ایک نظر میں
- کردار
- جرنیل
- خطہ
- south-asia
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
بخت خان (1797ء–1859ء) 1857ء کی جنگِ آزادی میں دہلی میں ہندوستانی باغی افواج کے فی الحقیقت سپہ سالار تھے۔ بنگال ہارس آرٹلری کے صوبہ دار، چالیس سال کی خدمت کے حامل، وہ 1 جولائی 1857ء کو بریلی بریگیڈ کے ہمراہ دہلی پہنچے اور مغل شہنشاہ بہادر شاہ ظفر نے انھیں اصل اختیار اور «صاحبِ عالم بہادر» کا خطاب دیا، جبکہ شہنشاہ کے بیٹے مرزا مغل نام کے سپہ سالار رہے۔ جنگ سے پہلے انھیں جاننے والے برطانوی افسروں نے انھیں «انتہائی ذہین شخصیت» قرار دیا۔ 1 2 3
سالِ ولادت مکمل طور پر طے نہیں: انگریزی مضمون اور ویکی ڈیٹا 1797ء دیتے ہیں، جبکہ اردو مضمون کا متن 1793ء دیتا ہے اور اس کے زمرے انھیں 1797ء اور 1798ء دونوں کی پیدائشوں میں رکھتے ہیں؛ ریکارڈ نے 1797ء لیا ہے اور سال کو اختلافی نشان زد کیا ہے۔ جائے ولادت بھی مختلف ہے: انگریزی مضمون کے مطابق ضلع بجنور، اردو مضمون کے مطابق بریلی۔ 2 1 3
اصل و ابتدائی خدمت
بہت سے اردو مصنفین نے انھیں روہیلہ النسل بتایا ہے، تاہم، جیسا کہ اقبال حسین لکھتے ہیں، کسی نے ان کا واضح خاندانی پس منظر نہیں دیا۔ بغاوت دبانے میں حصہ لینے والے ایک برطانوی فوجی افسر نے کہا کہ وہ ایک ہندو خاندان سے تھے جس نے بعد میں اسلام قبول کیا۔ برطانوی جاسوس منشی جیون لال نے رپورٹ کیا کہ بخت خان خود کو مغل اور بہادر شاہ ظفر کے خاندان سے متعلق بتاتے تھے؛ خواجہ حسن نظامی نے بغیر کسی حوالے کے دعویٰ کیا کہ وہ ماں کی طرف سے نوابِ اودھ اور باپ کی طرف سے غلام قادر روہیلہ سے متعلق تھے۔ اردو مضمون انھیں یوسفزئی قبیلے کا روہیلہ افغان بتاتا ہے۔ وہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی فوج میں صوبہ دار — اہلِ ملک کے بڑے کمانڈر افسر — بنے، بنگال ہارس آرٹلری میں چالیس سال کا تجربہ حاصل کیا اور پہلی اینگلو افغان جنگ میں حصہ لیا۔ 2 1
دہلی، 1857ء
جب بریلی میں بغاوت پھوٹی تو وہاں کے سپاہیوں نے صوبہ دار بہادر خاں کو اپنا جنرل چنا تھا؛ بخت خاں نے میرٹھ کی بغاوت کی خبر سن کر شہنشاہ کی فوج کی حمایت کے لیے دہلی کا رخ کیا اور 1 جولائی 1857ء کو روہیلہ سپاہیوں کی بڑی تعداد کے ساتھ پہنچے — بنگال نیٹو انفنٹری کی چار رجمنٹیں، ایک سوار رجمنٹ اور ایک توپ خانہ بیٹری۔ ان کی منظم آمد نے دہلی کا محاصرہ کیے ہوئے انگریزوں کو پریشان اور بہادر شاہ ظفر کو متاثر کیا۔ بخت خاں کی انتظامی صلاحیتیں جلد نمایاں ہوئیں: انھوں نے فوج کے مالی بحران کے لیے ٹیکس وصولی کا اختیار حاصل کیا، اور محاصرہ سخت ہوتے ہی رسد کے بڑھتے مسئلے سے نبرد آزما رہے۔ انگریزوں نے 14 ستمبر کو کشمیری دروازہ فتح کیا؛ بہادر شاہ نے بخت خاں کی منت سماجت کے باوجود 20 ستمبر کو ہتھیار ڈال دیے، اور ان کے بیٹے قتل کردیے گئے۔ 2
مذہب
اس عجائب گھر میں ان کا مذہب «نامعلوم» درج ہے۔ ماخذ ان کی مسلمان شناخت کی شہادت دیتے ہیں — برطانوی افسر کے بیان کے مطابق بطورِ نو مسلم — اور ان کا روہیلہ افغان نسب بیان کرتے ہیں، لیکن کسی ماخذ نے ان کے لیے کوئی فقہی مسلک یا صوفی سلسلہ نہیں بتایا، اور ویکی ڈیٹا صرف «اسلام» دیتا ہے۔ لہٰذا کوئی مسلک درج نہیں کیا گیا؛ شواہد ان کے ڈیٹا نوٹ میں محفوظ ہیں۔ 2 1 3
وفات
بخت خاں دہلی سے نکل کر لکھنؤ اور شاہجہان پور کی باغی افواج سے جا ملے۔ دہلی سے نکالے جانے کے بعد وہ جان لیوا زخموں کا شکار ہوئے اور 1859ء میں نیپال کے ترائی میدانوں میں وفات پائی، جہاں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اودھ کے انگریزی قبضے کے بعد بیگم حضرت محل کے ساتھ داخل ہوئے تھے؛ اردو مضمون یومِ وفات 13 مئی 1859ء دیتا ہے جو کسی اور ماخذ میں نہیں ملتا۔ موجودہ پاکستان کے ضلع بونیر کے گاؤں نانسر کے قبرستان کی ایک بے نام قبر کو مقامی مؤرخین نے ان کی قبر قرار دیا ہے، اس روایت پر کہ انھوں نے آخری برس آخوندِ سوات کی حفاظت میں گزارے؛ انگریزی مضمون اس دعوے کو من گھڑت کہتا ہے۔ 2 1
ماخذ
- Bakht Khan — Urdu Wikipedia
- Bakht Khan — English Wikipedia
- Bakht Khan — Wikidata Q3774267
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “بخت خان”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/bakht-khan/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.