرار خریدار کی طرف منتقل ہو جاتا ہے، جسے زمین کی اجرت مثل ادا کرنی ہوگی 5 6۔
شفعہ
حنفیہ اور شافعیہ زمین کے بغیر عمارت کی بیع میں شفعہ نہیں مانتے، اور ابن عابدین نے ابو السعود کی اس رائے کو رد کیا کہ زمین سے متصل خلو میں شفعہ جاری ہوتا ہے۔ مالکیہ کے نزدیک محتکرہ وقفی زمین میں عمارت میں شریک شخص کو شفعہ کا حق ہے 6۔
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
سوق المدينة (حلب)· بازار تبريز· خان الخليلي· سوق الحميدية· سوق واقف· أجر المثل· أخي بابا· العقيق
ماخذ
- الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.13213
- الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.13215
- الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.13216
- الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.13218
- الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.13220
- الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.13221
- الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.13214
- الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.13217
- الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.13219
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “کدک (دکان کی تنصیبات اور حقِ قرار)”. islam.museum، https://islam.museum/ur/concept/kadik/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-23.