ایک نظر میں
- کردار
- athlete
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
- تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
شعیب اختر پاکستان کے سابق بین الاقوامی کرکٹ کھلاڑی اور مبصر ہیں، جو 13 اگست 1975 کو راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ «راولپنڈی ایکسپریس» کے لقب سے مشہور، وہ کرکٹ کی تاریخ کے تیز ترین گیند باز ہیں، انھوں نے 2003ء ورلڈ کپ میں انگلینڈ کے خلاف 161.3 کلومیٹر فی گھنٹہ کی تیز ترین ریکارڈ شدہ گیند پھینکی اور دو بار 100 میل فی گھنٹہ کی حد عبور کی۔ 1 2 3 4
انھوں نے 1997ء سے 2011ء تک پاکستان کے لیے کھیلا، 46 ٹیسٹ میچوں میں 178 وکٹیں، 163 ایک روزہ میچوں میں 247 وکٹیں اور 15 ٹی ٹوئنٹی میچوں میں 19 وکٹیں لیں۔ 1
ابتدائی زندگی
شعیب اختر راولپنڈی کے قریب چھوٹے سے شہر مورگہ میں ایک پنجابی خاندان میں پیدا ہوئے؛ ان کے والد محمد اختر اٹک آئل ریفائنری میں کام کرتے تھے اور شعیب پانچ بچوں میں چوتھے تھے۔ انھوں نے اصغر مال کالج میں داخلہ لیا، فرسٹ کلاس کیریئر کا آغاز 1994/95ء میں کیا، اور 1997 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ ڈیبیو کیا۔ 1
بین الاقوامی کیریئر
انھوں نے نومبر 1997 میں راولپنڈی میں اپنے ہوم گراؤنڈ پر ٹیسٹ ڈیبیو کیا اور تین ماہ بعد پہلا ایک روزہ میچ کھیلا۔ ان کی شاندار کارکردگی کا سلسلہ 1999 میں شروع ہوا؛ کلکتہ میں ایشین ٹیسٹ چیمپئن شپ میچ میں انھوں نے آٹھ وکٹیں لیں، جن میں راہول ڈریوڈ اور سچن ٹنڈولکر کو مسلسل گیندوں پر بولڈ کرنا شامل تھا — یہ ٹنڈولکر کے لیے ان کی پہلی گیند تھی۔ 2005 میں انگلینڈ کے خلاف ہوم ٹیسٹ سیریز میں وہ 17 وکٹوں کے ساتھ سیریز کے سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے گیند باز رہے۔ 1
وہ انگلینڈ کے تین کاؤنٹی کلبوں — سمرسیٹ، ڈرہم اور ووسٹرشائر — کے لیے کھیلے، اور 2008 میں انڈین پریمیئر لیگ میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے لیے ڈیبیو پر 11 رنز کے عوض چار وکٹیں لے کر میچ کے بہترین کھلاڑی بنے۔ وہ 2011ء ورلڈ کپ کے بعد بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائر ہوئے۔ 1
تنازعات، جیسا کہ ماخذ بیان کرتے ہیں
یہ حصہ ماخذوں سے نقل کیا گیا ہے اور عجائب گھر کا فیصلہ نہیں ہے۔ ماخذ بیان کرتے ہیں کہ ان کے کیریئر کے ساتھ چوٹیں اور تنازعات رہے: 2003 میں بال ٹیمپرنگ پر پابندی، اکتوبر 2006 میں نینڈرولون کے مثبت ٹیسٹ پر دو سال کی پابندی جو دسمبر 2006 میں اپیل پر ختم ہوئی، ستمبر 2007 میں محمد آصف کے ساتھ جھگڑے پر پابندی، اور اپریل 2008 میں پانچ سال کی پابندی جسے لاہور ہائی کورٹ نے اکتوبر 2008 میں معطل کیا۔ 1 3
ریٹائرمنٹ کے بعد
ریٹائرمنٹ کے بعد انھوں نے اپنی یوٹیوب چینل شروع کی جہاں وہ بین الاقوامی اور لیگ میچوں اور پاکستانی کرکٹ پر تبصرے پیش کرتے ہیں، اور مبصر کے طور پر کام کرتے ہیں۔ 1
ماخذ
- اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو
data/source/میں درج ہیں۔
ماخذ
- Shoaib Akhtar — English Wikipedia
- Shoaib Akhtar — Arabic Wikipedia
- Shoaib Akhtar — Urdu Wikipedia
- Shoaib Akhtar — Wikidata Q738330
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “شعیب اختر”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/shoaib-akhtar/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.