محسن یازجی اوغلو

محسن يازجي أوغلو

–

ترک سیاست دان، عظیم اتحاد پارٹی (BBP) کے بانی و رہنما اور ترک پارلیمنٹ کے رکن، جو قوم پرست اور اسلام پسند خطاب کے لیے جانے جاتے تھے۔ وہ 2009 میں ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں جاں بحق ہوئے جس کے حالات متنازع اور زیرِ تفتیش رہے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عبد العزیز بوتفلیقہ · عبدالرحمن یوسفی · عبد العزيز المدني

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    محسن یازجی اوغلو (31 دسمبر 1954 – 25 مارچ 2009) ترک سیاست دان اور پارلیمنٹ کے رکن تھے۔ وہ عظیم اتحاد پارٹی (BBP) کے بانی و رہنما تھے، جو ایک دائیں بازو کی قوم پرست و اسلام پسند جماعت ہے۔ ان کا نام 2009 میں ہیلی کاپٹر حادثے میں ان کی موت کے حالات کی وجہ سے ترک عوامی زندگی میں نمایاں رہا، جو متنازع اور زیرِ تفتیش رہے۔ 1

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    یازجی اوغلو 1954 میں صوبہ سیواس کے قصبے شارقشلہ کے گاؤں المالی میں پیدا ہوئے؛ وہیں اسکول کی تعلیم حاصل کی اور انقرہ یونیورسٹی کی ویٹرنری میڈیسن فیکلٹی سے پڑھے۔ وہ انتہا پسند قوم پرست تنظیم «گرے وولوز» کے رکن تھے۔ 1980 کی فوجی بغاوت کے بعد وہ گرے وولوز کے رہنماؤں میں شمار ہونے پر گرفتار ہوئے اور سات سال قید رہ کر 1987 میں رہا ہوئے۔ 1

    سیاسی سفر

    رہائی کے بعد وہ نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی سے وابستہ رہے؛ 1991 میں وہ اور ان کے کچھ ساتھی اس سے الگ ہوئے اور زیادہ اسلام پسند نظریے کے ساتھ عظیم اتحاد پارٹی قائم کی۔ پارٹی پارلیمنٹ میں صرف انتخابی اتحادوں کے ذریعے نمائندگی حاصل کر سکی؛ 2002 میں اسے 1.1 فیصد ووٹ ملے اور کوئی نشست نہ ملی، جبکہ 2007 میں یازجی اوغلو خود آزاد امیدوار کے طور پر منتخب ہوئے۔ 1

    وفات

    وہ 25 مارچ 2009 کو صوبہ قہرمان مرعش میں ایک جلسے کے بعد اگلے جلسے کی طرف جاتے ہوئے ہیلی کاپٹر حادثے میں جاں بحق ہوئے، جسے مضمون مشکوک قرار دیتا ہے؛ پائلٹ اور تین دیگر مسافر بھی ہلاک ہوئے۔ حادثے کے بعد ایک مسافر اسماعیل گونش نے ہنگامی نمبر 112 پر واضح گفتگو کی، مگر ملبہ وقت پر نہ مل سکا؛ بعد میں ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف غفلت سمیت متعدد الزامات میں تفتیش و مقدمات ہوئے۔ انہیں سرکاری جنازہ دیا گیا اور انقرہ کی قوجہ تپے مسجد میں ہزاروں لوگ شریک ہوئے۔ 1

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • تحقیق کی تاریخ (24 اکتوبر 2026) تک یازجی اوغلو پر عربی ویکیپیڈیا میں کوئی مضمون موجود نہیں؛ یہ ریکارڈ انگریزی مضمون اور ویکی ڈیٹا پر مبنی ہے۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    ماخذ

    1. Muhsin Yazıcıoğlu — English Wikipedia
    • Muhsin Yazıcıoğlu — Wikidata Q1397239
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “محسن یازجی اوغلو”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/muhsin-yazicioglu/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-24.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔