محمد امین رسول زادہ

محمد أمين رسول زاده

–

إسطنبول

آذربائیجانی سیاست دان اور صحافی (1884–1955)، تحریکِ «مساوات» کے بانی اور آذربائیجانی قومی کونسل کے صدر، جس نے 28 مئی 1918 کو آذربائیجان جمہوری جمہوریہ کا اعلان کیا؛ بقیہ زندگی جلاوطنی میں گزری اور انقرہ میں وفات پائی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان · writer · activist
خطہ
persia-central-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عبد القادر المغربي · محمد بن عبد الکریم ختابی · عبد القادر حاج علی · عبد الحمید خان بھاشانی

مکان میں

إسطنبول

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    محمد امین رسول زادہ (31 جنوری 1884 – 6 مارچ 1955)، مکمل نام محمد امین آخوند حاجی ملا علی اکبر اوغلو رسول زادہ، آذربائیجانی سیاست دان اور صحافی تھے، تحریکِ «مساوات» کے بانی اور آذربائیجانی قومی کونسل کے صدر۔ 1 2 28 مئی 1918 کو ان کی سربراہی میں کونسل نے آذربائیجان جمہوری جمہوریہ کا اعلان کیا۔ 1 ان کا قول — «جو جھنڈا ایک بار بلند ہو جائے، پھر کبھی نہیں گرتا!» — تحریکِ آزادی کا نعرہ بنا۔ 1 1920 کے بعد بقیہ زندگی جلاوطنی میں گزری اور وفات انقرہ میں ہوئی۔ 1

    زندگی و کیریئر

    وہ نوخانی میں پیدا ہوئے، والد آخوند حاجی ملا علی اکبر تھے۔ 1 3 1903 سے مخالف اخبارات میں لکھا اور خفیہ تنظیم «مساوات» بنائی؛ 1911 میں قائم «مساوات» پارٹی ان کی قیادت میں قفقازی مسلمانوں کی اہم ترین جماعت بنی اور 1915 سے اس کا اخبار «آچیق سوز» نکالا۔ 1 مئی 1918 میں قومی کونسل نے انہیں سربراہ منتخب کیا اور 28 مئی کو جمہوریہ کا اعلان ہوا؛ انہوں نے باکو اسٹیٹ یونیورسٹی کے قیام کی پہل بھی کی۔ 1 جمہوریہ کے خاتمے (اپریل 1920) کے بعد وہ گرفتار ہوئے اور — انگریزی مقالے کے مطابق — اس لیے رہا ہوئے کہ ماضی میں انہوں نے اسٹالن کو پولیس سے چھپایا تھا۔ 1 1922 کے اواخر سے استنبول میں جلاوطن رہے اور 16 ستمبر 1923 سے «ینی قفقاسیا» کے مدیر رہے، جو 1927 میں ماسکو کے مطالبے پر بند ہوا۔ 2 1 1931 میں ترکی سے نکالے گئے، 1938 میں پولینڈ اور 1940 میں رومانیہ گئے، 1947 میں انقرہ لوٹے اور 6 مارچ 1955 کو وہیں وفات پا کر جیبیجی عصری قبرستان میں دفن ہوئے۔ 1 4 3

    کام

    ان کی استنبولی تصانیف میں جمہوریہ آذربائیجان پر 1923 کی کتاب، «ہمارے عصر کا سیاوش» اور «خیالِ آزادی و نوجوان» شامل ہیں، اور جلاوطنی کے جرائد — «ینی قفقاسیا»، «آذری ترک»، «اودلو یورد» — نے آزادی کی قضیہ کو مہاجرین تک پہنچایا۔ 2 1

    موقف و نقد

    یہ قسم مآخذ کی روایت کردہ مواقف پیش کرتا ہے؛ یہ عجائب گھر کا فیصلہ نہیں۔

    انگریزی مقالہ ریکارڈ کرتا ہے کہ 1942 میں نازی جرمنی کی قیادت نے ان سے رابطہ کیا اور انہوں نے آذربائیجان کی آزادی کی بحالی کے لیے مئی 1942 میں جرمنی سے اسٹریٹجک اتحاد کی کوشش کی؛ عجائب گھر اسے مقالے کی روایت کے مطابق، بغیر فیصلے کے، پیش کرتا ہے۔ 1 ان کے مذہب کے بارے میں کوئی بھی مقالہ — انگریزی، آذربائیجانی، روسی، ترکی، فارسی یا عربی — کوئی وابستگی نامزد نہیں کرتا؛ وکی ڈیٹا کی واحد مذہبی قدر شیعہ اسلام (Q9585) ہے جو ایک ہی ساختی قدر ہے۔ 1 2 3 والد کا آخوند ہونا خاندانی پس منظر ہے اور قومی نظریہ سیاست ہے؛ اس لیے ریکارڈ میں مذہب «نامعلوم» درج ہے۔ 3

    مآخذ

    • اوپر مذکور معرّف مآخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرِ ثانی مؤرخ ہو اور ہر تبدیلی کا ماخذ نامزد کرے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Lived in
    إسطنبول

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    جامع العرب بإسطنبول· جامع عتيق علي باشا· جامع امارة العتيق· جامع أيوب سلطان· جامع فناري عيسى· مسجد جول بإسطنبول· آيا صوفيا· مسجد هيرامي أحمد باشا

    ماخذ

    1. Mammed Amin Rasulzade — English Wikipedia
    2. Mammed Amin Rasulzade — Azerbaijani Wikipedia
    3. Mammed Amin Rasulzade — Wikidata Q361311
    4. Mammed Amin Rasulzade — Russian Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “محمد امین رسول زادہ”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/mammed-amin-rasulzade/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    جامع العرب بإسطنبول

    Draft card for Arap Camii (the Arab Mosque) in Galata, Istanbul, the former Latin church converted to a mosque and known for its pier-supported minaret; per the cited architecture survey, the page not yet checked.