یوسف دادو

يوسف دادو

–

جنوبی افریقی معالج اور سیاست دان، جو 1909 میں کروگرسڈورپ میں پیدا ہوئے اور 1983 میں لندن میں جلاوطنی کے دوران وفات پائے۔ ساؤتھ افریقن انڈین کانگریس کے صدر (1950–1952)، 1952 کی ڈیفائنس مہم کے رہنما، اور 1972 سے وفات تک ساؤتھ افریقن کمیونسٹ پارٹی کے چیئرمین رہے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان · طبیب · activist
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد الحي عارفي · عبد الله الموسوي الشيرازي · آدم عبد اللہ عثمان · الأكوع محمد بن علي · امادو ہامپاتے با

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    یوسف محمد دادو (5 ستمبر 1909 – 19 ستمبر 1983) جنوبی افریقی معالج اور سیاست دان تھے، اور نسل پرستی کے خلاف تحریک کے رہنما تھے۔ 1 2 وہ ساؤتھ افریقن انڈین کانگریس کے صدر (1950–1952) اور 1972 سے وفات تک ساؤتھ افریقن کمیونسٹ پارٹی کے چیئرمین رہے۔ 1

    زندگی اور خدمات

    وہ کروگرسڈورپ میں پیدا ہوئے؛ ان کے والدین سورت سے آئے ہوئے گجراتی مسلمان مہاجر تھے۔ 1 انھوں نے علی گڑھ میں تعلیم پائی، پھر لندن اور ایڈنبرا میں طب کی تعلیم حاصل کر کے 1936 میں ڈگری لی۔ 1

    1936 میں واپس آ کر انھوں نے جوہانسبرگ میں مطب کھولا اور ٹرانسوال انڈین کانگریس میں سرگرم ہوئے؛ 1947 میں انھوں نے زوما اور نائیکر کے ساتھ «تین ڈاکٹروں کے معاہدے» پر دستخط کیے۔ 1 1950 میں وہ ساؤتھ افریقن انڈین کانگریس کے صدر منتخب ہوئے اور ڈیفائنس مہم کے رہنماؤں میں شامل رہے؛ 1952 میں حکومت نے ان پر پابندی عائد کی۔ 1 1960 کے بعد وہ لندن میں جلاوطن رہے اور 1972 میں کمیونسٹ پارٹی کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ 1

    وہ 19 ستمبر 1983 کو لندن میں وفات پائے اور ان کی وصیت کے مطابق ان کی تدفین مسلم رسوم سے ہائی گیٹ قبرستان میں ہوئی۔ 1

    تصانیف و اعزازات

    ان کے اعزازات میں اسیتوالاندوے (1955)، آرڈر آف فرینڈشپ آف پیپلز (1979) اور وفات کے بعد آرڈر فار میریٹوریس سروس (گولڈ، 2003) شامل ہیں۔ کروگرسڈورپ میں ایک اسکول اور اسپتال ان کے نام پر ہیں۔ 1

    موقف و تنقید

    یہ حصہ ماخذ میں بیان کردہ مواقف پیش کرتا ہے؛ یہ عجائب گھر کا فیصلہ نہیں ہے۔ نیلسن منڈیلا نے ان کی صد سالہ تقریبات کے پیغام میں انھیں «ہمارے ملک کی آزادی کی جدوجہد کے بڑے رہنماؤں میں سے ایک» کہا۔ ماخذ ان کے ذاتی عقیدے کی تصریح نہیں کرتا، اس لیے ان کا یہ خانہ «نامعلوم» رکھا گیا ہے۔ 1

    حوالے

    • اوپر مذکور معرّف ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔

    ماخذ

    1. Yusuf Dadoo — English Wikipedia
    2. Yusuf Dadoo — Wikidata Q444072
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “یوسف دادو”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/yusuf-dadoo/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔