عدل اور فضل

العدل والفضل

شیخ عمر عبدالکافی عدل، جو واجب ہے، اور فضل، جو مستحب ہے، میں فرق کرتے ہیں۔ ان کی رائے ہے کہ جائز ذرائع سے حقوق کی واپسی عدل کا تقاضا ہے، اور فضل کمزوری سے نہیں ہوتا، اور وہ زمین اور مقدس مقامات کے قبضے کا ذکر بھی کرتے ہیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

خطہ
global
جائزہ

متنازع فیہ: اس مضمون میں ایسے امور شامل ہیں جن پر علماء کا اختلاف ہے۔ شیخ کی آراء ان کی اپنی قرار دی گئی ہیں، اور دیگر آراء پر، جہاں ابھی حوالہ موجود نہیں، نشان لگایا گیا ہے۔

rights-and-freedomsethics-and-character

خلاصہ

شیخ عمر عبدالکافی عدل کو، جو واجب ہے، فضل سے، جو مستحب ہے، الگ کرتے ہیں۔ ان کی رائے ہے کہ عدل کا تقاضا ہے کہ حقوق جائز ذرائع سے واپس لیے جائیں، فضل کمزوری سے نہیں ہوتا، اور دنیاوی معاملات میں زیادتی کرنے والے کو معاف کرنا بہتر ہے اگر آدمی استطاعت رکھتا ہو۔ وہ زمین اور مقدس مقامات کے قبضے کا ذکر بھی کرتے ہیں۔ 1

شیخ کی رائے: عدل واجب ہے اور فضل مستحب

شیخ کی رائے ہے کہ آدمی پر عدل واجب ہے اور فضل مستحب ہے۔ ان کے نزدیک عدل کا تقاضا ہے کہ حقوق کی واپسی ہر جائز ذریعے سے کی جائے۔ 1

شیخ کی رائے: زمین اور مقدس مقامات کا قبضہ اور پیش کردہ مراعات

شیخ زمین اور مقدس مقامات کے قبضے کا ذکر کرتے ہیں، اور پیش کی گئی مراعات کے بارے میں ایک بات بیان کرتے ہیں۔ وہ ایک عدد کا ذکر کرتے ہیں جو ریکارڈنگ میں واضح نہیں (needs_source: ریکارڈنگ میں عدد واضح نہیں)۔ 1

شیخ کی رائے: فضل بے بسی سے نہیں ہوتا

شیخ فرق کرتے ہیں کہ کوئی شخص اپنا حق لینے کی قدرت رکھتے ہوئے اسے چھوڑ دے، اور کوئی شخص مایوسی اور بے بسی کی وجہ سے چھوڑ دے۔ وہ وکیلوں اور جھوٹی گواہیوں کے ذریعے عدالت کو دھوکا دینے سے خبردار کرتے ہیں۔ 2

شیخ کی رائے: جو دین اور دنیا سے لڑے اس کا جواب

شیخ کی رائے ہے کہ جو آدمی کے دین سے لڑے اس کا مقابلہ کیا جائے۔ جو دنیاوی معاملات میں زیادتی کرے، اس کے لیے استطاعت ہو تو معافی بہتر ہے، لیکن جائز ذرائع سے حق لینا واجب ہے۔ 3

شیخ کی رائے: صبر اور درگزر، اور حق واپس لینے کے لیے رشوت سے انکار

شیخ صبر اور درگزر کو بلند ترین امور میں شمار کرتے ہیں۔ ان کی رائے ہے کہ عدل کا حکم دیا گیا ہے اور فضل مستحب ہے، اور حق واپس لینے کے لیے مال دینا رشوت ہے جو جائز نہیں۔ 4

شیخ کی رائے: صحابہ اور تابعین کا معاملہ

شیخ کی رائے ہے کہ اخلاق کی بلندی اور معاملات میں درگزر صحابہ اور تابعین کا شیوہ تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ مسلمان کو عدل کا حکم دیا گیا ہے، اگرچہ فضل کا درجہ بلند ہے، اور عدل اور فضل کے درمیان انتخاب کے کئی میدان ہیں۔ 5

سوال پر آراء

پہلی رائے · اہل سنت کی روایت (عجائب گھر کا بنیادی ڈھانچہ) · Sunni view: not yet sourcedبنیادی حوالہ

ابھی تک ماخوذ نہیں۔
مزید آراء (3)

speaker's view (Omar Abdelkafy) نقطۂ نظردیگر رائے

شیخ کی رائے ہے کہ عدل واجب ہے اور فضل مستحب، کہ جائز ذرائع سے حقوق کی واپسی عدل کا تقاضا ہے، اور حق واپس لینے کے لیے مال دینا رشوت ہے جو جائز نہیں 1 4۔

academic view: not yet sourced نقطۂ نظرثانوی رائے

ابھی تک ماخوذ نہیں۔

other view: not yet sourced نقطۂ نظردیگر رائے

ابھی تک ماخوذ نہیں۔

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

حقوق و واجبات· الاستخلاف في المال· أداء الدين· أداء الشهادة· حاملِ قرآن کے آداب· کاٹنا (عض)· اذی (معمولی تکلیف: نقصان دہ چیزوں کو ہٹانا اور تکلیف نہ دینے کا حکم)· عفو

ماخذ

  1. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Fawzu Al Moubeen، قسط 8, 00:37:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  2. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Fawzu Al Moubeen، قسط 8, 00:37:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  3. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Fawzu Al Moubeen، قسط 8, 00:38:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  4. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Fawzu Al Moubeen، قسط 8, 00:39:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  5. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Fawzu Al Moubeen، قسط 8, 00:40:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “عدل اور فضل”. islam.museum، https://islam.museum/ur/concept/adl-wal-fadl/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

پہلو

خیالات

عقائد، تصورات، علوم اور مکاتبِ فکر، سادہ زبان میں۔
متعلقہ

حقوق و واجبات

شیخ عمر عبدالکافی کے بیان کے مطابق حقوق و واجبات: حقوق کا ضیاع کامیابی میں رکاوٹ ہے، مطالبے سے پہلے واجب ادا کرنا، اور زندگی کے مختلف کرداروں کے مطابق حقوق پر غور۔