ایک نظر میں
- کردار
- طبیب · سیاست دان
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
- تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
سیما سمر (پیدائش 3 فروری 1957ء) افغان طبیبہ اور انسانی حقوق کی وکیل ہیں، جو طالبان کے بعد افغانستان کی پہلی وزیرِ امورِ خواتین بنیں، 2002ء سے 2019ء تک افغان آزاد انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ رہیں، اور 2005ء سے 2009ء تک سوڈان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ رہیں۔ 1 2 انھیں 2012ء میں انسانی حقوق، خاص طور پر خواتین کے حقوق، کے لیے رائٹ لائیولی ہڈ ایوارڈ ملا۔ 1
ابتدائی زندگی اور تعلیم
سمر 3 فروری 1957ء کو صوبہ غزنی کے جاغوری میں پیدا ہوئیں؛ وہ نسلی طور پر ہزارہ ہیں۔ 1 2 انسائیکلوپیڈیا ڈاٹ کام ان کی تاریخ پیدائش 4 فروری 1957ء دیتا ہے، جو ان کے ڈیٹا سجل میں درج مگر غیر اختیار کردہ متبادل ہے۔ 3 انھوں نے فروری 1982ء میں کابل یونیورسٹی سے طب کی ڈگری حاصل کی اور کابل کے سرکاری اسپتال میں کام کیا، پھر اپنی سلامتی کے لیے اپنے آبائی جاغوری فرار ہوئیں جہاں انھوں نے وسطی افغانستان کے دور دراز علاقوں میں مریضوں کا علاج کیا۔ 1
پاکستان اور شہدا آرگنائزیشن
1984ء میں جمہوری جمہوریہ افغانستان کی حکومت نے ان کے شوہر کو گرفتار کیا جس کا پھر کوئی پتہ نہ چلا، اور سمر اپنے کمسن بیٹے کے ساتھ پاکستان فرار ہو گئیں۔ 1 3 وہاں انھوں نے کوئٹہ کے مشن اسپتال کی پناہ گزین شاخ میں طبیبہ کے طور پر کام کیا، اور 1989ء میں افغان پناہ گزین خواتین کے لیے صحت کی سہولتوں کی کمی دیکھ کر کوئٹہ میں شہدا آرگنائزیشن اور شہدا کلینک قائم کیا، جو افغان خواتین و لڑکیوں کی صحت، طبی عملے کی تربیت اور تعلیم کے لیے وقف تھا؛ بعد میں اس کی شاخیں افغانستان بھر میں کھلیں۔ 1 2
وزارت اور استعفیٰ
ایک دہائی سے زائد پناہ گزینی کے بعد وہ 2002ء میں حامد کرزئی کی عبوری انتظامیہ میں وزارتی عہدے پر واپس آئیں — نائب صدر اور پھر پہلی وزیرِ امورِ خواتین، دسمبر 2001ء سے 2003ء تک عہدے پر رہیں۔ 1 انھیں اس وقت استعفیٰ دینے پر مجبور کیا گیا جب کینیڈا میں ایک انٹرویو میں قدامت پسند اسلامی قوانین، خاص طور پر شریعت، پر سوال اٹھانے کی نسبت ان کی طرف کیے جانے پر انھیں قتل کی دھمکیاں اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا؛ انھوں نے اس نسبت کی تردید کی، اور انسائیکلوپیڈیا ڈاٹ کام کے مطابق وہ کفر کے الزام سے بری ہوئیں۔ 1 3 لويا جرگہ کے دور میں مذہبی قدامت پسندوں نے ایک اخباری اشتہار میں انھیں «افغانستان کا سلمان رشدی» کہا — یہ ان کا دیا ہوا لقب ہے، یہیں اسی حیثیت سے درج ہے۔ 1 اقوام متحدہ کے پینل کی سوانح کے مطابق ان کی بعد کی انسانی حقوق کی رپورٹنگ پر بھی انھیں قتل کی دھمکیاں ملیں۔ 2
انسانی حقوق کمیشن اور اقوام متحدہ
سمر 2002ء سے 2019ء تک افغان آزاد انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ رہیں، 2010ء میں گوہرشاد انسٹی ٹیوٹ آف ہائر ایجوکیشن قائم کیا، اور 2005ء سے 2009ء تک سوڈان کے لیے اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ رہیں۔ 1 2019ء میں سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے انھیں داخلی بے گھری پر اعلیٰ سطحی پینل میں شامل کیا۔ 1 2 انھوں نے علناً اس مؤقف کو مسترد کیا کہ خواتین کو پردے میں رکھا جائے، اور جبری برقعے کے خلاف آواز اٹھائی، جس میں سورج کی روشنی کی کمی سے ہڈیوں کے نرم پڑنے جیسے طبی اثرات کی طرف توجہ بھی شامل ہے۔ 1
اعزازات
ان کے اعزازات میں رامون میگسیسے ایوارڈ برائے کمیونٹی لیڈرشپ (1994ء)، جان ہمفری فریڈم ایوارڈ (2001ء)، پرڈیٹا ہوسٹن انسانی حقوق ایوارڈ (2003ء)، گیوزنپیننگ (2011ء) اور رائٹ لائیولی ہڈ ایوارڈ (2012ء) شامل ہیں۔ 1
مآخذ
- اوپر حوالہ دیے گئے معرّف مآخذ، جو
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی ہر ترامیم مؤرخہ ہونی چاہئیں اور ہر بدلی ہوئی حقیقت کے ماخذ کا نام دینا چاہیے۔
تعلقات
- Predecessor of
- حبیبہ سرابی
- Lived in
- كابل
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
حبیبہ سرابی· كابل· فتح كابل وإسلام ملكها في أيام المأمون· نكث أهل كابل ومقتل يزيد بن زياد· إذعان كابل شاه للمأمون· سيرة ابن سمرة إلى كابل· عبد اللہ عبد اللہ· احمد شاہ مسعود
ماخذ
- Sima Samar — English Wikipedia
- Sima Samar — UN High-Level Panel on Internal Displacement biography
- Sima Samar — Encyclopedia.com (International Encyclopedia of the Social Sciences entry)
- Sima Samar — Wikidata Q262364
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “سیما سمر”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/sima-samar/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.