ڈپٹی نذیر احمد

نذير أحمد الدهلوي

–

دلهي

اردو کے ناول نگار اور مصنف (1830ء–1912ء) جن کا تعلق بجنور سے تھا اور جو «مرآۃ العروس» (1869ء) کی بدولت اردو کے پہلے ناول نگار مانے جاتے ہیں؛ یہ ناول انھوں نے اپنی بیٹیوں کی تعلیم کے لیے لکھا تھا۔ وہ تعلیم اور پھر محکمۂ مال میں رہے، ڈپٹی کلکٹر بنے — یہی عہدہ ان کے لقب «ڈپٹی» کی وجہ ہے — قرآن کا اردو ترجمہ کیا اور محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کے مشہور خطیب رہے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
writer · teacher
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی تقریباً
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود · العصر الحديث ہم عصر: الفا یایا ڈیالو · حسين أفندي قايبوف · جاسم بن محمد الثانی · سلیم البشری · ميرزا أبو تراب آخوندزاده

مکان میں

دلهي

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    ڈپٹی نذیر احمد (1830ء–1912ء) بجنور سے تعلق رکھنے والے اردو ناول نگار اور مصنف تھے، جو «مرآۃ العروس» (1869ء) کی بدولت اردو کے پہلے ناول نگار مانے جاتے ہیں؛ یہ ناول انھوں نے اپنی بیٹیوں کی تعلیم کے لیے لکھا تھا۔ 1 2 وہ استاد سے شروع ہو کر محکمۂ مال میں ڈپٹی کلکٹر بنے — ان کے مشہور نام «ڈپٹی» کی وجہ یہی عہدہ ہے — حیدر آباد دکن میں خدمات انجام دیں، قرآن کا رواں اردو ترجمہ کیا، اور محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کے معروف خطیب رہے۔ 2 1

    ان کی سنِ ولادت میں ماخذ بہت مختلف ہیں: TDV انسائیکلوپیڈیا 6 دسمبر 1830ء کو درست قرار دے کر 1833ء والی روایت کو غلط کہتی ہے، جبکہ وفات پر سب متفق ہیں: دلی، 3 مئی 1912ء۔ 2 1

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    نذیر احمد ریہر گاؤں (ضلع بجنور) میں — TDV کے مطابق 6 دسمبر 1830ء کو — ایک علمی خاندان میں پیدا ہوئے؛ والد مولوی سعادت علی مدرسے کے استاد تھے۔ 2 1 ابتدائی تعلیم گھر پر فارسی اور عربی میں ہوئی، پھر نو برس کی عمر سے تین سال مولانا عبد العلیم نصر اللہ خان سے پڑھا۔ 2 1842ء میں دلی آ کر اورنگ آبادی مسجد کے مدرسے میں مولوی عبد الخالق سے تعلیم پائی، اور جنوری 1846ء میں دلی کالج کے عربی شعبے میں داخل ہوئے — والد انگریزی پڑھانے کے سخت خلاف تھے — اور 1854ء میں فارغ ہوئے؛ دلی کالج میں ان کے اساتذہ میں مملوک علی نانوتوی شامل تھے۔ 2 1 1851ء کے آغاز میں ان کی شادی استاد عبد الخالق کے بیٹے مولوی عبد القادر کی بڑی بیٹی سے ہوئی؛ ان کے بیٹے بشیر الدین احمد بعد میں بلند پایہ مصنفِ خاندان کے بزرگ بنے۔ 2 1

    ملازمت اور خدمات

    ستمبر 1854ء میں وہ پنجاب کے قصبہ کنجاہ میں سرکاری اسکول کے استاد مقرر ہوئے، پھر کانپور میں ڈپٹی انسپکٹرِ مدارس بنے۔ 2 1857ء کی جنگ کے بعد الہ آباد میں ڈپٹی انسپکٹر ہوئے اور انگریزی میں مہارت پا کر انڈین پینل کوڈ کے اردو ترجمے «تعزیراتِ ہند» (1860ء–1861ء) میں اہم حصہ لیا؛ اس سے پہلے انھوں نے سر ولیم میور کے کہنے پر انکم ٹیکس ایکٹ کا ترجمہ کیا تھا۔ 2 1 پھر امتحان میں اول آ کر محکمۂ مال میں گئے، تحصیلدار رہے، اور 1863ء میں کانپور اور پھر گورکھپور کے ڈپٹی کلکٹر بنے۔ 2 27 اپریل 1877ء کو ان کی خدمات نظامِ حیدر آباد کو منتقل ہوئیں — TDV تنخواہ 1200 روپے بتاتی ہے، اردو مضمون 800 روپے ماہوار افسرِ بندوبست کے طور پر — جہاں انھوں نے وزیر سالار جنگ اول کے کہنے پر کم عمر نظام میر محبوب علی خان کی تعلیم کے لیے حکومت پر سات رسالے لکھے، اسی عرصے میں چھ ماہ میں قرآن حفظ کیا، اور فروری 1884ء میں سالار جنگ کی وفات پر استعفیٰ دے کر دلی میں مستقل سکونت اختیار کی۔ اردو مضمون کے مطابق حیدر آباد نے انھیں «غیور جنگ» کا خطاب پیش کیا جو انھوں نے قبول نہیں کیا۔ 2 3

    تصانیف

    ان کی کتابیں تیس سے زیادہ ہیں۔ 1 «مرآۃ العروس» (1869ء) بڑی بیٹی کے لیے 1865ء–1868ء میں لکھی گئی — ایک نسخہ اس کے جہیز میں رکھا گیا — اور میتھیو کیمپسن کے ذریعے شائع ہوئی؛ حکومت نے اس کی دو ہزار جلدیں خرید کر نصاب میں شامل کیں، سر ولیم میور نے ہزار روپے انعام دیا اور آگرہ دربار (1869ء) میں اس کی تعریف کی۔ 1 2 «بنات النعش» (1872ء، TDV) اس کا دوسرا حصہ ہے جس میں اصغری استانی بن کر طالبہ کو تعلیم دیتی ہے۔ 2 «توبتہ النصوح» (1874ء، TDV؛ انگریزی مضمون 1873ء) بچوں کی تربیت پر ہے اور میور نے اس کے انگریزی ترجمے کے دیباچے میں اسے «انگریزی فکر کی اصل پیداوار» کہا۔ 2 بعد کے ناولوں میں «فسانۂ مبتلا» (1885ء)، «ابن الوقت» (1888ء)، «ایامی» (1891ء، بیواؤں کی دوسری شادی کی ترغیب) اور «رویائے صادقہ» (1894ء، TDV) شامل ہیں۔ 2 1 قرآن کا ان کا ترجمہ — تین برس میں چار مولویوں کی مدد سے مکمل ہوا اور TDV کے مطابق 1895ء میں مکمل ہوا — سلیس محاورے کی اردو کے لیے مشہور ہے؛ دوسری کتابوں میں «الحقوق و الفرائض»، «اجتہاد» اور «امہات الامہ» (1908ء) شامل ہیں۔ 1 2

    خطابت، اعزازات اور وفات

    بعد کے برسوں میں انھوں نے کہانی لکھنا چھوڑ کر خطابت کو ذریعہ بنایا: TDV کے مطابق 1888ء سے 1905ء تک ان کے خطبات چوالیس ہیں، جن میں محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کے افتتاحی خطبے بھی شامل ہیں؛ وہ سر سید احمد خان کے سفر کے ساتھی رہے مگر ہر بات میں ان کے ہمنوا نہیں تھے۔ 2 حکومت نے انھیں «شمس العلماء» کا خطاب دیا — TDV اس کی تاریخ 22 جون 1894ء بتاتی ہے اور اردو مضمون 1897ء — ایڈنبرا یونیورسٹی نے اعزازی ڈاکٹریٹ دی (TDV: 3 اپریل 1903ء؛ اردو مضمون: 1902ء) اور پنجاب یونیورسٹی نے 1910ء میں اعزازی درجہ دیا۔ 2 3 آخری عمر میں فالج کا حملہ ہوا اور ان کا انتقال جمعہ 3 مئی 1912ء کو دلی میں ہوا؛ وہ قبرستان خواجہ باقی باللہ، نزد نئی دلی ریلوے اسٹیشن میں دفن ہیں۔ 3 2

    آرا اور تنقید

    یہ حصہ ماخذوں میں نقل شدہ مختلف مواقف پیش کرتا ہے؛ یہ عجائب گھر کا فیصلہ نہیں ہے۔

    عربی مضمون انھیں سر سید احمد خان کی تحریکِ تجدید کے «دعاة و اتباع» میں شمار کرتا ہے، اور TDV ان کا سب سے اہم موضوع لڑکیوں کی تعلیم اور خواتین کے مسائل بتاتی ہے؛ TDV انھیں اردو ادب کی پانچ بڑی شخصیات میں بھی گنتی ہے۔ 4 2 ان پر تنقید بھی ہوئی: 1857ء کے لیے انگریزی اصطلاح کے ہم معنی لفظوں کا استعمال، قرآن کے ترجمے کا بین السطور نہ ہونا اور کہیں کہیں بازاری زبان — اشرف علی تھانوی نے ان کے ترجمے پر «اصلاحِ ترجمۂ دہلویہ» لکھی — اور «امہات الامہ» (1908ء) پر بعض علماء نے کفر کے فتوے دیے اور کتاب کی جلدیں جلوائی گئیں۔ 2 ربا کے بارے میں ان کی رائے — کہ ممنوع سود وہی ہے جو کئی گنا بڑھا ہوا ہو — نے بھی تنقید بڑھائی۔ 2

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Lived in
    دلهي
    Died in
    دلهي

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    تتويج أورنكزيب بدلهي· تأسيس شاهجهان آباد· عودة همايون إلى دلهي سنة ٩٦٢هـ· ابن بطوطہ چین کے سفیر مقرر· اكتمال الجامع المسجد بدلهي· نادر شاه يدخل دلهي ويقتل أهلها (١٧٣٩)· افتتاح القلعة الحمراء بدلهي· حصار دلهي (١٨٥٧)

    ماخذ

    1. Nazir Ahmad Dehlvi — English Wikipedia
    2. Nazir Ahmad Dehlvi — TDV İslâm Ansiklopedisi
    3. Nazir Ahmad Dehlvi — Urdu Wikipedia
    4. Nazir Ahmad Dehlvi — Arabic Wikipedia
    • Nazir Ahmad Dehlvi — Wikidata Q905333
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “ڈپٹی نذیر احمد”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/nazir-ahmad-dehlvi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    تتويج أورنكزيب بدلهي

    اپنے بھائیوں کے خلاف جانشینی کی جنگ کے بعد اورنگزیب نے 1659ء میں دہلی میں خود کو مغل بادشاہ قرار دیا.