ایک نظر میں
- کردار
- long-distance runner
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
- تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
سر محمد «مو» مختار جامع فرح، جو حسین عبدی کاہن کے نام سے 23 مارچ 1983 کو پیدا ہوئے، صومالی نژاد برطانوی سابق طویل فاصلے کے رنر ہیں۔ انہوں نے لندن 2012 اولمپکس میں 5,000 اور 10,000 میٹر کے طلائی تمغے جیتے اور ریو 2016 میں یہی کارنامہ دہرایا، یوں لاسے ویرین کے بعد دونوں ٹائٹل لگاتار دو اولمپکس میں جیتنے والے دوسرے ایتھلیٹ بنے؛ چھ عالمی ٹائٹلز کے ساتھ وہ عالمی چیمپئن شپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ طلائی تمغے جیتنے والے مرد ٹریک فاصلاتی رنر اور برطانیہ کے کامیاب ترین اولمپک ٹریک ایتھلیٹ ہیں۔ انہیں 2017 میں نائٹ کا خطاب ملا اور وہ 10 ستمبر 2023 کو اپنے آخری مقابلے کے بعد ریٹائر ہوئے۔ 1
ابتدائی زندگی
حسین عبدی کاہن صومالی جمہوری جمہوریہ میں پیدا ہوئے۔ ان کی جائے پیدائش کے بارے میں ماخذ میں اختلاف ہے: عربی مضمون موغادیشو بتاتا ہے، وکی ڈیٹا گابیلے کا علاقہ بتاتا ہے، اور انگریزی مضمون کوئی شہر نہیں بتاتا، اس لیے عجائب گھر ان کی جائے پیدائش درج نہیں کرتا۔ چار سال کی عمر میں ان کے والد صومالی بدامنی میں جاں بحق ہوئے اور وہ والدہ سے بچھڑ گئے۔ آٹھ سال کی عمر میں وہ اپنے جڑواں بھائی حسن کے ساتھ جبوتی میں چچا کے پاس بھیجے گئے۔ نو سال کی عمر میں انہیں ایک ایسی خاتون کے ذریعے، جسے وہ نہیں جانتے تھے، کسی اور بچے — محمد فرح — کے نام پر جبوتی سے لندن اسمگل کیا گیا، جہاں انہیں اس کے خاندان کے گھریلو ملازم کے طور پر کام کرنے پر مجبور کیا گیا اور اپنے خاندان سے رابطے سے روکا گیا۔ 11 یا 12 سال کی عمر میں انہوں نے فیلتھم کمیونٹی کالج میں داخلہ لیا، جہاں ان کے جسمانی تعلیم کے استاد ایلن واٹکنسن نے ان کی صلاحیت پہچانی۔ بعد میں انہوں نے جولائی 2000 میں محمد فرح کے نام سے برطانوی شہریت حاصل کی۔ انہوں نے یہ سب کچھ جولائی 2022 تک ظاہر نہیں کیا؛ ہوم آفس نے انہیں یقین دلایا کہ انہیں کسی کارروائی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ 1 2 3
عربی مضمون اب بھی ان کے انکشاف سے پہلے کی پرانی روایت دیتا ہے — کہ وہ 1993 میں آٹھ سال کی عمر میں اپنے خاندان کے ساتھ سیاسی پناہ کے لیے برطانیہ آئے — اور یہ فرق اس ماخذ کی قابلِ اعتماد نوٹ میں درج ہے۔ 2 1
کیریئر
ان کا عروج 2006 کی یورپی چیمپئن شپ میں 5,000 میٹر چاندی اور یورپی کراس کنٹری ٹائٹل سے شروع ہوا۔ 2011 کی عالمی چیمپئن شپ میں انہوں نے 10,000 میٹر چاندی اور 5,000 میٹر طلائی جیتا اور لگاتار دس عالمی فائنل فتوحات کا سلسلہ شروع کیا۔ 4 اگست 2012 کو انہوں نے 27:30.42 میں 10,000 میٹر طلائی تمغا جیتا — برطانیہ کا اس ایونٹ میں پہلا اولمپک طلائی — اور 11 اگست کو 5,000 میٹر جیت کر ڈبل مکمل کیا، دونوں تمغے اپنی جڑواں بیٹیوں کے نام کیے؛ انہوں نے کہا کہ وہ اس سال رمضان کے روزے بعد میں رکھیں گے۔ انہوں نے 2013 اور 2015 کی عالمی چیمپئن شپ میں بھی ڈبل کیا اور ریو 2016 میں اولمپک ڈبل دہرایا۔ 2017 کی عالمی چیمپئن شپ میں انہوں نے اپنا دسواں عالمی ٹائٹل (10,000 میٹر) جیتا۔ 1 2
اس کے بعد وہ مکمل طور پر سڑک کی دوڑوں کی طرف منتقل ہوئے اور 2018 کا شکاگو میراتھن 2:05:11 میں جیتا، جو اس وقت یورپی ریکارڈ تھا۔ وہ ایک گھنٹے کی دوڑ کا عالمی ریکارڈ (21,330 میٹر)، 10,000 میٹر کا یورپی ریکارڈ اور 3,000 و 5,000 میٹر کے برطانوی ریکارڈ رکھتے ہیں۔ وہ 2017 کے BBC اسپورٹس پرسنلٹی آف دی ایئر رہے۔ 1
ڈوپنگ شبہات اور ان کے کوچ
یہ حصہ ماخذوں کی رپورٹ پیش کرتا ہے؛ یہ عجائب گھر کا فیصلہ نہیں ہے۔ انگریزی مضمون ڈوپنگ شبہات کے لیے ایک حصہ مخصوص کرتا ہے: پہلے برسوں میں دو چھوٹے ہوئے ڈوپنگ ٹیسٹ، ان کی فائل سے متعلق فینسی بیئرز لیک، اور ان کے کوچ البرٹو سالازار پر پابندی، جن کے ساتھ انہوں نے 2011 سے 2017 تک تربیت حاصل کی۔ ماخذ درج کرتے ہیں کہ فرح کو خود کوئی سزا نہیں دی گئی، اور انہوں نے 2017 کے آخر میں سالازار سے تعلق ختم کر کے لندن واپسی کی۔ 1
ذاتی زندگی اور ایمان
انگریزی مضمون انہیں مسلمان بتاتا ہے اور مسلم رائٹرز ایوارڈز کے فعال حامی؛ اسلام ان کی تیاری کا اہم حصہ ہے: «میں عام طور پر دوڑ سے پہلے نماز پڑھتا ہوں، دعا پڑھتا ہوں، سوچتا ہوں کہ میں نے کتنی محنت کی ہے اور بس نکل پڑتا ہوں۔» انہوں نے 2013 میں 500 بااثر ترین مسلمانوں کی فہرست میں جگہ پائی۔ کوئی ماخذ ان کا مسلک نہیں بتاتا، اور عوامی عمل کی بنیاد پر کوئی مسلک درج نہیں کیا گیا۔ انہوں نے اپریل 2010 میں تانیہ نیل سے شادی کی؛ ان کی جڑواں بیٹیاں عائشہ اور امانی (اگست 2012) اور بیٹا حسین (2015) ہے۔ 2011 سے 2017 تک خاندان پورٹ لینڈ، اوریگون میں رہا، پھر لندن واپس آیا؛ 2026 میں وہ خاندان سمیت قطر منتقل ہوئے اور کہا کہ وہ ہمیشہ چاہتے تھے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد کسی مسلم ملک میں رہیں اور ان کے بچے دین کو جانتے ہوئے بڑے ہوں۔ 1 3
انہوں نے 2011 میں صومالیہ کے سفر کے بعد مو فرح فاؤنڈیشن قائم کی، 2012 کی اولمپک ہنگر سمٹ میں شرکت کی، اور 2017 میں میراتھن کڈز کے عالمی سفیر بنے۔ 1
ماخذ
- اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو
data/source/میں درج ہیں۔ - اردو وکیپیڈیا میں ان پر کوئی مضمون موجود نہیں؛ یہ جانچ عربی مضمون کے لسانی روابط کے ذریعے کی گئی۔
ماخذ
- Mo Farah — English Wikipedia
- Mo Farah — Arabic Wikipedia
- Mo Farah — Wikidata Q1671
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “مو فرح”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/mo-farah/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-24.