احمد کفتارو

أحمد كفتارو

– †

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

دمشق

سوری کرد عالم اور نقشبندی صوفی شیخ، جو 1964 سے 2004 میں وفات تک شام کے مفتی اعظم رہے؛ بین المذاہب مکالمے کی دعوت اور دمشق میں اپنے تعلیمی و فلاحی اداروں کے لیے معروف۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
عالم · mufti · sufi · teacher
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد اللطيف تشودري الفلتالي · آدم عبد اللہ عثمان · علي صافي الكلبايكاني · محمد سرفراز خان صفدر · نجیب محفوظ

مکان میں

دمشق

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    سنی (مستند)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    احمد بن محمد امین کفتارو (وفات: 1 ستمبر 2004ء) کرد نژاد سوری عالم، شام میں نقشبندی صوفی سلسلے کے شیخ، اور 1964ء سے وفات تک سوری عرب جمہوریہ کے مفتی اعظم تھے — ملک کے سب سے بڑے سرکاری افتاء کے منصب پر چالیس برس۔ 1 2

    ان کی پیدائش کے سال میں ماخذوں کا اختلاف ہے: انگریزی مضمون دسمبر 1915ء دیتا ہے اور ویکی ڈیٹا 1915ء، جبکہ عربی مضمون ہر جگہ 1912ء دیتا ہے۔ اس ریکارڈ میں انگریزی مضمون اور ویکی ڈیٹا کی روایت لی گئی ہے اور اختلاف درج کر دیا گیا ہے۔ 1 2 3

    وہ بین المذاہب مکالمے کی دعوت اور تعلیمی و فلاحی اداروں کے قیام کے لیے معروف تھے۔ ان کے پیروکار انہیں اسلامی فکر کے مجددوں میں شمار کرتے ہیں، جبکہ مخالفین نے ان پر اسد حکومت کی وفاداری اور اس کی حکمرانی کو جواز فراہم کرنے کا الزام لگایا۔ 2

    زندگی اور منصب

    ان کا خاندان ترکی کے صوبہ ماردین کے گاؤں کرما سے تھا اور 1878ء میں دمشق آ کر کرد محلے میں مسجد ابی النور کے قریب آباد ہوا۔ وہ دمشق کے محلہ رکن الدین میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محمد امین کفتارو عالم تھے۔ انہوں نے دمشق کے علماء سے قرآن، تفسیر، حدیث اور شافعی فقہ کی کلاسیکی تعلیم حاصل کی۔ 1 2

    1938ء میں والد کی وفات کے بعد انہوں نے ان کے حلقے میں ارشاد و تعلیم سنبھالی۔ 1948ء میں وہ قنیطرہ کے دار الافتاء میں دینی مدرس مقرر ہوئے، 1950ء میں دمشق منتقل ہوئے، 1951ء میں دمشق کے مفتی بنے، اور 1964ء میں شام کے مفتی اعظم اور مجلس افتاء اعلیٰ کے صدر منتخب ہوئے اور وفات تک اس منصب پر رہے۔ 2 1

    ادارے اور حوار

    ان کی جماعت «کفتاریہ» نقشبندی سلسلے کی خالدی شاخ سے جڑی صوفی تحریک ہے۔ انہوں نے 1949ء میں انصار ثانوی مدرسہ، 1952ء میں جمعیت انصار خیریہ اور 1964ء میں بدر انسٹیٹیوٹ برائے طالبات قائم کیا۔ ان کا آٹھ منزلہ مجمع، جو 1974ء میں کھلا، مسجد، شرعی مدارس اور دعوت، اصول الدین اور شریعہ و قانون کی کلیات پر مشتمل ہوا۔ 2

    انہوں نے مذاہب کے درمیان مکالمے اور ایک ہی معاشرے میں مختلف مذاہب کے پرامن بقائے باہمی کی دعوت دی، اور سوری سرکاری اسلام کے نمائندے کے طور پر کئی ممالک کا دورہ کیا، جن میں 1985ء کا روم کا دورہ بھی تھا جہاں انہوں نے پوپ سے ملاقات کی۔ 1 2

    وفات

    وہ بدھ 17 رجب 1425ھ، مطابق 1 ستمبر 2004ء، کو وفات پا گئے۔ ان کی نمازِ جنازہ اگلے دن دمشق کی اموی مسجد میں ادا کی گئی اور انہیں اپنے مجمع میں دفن کیا گیا۔ 2

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    دمشق
    Lived in
    دمشق
    Taught
    محمد خیر الشعال

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    محمد خیر الشعال· دمشق· الكهف بقاسيون (كهف جبريل)· قصر هرقل (شمس الملوك)· الجامع الأموي بدمشق· فتنة الحافظ عبد الغني بدمشق سنة 595· حصر الأفضل دمشق وعوده عنها· استيلاء العادل على دمشق

    ماخذ

    1. Ahmed Kuftaro — English Wikipedia
    2. أحمد كفتارو — ويكيبيديا العربية
    3. Ahmed Kuftaro — Wikidata Q324491
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “احمد کفتارو”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ahmed-kuftaro/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-24.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    محمد خیر الشعال

    سوری دندان ساز، مبلغ اور مصنف، جو 1970 میں دمشق کے محلہ الصالحیہ میں پیدا ہوئے۔ وہ اپنے کلینک میں دندان سازی کے ساتھ خطابت، دینی تدریس اور ٹیلی ویژن و ریڈیو پروگراموں کو جمع کیے ہوئے ہیں، اور ان کی کتابیں وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی ہیں۔