راشد خان

راشد خان

افغان کرکٹ کھلاڑی اور ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی کرکٹ میں افغانستان کی قومی ٹیم کے کپتان، جو 1998 میں ننگرہار میں جلال آباد سے تعلق رکھنے والے شنواری پشتون خاندان میں پیدا ہوئے۔ دائیں ہاتھ سے لیگ اسپن گیند بازی کرنے والے اور جارحانہ دائیں ہاتھ کے بلے باز کی حیثیت سے انھوں نے 2018 میں افغانستان کے پہلے ٹیسٹ میچ میں شرکت کی، 2019 میں 20 برس 350 دن کی عمر میں ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی کرنے والے سب سے کم عمر کھلاڑی بنے، 2018 میں ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی دونوں میں آئی سی سی گیند بازوں کی درجہ بندی میں سرفہرست رہنے والے سب سے کم عمر کھلاڑی بنے، ایک روزہ کرکٹ میں سب سے تیز 100 وکٹیں (44 میچ) اور ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی میں سب سے تیز 100 وکٹیں (53 میچ) مکمل کیں، 2020 میں دہائی کے بہترین مرد ٹی ٹوئنٹی کھلاڑی قرار پائے، مردوں کی ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی کرکٹ میں سب سے زیادہ وکٹوں کا ریکارڈ رکھتے ہیں، اور آئی پی ایل، پی ایس ایل اور آسٹریلیا کی بگ بیش لیگ سمیت دنیا بھر کی فرنچائز لیگز میں کھیلتے ہیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
athlete
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عبد الرحمن بدوي · عبد العزیز بوتفلیقہ · عبدالرحمن یوسفی

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    راشد خان ارمان افغان بین الاقوامی کرکٹ کھلاڑی اور ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی فارمیٹ میں افغانستان کی قومی ٹیم کے کپتان ہیں، جو 20 ستمبر 1998 کو صوبہ ننگرہار میں پیدا ہوئے۔ وہ دائیں ہاتھ سے لیگ اسپن گیند بازی اور جارحانہ دائیں ہاتھ کی بلے بازی کرتے ہیں اور انڈین پریمیئر لیگ میں گجرات ٹائٹنز، آسٹریلیا کی بگ بیش لیگ میں ایڈیلیڈ اسٹرائیکرز، پاکستان سپر لیگ میں لاہور قلندرز، افغانستان کی شپگیزہ لیگ میں بندِ امیر ڈریگنز اور میجر لیگ کرکٹ میں ایم آئی نیویارک کے لیے فرنچائز کرکٹ کھیلتے ہیں۔ 1 2 3 4

    وہ ان گیارہ کھلاڑیوں میں شامل تھے جنھوں نے جون 2018 میں بھارت کے خلاف افغانستان کا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا۔ ستمبر 2019 میں انھوں نے بنگلہ دیش کے خلاف واحد ٹیسٹ میں افغانستان کی قیادت کی اور 20 برس 350 دن کی عمر میں ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی کرنے والے سب سے کم عمر کھلاڑی بن گئے۔ 1

    ابتدائی زندگی

    راشد خان 1998 میں مشرقی افغانستان کے ننگرہار میں ایک شنواری پشتون خاندان میں پیدا ہوئے؛ ان کا خاندان، جس میں دس بہن بھائی شامل ہیں، جلال آباد سے ہے اور افغان جنگ تک ننگرہار میں ٹائروں کا کاروبار کرتا تھا، اور خاندان جنگ سے فرار ہو کر چند برس پاکستان میں رہا۔ وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ کرکٹ کھیلتے ہوئے بڑے ہوئے اور پاکستانی آل راؤنڈر شاہد آفریدی کو اپنا مثالی کھلاڑی مانتے تھے، جن کے انداز پر انھوں نے اپنی گیند بازی ڈھالی، نیز جنوبی افریقی بلے باز اے بی ڈی ویلیئرز کو بھی۔ انھوں نے اسلامیا کالج پشاور میں 2013 تک کمپیوٹر سائنس کی تعلیم حاصل کی اور 2014 میں افغان ٹیم کے دورہِ پاکستان کے دوران پشاور کے میچوں میں نمایاں ہوئے۔ 1

    ان کی شادی 3 اکتوبر 2024 کو کابل میں ہوئی، اور اسی دن ان کے تین بھائیوں کی بھی شادی ہوئی۔ 1

    بین الاقوامی کیریئر

    انھوں نے 18 اکتوبر 2015 کو زمبابوے کے خلاف افغانستان کے لیے ایک روزہ بین الاقوامی آغاز کیا اور 26 اکتوبر 2015 کو اسی ٹیم کے خلاف ٹی ٹوئنٹی آغاز کیا۔ جون 2017 میں انھوں نے ویسٹ انڈیز کے خلاف 18 رنز دے کر 7 وکٹیں لیں، جو کسی ایسوسی ایٹ ملک کے کھلاڑی کی ایک روزہ کرکٹ میں بہترین گیند بازی تھی۔ فروری 2018 میں وہ ایک روزہ گیند بازوں کی آئی سی سی درجہ بندی میں سرفہرست رہنے والے سب سے کم عمر کھلاڑی بنے، اسی مہینے ٹی ٹوئنٹی درجہ بندی میں بھی سرفہرست رہے، اور ستمبر 2018 میں ایشیا کپ کے بعد ایک روزہ آل راؤنڈرز کی درجہ بندی میں پہلے نمبر پر آ گئے۔ 1

    مارچ 2018 میں کرکٹ ورلڈ کپ کوالیفائر کے دوران انھوں نے 19 برس 165 دن کی عمر میں پہلی بار ایک روزہ میچ میں افغانستان کی کپتانی کی اور بین الاقوامی ٹیم کی کپتانی کرنے والے سب سے کم عمر کھلاڑی بن گئے، اور اسی ٹورنامنٹ کے فائنل میں وہ ایک روزہ کرکٹ میں سب سے تیز اور سب سے کم عمر 100 وکٹیں مکمل کرنے والے گیند باز بن گئے، یہ سنگِ میل 44 میچوں میں حاصل ہوا۔ اکتوبر 2021 میں وہ میچوں کے اعتبار سے ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی میں سب سے تیز 100 وکٹیں (53 میچ) مکمل کرنے والے گیند باز بھی بن گئے، اور مردوں کی ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی کرکٹ میں سب سے زیادہ وکٹوں کا ریکارڈ انہی کے پاس ہے، انھوں نے ستمبر 2025 میں ٹم ساؤتھی کا 164 وکٹوں کا سابقہ ریکارڈ توڑا۔ 1

    قیادت اور اعزازات

    اپریل 2019 میں افغانستان کرکٹ بورڈ نے انھیں ٹی ٹوئنٹی کپتان اور ایک روزہ ٹیم کا نائب کپتان مقرر کیا، 2019 ورلڈ کپ کے بعد وہ تمام فارمیٹس کے کپتان بنے، پھر دسمبر 2019 میں اصغر افغان دوبارہ کپتان مقرر ہوئے۔ جولائی 2021 میں وہ دوبارہ ٹی ٹوئنٹی کپتان بنے، 2021 ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اسکواڈ کے اعلان کے بعد یہ کہہ کر مستعفی ہو گئے کہ سلیکشن کمیٹی نے ٹیم کے لیے ان کی رضامندی حاصل نہیں کی، اور دسمبر 2022 میں محمد نبی کے استعفے کے بعد ایک بار پھر ٹی ٹوئنٹی کپتان مقرر ہوئے؛ انھوں نے 2024 ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں افغانستان کی قیادت کی۔ آئی سی سی نے انھیں 2017 کا ایسوسی ایٹ کرکٹر آف دی ایئر قرار دیا اور دسمبر 2020 میں وہ دہائی کے بہترین مرد ٹی ٹوئنٹی کھلاڑی قرار پائے۔ 1

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Successor of
    محمد نبی

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    محمد نبی

    ماخذ

    1. Rashid Khan — English Wikipedia
    2. Rashid Khan — Arabic Wikipedia
    3. Rashid Khan — Urdu Wikipedia
    4. Rashid Khan — Wikidata Q21621685
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “راشد خان”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/rashid-khan/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    محمد نبی

    افغان کرکٹ کھلاڑی اور افغانستان کی قومی ٹیم کے سابق کپتان، جو 1985 میں لوگر میں پیدا ہوئے۔ دائیں ہاتھ سے بلے بازی اور آف اسپن گیند بازی کرنے والے آل راؤنڈر کی حیثیت سے انھوں نے افغانستان کے بین الاقوامی کرکٹ کی اعلیٰ سطح تک پہنچنے میں مرکزی کردار ادا کیا، 2009 میں اس کے پہلے ایک روزہ میچ اور 2018 میں اس کے پہلے ٹیسٹ میچ میں کھیلے، 2014 ایشیا کپ اور 2015 کرکٹ ورلڈ کپ میں ٹیم کی کپتانی کی، 2017 میں انڈین پریمیئر لیگ کی نیلامی میں خریدے جانے والے پہلے افغان کھلاڑی بنے، 2018 میں ایک روزہ کرکٹ میں 100 وکٹیں مکمل کرنے والے پہلے افغان گیند باز بنے، دنیا بھر کی ٹی ٹوئنٹی فرنچائز لیگز میں کھیلے، 2019 میں وائٹ بال کرکٹ پر توجہ کے لیے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر ہوئے، اور اس افغان ٹیم کا حصہ رہے جس نے بین الاقوامی کرکٹ میں 45 ممالک کو شکست دی۔