ایک نظر میں
- کردار
- شاعر · writer
- خطہ
- south-asia
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
مولوی غلام رسول عالمپوری (29 جنوری 1849ء – 7 مارچ 1892ء) پنجابی کے بڑے شاعر تھے، جن کی شہرت ان کی منظوم داستان «احسن القصص» (1873ء)، قصہ یوسف زلیخا، پر ہے۔1 انگریزی مضمون انھیں پنجابی صوفی شاعر کہتا ہے، مگر انسائیکلوپیڈیا آف اسلام (EI3) کے مدخل کے حوالے سے لکھتا ہے کہ وہ اکثر پنجابی شعرا کے برعکس کسی صوفی سلسلے سے وابستہ نہ تھے۔2
زندگی
ان کی ولادت 1849ء میں بستی عالم پورکوٹلہ، تحصیل دسوہہ، ضلع ہوشیار پور میں ہوئی؛ والد کا نام مراد بخش تھا اور قوم گوجر تھی۔1 انگریزی مضمون کے مطابق وہ چھ ماہ کے تھے کہ والدہ اور بارہ برس کے تھے کہ والد کا انتقال ہوا، اور ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں کے مولوی حمید صاحب سے حاصل کی۔2 اردو مضمون کے مطابق انھوں نے قریبی قصبے میں مولوی محمد عثمان سے اردو، فارسی اور عربی سیکھی، خواجہ نظام الدین اولیا کے گدی نشین کے شاگرد ہوئے اور اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔1 وہ 1864ء سے 1878ء تک میرپور کے اسکول میں مدرس رہے اور 1882ء میں آخری اسکول سے استعفیٰ دے کر تدریس چھوڑ دی۔2
تصانیف
وفات و اثرات
حوالہ جات
ماخذ
- Ghulam Rasul Alampuri — Urdu Wikipedia
- Ghulam Rasul Alampuri — English Wikipedia
- Ghulam Rasul Alampuri — Wikidata Q20609264
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “غلام رسول عالمپوری”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ghulam-rasul-alampuri/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.