ایک نظر میں
- دور
- العصر النبوي
- خطہ
- global
- جائزہ
خلاصہ
شیخ عمر عبد الکافی کے تفسیری درس (قسط 2)
شیخ مسکراہٹ، سلام اور حال پوچھنے کی خوش اخلاقی سے آغاز کرنے کی تلقین کرتے ہیں، کیونکہ نفوس کی فطرت میں بھلائی کی محبت رکھی گئی ہے 1۔ وہ ایک موقع بیان کرتے ہیں جب نبی ناراض تھے، ابو بکر نرمی سے پیش آئے، عمر نے کہا کہ آدمی کو اندر آنے دیا جائے، اور جب نبی نے اسے دیکھا تو اپنی کیفیت کے باوجود مسکرا دیے 2۔ شیخ کی رائے ہے کہ آدمی اگر اپنے دشمن کو سامنے پائے اور اس کی طرف مسکرائے تو دشمن جان لیتا ہے کہ وہ طاقتور ہے 3۔
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
أداء الدين· أداء الشهادة· حاملِ قرآن کے آداب· کاٹنا (عض)· اذی (معمولی تکلیف: نقصان دہ چیزوں کو ہٹانا اور تکلیف نہ دینے کا حکم)· عدل اور فضل· عفو· عہد
ماخذ
- أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Tafsir Al Quran Al Qareem، قسط 2, 00:33:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
- أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Tafsir Al Quran Al Qareem، قسط 2, 00:34:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
- أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Tafsir Al Quran Al Qareem، قسط 2, 00:50:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “مسکراہٹ (ابتسامہ)”. islam.museum، https://islam.museum/ur/concept/ibtisama/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.