حمزہ اینڈریس تزورتزس

حمزة أندرياس تزورتزيس

یونانی نژاد برطانوی مسلمان مقرر و محقق، جو 1980 میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 2002 میں اسلام قبول کیا، اسلام کے دفاع میں خطبات و مناظروں اور اپنی کتاب «دی ڈیوائن ریئلٹی» (2016) سے شہرت پائی، اور آئی ای آر اے کے بعد اب سیپیئنس انسٹی ٹیوٹ میں محقق ہیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
واعظ · writer
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 2/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عبد العزيز الغماري · عبد الفتاح ابو غدہ · عبد الرحمن بدوي

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    حمزہ اینڈریس تزورتزس یونانی نژاد برطانوی مسلمان مقرر، محقق اور مصنف ہیں، جو 1980 میں اینڈریس تزورتزس نام سے پیدا ہوئے اور 2002 میں اسلام قبول کیا۔ وہ برطانیہ اور بیرونِ ملک اسلام کے دفاع میں خطبات و مناظروں اور اپنی کتاب «دی ڈیوائن ریئلٹی» (2016) کے لیے جانے جاتے ہیں۔ وہ اسلامک ایجوکیشن اینڈ ریسرچ اکیڈمی (iERA) میں سینئر محقق رہے اور 2020 میں سیپیئنس انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ ہوئے۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ 1980 میں یونانی والدین کے یہاں پیدا ہوئے، جن کا خاندان شمالی یونان کے گاؤں راوینی سے ہے، اور 2002 میں اسلام قبول کیا۔ ان کے پاس یونیورسٹی آف لندن سے فلسفے میں ایم اے اور پوسٹ گریجویٹ سرٹیفکیٹ ہے۔ 1 2

    کام

    وہ 2010 میں iERA کے اس جائزے کے سینئر محقق تھے جس میں برطانیہ میں غیر مسلموں کے اسلام کے بارے میں خیالات جانچے گئے تھے۔ انہوں نے برطانیہ و آسٹریلیا میں خطبات دیے، بی بی سی کے پروگراموں «دی بگ کوئسچنز» اور «نیوز نائٹ» میں شرکت کی، اور 2015 میں برٹش مسلم ایوارڈز میں «ریلیجیئس ایڈووکیٹ آف دی ایئر» کے فائنلسٹ رہے۔ 1

    آرا اور تنقید

    یہ حصہ ماخذوں میں نقل شدہ مختلف مواقف پیش کرتا ہے؛ یہ عجائب گھر کا فیصلہ نہیں ہے۔

    صحافی اینڈریو گلیگن نے 2010 میں ٹیلی گراف میں انہیں «حطین انسٹی ٹیوٹ کے سابق محقق» اور iERA کے آغاز کی تقریب کے صدر کے طور پر بیان کیا؛ تزورتزس ایسے بیانات کو تحریف اور جھوٹ کہتے ہیں۔ کیل یونیورسٹی نے ان کی تقریر منسوخ کی تو مقامی اخبار نے انہیں «انتہا پسند اسلامی مقرر» اور حزب التحریر کے سابق رکن کہا۔ 1

    ان کے بیان کردہ مواقف میں یہ شامل ہے کہ وہ ارتداد کے قوانین کو نہیں مانتے اور انہیں «فرسودہ» کہتے ہیں، کم عمری کی شادی پر تنقید کرتے ہیں، انتہا پسندی کی مخالفت کرتے ہیں، اور داعش کو «روحانی طور پر بیمار لوگ» قرار دیتے ہیں؛ اس کے باوجود بھارت کی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی نے 2016 کی چارج شیٹ میں ان کا نام داعش سے جڑے ملزمان پر اثرانداز ہونے والوں میں شامل کیا تھا۔ 1

    کتابیں

    ان کی بڑی کتاب «دی ڈیوائن ریئلٹی: خدا، اسلام اور الحاد کا سراب» (2016) ہے، جو اسی سال عربی اور 2020 میں بنگالی میں مترجم ہوئی۔ 1

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    ماخذ

    1. Hamza Tzortzis — English Wikipedia
    2. Hamza Tzortzis — Wikidata Q21186481
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “حمزہ اینڈریس تزورتزس”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/hamza-tzortzis/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-24.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔