حبیب بورقیبہ

الحبيب بورقيبة

–

المنستير

حبیب بورقیبہ (1903ء–2000ء) تیونس کے سیاست دان تھے جنہوں نے فرانس سے آزادی کی تحریک کی قیادت کی، 1956ء میں مملکت کے وزیر اعظم بنے، پھر 25 جولائی 1957ء کو جمہوریہ کا اعلان کر کے تیونس کے پہلے صدر بنے اور تیس برس حکومت کی۔ 1987ء میں ان کے وزیر اعظم زین العابدین بن علی نے انہیں ہٹا دیا، اور وہ وفات تک منستر میں نظر بند رہے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان
خطہ
maghreb
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: مصطفی الزرقا · الأكوع محمد بن علي · امین احسن اصلاحی · لیوپولڈ سیدار سینگور · عیسیٰ یوسف آلپتکین

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    حبیب بورقیبہ (3 اگست 1903ء – 6 اپریل 2000ء) تیونس کے سیاست دان تھے جنہوں نے فرانس سے آزادی کی تحریک کی قیادت کی، 1956ء سے 1957ء تک مملکت تیونس کے وزیر اعظم رہے، پھر جمہوریہ تیونس کے پہلے صدر بنے اور 1987ء تک حکومت کی۔ ان کی سرکاری تاریخ پیدائش 3 اگست 1903ء ہے، اگرچہ انہوں نے خود کہا تھا کہ وہ غالباً ایک سال پہلے، 1902ء یا شاید 1901ء میں پیدا ہوئے تھے۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ منستر میں ایک غریب خاندان میں پیدا ہوئے، تیونس کے صادقی کالج اور لیسے کارنو میں پڑھے اور 1924ء میں بیچلر کیا۔ 1927ء میں انہوں نے پیرس یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری لی اور تیونس واپس آ کر وکالت شروع کی۔ اردو مضمون مختصر ہے، اس لیے تفصیلات انگریزی اور عربی مضامین سے لی گئی ہیں۔ 2 3

    آزادی کی جدوجہد

    1930ء کی دہائی کے آغاز میں وہ نوآبادیاتی نظام کے خلاف قومی سیاست میں شامل ہوئے، دستور پارٹی کے رکن بنے اور 1934ء میں نیو دستور کی تاسیس میں حصہ لیا۔ انہیں بار بار گرفتار کیا گیا، 1938ء کے واقعات کے بعد مارسئی جلاوطن کیا گیا، 1945ء میں قاہرہ گئے، اور 1949ء میں واپس آ کر قومی تحریک کے قائد بن گئے۔ 1952ء کے بعد مسلح جدوجہد میں بھی ان کا کردار رہا، وہ قید اور جلاوطنی سے گزرے، اور فرانس سے خود مختاری کے معاہدے کیے۔ 2

    وزیر اعظم، پھر صدر

    1956ء میں آزادی کے بعد بادشاہ محمد الامین بے نے انہیں وزیر اعظم مقرر کیا۔ 25 جولائی 1957ء کو انہوں نے جمہوریہ کا اعلان کیا اور تیونس کے پہلے صدر بنے۔ ان کے دور میں تعلیمی نظام مضبوط ہوا، خواتین کے حقوق کے حوالے سے 1956ء کا قانونِ احوالِ شخصیہ نافذ ہوا، اور ایک جماعتی ریاست قائم ہوئی۔ اردو مضمون لکھتا ہے کہ مغربی تقلید پر مبنی اصلاحات کی وجہ سے اکثر ان کا موازنہ ترکی کے مصطفٰی کمال اتاترک سے کیا جاتا ہے۔ 1 2

    دین اور ریاست

    ان کی حکومتوں نے مذہبی عدالتیں ختم کر کے عدلیہ کو دیوانی عدالتوں کے تحت کر دیا۔ فروری 1961ء میں انہوں نے شہریوں سے عوامی طور پر کہا کہ وہ پسماندگی کے خلاف جدوجہد کے طور پر رمضان کے روزے نہ رکھیں؛ اس موقف پر عالم اسلام میں شدید تنقید ہوئی اور 1974ء میں عبد العزیز بن باز نے ان پر ارتداد کا الزام لگایا۔ دوسری طرف انگریزی مضمون میں مذکور محققین کے نزدیک ان کی جدائی اسلام سے زیادہ روایتی معاشرے سے تھی۔ عجائب گھر یہ مواقف ان کے مصادر کی نسبت سے پیش کرتا ہے اور کسی کو اپناتا نہیں؛ کوئی مصدر بورقیبہ کے لیے کوئی مذہب یا ذاتی وابستگی نامزد نہیں کرتا، اور عربی مضمون کے خانہ معلومات اور ویکی ڈیٹا میں ان کا دین صرف عمومی طور پر ”اسلام“ درج ہے۔ 2 3 4

    برطرفی اور وفات

    7 نومبر 1987ء کو ان کے وزیر اعظم زین العابدین بن علی نے انہیں اقتدار سے ہٹا دیا، اور وہ منستر میں نظر بند رہے۔ 6 اپریل 2000ء کو وہ منستر میں اپنے گھر میں وفات پا گئے اور وہیں اپنے تعمیر کردہ مزار میں دفن ہوئے۔ 2

    مصادر

    • اوپر حوالہ دیے گئے معرّف مصادر، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی بعد کی ترمیمات کی تاریخ درج ہونی چاہیے، اور ہر تبدیلی شدہ حقیقت کے مصدر کا نام ہونا چاہیے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    المنستير
    Died in
    المنستير
    Buried in
    المنستير
    Predecessor of
    زین العابدین بن علی

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    جدة· المدينة المنورة· زین العابدین بن علی· المنستير

    ماخذ

    1. Habib Bourguiba — Urdu Wikipedia
    2. Habib Bourguiba — English Wikipedia
    3. Habib Bourguiba — Arabic Wikipedia
    4. Habib Bourguiba — Wikidata Q643348
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “حبیب بورقیبہ”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/habib-bourguiba/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    جدة

    Red Sea port of the Hejaz, the main gateway for pilgrims to Mecca since the time of the caliph Uthman.