صالح العلی

صالح العلي

–

شامی شیخ اور عسکری رہنما (1883–1950)، ساحلی پہاڑوں کے علوی اعیان میں سے، جنہوں نے فرانسیسی مینڈیٹ کے خلاف ساحلی بغاوت (1919–1921) کی قیادت کی، الگ علوی ریاست کے منصوبے کو مسترد کیا، اور 1922 کی عام معافی کے بعد طرطوس میں اپنی وفات تک سیاست سے کنارہ کش رہے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
جرنیل · activist
خطہ
levant-iraq
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عبد القادر المغربي · محمد بن عبد الکریم ختابی · عبد الحمید خان بھاشانی · مولوی عبد الحق

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    شیخ صالح احمد العلی (1883 – 13 اپریل 1950) ایک شامی علوی عسکری رہنما تھا جس نے شام کے فرانسیسی مینڈیٹ کے خلاف 1919–1921 کی علوی بغاوت کی قیادت کی۔ 1922 کی عام معافی کے بعد وہ طرطوس میں اپنی وفات تک ہر سیاسی سرگرمی سے کنارہ کش رہا۔ 1 2

    پس منظر

    صالح العلی شام کے ساحلی پہاڑی سلسلے میں واقع الشیخ بدر میں پیدا ہوا۔ اس کی پیدائش کا سال دو طرح دیا گیا ہے: انگریزی مضمون کا آغاز اور معلوماتی خانہ، عربی مضمون اور اردو مضمون کا متن 1883 دیتے ہیں، جبکہ اردو مضمون کا آغاز 1884 دیتا ہے، انگریزی مضمون کا وفات-عمر سانچہ 1884 سے حساب لگاتا ہے اور اسے «1884 کی پیدائشیں» میں درج کرتا ہے، اور ویکیمیڈیا ڈیٹا دونوں قيمتیں رکھتا ہے۔ وہ علوی اعیان کے ایک خاندان میں پیدا ہوا؛ عربی مضمون اس کے والد شیخ علی سلمان کو، جو المریقب سے تھا، ایک شیخ، دیندار اور شاعر اور علوی طائفے کے معروف مشائخ میں سے بتاتا ہے، اور اس کی والدہ حبابہ کو جبلہ کے قریب بشراغی کے شیخ علی عید کی بیٹی بتاتا ہے۔ 1 3 2 4

    کہا جاتا ہے کہ 1918 میں، شام سے عثمانی انخلا سے پہلے، اس کی عثمانیوں سے جھڑپ ہوئی اور اس نے دو عثمانی سپاہیوں کو مار ڈالا جو اس کے والد کی ایک زوجہ کو ہراساں کر رہے تھے — اس واقعے نے اسے مقامی طور پر باغی کی شہرت دی۔ عثمانی ریاست نے اسے سزائے موت سنائی اور اس نے بغاوت کا اعلان کر کے شیخ بدر کے علاقے کو اپنا مرکز بنایا۔ والد کی وفات کے بعد اس نے اس کے لیے ایک مزار بنایا اور مقامی روایت کے مطابق وہاں اس سے کرامات منسوب کی جاتیں۔ 1 3

    فرانسیسیوں کے خلاف بغاوت

    العلی نے 1919 سے ساحلی پہاڑوں کی بغاوت کی قیادت کی۔ 24 جولائی 1920 کو معرکۂ میسلون میں ایک عارضی فوج کی شکست اور دمشق پر فرانسیسی قبضے کے بعد توازن فرانس کے حق میں جھک گیا۔ اسی زمانے میں اس نے ابراہیم ہنانو کی وساطت سے جنوبی اناطولیہ میں فرانسیسیوں سے لڑنے والی ترک کمال پسند افواج سے تعاون شروع کیا؛ جنوری 1921 میں مصطفیٰ کمال کے نام اس کا ایک خط، جس میں فرانسیسیوں کے خلاف ان کے مشترکہ «جہاد» کے لیے ہتھیار مانگے گئے تھے، انقرہ کے ترک عسکری آرکائیو میں محفوظ ہے۔ 1

    جب اس نے الگ علوی ریاست کی فرانسیسی پیشکش مسترد کی تو فرانسیسیوں نے اسے گھر میں نظر بند کر دیا اور اس کے چھوٹے بھائی محمود کو اس کا سیاسی متبادل بنانے کی کوشش کی؛ بھائی نے انکار کر دیا۔ العلی اس وقت تک روپوش رہا جب تک جنرل غورو نے 1922 میں عام معافی جاری نہیں کی؛ پھر وہ گھر واپس آیا اور 13 اپریل 1950 کو طرطوس میں اپنی وفات تک ہر سیاسی سرگرمی سے دور رہا۔ 1 3

    ورثہ

    1930 کی دہائی کے اوائل میں العلی فرانسیسی اور مغربی مشنریوں کی اس مذہبی-سیاسی تبلیغ کے خلاف سیاسی سرگرمی میں واپس آیا جو مسلمانوں میں عام طور پر اور علویوں میں خاص طور پر ہو رہی تھی، اور اس کی سرگرمی کا نقطۂ عروج الگ علوی ریاست سے اس کا انکار اور یہ اعلان تھا کہ پہاڑ شام کا حصہ ہے۔ آزادی کے بعد وہ ایک معزز شخصیت بن گیا: 1922 کے بعد اپنے پہلے عوامی ظہور میں وہ 17 اپریل 1946 کو یومِ جلاء کی تقریبات میں صدر شکری القوتلی کا مہمانِ خصوصی تھا۔ 1 3

    اس کی برادری پر ایک نوٹ

    ماخذ صالح العلی کی برادری کو پوری طرح درج کرتے ہیں، اور اس کا ریکارڈ اجتماعی کردار کو ذاتی شہادت سے الگ رکھتا ہے۔ اجتماعی کردار اور پس منظر کے طور پر: انگریزی مضمون کا آغاز اسے شامی علوی عسکری رہنما کہتا ہے اور اس کا پس منظر والا حصہ کہتا ہے کہ وہ الشیخ بدر کے علوی اعیان کے خاندان میں پیدا ہوا؛ عربی مضمون کہتا ہے کہ اس کا والد علوی طائفے کے معروف مشائخ میں سے تھا، اور صالح خود «شیخ» کا لقب رکھتا تھا اور اپنی برادری کی بغاوت کا قائد تھا؛ اردو مضمون اسے علوی رہنما کہتا ہے۔ انتماء کی شکل کی شہادتوں میں صرف دو ہیں، اور دونوں واحد ساختی قدریں ہیں: عربی مضمون کا معلوماتی خانہ، جو اس کا مذہب اسلام اور عقیدہ علوی دیتا ہے، اور ویکیمیڈیا ڈیٹا کا مذہبی خانہ، جو اسلام اور علویوں کو ایک ساتھ رکھتا ہے۔ کوئی مضمون اس کی برادری اور اس میں اس کے منصب سے آگے اس کے لیے ذاتی طور پر کوئی انتماء بیان نہیں کرتا، کوئی ماخذ اسے «شیعہ» نہیں کہتا، اور میوزیم کی ایمانی اقدار کی فہرست میں علویت کی کوئی قدر نہیں؛ اس لیے شیعہ مطابقت یہاں نافذ نہیں ہوتی اور کوئی زبردستی مطابقت نہیں بنائی جاتی۔ اس کی قدر نامعلوم رکھی گئی ہے اور برادری یہیں پوری درج ہے۔ 1 3 2 4

    ماخذ

    1. Salih al-Ali — English Wikipedia
    2. Saleh al-Ali — Urdu Wikipedia
    3. Saleh al-Ali — Arabic Wikipedia
    4. Saleh al-Ali — Wikidata Q4165808
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “صالح العلی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/saleh-al-ali/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔