عظیم پریمجی

عظيم بريمجي

ہندوستانی کاروباری اور فلاحی شخصیت، جو 1945 میں بمبئی میں ایک مسلم خاندان میں پیدا ہوئے۔ 1966 میں اکیس برس کی عمر میں انہوں نے اپنے والد کی نباتی تیل کی کمپنی سنبھالی اور اسے عالمی آئی ٹی خدمات کی کمپنی «وِپرو» میں بدل دیا؛ 2001 میں تعلیم پر مرکوز عظیم پریمجی فاؤنڈیشن قائم کی اور اپنی دولت کا بڑا حصہ اسے منتقل کیا، اور ہندوستان کی فلاحی فہرستوں میں سرِ فہرست رہے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
businessman · philanthropist
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عباس محمود العقاد · عبد العزيز الغماري

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    عظیم ہاشم پریمجی (پیدائش 24 جولائی 1945) ہندوستانی کاروباری اور فلاحی شخصیت ہیں، جو بمبئی (آج کا ممبئی) میں ایک مسلم خاندان میں پیدا ہوئے۔ 1966 میں، اکیس برس کی عمر میں، انہوں نے اپنے والد کی قائم کردہ نباتی تیل کی کمپنی سنبھالی اور دہائیوں میں اسے دنیا کی سب سے بڑی آئی ٹی خدمات کمپنیوں میں سے ایک، «وِپرو»، میں بدل دیا؛ وہ «ہندوستانی آئی ٹی صنعت کے زار» کہلائے۔ 2001 میں انہوں نے تعلیم پر مرکوز عظیم پریمجی فاؤنڈیشن قائم کی اور اپنی دولت کا بڑا حصہ — مجموعی طور پر تقریباً 21 ارب ڈالر — اسے منتقل کیا، اور ہندوستان کی فلاحی فہرستوں میں سرِ فہرست رہے۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    ان کے والد محمد ہاشم پریمجی «برما کے چاول کے بادشاہ» کے نام سے مشہور تاجر تھے، جنہوں نے 1945 میں امالنیر میں ویسٹرن انڈیا ویجیٹبل پروڈکٹس لمیٹڈ قائم کی۔ تقسیمِ ہند کے وقت محمد علی جناح نے ان کے والد کو پاکستان منتقل ہونے کی دعوت دی، مگر پریمجی خاندان — ایک مسلم خاندان — نے انکار کر کے ہندوستان ہی میں رہنے کا فیصلہ کیا۔ عظیم پریمجی اسٹینفورڈ یونیورسٹی میں برقی انجینئرنگ پڑھ رہے تھے کہ 1966 میں والد کا اچانک انتقال ہو گیا؛ انہوں نے گریجویشن مؤخر کی اور اکیس برس کی عمر میں خاندانی کمپنی سنبھال لی۔ 1 2

    عملی زندگی

    انہوں نے کمپنی کو بیکری فیٹس، ٹوائلٹریز، صابن، بچوں کی مصنوعات، روشنی اور ہائیڈرولک سلنڈرز تک متنوع بنایا اور 1977 میں اس کا نام «وِپرو» رکھا۔ آئی بی ایم کے ہندوستان سے نکلنے کے بعد 1980 میں وِپرو آئی ٹی کے شعبے میں داخل ہوئی اور بالآخر دس ارب ڈالر سے زائد آمدنی والی عالمی ٹیکنالوجی خدمات کی کمپنی بن گئی۔ جولائی 2019 میں ان کے بیٹے رشاد پریمجی ایگزیکٹو چیئرمین بنے؛ عظیم پریمجی غیر ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور بانی چیئرمین کے طور پر وابستہ رہے۔ 1 2

    فلاحی کام

    دسمبر 2010 میں انہوں نے وِپرو کے 21 کروڑ 30 لاکھ شیئرز (8.7 فیصد)، تقریباً دو ارب ڈالر مالیت، اپنی فاؤنڈیشن کو دینے کا عہد کیا۔ 2013 میں وہ «دی گیونگ پلیج» پر دستخط کرنے والے پہلے ہندوستانی بنے، اور مزید حصص دیتے دیتے مارچ 2019 تک ان کا کل عطیہ تقریباً 21 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ کووڈ-19 کے دوران ان کی فاؤنڈیشن اور وِپرو نے بڑے عطیات دیے، جن میں اپریل 2020 میں 1,125 کروڑ روپے اور جون 2021 میں مزید 1,000 کروڑ روپے شامل ہیں۔ 1

    ذرائع میں مذہب

    انگریزی ویکیپیڈیا کے مطابق وہ گجراتی شیعہ نزاری اسماعیلی خوجہ مسلم خاندان میں پیدا ہوئے، جبکہ برٹانیکا ان کے خاندان کو صرف «ایک مسلم خاندان» کہتی ہے۔ خاندانی پس منظر ذاتی شہادت نہیں ہوتا اور کوئی دوسرا ماخذ ان کا اپنا مسلک نہیں بتاتا، اس لیے عجائب گھر اپنے اصول کے مطابق ان کا مذہب «نامعلوم» درج کرتا ہے۔ 1 2 3

    اعزازات

    انہیں پدما بھوشن (2005)، پدما وبھوشن (2011) اور فرانس کا شیوالیے دے لا لیژیون دھونور (2018) ملا؛ ٹائم میگزین نے 2004 اور 2011 میں انہیں ٹائم 100 میں شامل کیا، اور فوربز نے 1999 سے 2005 تک انہیں ہندوستان کا امیر ترین شخص قرار دیا۔ 1 3

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    ماخذ

    1. Azim Premji — English Wikipedia
    2. Azim Premji — Encyclopaedia Britannica
    3. عظيم بريمجي — ويكيبيديا العربية
    • Azim Premji — Wikidata Q380152
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “عظیم پریمجی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/azim-premji/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-24.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔