محمد ضیاء الحق

محمد ضياء الحق

– †

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

پاکستانی جرنیل (1924ء–1988ء) جنھوں نے 5 جولائی 1977ء کی بغاوت میں وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو معزول کیا، چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر اور پھر پاکستان کے چھٹے صدر (1978ء–1988ء) کے طور پر حکومت کی، ریاست کی اسلام کاری کا پروگرام چلایا اور سوویت افغان جنگ میں افغان مجاہدین کی حمایت کی سرپرستی کی۔ 17 اگست 1988ء کو بہاولپور کے قریب طیارہ حادثے میں جاں بحق ہوئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
جرنیل · سیاست دان
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد العزيز الغماري · عبد الفتاح ابو غدہ · عبد الرحمن بدوي · عبد الله بن الصديق الغماري · عبدالرحمن یوسفی

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    جنرل محمد ضیاء الحق (12 اگست 1924ء – 17 اگست 1988ء) پاکستان کی فوج کے سابق سربراہ تھے، جنھوں نے 1977ء میں وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ کر مارشل لا لگایا اور بعد ازاں صدارت کا عہدہ سنبھالا۔ وہ وفات تک سپہ سالار اور صدر، دونوں عہدوں پر فائز رہے، اور پاکستان کے سب سے طویل عرصے تک رہنے والے حکمران شمار ہوتے ہیں۔ 1 2

    ابتدائی زندگی

    وہ 1924ء میں جالندھر کی ارائیں برادری میں محمد اکبر کے ہاں پیدا ہوئے؛ ابتدائی تعلیم جالندھر اور دہلی میں حاصل کی۔ 1945ء میں فوج میں کمیشن ملا۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران برما، ملایا اور انڈونیشیا میں خدمات انجام دیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد پاکستان آ گئے۔ 1970ء میں اردن بھیجے گئے، جہاں ستمبر 1970ء کے واقعات میں ان کا کردار اہم رہا۔ یکم مارچ 1976ء کو پاکستان آرمی کے چیف آف سٹاف مقرر ہوئے۔ 1

    حکومت

    1977ء کے متنازع انتخابات اور بدامنی کے بعد انھوں نے 5 جولائی 1977ء کو بھٹو کو معزول کر کے مارشل لا نافذ کر دیا۔ بھٹو کو مقدمے کے بعد پھانسی دی گئی۔ ضیاء الحق نے ریاست کی اسلام کاری کا وسیع پروگرام چلایا، دینی مدارس کو پہلی بار ریاستی سرپرستی ملی جن میں اکثریت دیوبندی مکتب کی تھی، اور سوویت افغان جنگ میں امریکہ اور سعودی عرب کی حمایت سے افغان مجاہدین کی مدد کی سرپرستی کی۔ 17 اگست 1988ء کو بہاولپور کے قریب طیارہ حادثے میں جاں بحق ہوئے اور اسلام آباد کی فیصل مسجد میں مدفون ہیں۔ 1 2

    مذہب کے بارے میں ماخذ

    اردو مضمون کے معلوماتی خانے میں ان کا مذہب «سنی اسلام» درج ہے، اور ویکی ڈیٹا کا دعویٰ بھی سنی اسلام ہے؛ یہ دونوں ساختی اقدار ہیں۔ انگریزی مضمون ان کی ذاتی دینداری کا ذکر کرتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ ان کی انتظامیہ نے دیوبندی مکتب کو ترجیح دی، جو ان کی حکومت کی پالیسی اور سرپرستی کا بیان ہے، ان کے ذاتی مکتب کی شہادت نہیں۔ عربی مضمون میں مذہب کا کوئی ذکر نہیں۔ اس لیے عجائب گھر کے ریکارڈ میں ان کا مذہب غیر مصنف درج ہے۔ 1 2 3

    آرا اور تنقید

    یہ حصہ ماخذوں میں نقل شدہ مواقف پیش کرتا ہے؛ یہ عجائب گھر کا فیصلہ نہیں۔ حامی انھیں خطے میں سوویت پیش قدمی روکنے اور معاشی خوشحالی کا سہرا دیتے ہیں، جبکہ ناقدین جمہوری اداروں کو کمزور کرنے اور مذہبی عدم رواداری کو فروغ دینے والے قوانین کا الزام لگاتے ہیں۔ 2

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    ماخذ

    1. Muhammad Zia-ul-Haq — Urdu Wikipedia
    2. Muhammad Zia-ul-Haq — English Wikipedia
    3. Muhammad Zia-ul-Haq — Wikidata Q200499
    • Muhammad Zia-ul-Haq — Arabic Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “محمد ضیاء الحق”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/muhammad-zia-ul-haq/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔