ایک نظر میں
- کردار
- fencer · writer
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
- تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
ابتہاج محمد امریکی سیبر شمشیر باز، مصنفہ اور کاروباری خاتون ہیں، جو 4 دسمبر 1985 کو نیو جرسی میں پیدا ہوئیں اور میپل ووڈ میں پروان چڑھیں۔ انہوں نے 2014 میں عالمی چیمپئن شپ میں ٹیم طلائی تمغا جیتا اور مجموعی طور پر پانچ عالمی تمغے حاصل کیے۔ ریو 2016 اولمپکس میں وہ اولمپکس میں حجاب پہن کر حصہ لینے والی پہلی امریکی خاتون، اولمپک تمغا جیتنے والی پہلی مسلم امریکی خاتون، اور سیبر میں اولمپک تمغا جیتنے والی پہلی سیاہ فام خاتون بنیں، جب انہوں نے خواتین کی ٹیم سیبر میں کانسی کا تمغا حاصل کیا۔ 1 2
انہیں 2016 میں ٹائم 100 کی دنیا کی سب سے بااثر شخصیات میں شامل کیا گیا، وہ امریکی محکمہ خارجہ کی اسپورٹس ایمبیسیڈر ہیں، اور نیویارک ٹائمز کی بیسٹ سیلر مصنفہ ہیں۔ 1
ابتدائی زندگی اور تعلیم
وہ نیو جرسی میں پیدا ہوئیں اور میپل ووڈ میں پروان چڑھیں؛ وکی ڈیٹا ان کی جائے پیدائش میپل ووڈ بتاتا ہے اور عربی مضمون بھی اسی کی تائید کرتا ہے۔ عربی مضمون کے مطابق ان کا خاندان افریقی امریکی ہے جس نے اسلام قبول کیا، ان کے والد یوجین محمد ریٹائرڈ پولیس افسر اور والدہ ڈینس ابتدائی اسکول کی معلمہ تھیں۔ انہوں نے 13 سال کی عمر میں کولمبیا ہائی اسکول میں شمشیر بازی شروع کی اور 2002 میں نیویارک کی پیٹر ویسٹ بروک فاؤنڈیشن سے وابستہ ہوئیں۔ 2007 میں انہوں نے ڈیوک یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات اور افریقی و افریقی امریکی مطالعات میں دوہری ڈگری حاصل کی اور تین مرتبہ آل امریکن رہیں۔ 1 3 4
کیریئر
وہ 2010 میں پہلی بار امریکی قومی ٹیم کے لیے منتخب ہوئیں اور خواتین کی سیبر ٹیم کی پہلی غیر سفید فام رکن بنیں، اور 2010 سے 2017 تک قومی ٹیم کی رکن رہیں۔ وہ دو مرتبہ کی قومی چیمپئن (2009، 2017)، 19 مرتبہ کی ورلڈ کپ تمغا یافتہ ہیں، اور عالمی درجہ بندی میں ساتویں نمبر تک پہنچیں۔ 2014 کی عالمی چیمپئن شپ میں انہوں نے امریکی خواتین کی سیبر ٹیم کے ساتھ طلائی تمغا جیتا۔ ریو 2016 میں ان کی ٹیم نے کانسی کے تمغے کے میچ میں اٹلی کو 45-30 سے شکست دی، اور گارڈین نے 2016 میں لکھا کہ حجاب کی وجہ سے واضح طور پر مسلم ہونے کی حیثیت سے وہ «عدم برداشت کے خلاف امریکا کی بہترین علامتوں میں سے ایک» بن گئیں۔ 1 3
کاروبار، وکالت اور کتابیں
2014 میں انہوں نے اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ ملبوسات کی کمپنی «Louella by Ibtihaj» شروع کی تاکہ امریکی مارکیٹ میں باحجاب فیشن ایبل لباس لایا جا سکے۔ وہ امریکی محکمہ خارجہ کے پروگرام کے تحت اسپورٹس ایمبیسیڈر کے طور پر کئی ممالک کا سفر کر چکی ہیں۔ 2017 میں میٹل نے ان کی صورت پر پہلی حجابی باربی بنائی، اور 2019 میں وہ اسپیشل اولمپکس کی عالمی سفیر قرار پائیں۔ ان کی یادداشت «Proud» 2018 میں شائع ہوئی، اور بچوں کی تصویری کتابوں کی سیریز — «The Proudest Blue» (2019)، «The Kindest Red» (2023) اور «The Boldest White» (2024) — نیویارک ٹائمز کی بیسٹ سیلر بنی۔ 1
نقطہ نظر
یہ حصہ ماخذوں کی رپورٹ پیش کرتا ہے؛ یہ عجائب گھر کا فیصلہ نہیں ہے۔ ماخذ انہیں ایک مسلم خاتون کے طور پر پیش کرتے ہیں جو اپنے کھیل کی اعلیٰ ترین سطح پر حجاب میں حصہ لیتی ہیں، اور ان کی عوامی موجودگی کو امریکی کھیلوں میں نمائندگی اور شمولیت کے سوالات سے جوڑتے ہیں۔ وکی ڈیٹا ان کا مذہب صرف اسلام بتاتا ہے اور کوئی ماخذ ان کا مسلک نہیں بتاتا؛ ان کے والدین کے قبولِ اسلام کو ان کے مسلک کی شہادت نہیں سمجھا گیا، کیونکہ خاندانی پس منظر کسی شخص کے مسلک کی دلیل نہیں ہوتا۔ 4 1 3
ماخذ
- اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو
data/source/میں درج ہیں۔ - Olympics.com کے ایتھلیٹ صفحات اس ماحول سے حاصل نہیں ہو سکے (سرور نے رسائی سے انکار کیا)، اس لیے ان کا حوالہ نہیں دیا گیا۔
ماخذ
- Ibtihaj Muhammad — English Wikipedia
- Ibtihaj Muhammad — Urdu Wikipedia
- Ibtihaj Muhammad — Arabic Wikipedia
- Ibtihaj Muhammad — Wikidata Q3147556
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “ابتہاج محمد”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ibtihaj-muhammad/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-24.