یحییٰ خان

يحيى خان

–

پاکستانی جرنیل (1917ء–1980ء) جو 1969ء سے 1971ء تک مارشل لا کے تحت پاکستان کے تیسرے صدر اور 1966ء سے 1971ء تک پاک فوج کے کمانڈر ان چیف رہے۔ 1970ء کے انتخابات میں کامیاب عوامی لیگ کو اقتدار منتقل کرنے سے ان کے انکار کے نتیجے میں مشرقی پاکستان میں خانہ جنگی اور بنگلہ دیش کا قیام ہوا، جس کے بعد انھوں نے استعفیٰ دیا اور 1977ء تک نظر بند رہے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
جرنیل · سیاست دان
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد الرحمن بدوي · عبد الرزاق نوفل · عبد الله بن الصديق الغماري · عبد العزيز ملازاده · عبد الحي عارفي

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    آغا محمد یحییٰ خان (4 فروری 1917ء – 10 اگست 1980ء) پاکستانی جرنیل تھے، جو 1969ء سے 1971ء تک مارشل لا کے تحت پاکستان کے تیسرے صدر اور 1966ء سے 1971ء تک پاک فوج کے پانچویں کمانڈر ان چیف رہے۔ ان کے دور میں مشرقی پاکستان میں خانہ جنگی اور بنگلہ دیش کا قیام ہوا۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ 4 فروری 1917ء کو پنجاب کے شہر چکوال میں پیدا ہوئے۔ ان کے خاندان کا تعلق پشاور کی قزلباش برادری سے تھا، اور ان کے والد آغا سعادت علی خان انڈین پولیس کے افسر تھے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انھوں نے جامعہ پنجاب سے گریجویشن کیا اور انڈین ملٹری اکیڈمی ڈیرہ دون سے 1938ء میں کمیشن حاصل کیا۔ 2 1

    عسکری زندگی

    دوسری جنگِ عظیم کے دوران انھوں نے کئی محاذوں پر خدمات انجام دیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد پاک فوج میں شمولیت اختیار کی، سٹاف کالج کوئٹہ میں انسٹرکٹر رہے، اور 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں نمایاں خدمات کے صلے میں ہلالِ جرأت ملا۔ ستمبر 1966ء میں وہ پاک فوج کے کمانڈر ان چیف مقرر ہوئے۔ 2

    صدارت اور سقوطِ ڈھاکہ

    مارچ 1969ء میں صدر ایوب خان کے مستعفی ہونے پر انھوں نے اقتدار سنبھالا اور مارشل لا نافذ کر دیا۔ دسمبر 1970ء میں عام انتخابات ہوئے جن میں عوامی لیگ نے اکثریت حاصل کی، مگر اقتدار کی منتقلی نہ ہو سکی۔ مارچ 1971ء میں مشرقی پاکستان میں فوجی کارروائی شروع ہوئی اور دسمبر 1971ء میں مشرقی پاکستان الگ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا۔ 20 دسمبر 1971ء کو انھوں نے اقتدار ذوالفقار علی بھٹو کے حوالے کر دیا، اور بعد میں طویل عرصے گھر پر نظر بند رہے۔ 1977ء میں خرابیِ صحت کی بنا پر رہا ہوئے اور 10 اگست 1980ء کو راولپنڈی میں وفات پائی؛ مدفن پشاور ہے۔ 2 1

    ذاتی زندگی اور مذہب

    اردو مضمون ان کے مذہب کو فقط «اسلام» بتاتا ہے اور ان کے قزلباش خاندانی پس منظر کا ذکر کرتا ہے۔ انگریزی مضمون میں ان کی ذاتی زندگی کے تحت ایک ذیلی عنوان مذہب پر ہے، جس میں انھیں نامی شیعہ مسلمان کہا گیا ہے اور سریناتھ راغوان کا قول نقل کیا گیا ہے کہ وہ ایک غالب سنی افسر طبقے میں شیعہ تھے۔ عربی مضمون بھی دین کو عام طور پر اسلام بتاتا ہے۔ یحییٰ خان شراب نوشی کے لیے مشہور تھے، اور ان کی قریبی ساتھی اکلیم اختر «جنرل رانی» کہلاتی تھیں۔ 2 1 3

    آرا اور تنقید

    یہ حصہ ماخذوں میں نقل شدہ مواقف پیش کرتا ہے؛ یہ عجائب گھر کا فیصلہ نہیں۔ بنگلہ دیش میں انھیں 1971ء کی نسل کشی کا بڑا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے اور پاکستان میں ملک کی تقسیم کی بڑی وجہ قرار دیا جاتا ہے۔ دوسری طرف امریکہ میں چین کی طرف امریکی پیش قدمی میں ان کے کردار کو سراہا گیا، اور صدر نکسن نے انھیں خط لکھ کر ان کی ذاتی مدد کا شکریہ ادا کیا۔ 1

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    ماخذ

    1. Yahya Khan — English Wikipedia
    2. Yahya Khan — Urdu Wikipedia
    3. Yahya Khan — Arabic Wikipedia
    • Yahya Khan — Wikidata Q333981
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “یحییٰ خان”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/yahya-khan/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔