محمود جبریل

محمود جبريل

–

القاهرة

لیبیائی سیاست دان (1952–2020)، قاہرہ اور پٹسبرگ سے تعلیم یافتہ اسٹریٹجک منصوبہ بندی کے ماہر۔ انہوں نے لیبیا کی قومی منصوبہ بندی کونسل اور قومی اقتصادی ترقی بورڈ کی سربراہی کی (2007–2011)، پھر قذافی حکومت کے خاتمے کے دوران قومی عبوری کونسل کے ایگزیکٹو بورڈ کے چیئرمین بطورِ عبوری وزیرِ اعظم رہے (2011)، اور وفات تک قومی قوتوں کے اتحاد کی قیادت کی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان
خطہ
maghreb
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد العزیز بوتفلیقہ · عبدالرحمن یوسفی · عبد العزيز المدني · عبد الحميد الأزهري · عبد القدیر خان

مکان میں

القاهرة

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ 28 مئی 1952 کو لیبیا کے شہر البیضاء میں پیدا ہوئے؛ انگریزی مضمون میں تاریخِ پیدائش کا ماخذ لائبریری آف کانگریس کا استنادی ریکارڈ اور جائے پیدائش کا ماخذ یونیورسٹی آف پٹسبرگ اور ڈیلی ٹیلی گراف ہیں، جبکہ عربی مضمون صرف سال (1952) دیتا ہے۔ انہوں نے 1975 میں جامعہ قاہرہ سے معاشیات اور سیاسیات میں گریجویشن کیا، پھر یونیورسٹی آف پٹسبرگ سے سیاسیات میں ماسٹرز (1980) اور اسٹریٹجک منصوبہ بندی میں ڈاکٹریٹ (1984) حاصل کی، جہاں وہ کئی برس اسٹریٹجک منصوبہ بندی پڑھاتے رہے۔ انہوں نے متحدہ عرب تربیتی دستور تیار کرنے والی ٹیم کی قیادت کی اور کئی عرب ممالک میں اعلیٰ انتظامیہ کے لیے قیادت کی تربیتی پروگرامز چلائے۔ 1 2 3

    قذافی دور میں

    2007 سے 2011 کے اوائل تک وہ قذافی دور کی ریاست کے اندر قومی منصوبہ بندی کونسل کے سربراہ اور لیبیا کے قومی اقتصادی ترقی بورڈ کے سربراہ رہے۔ انگریزی مضمون انہیں اس دور میں سیف الاسلام قذافی کا قریبی اور دوست بیان کرتا ہے، جو نجکاری اور آزاد کاری کی پالیسیوں کے حامی تھے۔ 1

    2011 کی جنگ اور قومی عبوری کونسل

    خانہ جنگی شروع ہونے پر وہ قومی عبوری کونسل (NTC) کے قیام پر اس میں شامل ہوئے اور 5 مارچ سے 23 اکتوبر 2011 تک اس کے ایگزیکٹو بورڈ کے چیئرمین رہے، بین الاقوامی امور کے سربراہ بھی رہے اور درحقیقت وزیرِ خارجہ کا کردار ادا کیا۔ غیر ملکی حکومتیں اور صحافت انہیں لیبیا کا عبوری وزیرِ اعظم سمجھتی تھیں، اور اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک کی اکثریت نے ان کی انتظامیہ کو لیبیا کی «واحد جائز نمائندہ» تسلیم کیا۔ عربی مضمون فرانس، امریکہ اور امارات کی حکومتوں سے ان کے رابطوں کو نظام کے خاتمے میں بڑا کردار دیتا ہے۔ طرابلس کے سقوط کے بعد وہ مستعفی ہو گئے۔ 1 2

    قومی قوتوں کا اتحاد

    2012 میں انہوں نے قومی قوتوں کا اتحاد قائم کیا، جو ایک وسیع اتحاد تھا اور جولائی 2012 کے جنرل نیشنل کانگریس انتخابات میں جماعتی فہرست کی نشستوں کا سب سے بڑا حصہ جیتا؛ وہ 14 مارچ 2012 سے وفات تک اس کے رہنما رہے۔ 1

    وفات

    21 مارچ 2020 کو انہیں دل کا دورہ پڑا اور وہ قاہرہ کے الجنزوری اسپیشلائزڈ اسپتال میں داخل ہوئے۔ تین دن بعد ان کا کووڈ-19 ٹیسٹ مثبت آیا اور وہ 5 اپریل 2020 کو قاہرہ میں 67 برس کی عمر میں وفات پا گئے۔ 1 2

    مذہب

    یہاں استعمال شدہ ماخذ محمود جبریل کا ذاتی طور پر کوئی مذہب یا مسلک بیان نہیں کرتے۔ ویکی ڈیٹا صرف اسلام درج کرتا ہے، بغیر کسی شاخ کے، اور عربی مضمون کی زمرہ بندی انہیں لیبیائی سنی مسلمانوں میں رکھتی ہے۔ اس لیے عجائب گھر ان کا ایمان «نامعلوم» درج کرتا ہے: عمومی بناوٹی قدر اور زمرہ بندی کسی مسلک کا نام نہیں لیتی، اور اس کے لیے دو آزاد ماخذوں کا اسی مسلک کا نام لینا ضروری ہے۔ 3 2

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے معرّف ماخذ کے اجزا، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرِ ثانی مؤرخ ہونی چاہیے، اور اس میں ہر حقیقت بدلنے والے ماخذ کا نام ہونا چاہیے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Died in
    القاهرة

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    الجامع الأزهر· دار الحكمة بالقاهرة· مولد السلطنة: تولي بيبرس العرش 658هـ· أخذ القاهرة (١٥١٧)· وفاة أسد الدين شيركوه وولاية صلاح الدين· زلزلة مصر الكبرى سنة 608· قحط مصر ووباؤها سنة 695هـ· تعيين أربعة قضاة للمذاهب بمصر سنة 663هـ

    ماخذ

    1. Mahmoud Jibril — English Wikipedia
    2. Mahmoud Jibril — Arabic Wikipedia
    3. Mahmoud Jibril — Wikidata Q296724
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “محمود جبریل”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/mahmoud-jibril/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    الجامع الأزهر

    Al-Azhar at Cairo: founded by the Fatimids as the mosque of their da'wa, then turned by the vizier Ya'qub ibn Killis in 378 into a university teaching the sciences and letters — from a pulpit reserved for the Fatimid call into one of Egypt's foremost centres of learning beside the mosques of Amr, Ibn Tulun and al-Hakim.