ایک نظر میں
- کردار
- سائنس دان · writer
- خطہ
- south-asia
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
پرویز امیرعلی ہودبھائی ایک پاکستانی جوہری طبیعیات دان اور مصنف ہیں، جو 11 جولائی 1950ء کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ وہ جوہری ہتھیاروں کی مخالفت اور پاکستان میں سیکولرزم، آزادیٔ اظہار، سائنسی مزاج اور تعلیم کے بھرپور دفاع کے لیے جانے جاتے ہیں۔ انھوں نے 1973ء سے 2020ء تک قائد اعظم یونیورسٹی میں طبیعیات پڑھائی، اور 1989ء سے لاہور کے اشاعتی ادارے مشعل بکس کے سربراہ ہیں، جو جدید فکر، انسانی حقوق اور خواتین کی آزادی کو فروغ دینے والی اردو تراجم شائع کرتا ہے۔ 1
تعلیم اور پیشہ ورانہ زندگی
انھوں نے میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے بیچلر، ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں لیں اور اکتوبر 1973ء میں اسلام آباد یونیورسٹی — بعد میں قائد اعظم یونیورسٹی — میں جونیئر لیکچرار مقرر ہوئے۔ 1981ء میں انھوں نے واشنگٹن یونیورسٹی میں پوسٹ ڈاکٹریٹ تحقیق کی، 1986ء میں کارنیگی میلن یونیورسٹی میں وزٹنگ پروفیسر رہے، اور فورمن کرسچین کالج یونیورسٹی اور لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز میں بھی پڑھایا۔ ان کے طبیعیاتی کام میں پارٹون طبیعیات، سخت عملیات، فیلڈ تھیوری اور ذرّاتی ظواہر شامل ہیں۔ 1
«اسلام اور سائنس» اور عوامی سرگرمی
جنرل ضیا الحق کے «اسلامی سائنس» پروگرام کے رد میں انھوں نے «اسلام اور سائنس: مذہبی قدامت پسندی اور عقلانیت کی جنگ» (1991ء) لکھی، جو عبد السلام کے دیباچے کے ساتھ شائع ہوئی اور کئی زبانوں میں ترجمہ ہوئی۔ 1991ء سے 2004ء تک انھوں نے پاکستان ٹیلی ویژن کے لیے مقبول سائنس و تعلیم پر اردو میں تیرہ اقساط کی تین دستاویزی سیریز پیش کیں۔ وہ پاکستانی میڈیا میں عبد السلام کی یاد کا بارہا دفاع کرتے رہے ہیں۔ 1
پس منظر اور خیالات
انگریزی مضمون کے مطابق وہ کراچی میں سندھی خوجہ اسماعیلی شیعہ برادری کے ایک خاندان میں پیدا ہوئے اور پلے بڑھے، اور بعد میں انھوں نے خود کو انسانیت پسند (ہیومنسٹ) کے طور پر ظاہر کیا اور ہیومنسٹ مینی فیسٹو سوم کے باقاعدہ دستخط کنندگان میں شامل ہوئے۔ اپنے مضمون «معجزے، جنگیں اور سیاست» میں انھوں نے اول شخص میں خود کو «میرے جیسے ملحدوں» میں شمار کیا اور مذہبی عقیدے کی ناقابلِ تردیدیت پر ملحدوں کی جھنجھلاہٹ کا ذکر کیا۔ 1 2
اعزازات
انھیں عبد السلام ایوارڈ (1984ء)، فیض احمد فیض ایوارڈ (1990ء)، فلبرائٹ ایوارڈ (1998ء)، یونیسکو کا کالنگا پرائز (2003ء)، سائنس کی عوامی فہم بڑھانے پر روکاسا ایوارڈ (2007ء) اور امریکی فزیکل سوسائٹی کا جوزف اے۔ برٹن فورم ایوارڈ (2010ء) ملے، اور وہ فارن پالیسی میگزین کے سو نمایاں عالمی مفکرین کی فہرست میں شامل رہے۔ 1
ماخذ
- Pervez Hoodbhoy — English Wikipedia
- Pervez Hoodbhoy — 3 Quarks Daily, quoting his 'Miracles, Wars, and Politics'
- Pervez Hoodbhoy — Urdu Wikipedia
- Pervez Hoodbhoy — Arabic Wikipedia
- Pervez Hoodbhoy — Wikidata Q574843
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “پرویز ہودبھائی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/pervez-hoodbhoy/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.