ایک نظر میں
- کردار
- prince · astronaut
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
- تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
شہزادہ سلطان بن سلمان آل سعود (پیدائش 27 جون 1956، ریاض) سعودی شہزادے اور شاہی سعودی فضائیہ کے سابق پائلٹ ہیں، جنہوں نے 1985 میں امریکی خلائی شٹل ڈسکوری میں پے لوڈ اسپیشلسٹ کی حیثیت سے پرواز کی اور خلا میں جانے والے پہلے شاہی خاندان کے فرد، پہلے عرب اور پہلے مسلمان بنے، اور شٹل پر پرواز کرنے والے کم عمر ترین شخص بھی۔ 1 2
وہ شاہ سلمان کے دوسرے صاحبزادے اور ان کے سب سے بڑے زندہ فرزند ہیں، اور مملکت کے بانی شاہ عبدالعزیز کے پوتے ہیں؛ انہوں نے دو دہائیوں تک سعودی سیاحت و قومی ورثہ کے شعبے کی قیادت کی اور پھر سعودی خلائی کمیشن کے پہلے چیئرمین بنے۔ 1 2
ابتدائی زندگی اور تعلیم
سلطان ریاض میں پیدا ہوئے؛ ان کے والد اس وقت ریاض کے گورنر تھے اور آج سعودی عرب کے شاہ ہیں، اور والدہ سلطانہ بنت ترکی السدیری تھیں۔ 1
انہوں نے ریاض میں ابتدائی و ثانوی تعلیم مکمل کی، یونیورسٹی آف ڈینور سے ماس کمیونیکیشنز میں بیچلر اور 1999 میں سیراکیوز یونیورسٹی کے میکسویل اسکول سے سماجی و سیاسی علوم میں امتیاز کے ساتھ ماسٹرز کیا۔ 1
خلائی پرواز
17 سے 24 جون 1985 تک وہ مشن STS-51-G ڈسکوری میں پے لوڈ اسپیشلسٹ رہے، سات رکنی بین الاقوامی عملے کے ساتھ انہوں نے عرب سیٹ کی نمائندگی کرتے ہوئے اس کا سیٹلائٹ عرب سیٹ-1B نصب کیا۔ 1
پرواز کے وقت ان کے پاس ایک ہزار سے زائد پروازی گھنٹے تھے، اور فروری 2020 تک ان کے فوجی و شہری پروازی گھنٹے آٹھ ہزار سے تجاوز کر چکے تھے۔ 1
بعد ازاں انہوں نے ایسوسی ایشن آف اسپیس ایکسپلوررز کے قیام میں حصہ لیا اور اس کی بین الاقوامی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن ہیں۔ 1
بعد کی زندگی
وہ 1985 سے شاہی سعودی فضائیہ میں رہے اور 1996 میں کرنل کے عہدے سے ریٹائر ہوئے؛ انہوں نے سعودی ایوی ایشن کلب قائم کیا اور عرب سیاحت تنظیم کے اعزازی صدر ہیں۔ 1 2
انہوں نے 2000 میں قیام سے سیاحت و قومی ورثہ کمیشن کے سیکرٹری جنرل اور 2009 سے 27 دسمبر 2018 تک اس کے صدر و چیئرمین کی حیثیت سے خدمات انجام دیں، پھر 27 دسمبر 2018 کو وزیر کے درجے کے ساتھ سعودی خلائی کمیشن کے بورڈ کے چیئرمین مقرر ہوئے اور عربی مقالے کے مطابق 2 مئی 2021 تک اس عہدے پر رہے، جس کے بعد وہ شاہ کے خصوصی مشیر اور شاہ سلمان فاؤنڈیشن کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے چیئرمین مقرر ہوئے۔ 1 2
انہوں نے 2005 میں تعمیراتی ورثے کے لیے شہزادہ سلطان بن سلمان ایوارڈ قائم کیا، اور ان کی کتابوں میں «ون پلینیٹ» (2011) شامل ہے، جو پہلے عرب خلائی مشن کی کہانی بیان کرتی ہے۔ 2 1
موقف اور تنقید
اس حصے کو مصادر میں منقول موقف کی نمائش کے طور پر پڑھا جائے، عجائب گھر کا فیصلہ نہیں۔
انگریزی مقالہ بیان کرتا ہے کہ واپسی کے بعد انہوں نے شیخ عبدالعزیز بن باز سے گفتگو میں کہا کہ انہوں نے زمین کی گردش کا مشاہدہ خود کیا ہے؛ مقالے کے مطابق بن باز اس سے پہلے زمین کو «ثابت و ساکن» سمجھتے تھے، لیکن انہوں نے سلطان کو ایک مسلم گواہ کے طور پر معتبر جانا؛ عجائب گھر یہ روایت اپنے ماخذ سے منسوب کر کے پیش کرتا ہے اور اس سے متعلق سائنسی یا فقہی سوال پر کوئی فیصلہ نہیں دیتا۔ 1
سعودی عرب میں معذور افراد کے اسباب سے ان کا نام طویل عرصے سے وابستہ ہے؛ عربی مقالے میں درج ان کے اعزازات میں معذوری کے شعبے میں خدمات پر «مین آف دی ایئر 1997» بھی شامل ہے۔ 2
اعزازات
ان کے متعدد اعزازات میں شاہ عبدالعزیز سیش (1985)، ناسا کا اسپیس فلائٹ میڈل (1985)، فرانسیسی شیوالیے اعزاز (1985)، شاہ فہد یونیورسٹی آف پٹرولیم اینڈ منرلز کی اعزازی ڈاکٹریٹ (1986) اور کویت لبریشن میڈلز (1993) شامل ہیں۔ 2
ذاتی زندگی
حوالہ جات
- اوپر حوالہ دیے گئے متعین مصادر، جو
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مقالے کے بعد کے تراجم اور ترامیم کو واضح تواریخِ تجدید کے ساتھ وقتاً فوقتاً جائزہ درکار ہے۔
ماخذ
- Sultan bin Salman Al Saud — English Wikipedia
- Sultan bin Salman Al Saud — Arabic Wikipedia
- Sultan bin Salman Al Saud — Wikidata Q379946
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “سلطان بن سلمان آل سعود”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/sultan-bin-salman-al-saud/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-24.