ایک نظر میں
- کردار
- athlete
- جائزہ
- تکمیل 2/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
حکیم زیاش مراکش کے پیشہ ور فٹبالر ہیں، جو 19 مارچ 1993 کو نیدرلینڈز کے ڈرونٹن میں پیدا ہوئے۔12 وہ حملہ آور مڈفیلڈر اور ونگر ہیں جنہیں آیاکس کے شائقین نے «جادوگر» کا لقب دیا؛ انہوں نے ہالینڈ کی لیگ اور کپ، چیلسی کے ساتھ چیمپئنز لیگ، اور گالاتاسرائے کے ساتھ ترک سپر لیگ جیتی۔1 مراکش کے ساتھ وہ 2022 ورلڈ کپ کے سیمی فائنل تک پہنچے، جو کسی افریقی ملک کی پہلی کامیابی تھی۔1
ابتدائی زندگی
زیاش مراکشی والدین کے گھر ڈرونٹن میں پیدا ہوئے؛ ان کے والدین کا تعلق شمال مشرقی مراکش کے بربر گاؤں تافوغالت سے تھا، اور وہ نو بچوں میں سب سے چھوٹے تھے۔1 ان کے والد محمد زیاش، جو 1967 میں نیدرلینڈز آئے تھے، 23 دسمبر 2003 کو وفات پا گئے جب حکیم دس برس کے تھے؛ مضمون اس کے بعد کے ایک مشکل نوجوانی کے دور کا ذکر کرتا ہے، جس میں سابق فٹبالر عزیز دوفیکار نے ان کے لیے باپ جیسا کردار اور رہنمائی فراہم کی۔1 وہ 2007 میں ہیرنوین کی نوجوانوں کی اکیڈمی میں شامل ہوئے۔1
کلب کیریئر
زیاش نے 2012 میں ہیرنوین کے لیے اپنا پہلا سینئر میچ کھیلا اور 2014 میں ٹوینٹے میں شامل ہوئے، جہاں وہ کلب کے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی اور کچھ عرصے کے لیے کپتان رہے۔1 انہوں نے اگست 2016 میں مبینہ طور پر 11 ملین یورو کے عوض آیاکس سے معاہدہ کیا، 2018–19 میں ہالینڈ کی لیگ اور کپ جیتا، اور 2017–18 کے لیے ڈچ فٹبالر آف دی ایئر قرار پائے۔1 2020 سے چیلسی میں انہوں نے چیمپئنز لیگ، یوئیفا سپر کپ اور فیفا کلب ورلڈ کپ جیتا، اور گالاتاسرائے کے ساتھ 2023–24 اور 2024–25 میں لگاتار دو ترک سپر لیگ خطاب جیتے، جس کے بعد الدحیل، وداد اور بوتافوگو میں کھیلے۔1
بین الاقوامی کیریئر
نیدرلینڈز کے لیے نوجوانوں کی سطح پر کھیلنے کے بعد زیاش نے 2015 میں مراکش کے لیے اپنا پہلا میچ کھیلا، اور 2024 میں بین الاقوامی کیریئر کے اختتام تک 64 میچوں میں 25 گول کیے۔1 انہوں نے 2018 ورلڈ کپ اور قطر میں 2022 ورلڈ کپ میں کھیلا، جہاں مراکش چوتھے نمبر پر رہا — کسی افریقی ملک کی بہترین کارکردگی — اور بعد کے میچوں میں انہوں نے ٹیم کی قیادت کی۔1 مضمون کے مطابق انہوں نے اپنی تمام بین الاقوامی آمدنی اور بونس خیراتی اداروں یا ٹیم کے عملے کو عطیہ کیے، اور 2022 کے ٹورنامنٹ کے بعد انہیں نشانِ عرش کا کمانڈر مقرر کیا گیا۔1
مؤقف اور تنقید
یہ حصہ مختلف مؤقف کو اسی طرح پیش کرتا ہے جیسے وہ مصادر میں آئے ہیں؛ یہ عجائب گھر کا فیصلہ نہیں ہے۔ انگریزی مضمون کے ذاتی زندگی والے حصے میں کہا گیا ہے کہ زیاش کو «ایک پرہیزگار اور عمل کرنے والا مسلمان بیان کیا گیا ہے»، اور ان کی فلسطینی قضیے کی حمایت کا ذکر ہے، جس میں مارچ 2025 میں غزہ کی پٹی کے لیے تین لاکھ کھانوں کا عطیہ بھی شامل ہے۔1 عربی مضمون کے معلوماتی خانے میں ان کا مذہب عمومی طور پر اسلام درج ہے، جو ویکی ڈیٹا سے لی گئی قدر ہے۔2 کوئی بھی ماخذ ان کے لیے کوئی فقہی مکتب یا اعتقادی وابستگی نام نہیں کرتا، اس لیے عجائب گھر کے ڈیٹا میں ان کا عقیدہ نامعلوم درج ہے۔12
حوالہ جات
ماخذ
- Hakim Ziyech — English Wikipedia
- Hakim Ziyech — Arabic Wikipedia
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “حکیم زیاش”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/hakim-ziyech/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.