أمن الحرم ومكانته

أمن الحرم ومكانته

The security of whoever enters the Sacred House, one of the signs the Qur'an names for the House. Rashid Rida says the Arabs before Islam agreed to respect the House and that Islam confirmed this. He sets out two objections, the conquest of Mecca and the bombardment of the Ka'ba by al-Hajjaj ibn Yusuf, with the answers he gives in the name of Muhammad Abduh. In a footnote he describes the political obstacles to the pilgrimage in his time.

گہرائی

ایک نظر میں

دور
العصر النبوي
خطہ
arabia
جائزہ
مسودہ تکمیل 1/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

sacred-space-and-pilgrimage

خلاصہ

بیت الحرام میں داخل ہونے والے کا امن ان نشانیوں میں سے ہے جن کا ذکر قرآن نے بیت اللہ کے بارے میں کیا ہے۔ محمد رشید رضا اسے ایسی بات سمجھتے ہیں جس پر اسلام سے پہلے عرب قبائل کا اتفاق تھا، اور جسے اسلام نے برقرار رکھا۔ 1

دو اعتراضات

رضا دو اعتراض پیش کرتے ہیں۔ پہلا مکہ کو تلوار کے زور سے فتح کرنا ہے۔ وہ جواب دیتے ہیں کہ دن کی ایک گھڑی کے لیے وہ نبی کریم ﷺ کے لیے حلال کیا گیا، اور آپ نے اپنے منادی کو حکم دیا کہ جو شخص آپ کے گھر، ابو سفیان کے گھر یا مسجدِ حرام میں داخل ہو وہ امن میں ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ نبی کریم نے اس دن سعد بن عبادہ کی بات کے جواب میں فرمایا کہ انہوں نے جھوٹ نہیں کہا، اور وہ ایسا دن تھا جس میں اللہ کعبہ کی تعظیم کرتا ہے۔ دوسرا اعتراض حجاج بن یوسف کا کعبہ پر منجنیق سے پتھر برسانا ہے۔ رضا بتاتے ہیں کہ محمد عبدہ نے اسے ایک شاذ واقعہ سمجھا جو بیت اللہ کے احترام پر اتفاق کے منافی نہیں، اور حجاج اور اس کے لشکر اپنے کام کو حلال نہیں سمجھتے تھے، بلکہ سیاست نے انہیں اس پر مجبور کیا۔ 1

امن کا معنی

رضا عبدہ کی یہ رائے بیان کرتے ہیں کہ امن کا مطلب یہ نہیں کہ انسان فطری طور پر اندر والے کو پکڑنے سے عاجز ہیں، بلکہ اللہ نے لوگوں کے دلوں میں بیت اللہ کے احترام کا الہام کیا، کیونکہ وہ اسے اللہ کی طرف منسوب سمجھتے ہیں، اور اس میں الحاد اور زیادتی حرام کی۔ رضا بتاتے ہیں کہ بعض مفسرین نے امن سے قیامت کے دن کے عذاب سے امن مراد لیا، اور عبدہ نے اسے یہ کہہ کر رد کیا کہ اس سے پورا دین منہدم ہو جاتا ہے، کیونکہ وہاں کا امن خالص توحید اور نیک عمل والوں کے لیے ہے، اور بیت اللہ میں داخل ہونا ایمان کے اعمال میں سے ایک ہے۔ 2

اپنے زمانے میں حج پر رضا کا حاشیہ

ایک حاشیے میں رضا نقل کرتے ہیں کہ عبدہ کا خیال تھا کہ ان کے زمانے میں جو شخص حج کرتا ہے وہ سیاسی دشمنی کی وجہ سے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالتا ہے، اور خود رضا بھی یہی رائے رکھتے ہیں۔ اسی حاشیے میں وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے یہ بات 1924ء میں وہابیوں کے حجاز اور مکہ پر قابض ہونے سے پہلے لکھی، جیسا کہ وہ بیان کرتے ہیں، اور یہ کہ انہوں نے ان کے داخلے کی تائید کی اور ان کے عقیدے کو سنی شمار کیا۔ یہ سب رضا کی رائے اور ان کا کلام ہے۔ 2

تکمیل کے لیے

مکہ کی فتح اور حجاج کے طرزِ عمل پر کلاسیکی اور تاریخی روایات ابھی شامل نہیں ہوئیں، نہ ان واقعات کی تاریخ کسی دوسرے مصدر سے۔ حاشیے میں مذکور 1924ء کی تاریخ کو کسی بھی استعمال سے پہلے دوسرے مصدر کی ضرورت ہے۔

بیت کے امن پر شعراوی کا قول

شعراوی کے نزدیک «اس شہر کو امن والا بنا» میں اس امن کے دوام کی درخواست ہے جو اللہ نے بیت کو دیا، اور بیت کا امن ایک حکم ہے جس پر عمل کیا جائے، محض خبر نہیں۔ جو اللہ کی اطاعت کرے وہ اس کا فائدہ اٹھاتا ہے، اور جو اطاعت نہ کرے اسے بیت امن نہیں دیتا۔ 3 4

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

روضہ کاظمین· القليس (الكعبة اليمانية)· بئر زمزم· دار الندوة· ذو الخلصة (الكعبة اليمانية)· روضہ امام حسین کربلا· الكعبة· وادی السلام

ماخذ

  1. تفسير المنار، المجلد الرابع , p.8
  2. تفسير المنار، المجلد الرابع , p.9
  3. تفسير الشعراوي (الخواطر)، نسخة ممسوحة ضوئياً , p.576
  4. تفسير الشعراوي (الخواطر)، نسخة ممسوحة ضوئياً , p.581
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “أمن الحرم ومكانته”. islam.museum، https://islam.museum/ur/concept/hurmat-al-haram-makka/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-23.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

پہلو

خیالات

عقائد، تصورات، علوم اور مکاتبِ فکر، سادہ زبان میں۔
متعلقہ

روضہ کاظمین

The Kadhimiya shrine of Baghdad, raised over the graves of Musa al-Kazim and Muhammad al-Jawad; Ibn Quluwayh's Kamil al-Ziyarat locates the grave 'in al-Kadhimiya in the noble riwaq' and dedicates a chapter to their visitation.