علی ارباش

علي أرباش

ترک اسلامی عالم، تاریخِ مذاہب کے ماہر اور جامعاتی استاد، جو 2017 سے 2025 تک ترکی کی مذہبی امور کی صدارت (دیانت) کے صدر رہے۔ اس منصب سے ان کے خطبات اور بیانات ترکی کے اندر اور باہر وسیع سامعین تک پہنچے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
عالم
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عباس محمود العقاد · عبد العزيز الغماري

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    علی ارباش (پیدائش 10 ستمبر 1961) ترک اسلامی عالم ہیں جو تاریخِ مذاہب کے ماہر ہیں، اور 2017 سے 2025 تک ترکی کی مذہبی امور کی صدارت (دیانت) کے صدر رہے۔ اس منصب سے ان کے خطبات — بالخصوص 2020 کا آیا صوفیہ خطبہ — اور بیانات ترکی کے اندر اور باہر وسیع سامعین تک پہنچے اور بعض پر عوامی تنازع بھی اٹھا۔ 1 2

    تعلیم اور علمی سفر

    ارباش صوبہ اردو کے قبادوز میں 1961 میں پیدا ہوئے؛ انہوں نے ساکاریہ کے امام خطیب اسکول سے 1984 میں گریجویشن کی، مرمرہ یونیورسٹی سے 1987 میں ماسٹرز اور 1993 میں تاریخِ مذاہب میں ڈاکٹریٹ حاصل کی۔ وہ 1993 میں ساکاریہ یونیورسٹی کی الٰہیات فیکلٹی میں لیکچرر بنے، اسٹراسبرگ یونیورسٹی میں ایک سال مہمان استاد رہے، 1998 میں ایسوسی ایٹ پروفیسر اور 2004 میں پروفیسر بنے، اور 2016 میں یالووا یونیورسٹی کے ریکٹر نامزد ہوئے۔ 1 2

    دیانت کی صدارت

    ارباش ستمبر 2017 میں محمد گورمز کے جانشین کے طور پر مذہبی امور کے صدر مقرر ہوئے، اور انگریزی مضمون کے مطابق ان کا دور 2025 تک جاری رہا۔ 1 2 اس حیثیت سے انہوں نے 24 اپریل 2020 کو آیا صوفیہ میں ایک خطبے میں کہا کہ ہم جنس پرستی بیماریوں کا سبب بنتی ہے، جس پر انقرہ اور دیار بکر کی بار ایسوسی ایشنز نے تنقید کی؛ دونوں ایسوسی ایشنز کے خلاف مذہبی اقدار کی توہین کے الزام میں تفتیش ہوئی، جبکہ صدر ایردوان نے ارباش کی حمایت کی۔ 1

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • عربی مضمون ان پر مختصر ہے؛ دستاویزی مضامین بڑھنے پر یہ صفحہ بھی بڑھایا جائے گا۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    ماخذ

    1. Ali Erbaş — English Wikipedia
    2. علي أرباش — ويكيبيديا العربية
    • Ali Erbaş — Wikidata Q40467872
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “علی ارباش”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ali-erbas/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-24.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔