احمد یاسین

أحمد ياسين

– †

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

غزة

احمد یاسین (1936ء – 22 مارچ 2004ء) فلسطینی مبلغ اور سیاست دان تھے جو عسقلان کے قریب گاؤں الجورہ میں پیدا ہوئے اور 1948ء میں خاندان کے ساتھ غزہ آئے؛ سولہ برس کی عمر سے وہ چاروں اعضاء سے معذور تھے۔ غزہ میں عربی کے استاد اور مساجد کے خطیب رہے، اخوان المسلمین کی فلسطینی شاخ کے قیام میں شریک ہوئے، 1973ء میں المجمع الاسلامی اور 1987ء میں حماس کے شریکِ بانی بنے اور اس کے روحانی رہنما قرار پائے۔ اسرائیل نے 1989ء میں انہیں عمر قید دی، 1997ء میں اردن کے ساتھ تبادلے میں رہا کیا، اور 22 مارچ 2004ء کو غزہ میں میزائل حملے میں شہید کر دیا۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان · واعظ
خطہ
levant-iraq
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبدالرحمن یوسفی · عبد الحميد خان سواتي · عبد اللطيف تشودري الفلتالي · عبد القدیر خان · عبد الستار ایدھی

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    احمد اسماعیل حسن یاسین (1936ء – 22 مارچ 2004ء) فلسطینی مبلغ اور سیاست دان تھے، حماس کے بانی اور اس کے روحانی رہنما۔ وہ عسقلان کے قریب گاؤں الجورہ میں پیدا ہوئے، 1948ء میں خاندان کے ساتھ غزہ آئے، اور سولہ برس کی عمر میں ایک کھیل کے حادثے سے چاروں اعضاء سے معذور ہو گئے۔ غزہ میں عربی کے استاد اور مساجد کے خطیب رہے، فلسطین میں اخوان المسلمین کی شاخ کے قیام میں شریک ہوئے اور 1973ء میں المجمع الاسلامی قائم کیا۔ 1 2

    ان کی تاریخِ پیدائش میں ماخذ مختلف ہیں: عربی مضمون 28 جون 1936ء دیتا ہے، انگریزی مضمون «جون 1936ء/37ء» لکھتا ہے اور بتاتا ہے کہ ان کے فلسطینی پاسپورٹ پر 1 جنوری 1929ء درج تھا، جبکہ ان کا اپنا دعویٰ یہ تھا کہ وہ 1936ء کے موسمِ گرما میں پیدا ہوئے۔ 1 2

    ابتدائی زندگی

    ان کے والد عبد اللہ ان کے بچپن ہی میں وفات پا گئے تھے۔ 1948ء کی جنگ میں خاندان غزہ کے الشاطی کیمپ میں آباد ہوا۔ 15 جولائی 1952ء کو دوست سے کشتی کے دوران ان کی ریڑھ کی ہڈی شدید زخمی ہوئی اور وہ زندگی بھر معذور رہے۔ قاہرہ کی عین شمس یونیورسٹی میں داخلہ لیا مگر صحت اور مالی حالات کی وجہ سے تعلیم مکمل نہ ہو سکی؛ گھر پر فلسفہ، مذہب، سیاست اور معاشیات کا وسیع مطالعہ کیا اور جمعہ کی نماز کے بعد خطبے دینے لگے۔ بعد میں وہ غزہ کے رمال میں پرائمری اسکول کے استاد بنے اور 1960ء میں حلیمہ یاسین سے شادی کی، جن سے ان کے گیارہ بچے ہوئے۔ 1

    حماس، قید اور شہادت

    1973ء میں انہوں نے غزہ میں خیراتی ادارہ المجمع الاسلامی قائم کیا، جسے اسرائیل نے 1979ء میں تسلیم کیا۔ 1984ء میں اسلحہ ذخیرہ کرنے پر قید ہوئے اور 1985ء میں جبریل معاہدے میں رہا ہوئے۔ 1987ء میں، پہلے انتفاضہ کے دوران، انہوں نے عبد العزیز الرنتیسی کے ساتھ مل کر حماس کی بنیاد رکھی اور اس کے روحانی قائد بنے۔ 1 3

    اسرائیل نے 1989ء میں انہیں گرفتار کر کے عمر قید کی سزا دی۔ 1997ء میں اردن میں خالد مشعل پر موساد کے ناکام قاتلانہ حملے کے بعد ہونے والے تبادلے میں وہ رہا ہوئے اور غزہ واپس آ کر حماس کی قیادت سنبھالی۔ 6 ستمبر 2003ء کو ایک فضائی حملے میں وہ بچ گئے، مگر 22 مارچ 2004ء کو فجر کی نماز سے واپسی پر اسرائیلی ہیلی کاپٹر کے میزائل حملے میں وہ اپنے دو معاونین اور سات راہگیروں سمیت شہید ہو گئے؛ ان کے جنازے میں تقریباً دو لاکھ افراد شریک ہوئے اور حملے کی بین الاقوامی مذمت ہوئی۔ 1 4

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Died in
    غزة

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    زلزلة الرملة وارتداد البحر سنة 425· هاشم بن عبد مناف· إسماعيل الكوراني· یاسر عرفات· غزة

    ماخذ

    1. Ahmed Yassin — English Wikipedia
    2. Ahmed Yassin — Arabic Wikipedia
    3. Ahmed Yassin — Urdu Wikipedia
    4. Ahmed Yassin — Wikidata Q188653
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “احمد یاسین”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ahmed-yassin/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    زلزلة الرملة وارتداد البحر سنة 425

    In 425 a black wind tore through Nisibis uprooting orchards and throwing down a masonry palace, hail fell in shapes like hands, pillars and fingers, an earthquake ruined half of Ramla, villages were swallowed, part of the wall of Bayt al-Maqdis fell and Ascalon's congregational-mosque minaret collapsed, and the sea drew back some three farsakhs before returning to take people who had gone out gathering fish and shells.