ایک نظر میں
- کردار
- عالم · engineer
- جائزہ
- تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
محمد علی مرزا، جو انجینئر محمد علی مرزا کے نام سے معروف ہیں، پاکستانی اسلامی محقق و مبصر اور مکینیکل انجینئر ہیں، 4 اکتوبر 1977 کو جہلم، پنجاب، پاکستان میں پیدا ہوئے۔ وہ اپنے شہر کی ایک تحقیقی اکیڈمی سے یوٹیوب پر دینی مسائل پر لیکچر دیتے ہیں اور خود کو فرقہ واریت کے ناقد کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ان کے لیکچروں پر شدید بحث رہی؛ وہ 2020 اور 2025 میں گرفتار ہوئے اور قاتلانہ حملوں میں بچ گئے۔ 1 2
ابتدائی زندگی اور تعلیم
وہ جہلم، پنجاب میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مرزا ارشد محمود مبینہ طور پر الائیڈ بینک میں کام کرتے تھے۔ انہوں نے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، ٹیکسلا سے مکینیکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی، حکومتِ پنجاب میں انیسویں پے اسکیل کے مکینیکل انجینئر کے طور پر کام کیا، اور پھر اس وقت ملازمت چھوڑ دی جب محکمے نے انہیں عوامی شخصیت بن جانے کی وجہ سے جانے کو کہا۔ 1
اردو مضمون مزید بتاتا ہے کہ وہ جہلم کے مشین محلہ نمبر 1 کے رہائشی ہیں، پاکستان کے مروجہ نظام کے مطابق نہ کسی مدرسے سے فارغ التحصیل ہیں نہ کسی مسجد کے امام، اور ان کی دینی تعلیم خود مطالعے پر مبنی رہی۔ 2
کارنامہ
مرزا جہلم میں اپنی تحقیقی اکیڈمی چلاتے ہیں اور آن لائن لیکچر دیتے ہیں۔ ان کا سرکاری یوٹیوب چینل 2014 سے فعال ہے اور مضمون کے جدول کے مطابق اس کے تقریباً 31 لاکھ 90 ہزار سبسکرائبرز اور 68 کروڑ 80 لاکھ ویوز ہیں؛ یہ پلیٹ فارم کے اعداد ہیں جو جدول میں 8 مارچ 2026 کی تاریخ کے ساتھ درج ہیں۔ ان کی سرکاری ویب سائٹ «اہلِ سنت پاک» (ahlesunnatpak.com) ہے۔ مرزا کا کہنا ہے کہ وہ دینی خدمات سے روزگار نہیں کماتے بلکہ اخراجات اپنی تنخواہ سے چلاتے ہیں۔ 1 2
آرا اور تنقید
یہ حصہ ماخذوں میں نقل شدہ مختلف مواقف پیش کرتا ہے؛ یہ عجائب گھر کا فیصلہ نہیں ہے۔
ناقدین کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنے لیکچروں میں اولیا اور علما کے لیے توہین آمیز الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ مفتی طارق مسعود سے ان کی عوامی کشمکش رہی: 2021 میں انہوں نے مسعود کو جہلم آ کر آمنے سامنے مناظرے کا چیلنج دیا؛ مناظرہ مئی 2021 کے لیے طے ہوا، پھر اکتوبر تک مؤخر ہوا اور کبھی نہ ہو سکا؛ مسعود نے دعویٰ کیا کہ وہ جہلم گئے مگر مرزا سے رابطہ نہ ہو سکا اور انہوں نے فتح کا اعلان کیا۔ جون 2022 میں انہوں نے بی جے پی ترجمان نوپور شرما کے سامنے ہندو دیوتاؤں کی توہین پر تسلیم رحمانی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ شرما نے اس کے ردِ عمل میں توہین کی تھی، جس پر ہند و پاک کے بہت سے علما ان سے ناراض ہوئے۔ 1
گرفتاریاں اور مقدمات
انہیں 4 مئی 2020 کو علما کے خلاف نفرت انگیز تقریر کے شبے میں گرفتار کیا گیا؛ مقدمہ دفعہ 153-اے کے تحت درج ہوا؛ اداکار حمزہ علی عباسی اور اینکر شفاعت علی سمیت کئی لوگوں نے گرفتاری کی مذمت کی، اور وہ دو دن بعد 6 مئی کو ضمانت پر رہا ہو گئے۔ اپریل 2023 میں ان کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 295-سی کے تحت توہینِ مذہب کا مقدمہ درج ہوا، اور پیر افضل قادری نے 2023 میں ان کے قتل پر پانچ لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا تھا، جیسا کہ ماخذ نقل کرتے ہیں۔ 25 اگست 2025 کو جہلم پولیس نے انہیں پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر کی دفعہ 3 کے تحت حراست میں لیا، ان کی اکیڈمی بند کر دی گئی، اور ان پر توہینِ مذہب کے الزامات لگے؛ انہیں اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا، اور 3 دسمبر 2025 کو لاہور ہائی کورٹ (راولپنڈی بینچ) نے دو دو پانچ لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں پر ان کی ضمانت منظور کی۔ 1 2
قاتلانہ حملے
وہ اکتوبر 2017 میں پہلے اور 14 مارچ 2021 میں دوسرے قاتلانہ حملے میں بچ گئے، جب جہلم اکیڈمی میں ایک حملہ آور نے تصویر لیتے ہوئے چاقو سے وار کرنے کی کوشش کی؛ انہیں بازو پر معمولی زخم آئے اور پولیس نے دو مشتبہ افراد کو گرفتار کیا۔ اگست 2023 میں گجرات کے ایک شخص نے چاقو لے کر اکیڈمی میں گھسنے کی کوشش کی، جسے محافظوں نے قابو کر لیا۔ 1
ماخذ
- اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔
ماخذ
- Muhammad Ali Mirza — English Wikipedia
- Muhammad Ali Mirza — Urdu Wikipedia
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “محمد علی مرزا”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/muhammad-ali-mirza/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-24.