عزیز اخنوش

عزيز أخنوش

مراکشی تاجر اور سیاست دان، جو 1961 میں تفراوت میں پیدا ہوئے۔ اکوا گروپ کے سربراہ، وزیرِ زراعت (2007–2021)، نیشنل ریلی آف انڈیپنڈنٹس کے رہنما (2016–2026)، اور ستمبر 2021 سے ستمبر 2026 تک مراکش کے وزیرِ اعظم رہے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان · businessman
خطہ
maghreb
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عباس محمود العقاد · عبد العزيز الغماري

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ 16 اگست 1961 کو پیدا ہوئے۔ انگریزی مضمون کے خانۂ معلومات میں ان کی جائے پیدائش جنوبی مراکش کا شہر تفراوت درج ہے، جبکہ اس کا متن تفراوت کے قریب گاؤں اگرض اوضاض کی نشان دہی کرتا ہے؛ عربی مضمون تفراوت دیتا ہے اور کہتا ہے کہ ان کی پرورش کاسابلانکا میں ہوئی۔ ان کا تعلق سوس کی امازیغ (بربر) املن قبیلے سے ہے۔ ان کے والد احمد اولحاج اخنوش (1909–1994) قوم پرست، مزاحمتی رہنما اور تاجر تھے۔ ان کی والدہ اور بہن 1960 کے اگادیر زلزلے میں بچ گئی تھیں، جس میں ان کے خاندان کے دس افراد ہلاک ہوئے تھے۔ انہوں نے بیرونِ ملک تعلیم مکمل کی اور 1986 میں کینیڈا کی یونیورسٹی آف شیربروک سے انتظامی انتظام میں ڈگری حاصل کی۔ 1 2 3

    اردو مضمون ان کی تاریخِ پیدائش 31 دسمبر 1961 دیتا ہے اور اس کا ماخذ «تیل کیل» بتاتا ہے؛ عجائب گھر انگریزی و عربی مضامین اور ویکی ڈیٹا کی 16 اگست والی تاریخ پر چلتا ہے اور پیدائش کو متنازع درج کرتا ہے۔ 4

    کاروبار

    مراکش واپسی پر انہوں نے اکوا گروپ سنبھالا، جو درجنوں کمپنیوں کی ہولڈنگ کمپنی ہے اور خاص طور پر ایندھن کی تقسیم، ٹیلی کمیونیکیشن اور خدمات میں سرگرم ہے؛ یہ گروپ انہیں والد سے ورثے میں ملا۔ فوربس نے نومبر 2013 میں ان کی دولت کا تخمینہ 1.4 ارب ڈالر لگایا تھا۔ 1 2

    سیاسی زندگی

    وہ 2003 سے 2007 تک سوس ماسا درعا علاقائی کونسل کے صدر منتخب رہے۔ 15 اکتوبر 2007 کو وہ وزیرِ زراعت و ماہی گیری بنے اور 10 ستمبر 2021 تک اس منصب پر رہے، جس میں بعد میں دیہی ترقی، آب و جنگلات بھی شامل ہو گئے۔ 29 اکتوبر 2016 کو وہ نیشنل ریلی آف انڈیپنڈنٹس کے رہنما منتخب ہوئے۔ 1 2

    2021 کے عام انتخابات میں ان کی جماعت 395 میں سے 102 نشستوں کے ساتھ پہلے نمبر پر آئی۔ 10 ستمبر 2021 کو بادشاہ محمد ششم نے انہیں وزیرِ اعظم مقرر کیا اور حکومت سازی کا کہا؛ انہوں نے پام اور استقلال جماعتوں کے ساتھ اتحاد کا اعلان کیا اور 7 اکتوبر 2021 کو عہدہ سنبھالا۔ 1

    ان کی حکومت مہنگائی اور بڑھتی قیمتوں، ان کے خلاف احتجاجی مہمات اور صحافت سے کشیدہ تعلقات سے عبارت رہی، جیسا کہ ماخذ بیان کرتے ہیں؛ انہوں نے ستمبر 2023 کے مراکش زلزلے پر حکومتی ردِّ عمل کی بھی قیادت کی۔ ان کی جماعتی قیادت 7 فروری 2026 کو اور وزارتِ عظمیٰ 29 ستمبر 2026 کو ختم ہوئی، جب فاطمہ الزہرا المنصوری ان کی جانشین بنیں۔ وہ ستمبر 2021 سے اگادیر کے میئر بھی ہیں۔ 1 2

    ذاتی زندگی

    ان کی شادی تاجر خاتون سلوى ادریسی سے ہوئی۔ وزیرِ زراعت کی حیثیت سے انہوں نے دو مرتبہ، 2013 اور 2016 میں، بادشاہ محمد ششم اور ان کے خاندان کی رمضان افطار پر میزبانی کی۔ نومبر 2022 میں حکومتی ترجمان نے ان کے کووڈ-19 مثبت ہونے کا اعلان کیا۔ 1

    مذہب

    یہاں استعمال شدہ ماخذ عزیز اخنوش کا ذاتی طور پر کوئی مذہب یا مسلک بیان نہیں کرتے۔ ویکی ڈیٹا صرف اسلام درج کرتا ہے، بغیر کسی شاخ کے، اور اردو مضمون کی زمرہ بندی انہیں مراکشی مسلمانوں میں رکھتی ہے۔ اس لیے عجائب گھر ان کا ایمان «نامعلوم» درج کرتا ہے: عمومی بناوٹی قدر اور زمرہ بندی کسی مسلک کا نام نہیں لیتی، اور اس کے لیے دو آزاد ماخذوں کا اسی مسلک کا نام لینا ضروری ہے۔ 3 4

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے معرّف ماخذ کے اجزا، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرِ ثانی مؤرخ ہونی چاہیے، اور اس میں ہر حقیقت بدلنے والے ماخذ کا نام ہونا چاہیے۔

    ماخذ

    1. Aziz Akhannouch — English Wikipedia
    2. Aziz Akhannouch — Arabic Wikipedia
    3. Aziz Akhannouch — Wikidata Q1638114
    4. Aziz Akhannouch — Urdu Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “عزیز اخنوش”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/aziz-akhannouch/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔