محمدتقی بهار

محمدتقی بهار

–

مشهد

Iranian poet, scholar, journalist and politician (1886-1951), titled Malek osh-Sho'ara ('king of poets'); a constitutionalist newspaper editor and Majlis deputy who became professor of Persian literature at Tehran University, wrote Sabk-shenasi, the standard history of Persian prose styles, and edited major historical texts.

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
شاعر · عالم · صحافی · سیاست دان
خطہ
persia-central-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عبد القادر المغربي · محمد بن عبد الکریم ختابی · عبد القادر حاج علی · عبد الحمید خان بھاشانی

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    تعلیم و تربیت

    وہ 10 دسمبر 1886 کو مشہد میں پیدا ہوئے؛ ان کے والد محمد کاظم صبوری امام رضا کے مزار کے شاعرِ دربار اور ملک الشعراء تھے۔ انھوں نے والد اور پھر ادیب نیشاپوری سے تعلیم پائی، بچپن میں قرآن کا بڑا حصہ حفظ کیا، آٹھ برس کی عمر میں «بہار» (بہار یعنی موسمِ بہار) تخلص اختیار کیا، اور 1904 میں والد کی وفات پر مزار کے شاعر کے منصب پر فائز ہوئے؛ شاہ نے انیس برس کی عمر میں ان کا لقب برقرار رکھا۔ 12

    سیاست و علم

    آئینی انقلاب کے وقت انھوں نے منصب چھوڑ کر تحریک میں شمولیت اختیار کی، «خراسان»، «نو بہار» اور «تازہ بہار» اخبار نکالے اور بار بار مجلس کے رکن رہے۔ انھوں نے دانش کدہ ادبی انجمن اور اس کے رسالے کی بنیاد میں حصہ لیا، 1933 میں قید ہوئے اور اصفہان جلاوطن کیے گئے، اور تہران یونیورسٹی کے قیام کے بعد وہاں فارسی ادب کے استاد بنے۔ ان کی کتابوں میں «سبک شناسی» — فارسی نثر کے اسالیب کی تاریخ کا مرجع — سیاسی جماعتوں کی مختصر تاریخ اور قدیم تاریخی متون کی تدوین شامل ہے۔ 1945 میں تھوڑے عرصے کے لیے وزیرِ ثقافت رہے، اور 21 اپریل 1951 کو تپ دق سے تہران میں وفات پائی — انگریزی مضمون کا آغاز وفات 22 اپریل بتاتا ہے، یہ اختلاف عجائب گھر کے ریکارڈ میں درج ہے — اور ظہیر الدولہ کے قبرستان میں دفن ہوئے۔ 13

    وابستگی

    ان کی وابستگی نامعلوم درج ہے۔ کوئی مطالعہ شدہ ماخذ ان کے دین کی ذاتی حیثیت بیان نہیں کرتا: انگریزی مضمون صرف یہ بتاتا ہے کہ وہ نوجوانی میں کچھ عرصہ واعظ رہے اور مشہد کے مزار کے شاعر کے منصب پر رہے، اور ایرانیکا ان کی دینی نظموں کو ان کے ادبی کام کے طور پر زیر بحث لاتی ہے۔ فارسی مضمون خاموش ہے اور وکی ڈیٹا میں دین کی کوئی قدر نہیں۔ 234

    مآخذ

    یہ مدخل عجائب گھر کے ماخذ رجسٹر (data/source/) میں درج حوالہ شدہ ماخذ ریکارڈوں پر مبنی ہے۔ حقائق صرف اسی طرح بیان کیے گئے ہیں جیسے حوالہ شدہ ماخذ دیتے ہیں؛ جہاں ماخذ خاموش ہے، مدخل بھی خاموش ہے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    مشهد

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    علی خامنہ ای· انوشہ انصاری· إبراهيم رئيسي· مریم منصف· میرزا حسین‌خان مشیرالدوله· راجا صاحب محمود آباد· مشهد

    ماخذ

    1. Mohammad-Taqi Bahar — Persian Wikipedia
    2. Mohammad-Taqi Bahar — English Wikipedia
    3. Mohammad-Taqi Bahar — Encyclopaedia Iranica
    4. Mohammad-Taqi Bahar — Wikidata Q1393466
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “محمدتقی بهار”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/mohammad-taqi-bahar/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    علی خامنہ ای

    علی خامنہ ای (1939ء–2026ء) ایرانی شیعہ عالمِ دین اور سیاست دان تھے، 1981ء سے 1989ء تک ایران کے صدر اور پھر 1989ء سے 28 فروری 2026ء کو ایران جنگ 2026ء کے دوران اسرائیلی فضائی حملوں میں اپنے قتل تک اس کے دوسرے رہبرِ اعلیٰ رہے — یہ کسی بھی رہبرِ اعلیٰ کی طویل ترین مدت ہے۔ وہ مشہد میں پیدا ہوئے، قم میں روح اللہ خمینی کے دروس میں شریک ہوئے اور انقلابِ ایران کی نمایاں شخصیات میں سے تھے؛ ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ان کا جانشین چنا گیا۔