ایک نظر میں
- کردار
- سیاست دان · وزیر
- خطہ
- anatolia-balkans
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
- تکمیل 2/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
sufi (مستند)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
محمد طلعت پاشا (1 ستمبر 1874 – 15 مارچ 1921) عثمانی سیاست دان تھے، وزیرِ داخلہ اور پھر فروری 1917 سے اکتوبر 1918 تک صدرِ اعظم۔ انور اور جمال کے ساتھ وہ جمعیتِ اتحاد و ترقی کے ان «تین پاشاؤں» میں سے ایک تھے جنہوں نے پہلی جنگِ عظیم میں عثمانی ریاست پر حکومت کی۔ انگریزی مضمون کہتا ہے کہ مورخین کے نزدیک وہ وسیع پیمانے پر آرمینی نسل کشی کے اہم معماروں میں سے ایک سمجھے جاتے ہیں۔ 1
ڈاک خانے سے جمعیت تک
وہ ولایتِ ادرنہ کے کرجالی (قاردزالی) میں ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے جس کی جڑیں رومانی، ترک اور پوماک تھیں؛ ان کے والد احمد واصف قریبی گاؤں کے قاضی تھے اور ان کی والدہ ہرمز قیصریہ کے قریب دیدالر گاؤں سے ہجرت کرنے والے ترک خاندان سے تھیں۔ 1877–1878 کی جنگ میں جب روسی فوجوں نے ان کے گھر پر قبضہ کیا تو خاندان قسطنطنیہ فرار ہو گیا، اور طلعت گیارہ برس کے تھے کہ والد انتقال کر گئے۔ فوجی ثانوی اسکول سے بغیر سند نکالے جانے کے بعد وہ ادرنہ میں ڈاک کے کلرک بنے اور فارغ اوقات میں آلیانس اسرائیلیت اسکول میں ترکی پڑھاتے رہے۔ 1893 میں ایک برقیے سے چھیڑ چھاڑ پر گرفتار ہوئے، جمعیتِ اتحاد و ترقی میں شامل ہوئے، 1896 میں دوبارہ قید ہوئے اور سلانیک جلاوطن کیے گئے، جہاں ڈاکیے کی حیثیت سے انہوں نے مخالفین کے اخبارات کی ترسیل کی اور سلانیک تنظیم بنائی: 1906 میں وہاں قائم ہونے والی عثمانی آزادی کمیٹی 1907 میں احمد رضا کی پیرس والی جمعیت سے مل گئی، یوں سلانیک پارٹی کا اندرونی مرکز بنی اور طلعت کچھ عرصے اس کے سیکرٹری جنرل رہے۔ 1
اتحادی حکومت اور 1915 کی جلاوطنی
1908 کے انقلاب کے بعد وہ ادرنہ کے نائب کی حیثیت سے پارلیمان میں داخل ہوئے اور پارٹی میں ترقی کرتے ہوئے وزیرِ داخلہ بنے۔ پہلی جنگِ عظیم میں آبادی کی پالیسی کے اوزار ان کے ہاتھ میں تھے۔ مضمون بیان کرتا ہے کہ 24 اپریل 1915 کو انہوں نے ریاست بھر کی آرمینی سیاسی تنظیموں کی بندش اور ان سے منسلک آرمینیوں کی گرفتاری کا حکم دیا — قسطنطنیہ میں رات کی گرفتاریاں جن میں 235 سے 270 آرمینی رہنما، جن میں اراکینِ پارلیمان، مذہبی پیشوا، اطباء، مصنفین، صحافی اور اساتذہ شامل تھے، جن میں سے اکثر بالآخر قتل کر دیے گئے — اور یہ کہ بہت سے مبصرین ان گرفتاریوں کو آرمینی نسل کشی کا آغاز سمجھتے ہیں۔ پھر انہوں نے تہجیر (جلاوطنی) قانون کا حکم جاری کیا، جو 1 جون 1915 سے 8 فروری 1916 تک نافذ رہا اور جس نے آرمینیوں کی اجتماعی جلاوطنی کو جائز قرار دیا؛ مضمون کے مطابق یہ اس عمل کا اہم ذریعہ تھا جسے آج آرمینیوں کے خلاف نسل کشی کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے: جلاوطنوں کو کوئی انسانی امداد نہ ملی، اور شام کے صحرا کی طرف مارچ کے دوران وہ وقفے وقفے سے زیادتی اور قتلِ عام کا شکار ہوئے۔ طلعت نے یہ پالیسی جزوی طور پر اپنے گھر میں نصب برقی مشین کے ذریعے چلائی۔ امریکی سفیر ہنری مورگنتھاؤ کے سامنے انہوں نے 2 اگست 1915 کو کہا کہ آرمینیوں کے بارے میں ریاست کی پالیسی «قطعی طور پر طے ہے اور اسے کوئی چیز نہیں بدل سکتی»، اور امریکی انشورنس پالیسیوں کے آرمینی حاملین کی فہرست دینے سے انکار کر دیا۔ 4 فروری 1917 کو وہ داخلہ کی وزارت اپنے پاس رکھ کر صدرِ اعظم بنے — عثمانی تاریخ میں پارلیمان کے پہلے رکن جو وزیرِ اعظم بنے — اور سماجی اصلاحات، بریسٹ-لیٹوفسک معاہدے اور ریاست کی آخری شکستوں کی نگرانی کی، اور 8 اکتوبر 1918 کو مستعفی ہو گئے۔ 1
جلاوطنی، قتل اور دوبارہ تدفین
1–2 نومبر 1918 کی رات وہ دیگر اتحادی رہنماؤں کے ساتھ جرمن ٹورپیڈو کشتی پر اسطنبول سے فرار ہوئے، اور «علی سائی بے» کے نام سے برلن میں مقیم ہوئے، مشرقی کلب قائم کیا اور ریاست کی تقسیم کے خلاف لابنگ کی؛ اسطنبول کی فوجی عدالت نے انہیں غیر حاضری میں سزائے موت سنائی۔ 15 مارچ 1921 کو جب وہ ہارڈنبرگ شٹراسے والے فلیٹ سے نکلے تو سوغومون تہلیریان نے انہیں گولی مار کر قتل کر دیا — وہ طاشناق ایجنٹ جس کے خاندان کے افراد نسل کشی میں مارے گئے تھے، آپریشن نیمیسس کے تحت — اور ایک جرمن عدالت نے دو روزہ مقدمے کے بعد عارضی جنون کی بنیاد پر انہیں بری کر دیا۔ پہلے برلن میں دفن ہوئے؛ 1943 میں ان کی باقیات ترکی منتقل ہوئیں اور 25 فروری 1943 کو سرکاری جنازے کے ساتھ اسطنبول کی نصبِ حریت قبرستان میں دوبارہ دفن ہوئیں۔ 1 2
ان کے عقیدے کا سوال
طلعت کا معاملہ انور اور جمال سے مختلف ہے۔ انگریزی مضمون کے اطلاع خانے میں مذہب کا کوئی خانہ نہیں، مگر اس کے متن میں لکھا ہے کہ وہ بکتاشی طریقے کے رکن تھے — وہ صوفی سلسلہ جو تاریخی طور پر ینی چری اور اناطولیہ کی مذہبی زندگی سے جڑا رہا — اور اس بیان کے لیے دو علمی کاموں کا حوالہ دیا گیا ہے: ہانس-لوکاس کیزر کی 2018 میں لکھی طلعت کی سوانح اور ترک دینی وقف کی انسائیکلوپیڈیا آف اسلام میں م۔ شکری ہانی اوغلو کا مدخل۔ ترکی مضمون بھی یہی رکنیت اپنے متن میں بیان کرتا ہے، «بعض ذرائع کے مطابق» کی احتیاطی عبارت کے ساتھ اور اسی انسائیکلوپیڈیا کے حوالے سے، اور اس کا اطلاع خانہ ان کا مذہب «اسلام» دیتا ہے جس میں بکتاشی نسبت کا حوالہ فیروز احمد کی جمعیتِ اتحاد و ترقی کی تاریخ سے ہے۔ آزاد علمی حوالوں کے ساتھ مضامین کے متن میں ثابت رکنیت اطلاع خانے کی تنہا قدر سے بڑھ کر ہے: اس لیے عجائب گھر ان کی نسبت بکتاشی رکنیت کی بنیاد پر «صوفی» بطور دستاویزی درج کرتا ہے۔ کوئی ماخذ ان کے لیے کوئی سنی فقہی مذہب نہیں بتاتا، اور ویکی ڈیٹا صرف «اسلام» دیتا ہے، جو ترکی اطلاع خانے سے درآمد شدہ ہے — ایک عمومی قدر جو اکیلے کسی تصفیے کی بنیاد نہیں بن سکتی تھی۔ 1 2 3
ماخذ
- اوپر مذکور متعین ماخذ وجودات،
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی ہر نظرثانی مؤرخہ ہو اور ہر واقعہ کو بدلنے والے ماخذ کا نام لے۔
تعلقات
- Buried in
- إسطنبول
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
جامع العرب بإسطنبول· جامع عتيق علي باشا· جامع امارة العتيق· جامع أيوب سلطان· جامع فناري عيسى· مسجد جول بإسطنبول· آيا صوفيا· مسجد هيرامي أحمد باشا
ماخذ
- Talat Pasha — English Wikipedia
- Talat Pasha — Turkish Wikipedia
- Talat Pasha — Wikidata Q315888
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “محمد طلعت پاشا”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/talat-pasha/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.