ایک نظر میں
- کردار
- سیاست دان · lawyer
- خطہ
- south-asia
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
ابتدائی زندگی اور وکالت
خان امیرزادہ خان (15 نومبر 1918ء – 13 ستمبر 1977ء) مردان کے گاؤں بخښالی میں خان خویداد خان کے گھر پیدا ہوئے۔1 انھوں نے مڈل اور میٹرک میں اول پوزیشن حاصل کی، پنجاب یونیورسٹی سے گریجویشن کی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری امتیاز کے ساتھ لی؛ کراچی میں اے۔ کے۔ بروہی کے پاس تربیت کے بعد مردان واپس آ کر وکالت شروع کی۔1 مضمون جزوی طور پر خاندانی مواد پر مبنی ہے اور خودنوشت سوانح کے طور پر نشان زد ہے؛ اس کے عوامی حقائق یہاں صرف وہی لیے گئے ہیں جن کی تائید موجود ہے، جیسا کہ اس کے ماخذ کے ریکارڈ میں درج ہے۔
خدائی خدمت گار اور نیشنل عوامی پارٹی
وہ طالب علمی سے خدائی خدمت گار تحریک کے فعال رکن رہے، پھر اس سے نکلنے والی نیشنل عوامی پارٹی کے رہنما بنے اور 1972ء تک مردان ضلع کے پارٹی صدر رہے۔1 مضمون اس تحریک کو قوم پرست، سیکولر اور سوشلسٹ تنظیم کہتا ہے۔1 1958ء کی بغاوت کے بعد انھوں نے نوجوان وکیل کی حیثیت سے عبد الغفار خان کا مقدمہ مارشل لا حکومت کے خلاف لڑنے کی پیشکش کی — مضمون کے مطابق یہ دفاع کرنے کی ہمت کسی اور میں نہ تھی۔1 1964ء کے انتخابات میں انھوں نے نوابزادہ ہوتی کا مقابلہ کیا اور زمین و نقد کے عوض دست برداری کی پیشکش ٹھکرا کر معمولی فرق سے ہارے۔1
وزیر، آئین ساز اور صدارتی امیدوار
1970ء کے عام انتخابات میں انھوں نے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی دونوں کی نشستیں جیت لیں۔1 1972ء کے سہ فریقی معاہدے — جس کے مذاکرات میں وہ اپنی پارٹی کے اہم مذاکرہ کار تھے — کے تحت وہ صوبے کے وزیرِ قانون، تعلیم و پارلیمانی امور بنے۔1 وہ 1972ء کی 25 رکنی آئینی کمیٹی میں اپنی پارٹی کی نمائندگی کرتے تھے، اور مضمون کے مطابق انھوں نے مسودۂ آئین پر پانچ گھنٹے پینتیس منٹ کی تقریر کی، جو قومی اسمبلی کی طویل ترین بے ساختہ تقریر کا ریکارڈ ہے۔1 1973ء کے صدارتی انتخاب میں وہ متحدہ اپوزیشن کے متفقہ امیدوار تھے اور فضل الٰہی چوہدری کے 139 کے مقابلے میں 45 ووٹ ملے۔1
حیدرآباد کیس اور وفات
حیاة شیرپاؤ کے قتل (فروری 1975ء) کے بعد نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی لگی اور اس کے رہنما گرفتار ہوئے؛ امیرزادہ خان حیدرآباد سازش ٹریبونل میں ملزم تھے، خود قیدی ہوتے ہوئے پارٹی کا دفاع کرتے رہے، جیل میں ذیابیطس اور دل کے دورے پڑے، اور طبی بنیادوں پر ضمانت پر رہا ہوئے۔1 ان کی وفات 1977ء میں مردان میں ہوئی — مضمون 13 ستمبر اور ویکی ڈیٹا 9 جنوری دیتا ہے — اس لیے تاریخ متنازع درج ہے۔12
تواریخ اور مذہب
جس فہرست کی بنا پر یہ ریکارڈ بنا، اس میں ان کے نام کے ساتھ 1890ء–1950ء کے سال درج تھے؛ کسی پڑھے گئے ماخذ میں اس نام کے کسی حامل کے لیے یہ سال ثابت نہیں، اور اس دستاویزی شخص کی زندگی — 1973ء میں صدارتی امیدواری — ان سالوں کو ان کے لیے ناممکن بناتی ہے۔ اس لیے ریکارڈ ان کی دستاویزی تواریخ پر بنایا گیا ہے اور فہرست کے اعداد ریکارڈ کے ماخذ میں محفوظ ہیں، ان پر نہیں بنایا گیا۔ کسی بھی پڑھے گئے ماخذ میں ان کے دین یا مسلک کا نام نہیں ملتا، اور ان کی تحریک — جسے مضمون خود سیکولر کہتا ہے — یا پارٹی سے کچھ استنباط نہیں کیا گیا؛ ان کا مذہب غیر موجودگی کی بنیاد پر «نامعلوم» درج ہے۔12
ماخذ
- Khan Amirzadah Khan — English Wikipedia
- Khan Amirzadeh Khan — Wikidata Q6400034
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “خان امیرزادہ خان”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/khan-amirzadeh-khan/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.