ایک نظر میں
- خطہ
- persia-central-asia
- جائزہ
- تکمیل 2/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
محل وقوع اور نام
آمل مازندران کے مشرقی میدان کے جنوب مغربی کونے میں، دریائے ہراز کے مغربی کنارے پر، بحیرۂ کیسپین سے تقریباً 20 کلومیٹر جنوب میں واقع ایک شہر ہے، اس علاقے میں جسے کلاسیکی مصنفین ماپوریوں سے منسوب کرتے ہیں۔ اس کا نام شاید قدیم فارسی کے مفروضہ نام «امردھا» کی جدید فارسی شکل ہے۔ 1
روایات اور ابتدائی تاریخ
ابن اسفندیار کے مطابق آمل کی بنیاد «آمولہ» نے رکھی، جو ایک دیلمی سردار کی بیٹی اور بلخ کے بادشاہ فیروز کی بیوی تھی؛ حمد اللہ مستوفی اس کی بنیاد بادشاہ طہمورث سے منسوب کرتے ہیں، اور انسائیکلوپیڈیا دونوں بیانات کو افسانہ قرار دیتا ہے۔ ساسانی دور میں آمل کا ضلع جیلان کے ساتھ مل کر ایک نسطوری اسقفی حلقہ تھا، اور شہر شاہنامہ میں کئی بار آتا ہے۔ 1
اسلامی دور
اسلامی دور میں آمل ایک اہم صنعتی شہر بنا۔ یہیں طبری مؤرخ اور فقیہ ابوالطیب طبری پیدا ہوئے۔ حدود العالم اسے ایک عظیم شہر اور طبرستان کا دارالحکومت بتاتی ہے، جو بہت خوشحال تھا، جہاں بہت سے تاجر اور علما رہتے تھے، جس کی کئی صنعتیں تھیں اور جس کے گرد کے علاقے میں بڑی مقدار میں پھل پیدا ہوتا تھا۔ غزنی کے محمود کے بیٹے مسعود نے 426ھ (1035–1036ء) میں اسے لوٹا، اور بعد میں تیمور نے بھی اسے تاراج کیا۔ 1
بعد کی تاریخ
زلزلوں اور سیلابوں نے شہر کو کئی بار تباہ کیا، پھر بھی یہ ایک بڑا شہر رہا، جس کے مکانات پکی اینٹ کی سرخ چھتوں والے ہیں۔ ہراز پر ایک بارہ محرابی پل اسے مشرقی کنارے کے مضافات سے جوڑتا ہے۔ سڑکیں اسے کیسپین کی چھوٹی بندرگاہ محمود آباد سے، مشرق میں بارفروش سے، اور مغرب میں چالوس اور رشت سے ملاتی ہیں۔ 1941ء میں اس کی آبادی 14,166 تھی، اگرچہ یہ موسمی طور پر بدلتی تھی، کیونکہ گرمیوں میں بہت سے لوگ پہاڑوں کا رخ کرتے تھے۔ 1
ماخذ
- دائرة المعارف الإسلامية، الطبعة الثانية (ليدن: بريل) , vol. 1 p. 481-483
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “آمل (مازندران)”. islam.museum، https://islam.museum/ur/place/amul-mazandaran/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.