موقوف (معلق عقد جو اجازت یا شرط پر موقوف ہو)

المَوْقُوف (العقد الموقوف على إجازة أو شرط)

موقوف فقہاء کے نزدیک وہ تصرف ہے جو اصلاً جائز ہو مگر اجازت یا شرط پوری ہونے تک معلق رہے، جیسے فضولی یا محجور کی بیع۔ حنفیہ اسے قابل صحت اور فاسد میں تقسیم کرتے ہیں، اور شافعیہ کے نزدیک اس کی چھ قسمیں ہیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

جائزہ
مسودہ تکمیل 1/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

خلاصہ

موقوف وہ تصرف ہے جو اصلاً درست ہو مگر کسی ایسے شخص کی اجازت پر موقوف ہو جس کا حق اس میں شامل ہو۔ حنفیہ اور شافعیہ کی تقسیم، اور مالک کی اجازت کے تصرفات کی مثالیں فقہاء نے بیان کی ہیں۔ 1 2

ماخذ

  1. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.15302
  2. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.15305
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “موقوف (معلق عقد جو اجازت یا شرط پر موقوف ہو)”. islam.museum، https://islam.museum/ur/concept/mawquf/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-23.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON