ایک نظر میں
- کردار
- activist · writer
- خطہ
- south-asia
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
سیدہ رضوانہ حسن (پیدائش 15 جنوری 1968ء) ایک بنگلہ دیشی ماحولیاتی وکیل ہیں، جو بنگلہ دیش ماحولیاتی وکلا ایسوسی ایشن (بیلا) کی سربراہ ہیں۔ وہ ہبی گنج میں ایک بنگالی مسلمان زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئیں جو نراپتی حویلی کے نام سے جانا جاتا ہے، اور انھوں نے ڈھاکہ یونیورسٹی میں قانون پڑھا۔ 2003ء سے انھوں نے جہاز شکنی کی صنعت اور جھیلوں کو بھرنے، پولیتھین، پہاڑ کاٹنے اور جنگلات کی کٹائی پر عدالتی مہمات چلائی ہیں اور 2009ء میں گولڈمین ماحولیاتی انعام، 2012ء میں ریمن میگسیس ایوارڈ اور 2022ء میں بین الاقوامی خواتینِ شجاعت ایوارڈ حاصل کیا۔ اگست 2024ء میں وہ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت میں مشیر بنیں اور فروری 2026ء تک ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی اور آبی وسائل کے قلمدان سنبھالے، اور دسمبر 2025ء سے اطلاعات و نشریات بھی۔ 1 2
ابتدائی زندگی اور تعلیم
وہ 15 جنوری 1968ء کو مشرقی پاکستان کے ہبی گنج میں سید محب الحسن اور ثریا حسن کے ہاں پیدا ہوئیں۔ انھوں نے وقار النساء نون اسکول و کالج اور ڈھاکہ کے ہولی کراس کالج میں تعلیم حاصل کی اور ڈھاکہ یونیورسٹی سے قانون میں بیچلر اور ماسٹرز ڈگریاں لیں۔ 1
ماحولیاتی قانونی کام
حسن جہاز شکنی کی صنعت سے 2003ء میں اس وقت وابستہ ہوئیں جب انھوں نے چٹاگانگ کے جہاز توڑنے والے احاطوں پر مقدمہ کیا، جن وجوہ میں مزدوروں کی صحت کے خطرات، خراب کام کے حالات اور فضلے کا نامناسب ٹھکانا شامل تھا؛ مارچ 2003ء میں عدالت نے ماحولیاتی اجازت کے بغیر جہاز شکنی کو غیر قانونی قرار دیا۔ وہ اس صنعت میں مزدور حقوق اور محفوظ تر کام کے ماحول کے لیے جدوجہد کرتی آئی ہیں اور جھیلوں کو بھر کر رہائشی منصوبے بنانے، پولیتھین کے غلط استعمال، پہاڑ کاٹنے، جنگلات کی کٹائی، جھینگا فارمنگ اور سینٹ مارٹن جزیرے پر غیر قانونی تعمیرات میں ملوث تنظیموں پر کامیاب مقدمے چلا چکی ہیں۔ ان کی قیادت میں بیلا نے 2003ء میں اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کی گلوبل 500 رول آف آنر بھی جیتی۔ 1
عبوری حکومت میں
2024ء کی عبوری حکومت صدر مشیر محمد یونس کی قیادت میں بننے کے بعد حسن 9 اگست 2024ء کو ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی کی مشیر مقرر ہوئیں، 16 اگست 2024ء کو آبی وسائل بھی ان کے پاس آیا اور 11 دسمبر 2025ء کو اطلاعات و نشریات بھی، اور وہ 17 فروری 2026ء تک ان عہدوں پر رہیں۔ عہدہ چھوڑنے کے بعد فروری 2026ء کے پارلیمانی انتخابات میں مبینہ مداخلت کے الزامات پر مارچ 2026ء میں جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے ان کے اور ایک اور سابق مشیر کے خلاف احتجاج کیا — یہ الزامات جماعت کے رہنماؤں کی جانب سے منقول ہیں۔ 1
اعزازات
انھیں 2007ء میں بنگلہ دیش کی وزارت جنگلات و ماحولیات کا پہلا ماحولیاتی ایوارڈ، 2009ء میں گولڈمین ماحولیاتی انعام ملا، ٹائم رسالے نے انھیں ”ماحول کی ہیرو“ کہا، 2012ء میں ریمن میگسیس ایوارڈ اس ”غیر متزلزل حوصلے اور پرجوش قیادت پر ملا جس نے عدالتی سرگرمی کی مہم میں عوام کے اچھے ماحول کے حق کو ان کے وقار اور زندگی کے حق سے کم نہ ٹھہرایا“، اور 2022ء میں امریکی محکمہ خارجہ کا بین الاقوامی خواتینِ شجاعت ایوارڈ ملا۔ 1
ذاتی زندگی
انھوں نے اپنے ہم جماعت، وکیل و کاروباری ابو بکر صدیق سے شادی کی؛ ان کی ایک بیٹی اور دو بیٹے ہیں۔ اپریل 2014ء میں ان کے شوہر، جو ایک گارمنٹ فیکٹری کے منیجنگ ڈائریکٹر تھے، مختصر وقت کے لیے اغوا ہوئے اور پھر چھوڑ دیے گئے۔ 1
مذہب پر نوٹ
اس اندراج کے لیے پڑھے گئے ماخذ کہتے ہیں کہ وہ ایک بنگالی مسلمان زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئیں — یہ بیان ان کے خاندان کے بارے میں ہے۔ کوئی ماخذ خود ان کے لیے کوئی مذہب یا مسلک نہیں بتاتا اور ویکی ڈیٹا پر ان کے مذہب کی کوئی قدر نہیں؛ اس لیے عجائب گھر کے ڈیٹا میں ان کا عقیدہ ”نامعلوم“ درج ہے اور خاندان والا بیان ان کے ریکارڈ کے عقیدے والے نوٹ میں محفوظ ہے۔ 1 2
مآخذ
- اوپر حوالہ شدہ معرّف ماخذ کيانات، جو
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی ہر نظر ثانی مؤرخ ہونی چاہیے اور اس ماخذ کا نام درج ہونا چاہیے جس نے ہر واقعہ تبدیل کیا۔
ماخذ
- Rizwana Hasan — English Wikipedia
- Rizwana Hasan — Wikidata Q7339140
- Rizwana Hasan — Urdu Wikipedia
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “رضوانہ حسن”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/rizwana-hasan/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.