علی یوسف کینادید

علي يوسف كيناديد

مقديشو

علی یوسف کینادید (وفات مقدیشو؛ تاریخ وفات کے اختلاف کے لیے اعداد و شمار دیکھیں)، ہوبیو کے دوسرے اور آخری سلطان۔ وہ سلطنت کے بانی یوسف علی کینادید کے بیٹے اور صومالی کے عثمانیہ رسم الخط کے موجد عثمان یوسف کینادید کے بھائی تھے۔ ولی عہد کی حیثیت سے والد کے ساتھ عدن پھر اریٹریا جلا وطن ہوئے جب درویشوں کے تعاقب کے لیے برطانوی دستے کو اترنے کی اجازت سے والد کے انکار پر اٹلی سے تعلقات بگڑ گئے۔ 1911ء میں والد کے جانشین بنے اور 28 ستمبر 1911ء سے 1925ء تک حکمران رہے، جب اٹلی کی مہم نے ان کا دور ختم کیا اور 1927ء میں ہوبیو اطالوی صومالی لینڈ میں ضم ہو گئی۔ کسی مأخذ میں ان کی تاریخ پیدائش نہیں ملتی اور ان کی وفات کے سال میں ان کے اپنے مضمون کے مآخذ میں اختلاف ہے (متن میں 1927ء، صندوق اطلاعات میں قبر کے صفحے کے حوالے سے 1936ء)۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
sultan
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس حلمی ثانی · عباس محمود العقاد · عبد العزيز الغماري · عبد الفتاح ابو غدہ

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    علی یوسف کینادید ہوبیو کے دوسرے اور آخری سلطان تھے، اس کے بانی یوسف علی کینادید کے بیٹے اور جانشین، اور صومالی کے عثمانیہ رسم الخط کے موجد عثمان یوسف کینادید کے بھائی۔ 1 کسی مأخذ میں ان کی تاریخ پیدائش نہیں ملتی اور ان کی وفات کے سال پر ان کے اپنے مضمون کے مآخذ میں اختلاف ہے، جو ذیل میں مکمل بیان کیا گیا ہے۔

    زندگی اور کارنامے

    وہ ماجرتین دارود خاندان میں پیدا ہوئے اور والد کے ولی عہد تھے۔ 1 والد نے 1888ء کے آخر میں اٹلی سے معاہدہ تحفظ کیا جس میں اطالوی مداخلت ممنوع تھی، بعد میں درویشوں کے تعاقب کے لیے برطانوی دستے کو اترنے کی اجازت سے والد کے انکار پر تعلقات بگڑے تو اٹلی نے سلطان کو عدن پھر اریٹریا جلا وطن کیا اور ولی عہد علی یوسف کو بھی ساتھ جلا وطن کیا گیا۔ 1 1911ء میں وہ والد کے جانشین بنے، ان کی تاج پوشی 5 اکتوبر کو بتائی جاتی ہے اور دور حکومت 28 ستمبر 1911ء سے 1925ء تک رہا، پھر 1927ء میں ہوبیو اطالوی صومالی لینڈ میں ضم ہو گئی اور سلطنت ختم ہو گئی۔ 2

    وفات اور اس کی تاریخ کا اختلاف

    ان کے مضمون کا متن وفات 1927ء بتاتا ہے جبکہ اسی مضمون کا صندوق اطلاعات قبر کے صفحے کے حوالے سے وفات 1936ء میں مقدیشو بتاتا ہے؛ اعداد و شمار میں مستند حوالے والی 1936ء درج ہے اور 1927ء بھی نوٹ میں پوری بیان کر دی گئی ہے، جبکہ فہرست کی تاریخیں (1880ء–1940ء) کسی مأخذ سے ثابت نہیں۔ 1 ان کے مذہب کی واحد شہادت بھی صندوق اطلاعات کی اکیلی سطر «مذہب: اسلام» ہے، اسی لیے ان کا ایمان «نامعلوم» درج ہے۔

    حوالہ جات

    • اوپر مستشہد شدہ معرّف ذرائع، جو data/source/ میں درج ہیں۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Child of
    یوسف علی کینادید
    Successor of
    یوسف علی کینادید
    Died in
    مقديشو

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    عبدالرشید علی شرمارکی· احمد حسین· آیان ہرسی علی· فرتون عدن· حسن شیخ محمود· حوا عبدی· الحان عمر· الواد علمان

    ماخذ

    1. Ali Yusuf Kenadid — English Wikipedia
    2. Sultanate of Hobyo — English Wikipedia
    • Yusuf Ali Kenadid — English Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “علی یوسف کینادید”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ali-yusuf-kenadid/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    عبدالرشید علی شرمارکی

    صومالی سیاست دان (1919ء–1969ء) جن کا تعلق ہراردھیرے سے تھا؛ صومالیہ کے پہلے وزیر اعظم (1960ء–1964ء) اور پھر 1967ء کے انتخاب میں آدم عدی کو شکست دے کر اس کے دوسرے صدر (1967ء–1969ء) بنے؛ 15 اکتوبر 1969ء کو لاس عنود میں ان کے ایک محافظ نے انھیں قتل کر دیا، اور چھ دن بعد سیاد باری کی بغاوت ہوئی۔