منصف مرزوقی

المنصف المرزوقي

محمد منصف مرزوقی (پیدائش 1945ء) تیونس کے طبیب، انسانی حقوق کے کارکن اور سیاست دان ہیں۔ وہ تیونسی لیگ برائے انسانی حقوق کے صدر رہے اور کانگریس فار دی ریپبلک کی بنیاد رکھی۔ آئین ساز اسمبلی نے دسمبر 2011ء میں انہیں تیونس کا عبوری صدر منتخب کیا؛ ان کے دور میں 2014ء کا آئین جاری ہوا، اور 2014ء کے آخر میں وہ انتخاب ہار کر عہدے سے رخصت ہوئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان · طبیب · activist
خطہ
maghreb
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عباس محمود العقاد · عبد العزيز الغماري

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    محمد منصف مرزوقی (پیدائش 7 جولائی 1945ء) تیونس کے طبیب، انسانی حقوق کے کارکن اور سیاست دان ہیں جنہوں نے 13 دسمبر 2011ء سے 31 دسمبر 2014ء تک تیونس کے عبوری صدر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ اردو مضمون مختصر ہے، اس لیے تفصیلات انگریزی اور عربی مضامین سے لی گئی ہیں۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور طب

    وہ 7 جولائی 1945ء کو قرمبالیہ میں پیدا ہوئے۔ جوانی میں وہ گاندھی کی عدم تشدد والی مزاحمت کا مطالعہ کرنے ہندوستان گئے اور بعد میں جنوبی افریقا کے نسلی امتیاز سے انتقال کا مطالعہ کرنے وہاں بھی گئے۔ انہوں نے فرانس کی اسٹراسبرگ یونیورسٹی سے طب کی تعلیم حاصل کی اور بطور طبیب کام کیا۔ 2

    انسانی حقوق اور اپوزیشن

    وہ 1989ء سے 1994ء تک تیونسی لیگ برائے دفاعِ انسانی حقوق کے صدر رہے اور عرب کمیشن برائے انسانی حقوق کی نمایاں شخصیت تھے۔ 1991ء میں جب حکومت نے اسلامی تحریک النہضہ کے خلاف کارروائی کی تو انہوں نے صدر بن علی سے قانون کی پاسداری کا مطالبہ کیا۔ 1993ء میں وہ ضمیر کے قیدیوں کے دفاع کی قومی کمیٹی کے بانی ارکان میں شامل ہوئے اور جھوٹی خبروں کی اشاعت اور ممنوعہ اسلامی گروہوں سے تعلق کے الزامات پر کئی مرتبہ گرفتار ہوئے۔ 2001ء میں انہوں نے کانگریس فار دی ریپبلک کی بنیاد رکھی؛ جماعت پر 2002ء میں پابندی لگی اور انہوں نے اسے فرانس میں جلاوطنی سے چلایا۔ 2

    عبوری صدر

    بن علی کی روانگی کے بعد آئین ساز اسمبلی نے 12 دسمبر 2011ء کو انہیں عبوری صدر منتخب کیا اور اگلے دن انہوں نے قائم مقام صدر فواد مبزع کے جانشین کے طور پر عہدہ سنبھالا۔ ان کے دور میں 2014ء کا آئین بنا اور جاری ہوا۔ وہ 2014ء کے صدارتی انتخاب میں باجی قائد السبسی سے ہار گئے اور 31 دسمبر 2014ء کو عہدے سے رخصت ہوئے۔ 2 3

    دین اور ریاست پر موقف

    عربی مضمون ان کے رجحان کو علمانی اور جدید پسند قرار دیتا ہے اور ان کا یہ موقف نقل کرتا ہے کہ دین کو سیاسی تنازعات سے دور رکھنے کے لیے اسے ریاست سے الگ رکھا جائے، اور یہ کہ ان کی یہ رائے کفر یا الحاد نہیں ہے۔ یہ سیاسی مواقف ہیں؛ کوئی مضمون ان کے لیے کوئی مذہب یا وابستگی نامزد نہیں کرتا، عربی مضمون کے خانہ معلومات میں ان کا دین عمومی طور پر ”اسلام“ ہے، جب کہ ویکی ڈیٹا پر ”سنی اسلام“ کی قدر درج ہے جس کی کوئی متن تصدیق نہیں کرتا۔ 3 4

    مصادر

    • اوپر حوالہ دیے گئے معرّف مصادر، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی بعد کی ترمیمات کی تاریخ درج ہونی چاہیے، اور ہر تبدیلی شدہ حقیقت کے مصدر کا نام ہونا چاہیے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Predecessor of
    باجی قائد السبسی

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    تونس· باجی قائد السبسی

    ماخذ

    1. Moncef Marzouki — Urdu Wikipedia
    2. Moncef Marzouki — English Wikipedia
    3. Moncef Marzouki — Arabic Wikipedia
    4. Moncef Marzouki — Wikidata Q4715
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “منصف مرزوقی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/moncef-marzouki/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    تونس

    Capital of Tunisia, passed through by Ibn Battuta on his journey from the Maghrib to the East. The book reports that Hassan ibn al-Nu'man founded it in 82 AH as a naval base to prevent repeated Byzantine attacks on Carthage, that he dug a canal linking it to the sea, and that 'Abd al-Malik sent two thousand skilled Coptic craftsmen from Egypt to set up shipbuilding there.