طالبِ علم

ہجرت

622 میں نبی مکہ سے یثرب — جو جلد مدینہ کہلائی — ہجرت کی، اور یہ ہجرت فرار نہیں بلکہ نقطۂ آغاز بنی۔ انصار نے مہاجرین کا خیرمقدم کیا اور گھر اور مال بانٹے، اور مسلمانوں نے اپنی پہلی خود مختار برادری بنائی: ایک مسجد جو سب کو جمع کرے، ایک میثاق جو مسلمانوں، یہود اور قبائل کے حقوق لکھے، اور نئے اصولوں پر بازار۔ مدینہ سے بدر، احد اور خیبر نکلے؛ اور 630 میں فتح مکہ کے بعد لوگ جوق در جوق واپس آئے۔ نبی کی وفات کے بعد خلفائے راشدین وہیں حکمران رہے پھر دارالحکومت کوفہ اور دمشق منتقل ہوا۔ آج لاکھوں مسلمان اس کی مسجد کی زیارت کرتے ہیں، اور پرانا نام یثرب اب بھی بتاتا ہے کہ ہجرت سے نئی برادری جنم لیتی ہے۔ اسی لیے ہجرت امت کا پہلا سبق رہی: عقیدے کو گھر چاہیے، گھر کو نظم، اور نظم کو صبر۔

فرہنگ مشقی سوالات