شاہ محمد سلیمان

شاه محمد سليمان

–

دلهي

شاہ محمد سلیمان (1886ء–1941ء) ہندوستانی منصف اور طبیعیات دان تھے، الہ آباد ہائی کورٹ کے پہلے ہندوستانی چیف جسٹس (1932ء–1937ء)، بعد میں وفاقی عدالت کے جج اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر (1938ء–1941ء) رہے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
فقیہ · سائنس دان
خطہ
south-asia
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس حلمی ثانی · عبد القادر المغربي · محمد بن عبد الکریم ختابی · عبد العزیز ثعالبی

مکان میں

دلهي

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    شاہ محمد سلیمان (3 فروری 1886ء – 12 مارچ 1941ء) ہندوستانی منصف اور طبیعیات دان تھے، الہ آباد ہائی کورٹ کے پہلے ہندوستانی چیف جسٹس (1932ء–1937ء)، بعد میں وفاقی عدالت ہند کے جج اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر (1938ء–1941ء) رہے۔ 1 2 اردو مقالہ انگریزی مقالے سے ماخوذ مختصر تحریر ہے۔ 3

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ ضلع جونپور کے ولیڈپور گاؤں میں وکلا اور علما کے خاندان میں پیدا ہوئے — ان کے ایک جد ملا محمود جونپوری شاہ جہاں کے دور کے فلسفی تھے، اور والد محمد عثمان جونپور میں وکیل تھے۔ 1 1906ء میں الہ آباد یونیورسٹی سے فہرست میں اول آ کر فارغ ہوئے، پھر کرائسٹ کالج، کیمبرج میں پڑھا، 1909ء میں ریاضی اور 1910ء میں قانون کے امتحانات میں نمایاں ہوئے اور اسی سال ڈبلن یونیورسٹی سے قوانین میں ڈاکٹریٹ لیا۔ 1 1911ء میں جونپور سے وکالت شروع کی اور 1912ء میں الہ آباد منتقل ہو گئے۔ 1

    عدلیہ

    اپریل 1923ء میں الہ آباد ہائی کورٹ کے جج بنے اور 1929ء میں برتھ ڈے آنرز میں نائٹ کا خطاب ملا۔ 1 16 مارچ 1932ء سے 30 ستمبر 1937ء تک عدالت کے چیف جسٹس رہے — اس منصب پر فائز پہلے ہندوستانی اور کم عمر ترین افراد میں سے ایک۔ 1 3 اگست 1933ء کو انہوں نے میرٹھ سازش مقدمے کا اپیلی فیصلہ سنایا۔ 1 یکم اکتوبر 1937ء کو نئی وفاقی عدالت ہند میں شامل ہوئے اور اپنی وفات تک اس میں رہے۔ 1

    علی گڑھ اور تعلیم

    وہ 1938ء میں ضیاء الدین احمد کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر بنے اور 1941ء تک اس منصب پر رہے۔ 4 1 1928ء میں اجمیر میں آل انڈیا محمدن ایجوکیشنل کانفرنس کی صدارت کی، ڈھاکہ، علی گڑھ، حیدرآباد اور آگرہ میں کانووکیشن خطبات دیے، اور شوق قدوائی کی مثنوی «عالم خیال» کی تدوین و تقدیم کی۔ 1

    وفات اور یادگار

    12 مارچ 1941ء کو وفات پائی اور دہلی میں نظام الدین کے مزار کے پاس امیر خسرو کے پہلو میں دفن ہوئے۔ 1 سی۔ وی۔ رامن نے «نیچر» میں ان کا مرثیہ لکھا، اور علی گڑھ میں سر شاہ سلیمان ہال اور کراچی میں سر شاہ سلیمان روڈ ان کے نام پر ہیں۔ 1 ویکی ذخیرہ ان کا مذہب صرف عمومی طور پر «اسلام» دیتا ہے اور کوئی مقالہ ان کا مسلک نہیں بتاتا، اس لیے عجائب گھر ان کی وابستگی نامعلوم درج کرتا ہے۔ 2

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Buried in
    دلهي
    Successor of
    ضیاء الدین احمد

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    نواب محمد اسماعیل خان· تتويج أورنكزيب بدلهي· تأسيس شاهجهان آباد· عودة همايون إلى دلهي سنة ٩٦٢هـ· ابن بطوطہ چین کے سفیر مقرر· اكتمال الجامع المسجد بدلهي· نادر شاه يدخل دلهي ويقتل أهلها (١٧٣٩)· افتتاح القلعة الحمراء بدلهي

    ماخذ

    1. Shah Muhammad Sulaiman — English Wikipedia
    2. Shah Muhammad Sulaiman — Wikidata Q7461315
    3. Shah Muhammad Sulaiman — Urdu Wikipedia
    4. Ziauddin Ahmad — English Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “شاہ محمد سلیمان”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/shah-muhammad-sulaiman/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    نواب محمد اسماعیل خان

    میرٹھ کے ہندوستانی مسلمان سیاست دان (اگست 1884 – 28 جون 1958)، آل انڈیا مسلم لیگ کے سرکردہ رہنما اور تحریک پاکستان کے بانی اراکین میں سے ایک۔ ٹونبرج اور سینٹ جانز کالج، کیمبرج سے تعلیم پائی اور انر ٹیمپل سے بیرسٹر بنے؛ 1930 سے 1947 تک متحدہ صوبوں کی مسلم لیگ کی قیادت کی، قرارداد پاکستان (1940) کی تدوین میں حصہ لیا، دو مرتبہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہے، تقسیم کے بعد ہندوستان میں رہنے کا فیصلہ کیا، میرٹھ میں وفات پائی اور دہلی میں نظام الدین کے مزار کے پاس خاندانی قبرستان میں دفن ہوئے۔