حسد (رشک و حسد)

الحسد

Envy (hasad) is wishing that a blessing be taken from another; the community agrees it is forbidden. Admiring (ghibta) is wishing for a like blessing without wishing it removed from its owner; it is praised in obedience and lawful in what is lawful. 1 2 Its causes are enmity, wanting to be above others, pride, astonishment, fear of losing aims, love of rank, and a grudging soul. 1 3 It has four grades: wishing the blessing removed without wanting it for oneself; wishing it removed in order to take it; wishing for its like and, failing that, wishing it removed; and admiring. 3 2 Envy is forbidden by the Qur'an, the Sunna and reason, and God commanded seeking refuge from the envier's evil when he envies. 2 4 It is excepted when the blessing is in the hands of an unbeliever or a sinner who would use it for disobedience. 4 Its cure is knowledge that envy harms the envier in this world and the next and does no harm to the envied, and the Prophetic remedies of refuge, charms and blessing. 4 5 6

گہرائی

ایک نظر میں

دور
العصر النبوي
خطہ
global
جائزہ
مسودہ تکمیل 0/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

ethics-and-character

خلاصہ

حسد دوسرے کی نعمت کے زوال کی تمنا ہے، اور یہ حرام ہے، جبکہ غبطہ یعنی ویسی نعمت کی تمنا محمود ہے۔ 1

حسد، غبطہ اور دل کی بیماریاں

شیخ عمر عبدالکافی حسد کو دل کی بیماریوں میں شمار کرتے ہیں، جن میں کینہ، تکبر، ریاکاری وغیرہ بھی شامل ہیں۔ 7 وہ حسد اور غبطہ میں فرق کرتے ہیں: حسد یہ ہے کہ کسی کی نعمت اس سے چھن جانے کی تمنا کی جائے، جبکہ غبطہ یہ ہے کہ بندہ اللہ سے ویسی ہی نعمت مانگے، اور وہ شافعی کے حسد کے خلاف کچھ اشعار پیش کرتے ہیں (needs_source: اشعار ریکارڈنگ میں ماخوذ نہیں)۔ 8 وہ ایک حدیث کا ذکر کرتے ہیں جس میں نبی کی بلال کو نصیحت ہے، اور شافعی کے حسد اور اللہ کی عطا کے بارے میں کچھ اشعار (needs_source: حدیث کا متن اور اشعار ریکارڈنگ میں ماخوذ نہیں)۔ 9

حسد کے اثرات

شیخ کہتے ہیں کہ حسد نیکیوں کو اسی طرح کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو، اور اس کا علاج یہ ہے کہ اپنے سے کم تر لوگوں کی طرف دیکھا جائے۔ 10 وہ کہتے ہیں کہ حسد کرنے والا جب دوسروں کو خوشحال دیکھتا ہے تو اسے نیند نہیں آتی، اور حسد نیکیوں کو لکڑی کی طرح جلا دیتا ہے۔ 11 وہ کہتے ہیں کہ حسد زندگی سے برکت چھین لیتا ہے، اور خوف انسان کا وقت ضائع کرتا ہے۔ 12 وہ حاسد کے ساتھ صبر کی نصیحت کرتے ہیں، کیونکہ اس کا حسد اسے اسی طرح جلاتا ہے جیسے آگ۔ 13

حسد کی جڑ اور اس کا علاج

شیخ کہتے ہیں کہ حسد اس گمان سے پیدا ہوتا ہے کہ اللہ نے دوسرے کو دیا اور مجھے نہیں دیا، حالانکہ اللہ کے خزانے بھرے ہوئے ہیں، اور مال بغیر خوشی، صحت یا گھر کے سکون کے بھی آ سکتا ہے۔ 14 وہ حاسد کو نصیحت کرتے ہیں کہ جو اللہ نے دوسروں کو دیا اس میں اللہ سے مانگے، کیونکہ اللہ کے خزانے ختم نہیں ہوتے۔ 15 وہ کہتے ہیں کہ حسد اللہ کی تقسیم سے انکار ہے: مومن دوسروں کے پاس جو ہے اس پر رشک کرتا ہے اور اللہ سے ویسا ہی مانگتا ہے، جبکہ منافق حسد کرتا ہے۔ 16 شیخ کی رائے یہ ہے کہ جو لوگ دوسروں سے حسد کرتے ہیں، نہ ان سے محبت کرتے ہیں اور نہ ان پر رحم، وہ قابلِ مذمت ہیں، اور وہ اس کے مقابلے میں نبی کی شفقت اور صحابہ کی نرمی کو رکھتے ہیں۔ 17

رشتہ داروں اور ساتھیوں کے درمیان حسد اور کینہ

شیخ کی رائے ہے کہ کسی ایک بچے کو دوسرے پر ترجیح دینا کینہ پیدا کرتا ہے، جس کا اثر بچوں کے بڑھاپے تک رہتا ہے، اس لیے عطا برابر ہونی چاہیے۔ 18 وہ ایک حدیث کا ذکر کرتے ہیں جو تین خطرناک عادتوں سے خبردار کرتی ہے: لوگوں کے درمیان بات پہنچا کر فساد ڈالنا، محبت کرنے والوں میں جدائی ڈالنا، اور لوگوں کے عیب تلاش کرنا، اور کہتے ہیں کہ یہ عادتیں انسان کو رشتہ داروں اور ساتھیوں پر کینہ رکھنے تک لے جاتی ہیں۔ 19 وہ بیان کرتے ہیں کہ حاتم کا پانچواں سبق یہ تھا کہ لوگ ایک دوسرے سے حسد کرتے ہیں اور ایک دوسرے کی غیبت کرتے ہیں (needs_source: حاتم کی شناخت ریکارڈنگ میں نہیں دی گئی)۔ 20

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

أداء الدين· أداء الشهادة· حاملِ قرآن کے آداب· کاٹنا (عض)· اذی (معمولی تکلیف: نقصان دہ چیزوں کو ہٹانا اور تکلیف نہ دینے کا حکم)· عدل اور فضل· عفو· عہد

ماخذ

  1. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.7084
  2. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.7086
  3. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.7085
  4. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.7087
  5. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.7088
  6. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.7089
  7. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Naba Al Safi، قسط 3, 00:20:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  8. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Naba Al Safi، قسط 9, 00:24:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  9. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Naba Al Safi، قسط 3, 00:21:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  10. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Naba Al Safi، قسط 3, 00:21:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  11. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Naba Al Safi، قسط 9, 00:25:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  12. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Naba Al Safi، قسط 13, 00:32:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  13. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Naba Al Safi، قسط 23, 00:36:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  14. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Naba Al Safi، قسط 6, 00:21:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  15. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Naba Al Safi، قسط 3, 00:20:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  16. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Naba Al Safi، قسط 16, 00:25:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  17. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Naba Al Safi، قسط 8, 00:14:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  18. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Naba Al Safi، قسط 14, 00:26:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  19. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Naba Al Safi، قسط 21, 00:40:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  20. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Naba Al Safi، قسط 11, 00:33:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “حسد (رشک و حسد)”. islam.museum، https://islam.museum/ur/concept/hasad-envy/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

پہلو

خیالات

عقائد، تصورات، علوم اور مکاتبِ فکر، سادہ زبان میں۔
متعلقہ

أداء الدين

Paying a debt in the form owed is obligatory by consensus. A debt due now must be paid on demand when the debtor can pay; a deferred debt is not due before its term. Payment is made in like items, with value owed where there is no like; a better payment is allowed when unconditioned. Remission, gift, assignment, set-off and settlement take the place of payment. A solvent debtor who refuses is compelled, imprisoned and his apparent property sold; the majority hold that a bankrupt is put under interdiction and his property divided among creditors, against Abu Hanifa. The insolvent is given respite, and his debt may be paid from zakat if he borrowed for himself in a lawful matter. A dead person's debt attaches to his estate and takes precedence over bequests and inheritance.