نگوزی اوکونجو-ایویلا

نجوزي أوكونجو إيويالا

نائجریائی نژاد امریکی ماہرِ معاشیات، 1954 میں اوگواشی اوکو میں پیدا ہوئیں۔ انھوں نے عالمی بینک میں پچیس برس گزارے اور مینیجنگ ڈائریکٹر آپریشنز بنیں، دو بار نائجریا کی وزیرِ خزانہ رہیں اور پیرس کلب سے قرضوں کی بڑی معافی کی بات چیت کی، اور 2021 میں عالمی تجارتی تنظیم کی سربراہ بننے والی پہلی خاتون اور پہلی افریقی بنیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
economist · سیاست دان
خطہ
west-africa-sahel
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عباس محمود العقاد · عبد العزيز الغماري

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    عالمی بینک اور وزارتِ خزانہ

    انھوں نے عالمی بینک میں ترقیاتی ماہرِ معاشیات کے طور پر پچیس برس گزارے اور مینیجنگ ڈائریکٹر آپریشنز (2007ء–2011ء) کے عہدے تک پہنچیں۔ وہ دو بار نائجریا کی وزیرِ خزانہ رہیں: صدر اولوسيگون اوباسانجو کے دور میں (2003ء–2006ء) اور صدر گڈلک جوناتھن کے دور میں (2011ء–2015ء) — یہ عہدہ پانے والی پہلی خاتون، اور دو مختلف صدور کے ماتحت خدمت کرنے والی واحد وزیرِ خزانہ — اور 2006 میں مختصر مدت کے لیے وزیرِ خارجہ بھی رہیں۔ اپنی پہلی مدت میں انھوں نے پیرس کلب سے بات چیت کی قیادت کی جس سے نائجریا کے قریباً 30 ارب ڈالر کے قرضے ختم ہوئے، جن میں 18 ارب ڈالر کی صریح معافی شامل تھی 1 2۔

    عالمی تجارتی تنظیم

    15 فروری 2021 کو انھیں عالمی تجارتی تنظیم کی ڈائریکٹر جنرل مقرر کیا گیا اور یکم مارچ 2021 کو ان کی مدت شروع ہوئی؛ وہ اس عہدے پر فائز ہونے والی پہلی خاتون اور پہلی افریقی ہیں، اور بعد میں دوسری مدت کے لیے ان کی تجدید بھی ہوئی 1 2 3۔

    وابستگی، جیسا کہ ماخذ بتاتے ہیں

    ان کا نام اس سلسلے کی فہرست میں ہے، مگر استعمال شدہ کسی ماخذ میں انھیں مسلمان نہیں کہا گیا، اور فہرست کی رکنیت ثبوت نہیں ہوتی: انگریزی، عربی اور اردو مضامین اور ویکی ڈیٹا ان کے مذہب کا کوئی ذکر نہیں کرتے — بلکہ ویکی ڈیٹا کے اندراج میں مذہب کی کوئی قدر ہی نہیں۔ ان کے باہر مسیحی وابستگی کے دو تذکرے ملتے ہیں۔ اکتوبر 2017 میں نائب صدر یمی اوسینباجو نے لاگوس میں خطاب کرتے ہوئے ان کا نام لے کر کہا کہ وہ نائجریا کی جانب سے اسلامی ترقیاتی بینک کی پہلی ڈائریکٹر تھیں اور ’دونوں مسیحی ہیں‘، جیسا کہ پنچ نے رپورٹ کیا اور بیلا نائجہ نے شائع کیا — یہ ان کی اپنی وابستگی کا ایک تذکرہ ہے، اگرچہ بالواسطہ اور ان کا اپنا بیان نہیں۔ اور 25 اکتوبر 2026 کو ان کی والدہ کی وفات پر اوکونجو خاندان کے بیان نے، انھیں بچوں میں شمار کرتے ہوئے، کہا کہ ’ہم اپنے مسیحی ایمان میں سکون پاتے ہیں‘ — مگر یہ ایک خاندانی متن ہے جو خاندان کی طرف سے بولتا ہے اور کئی ذرائع نے ایک ہی بیان سے نقل کیا۔ ایک ذاتی تذکرہ اور خاندانی تأطیر، دو ماخذ والی حد سے ایک کم ہے، اس لیے یہ ریکارڈ قدر کو ’نامعلوم‘ رکھتا ہے، بانی کے فیصلے کے لیے نشان زد، اور دونوں قراءتیں محفوظ ہیں 1 4 5 6۔

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    ماخذ

    1. Ngozi Okonjo-Iweala — English Wikipedia
    2. Ngozi Okonjo-Iweala — Arabic Wikipedia
    3. Ngozi Okonjo-Iweala — Urdu Wikipedia
    4. Ngozi Okonjo-Iweala — Wikidata Q289350
    5. Ngozi Okonjo-Iweala — BellaNaija report of Osinbajo's 2017 remarks
    6. Ngozi Okonjo-Iweala — BusinessDay on the Okonjo family statement (2026)
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “نگوزی اوکونجو-ایویلا”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ngozi-okonjo-iweala/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔