مسکراہٹ (ابتسامہ)

الابتسامة

شیخ عمر عبد الکافی کے درس میں مسکراہٹ حسنِ معاملہ کا دروازہ ہے، چنانچہ وہ تلقین کرتے ہیں کہ آدمی ملاقات کا آغاز مسکراہٹ، سلام اور حال پوچھنے سے کرے۔ 1 وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی نے ایک ایسے آدمی کی طرف مسکرا کر دیکھا جو ان کی ناراضی کے وقت اندر آیا۔ 2 ان کی رائے ہے کہ دشمن کی طرف مسکرانا اس پر آدمی کی طاقت ظاہر کرتا ہے۔ 3

گہرائی

ایک نظر میں

دور
العصر النبوي
خطہ
global
جائزہ

ethics-and-character

خلاصہ

شیخ عمر عبد الکافی کے درس میں مسکراہٹ حسنِ معاملہ کا دروازہ ہے، چنانچہ وہ تلقین کرتے ہیں کہ آدمی ملاقات کا آغاز مسکراہٹ، سلام اور حال پوچھنے سے کرے 1۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی نے ایک ایسے آدمی کی طرف مسکرا کر دیکھا جو ان کی ناراضی کے وقت اندر آیا 2۔

شیخ عمر عبد الکافی کے تفسیری درس (قسط 2)

شیخ مسکراہٹ، سلام اور حال پوچھنے کی خوش اخلاقی سے آغاز کرنے کی تلقین کرتے ہیں، کیونکہ نفوس کی فطرت میں بھلائی کی محبت رکھی گئی ہے 1۔ وہ ایک موقع بیان کرتے ہیں جب نبی ناراض تھے، ابو بکر نرمی سے پیش آئے، عمر نے کہا کہ آدمی کو اندر آنے دیا جائے، اور جب نبی نے اسے دیکھا تو اپنی کیفیت کے باوجود مسکرا دیے 2۔ شیخ کی رائے ہے کہ آدمی اگر اپنے دشمن کو سامنے پائے اور اس کی طرف مسکرائے تو دشمن جان لیتا ہے کہ وہ طاقتور ہے 3۔

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

أداء الدين· أداء الشهادة· حاملِ قرآن کے آداب· کاٹنا (عض)· اذی (معمولی تکلیف: نقصان دہ چیزوں کو ہٹانا اور تکلیف نہ دینے کا حکم)· عدل اور فضل· عفو· عہد

ماخذ

  1. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Tafsir Al Quran Al Qareem، قسط 2, 00:33:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  2. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Tafsir Al Quran Al Qareem، قسط 2, 00:34:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  3. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Tafsir Al Quran Al Qareem، قسط 2, 00:50:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “مسکراہٹ (ابتسامہ)”. islam.museum، https://islam.museum/ur/concept/ibtisama/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

پہلو

خیالات

عقائد، تصورات، علوم اور مکاتبِ فکر، سادہ زبان میں۔
متعلقہ

أداء الدين

Paying a debt in the form owed is obligatory by consensus. A debt due now must be paid on demand when the debtor can pay; a deferred debt is not due before its term. Payment is made in like items, with value owed where there is no like; a better payment is allowed when unconditioned. Remission, gift, assignment, set-off and settlement take the place of payment. A solvent debtor who refuses is compelled, imprisoned and his apparent property sold; the majority hold that a bankrupt is put under interdiction and his property divided among creditors, against Abu Hanifa. The insolvent is given respite, and his debt may be paid from zakat if he borrowed for himself in a lawful matter. A dead person's debt attaches to his estate and takes precedence over bequests and inheritance.