محمد حسان

محمد حسان

مصری مسلمان مبلغ، جو 1962 میں محافظہ دقہلیہ کے گاؤں دموہ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے آٹھ برس کی عمر میں قرآن حفظ کیا، ابن باز، ابن عثیمین اور ابن جبرین سے علم حاصل کیا، قسیم میں جامعہ امام محمد بن سعود میں حدیث پڑھائی، اور 2007 میں الرحمہ سیٹلائٹ چینل شروع کیا جو ان کا سب سے بڑا پلیٹ فارم بنا۔ وہ منصوره میں مجمع اہل السنہ کے بورڈ کے صدر ہیں اور انہوں نے پندرہ سے زائد کتابیں لکھیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
واعظ · writer
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عباس محمود العقاد · عبد العزيز الغماري

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    محمد بن ابراہیم بن ابراہیم بن حسان، جو محمد حسان کے نام سے مشہور ہیں، مصری مسلمان مبلغ ہیں۔ وہ 8 اپریل 1962 کو محافظہ دقہلیہ کے مرکز دکرنس کے گاؤں دموہ میں پیدا ہوئے۔ 1 2 انہوں نے آٹھ برس کی عمر میں پورا قرآن حفظ کیا، اپنے دور کے بڑے سعودی علماء سے علم حاصل کیا، اور قسیم میں جامعہ امام محمد بن سعود میں حدیث پڑھائی۔ 2007 میں الرحمہ سیٹلائٹ چینل شروع کرنے کے بعد وہ مصر کے مشہور ترین سیٹلائٹ مبلغین میں شامل ہو گئے۔ 1 3 وہ منصوره میں مجمع اہل السنہ کے بورڈ کے صدر ہیں اور انہوں نے پندرہ سے زائد کتابیں لکھیں۔ 1

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ دموہ میں ایک سادہ گھر میں پیدا ہوئے اور ان کی پرورش ان کے نانا نے کی، جنہوں نے انہیں چار برس کی عمر میں گاؤں کے کُتّاب میں داخل کیا۔ 1 آٹھ برس کی عمر میں انہوں نے مصباح محمد عوض کے پاس پورا قرآن حفظ کر لیا، اور فقہ کی کتاب متن ابی شجاع اور عقیدے کے بعض متون بھی حفظ کیے۔ 1 بارہ برس کی عمر میں انہوں نے «ریاض الصالحین» حفظ کر لی، پھر الاجرومیہ اور التحفہ السنیہ پڑھیں۔ 1 تیرہ برس کی عمر میں انہوں نے اپنے گاؤں کی بڑی مسجد میں تدریس شروع کی اور پڑوسی گاؤں میت مجاہد میں پہلا جمعہ کا خطبہ دیا، جس کا موضوع موت تھا۔ 1

    انہوں نے جامعہ قاہرہ کی کلیۂ اعلام سے بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔ 1 4 قاہرہ کے معہد الدراسات الاسلامیہ کے بارے میں عربی مضمون کہتا ہے کہ لازمی فوجی خدمت کی وجہ سے ان کی تعلیم وہاں مکمل نہ ہو سکی، جبکہ فرانسیسی مضمون کہتا ہے کہ انہوں نے اسی ادارے سے اسلامی علوم میں ماسٹرز کیا؛ عجائب گھر دونوں بیانات کو یوں ہی درج کرتا ہے۔ 1 4

    علمی سفر اور تدریس

    اٹھارہ برس کی عمر میں انہوں نے اردن کا سفر کیا اور محمد ناصر الدین البانی کے بعض دروس میں شریک ہوئے۔ 1 پھر انہوں نے عبدالعزیز بن باز سے طویل عرصہ علم حاصل کیا، عبداللہ بن جبرین کے پاس عقیدہ طحاویہ مکمل کی، عبدالقادر شیبہ الحمد کے پاس «بلوغ المرام» کی شرح مکمل کی، اور قسیم میں محمد بن صالح العثیمین کے دروس میں بیٹھے۔ 1 ابن عثیمین کی سفارش پر انہیں جامعہ امام محمد بن سعود کی قسیم شاخ کی کلیاتِ شریعت و اصول الدین میں حدیث، مناہجِ محدثین اور تخریجِ احادیث پڑھانے پر مقرر کیا گیا۔ 1 عربی مضمون کے مطابق بعد میں انہیں لندن کی امریکن یونیورسٹی سے اعزاز کے ساتھ ڈاکٹریٹ ملی، جس کا مقالہ «منهج النبی فی دعوۃ الآخر» تھا اور جس کی مناقشہ کمیٹی الازہر میں منعقد ہوئی؛ اس ڈگری پر 2015 میں مصری صحافت میں سوال اٹھایا گیا، جیسا کہ نیچے تنقید والے حصے میں درج ہے۔ 1

    دعوت اور قناة الرحمة

    وہ 2011 تک منصوره کی مسجد مجمع التوحید میں ہفتہ وار درس دیتے رہے؛ مصر کے انقلاب کے بعد یہ سلسلہ کم ہوتے ہوتے ختم ہو گیا۔ 1 وہ منصوره میں مبلغین کی تربیت کے اداروں میں پڑھاتے ہیں اور مجمع اہل السنہ کے بورڈ کے صدر ہیں، جہاں وہ عقیدہ، مناہجِ محدثین، تخریج، حدیثِ جبریل کی شرح اور سیرت پڑھاتے ہیں۔ ان کے سیکڑوں دروس اور خطبات اسلامی ویب سائٹس پر موجود ہیں۔ 1

    2007 میں انہوں نے الرحمہ سیٹلائٹ چینل شروع کیا، جیسا کہ کولمبیا انسٹی ٹیوٹ کی میڈیا ملکیت پر تحقیقی مطالعے میں درج ہے، جو انہیں مصر کا بااثر سلفی مبلغ کہتا ہے۔ 3 سیرِ اعلام کی موسوعہ بھی یہی کہتی ہے کہ انہوں نے 2007 میں چینل شروع کیا اور اس کی نگرانی کی۔ 5 ان کے ٹیلی ویژن پروگراموں میں «فتاوی الرحمہ»، «جبریل یسأل والنبی یجیب»، «تفسیر القرآن» اور سلسلہ «احداث النہایہ» شامل ہیں۔ 1 الرحمہ چینل آج بھی اپنے سرکاری یوٹیوب چینل پر نشر ہوتا ہے، جہاں ان کی تفسیر اور سیرت کی سیریز اس کا نمایاں مواد ہے؛ اکتوبر 2026 میں اس چینل کے سبسکرائبرز 1.04 ملین تھے، جو ایک مؤرخہ پلیٹ فارم عدد ہے۔ 6 حالیہ برسوں میں بیماری اور آپریشنز کی وجہ سے ان کی عوامی حاضری کم ہو گئی ہے، جیسا کہ سیرِ اعلام کی موسوعہ بیان کرتی ہے۔ 5

    کتابیں

    عربی مضمون ان کی کتابوں میں یہ درج کرتا ہے: «حقیقۃ التوحید»، «خواطر على طریق الدعوۃ»، «قواعد المجتمع المسلم»، «الایمان بالقضاء والقدر»، «الثبات حتى الممات»، «جبریل یسأل والرسول یجیب» (تین جلدیں)، «دروس من سورۃ النور»، «صفات المنافقین»، «حقوق یجب ان تعرف» (تین جلدیں)، «السیرۃ بین الحاضر والماضی» اور «الفتنۃ بین الصحابہ»۔ 1

    آرا اور تنقید

    یہ حصہ ماخذوں میں نقل شدہ مواقف پیش کرتا ہے؛ یہ عجائب گھر کا فیصلہ نہیں ہے۔

    مغربی علمی مطالعات انہیں سلفی مبلغ کہتے ہیں: کولمبیا انسٹی ٹیوٹ کا مطالعہ انہیں «مصر کا بااثر سلفی مبلغ» کہتا ہے، اور کلچرل اینتھروپولوجی کے ایک مطالعے نے انہیں ابو اسحاق الحوینی اور محمد حسین یعقوب کے ساتھ مصری سلفی ٹیلی ویژن کے تین نمایاں مبلغین میں شمار کیا ہے۔ 3 7 اس کے برعکس فرانسیسی مضمون کہتا ہے کہ وہ اخوان المسلمین کے قریب ہیں مگر اس کے باقاعدہ رکن نہیں، اور یہ کہ ان کی فکری حیثیت پر تحلیلات مختلف ہیں؛ عجائب گھر دونوں بیانات کو ان کے ماخذوں کے حوالے سے پیش کرتا ہے۔ 4

    فرانسیسی مضمون نقل کرتا ہے کہ انہوں نے بعض وعظوں میں ایڈز اور سوائن فلو کو کفار کے انتخاب کا نتیجہ قرار دیا، اور بشار الاسد کی مخالفت، اس کے قتل کی فتویٰ اور شام میں جہاد کی تائید ان سے منسوب کی جاتی ہے۔ 4 اسی مضمون کے مطابق 2013 میں ان کے تیونس کے دورے پر سخت مخالفت ہوئی: دار الحدیث الزیتونی کے صدر فرید الباجی نے ان کے خطاب کو اخراجی اور وہابی فکر کا ناشر کہا، جبکہ تیونسی رکنِ پارلیمان حبیب اللوز نے ان کا دفاع کیا۔ 4 عربی مضمون کی اپنی مراجع فہرست میں 2015 کی ایک صحافی رپورٹ شامل ہے جس میں الازہر کے استاد عبداللہ النجار نے ان کی ڈاکٹریٹ کو جعلی قرار دینے کا دعویٰ کیا؛ عجائب گھر یہ الزام اسی نسبت کے ساتھ درج کرتا ہے اور ڈگری کے بارے میں خود کوئی فیصلہ نہیں دیتا۔ 1

    اثر و سامعین

    محمد حسان مصر کے دینی سیٹلائٹ چینلز کے مشہور ترین مبلغین میں سے ہیں؛ کولمبیا مطالعہ الرحمہ چینل کو ان سلفی چینلز میں شمار کرتا ہے جن کا مواد عقیدہ اور دینی رہنمائی پر مرکوز تھا اور جنہوں نے مصر اور عرب دنیا میں وسیع سامعین حاصل کیے۔ 3 ان کے سیکڑوں ریکارڈ شدہ دروس اور خطبات اسلامی ویب سائٹس اور ویڈیو پلیٹ فارمز کے ذریعے وسیع سامعین تک پہنچتے ہیں۔ 1 وکی ڈیٹا میں ان کی ذاتی یوٹیوب چینل کی شناخت درج ہے، جبکہ الرحمہ کے سرکاری یوٹیوب چینل کے سبسکرائبرز اکتوبر 2026 میں 1.04 ملین تھے؛ یہ مؤرخہ پلیٹ فارم اعداد ہیں جو بدلتے رہتے ہیں۔ 2 6

    مراجع

    • عربی ویکیپیڈیا «محمد حسان»، نظرثانی 76842223، 3 اکتوبر 2026۔
    • فرانسیسی ویکیپیڈیا «Mohamed Hassan (imam)»، نظرثانی 240513754، 19 اکتوبر 2026۔
    • وکی ڈیٹا عنصر Q12240376، 25 اکتوبر 2026 کو پڑھا گیا۔
    • «مصر میں میڈیا کی ملکیت اور ارتکاز»، کولمبیا انسٹی ٹیوٹ فار ٹیلی انفارمیشن، ص 208۔
    • «محمد حسان کی سیرت»، موسوعۂ سیرِ اعلام المعاصرین (alsiyars.com)۔
    • الرحمہ ٹی وی کا سرکاری یوٹیوب چینل (@AlrahmaTVOfficial)، تعارفی حصہ 25 اکتوبر 2026 کو پڑھا گیا۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    ماخذ

    1. محمد حسان — ويكيبيديا العربية
    2. Mohamed Hassan — Wikidata Q12240376
    3. Media Ownership and Concentration in Egypt (Columbia/CITI study)
    4. محمد حسان — ويكيبيديا الفرنسية
    5. محمد حسان — موسوعة سير أعلام المعاصرين
    6. Al Rahma TV — official YouTube channel (@AlrahmaTVOfficial)
    7. Television Is Not Radio (Cultural Anthropology)
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “محمد حسان”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/mohamed-hassan/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔