مشود ابیولا

ماشود أبيولا

–

نائجریائی تاجر، ناشر اور سیاست دان (1937ء–1998ء)، ابیوکوتا سے تعلق؛ کاروباری سلطنت اور ’کانکورڈ‘ اخبارات کا سلسلہ قائم کیا اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار کے طور پر صدارت کے لیے کھڑے ہوئے؛ 12 جون 1993 کے انتخابات میں بظاہر کامیاب ہوئے مگر فوجی حکمران ابراہیم بابانگیدا نے نتیجہ منسوخ کر دیا۔ 1994 میں خود کو صدر اعلان کرنے پر گرفتار ہوئے، ان کی اہلیہ قدیرت 1996 میں قتل ہوئیں، اور وہ 7 جولائی 1998 کو ابوجا میں حراست کے دوران وفات پا گئے؛ بعد از مرگ نائجریا نے انھیں اعلیٰ ترین اعزاز دیا اور 12 جون کو یومِ جمہوریت قرار دیا۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
businessman · سیاست دان
خطہ
west-africa-sahel
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عباس علي عميد زنجاني · عبد الرحمن بدوي · عبد العزیز بوتفلیقہ · عبدالرحمن یوسفی · عبد الحميد خان سواتي

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    12 جون کا انتخاب

    سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار کے طور پر، بابا گانا کنگیبے کو نائب بنا کر، ابیولا نے 12 جون 1993 کے صدارتی انتخاب میں نیشنل ریپبلکن کنونشن کے بشیر توفا کو شکست دی، حتیٰ کہ ان کے آبائی صوبے کانو میں بھی کامیاب ہوئے۔ ملکی و غیر ملکی مبصرین نے اسے نائجریا کا آزادانہ و منصفانہ ترین انتخاب قرار دیا، مگر فوجی صدر ابراہیم بابانگیدا نے نتائج مکمل ہونے سے پہلے منسوخ کر دیے، جس سے سیاسی بحران پیدا ہوا 1۔

    حراست اور وفات

    جون 1994 میں ابیولا نے خود کو قانونی صدر اعلان کیا تو سانی اباشا کی حکومت نے انھیں گرفتار کر لیا۔ ان کی اہلیہ قدیرت، جو ان کے مینڈیٹ کی بحالی کی مہم کی سرکردہ آواز تھیں، 1996 میں قتل کر دی گئیں۔ ابیولا 7 جولائی 1998 کو ابوجا میں حراست کے دوران، اپنی متوقع رہائی سے ایک دن پہلے، وفات پا گئے 1 2۔ 2018 میں صدر محمدو بوہاری نے انھیں بعد از مرگ ملک کا اعلیٰ ترین اعزاز دیا اور 12 جون کو ان کے اعزاز میں یومِ جمہوریت قرار دیا 1۔

    وابستگی، جیسا کہ ماخذ بتاتے ہیں

    انگریزی مضمون کا متن ابیولا کو بذاتِ خود ’جنوبی مسلمان‘ کہتا ہے، جماعتِ انصار الدین کی ان کی رکنیت، ان کے اخبار ’کانکورڈ‘ کی اسلامی معاملات (جنوب مغرب میں شریعہ اپیل کورٹ اور نائجریا کی اسلامی تعاون تنظیم میں شمولیت) کی حمایت، اور 1984 میں مسلمان علماء کی طرف سے دیا گیا لقب ’بابا ادینی یوروبالینڈ‘ درج کرتا ہے 1۔ مگر کسی اسلامی جماعت کی رکنیت، اسلامی معاملات کی عوامی حمایت اور علمی لقب وابستگی، سرگرمی اور اعزاز ہیں، کسی مسلک کا نام نہیں؛ ویکی ڈیٹا صرف ’اسلام‘ دیتا ہے اور کوئی ماخذ کوئی مذہبِ فقہی نہیں بتاتا۔ اس لیے ریکارڈ ان کی وابستگی ’نامعلوم‘ رکھتا ہے 1 2۔

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    ماخذ

    1. Moshood Abiola — English Wikipedia
    2. Moshood Abiola — Wikidata Q1528125
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “مشود ابیولا”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/moshood-abiola/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔