فیزا گورسے

فيزا غورسي

–

إسطنبول

ترکی نظریاتی طبیعیات دان (1921ء–1992ء)، جو استنبول میں پیدا ہوئے اور گلاطہ سرائے، جامعہ استنبول اور امپیریل کالج لندن سے تعلیم حاصل کی (پی ایچ ڈی 1950ء)۔ وہ اپنے کائرل ماڈل، SU(6) تماثل پر کام اور گورسے–رادیکاتی فارمولے کے لیے جانے جاتے ہیں؛ انہوں نے مڈل ایسٹ ٹیکنیکل یونیورسٹی میں نظریاتی طبیعیات کا شعبہ قائم کیا اور پھر ییل یونیورسٹی میں گبز کرسی سنبھالی۔ انہیں 1977ء میں اوپنہائمر پرائز اور 1986ء میں وگنر میڈل ملا، اور استنبول کا فیزا گورسے انسٹی ٹیوٹ ان کے نام پر ہے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سائنس دان
خطہ
anatolia-balkans · americas-oceania
جائزہ

وقت میں زندگی

1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد العزيز الغماري · عبد الفتاح ابو غدہ · عبد الرحمن بدوي · عبد الله بن الصديق الغماري · عبد الحميد خان سواتي

مکان میں

إسطنبول

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    فیزا گورسے (1921ء–1992ء) ایک ترکی نظریاتی طبیعیات دان تھے، جو اپنے کائرل ماڈل، ابتدائی ذرات کے SU(6) تماثل پر کام، اور گورسے–رادیکاتی کمیت فارمولے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے انقرہ کی مڈل ایسٹ ٹیکنیکل یونیورسٹی میں نظریاتی طبیعیات کا شعبہ قائم کیا اور بعد میں ییل یونیورسٹی میں گبز کرسی سنبھالی۔ انہیں 1977ء میں اوپنہائمر پرائز اور 1986ء میں وگنر میڈل ملا، اور استنبول کا فیزا گورسے انسٹی ٹیوٹ ان کے نام پر ہے۔ 1

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ 7 اپریل 1921ء کو استنبول کے اناطولو حصاری میں ایک علمی خاندان میں پیدا ہوئے: ان کی والدہ رمضیہ حصار ترکی کی اہم کیمیا دانوں میں سے تھیں، اور والد رشید ثریا گورسے طبیب اور طبیعیات دان تھے۔ انہوں نے 1940ء میں گلاطہ سرائے ہائی اسکول اور 1944ء میں جامعہ استنبول سے گریجویشن کی، اور 1950ء میں امپیریل کالج لندن سے ہیری جونز کی نگرانی میں پی ایچ ڈی مکمل کی۔ 1 2

    ترکی اور امریکہ میں کیریئر

    وہ 1951ء میں جامعہ استنبول میں مقرر ہوئے — ترکی مضمون نوٹ کرتا ہے کہ یہ تقرری جاہت عارف کی حمایت سے ہوئی — اور 1957ء سے 1961ء تک بروک ہیون نیشنل لیبارٹری، انسٹی ٹیوٹ فار ایڈوانسڈ اسٹڈی اور کولمبیا یونیورسٹی میں رہے۔ 1961ء میں وہ مڈل ایسٹ ٹیکنیکل یونیورسٹی میں پروفیسر بنے، جہاں انہوں نے نظریاتی طبیعیات کا شعبہ قائم کیا، اور 1965ء سے ییل میں بھی پڑھایا؛ 1974ء میں وہاں مستقل عہدہ ملا بطور گبز پروفیسر آف فزکس، اور 1991ء میں وہ ایمریٹس ہوئے۔ ان کا کام ذرات کے تعاملات کے کائرل ماڈل، SU(6) تماثل، گورسے–رادیکاتی فارمولے، اور استثنائی گروپ E6 بطور عظیم توحید کے امیدوار تماثل تک پھیلا ہوا تھا۔ 1 2

    وفات اور ورثہ

    ان کا انتقال 13 اپریل 1992ء کو نیو ہیون، کنیکٹیکٹ میں ہوا، اور وہ استنبول کے اناطولو حصاری قبرستان میں خاندانی قطعے میں دفن ہوئے۔ فیزا گورسے انسٹی ٹیوٹ، جو استنبول میں نظریاتی طبیعیات اور ریاضی کی تحقیق کے لیے قائم ہوا، ان کے نام پر ہے۔ 1 2

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Patronized by
    جاہت عارف
    Born in
    إسطنبول
    Buried in
    إسطنبول

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    جاہت عارف· إسطنبول· جامع العرب بإسطنبول· جامع عتيق علي باشا· جامع امارة العتيق· جامع أيوب سلطان· جامع فناري عيسى· مسجد جول بإسطنبول

    ماخذ

    1. Feza Gürsey — English Wikipedia
    2. Feza Gürsey — Turkish Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “فیزا گورسے”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/feza-gursey/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    جاہت عارف

    ترکی ریاضی دان (1910ء–1997ء)، جو تھیسالونیکی میں پیدا ہوئے اور پیرس اور گوٹنگن سے تعلیم حاصل کی، جہاں انہوں نے 1938ء میں ہیلموٹ ہاسے کی نگرانی میں پی ایچ ڈی کی۔ عارف انہیرینٹ، ہاسے–عارف قضیہ اور عارف رنگز و سیمی گروپس ان کے نام سے منسوب ہیں؛ وہ 1963ء میں TÜBİTAK کے بانی ڈائریکٹر تھے، جامعہ استنبول اور مڈل ایسٹ ٹیکنیکل یونیورسٹی میں پڑھایا، اور 2009ء کے ترکی دس لیرا کے نوٹ پر ان کی تصویر ہے۔