ایک نظر میں
- دور
- إمبراطوريات البارود
- خطہ
- persia-central-asia · levant-iraq
- جائزہ
- تکمیل 2/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
موجز
اہلِ حق، یعنی «حق والے»، ایک خفیہ مذہبی جماعت ہے جو بنیادی طور پر مغربی ایران، کردستان اور آذربائیجان میں پائی جاتی ہے۔ اس کے عقائد میں شیعی غلو، صوفیانہ رسوم اور تناسخ و حلول کے قدیم تصورات ملے ہوئے ہیں، اور اس کا مذہبی نظام «فرقان الاخبار» میں بیان ہوا ہے۔ 1
انسائیکلوپیڈیا آف اسلام کا بیان
اہلِ حق کا نام کچھ غیر واضح ہے، کیونکہ حروفی اور بعض صوفی گروہ بھی یہی الفاظ استعمال کرتے ہیں، اور اس جماعت کے لوگ اپنے دین کو «دینِ حقیقت» کہتے ہیں۔ ہمسایوں میں اسے «علی الٰہی» بھی کہا جاتا ہے، جسے مقالہ نامناسب سمجھتا ہے کیونکہ ان کے دین میں علی مرکزی شخصیت نہیں۔ یہ کوئی ایک کلیسا نہیں بلکہ متعلقہ تحریکوں کا ایک وفاق ہے، جس کے بارہ بڑے خاندان یا سلسلے ہیں۔ مقالہ زیادہ تر «اتاش بیگی» دستاویزات پر مبنی ہے، جنہیں فرقان سے مکمل کیا گیا ہے۔ 1
ان کے عقیدے کا مرکز الوہیت کے یکے بعد دیگرے ظہور کا تصور ہے، جو سات ہیں: الوہیت ایک لباس پہنتی ہے اور اس کے ساتھ چار یا پانچ فرشتے ظاہر ہوتے ہیں۔ ازل میں الوہیت ایک موتی میں بند تھی، اس کا پہلا ظہور خاوندکار، خالقِ عالم، میں ہوا، اور دوسرا علی میں۔ پہلے چار ادوار علم کے مراتب شریعت، طریقت، حقیقت کے مطابق ہیں، اور سب سے بلند مرتبہ سلطان سہاک کا ہے۔ فرشتے ایک دوسرے کے ظہور ہیں، ان میں بنیامین، داؤد، موسیٰ اور رزبار شامل ہیں، جن میں رزبار پانچواں فرشتہ ہے جو عبادت کی نگرانی کرتا ہے۔ نفوس کے متعدد تناسخ ہوتے ہیں، اور جماعت رب الزمان کے ظہور کی منتظر ہے تاکہ وہ دوستوں کی آرزوئیں پوری کرے۔ 1
اہلِ حق کے ہاں اجتماعی محفلوں («جم») کو بڑی اہمیت حاصل ہے، جو مقررہ وقفوں سے اور اہم واقعات پر ہوتی ہیں، جن میں «کلام» موسیقی کے ساتھ پڑھے جاتے ہیں۔ ذکر کی محفلوں میں بعض درویش وجد میں چلے جاتے ہیں۔ محفلوں کا مرکز نذر اور قربانی ہے، اور کھانا پکا کر تقسیم کیا جاتا ہے۔ ہر فرد «پیر» کے سپرد کیا جاتا ہے، اور مرد و عورت کے درمیان «شرطِ اقرار» کے تحت بہن بھائی کا رشتہ قائم ہوتا ہے تاکہ اخلاقی کمال حاصل ہو۔ روزہ سردیوں میں تین دن کا ہوتا ہے، مگر «اتاش بیگی» اسے نہیں رکھتے۔ 2
«فرقان الاخبار» کے مصنف حاجی نعمت اللہ تھے، جو دینور کے قریب دیاہون آباد کے رہنے والے اور فرقۂ خاموشی سے تعلق رکھتے تھے (1871–1920 عیسوی)۔ 1324 ہجری/1906 عیسوی کے بعد وہ «رب الزمان کے پیغامبر» بن گئے۔ ان کے بیٹے نور علی شاہ، جو 1313 ہجری/1895 عیسوی میں پیدا ہوئے، نے ان کی سوانح اور فرقان کا دیباچہ «کشف الحقائق» کے نام سے لکھا۔ فرقان کے چار حصے ہیں، وہ خاوندکار اور سلطان سہاک کو خاص مقام دیتا ہے، اور سات ادوار کا ذکر نہیں کرتا۔ 2
اہلِ حق بنیادی طور پر لرستان، کردستان کے علاقوں (زہاب کے مشرق میں گوران قبائل، جن کا قصبہ کرند ہے) اور آذربائیجان میں تبریز اور ماکو کے گرد پائے جاتے ہیں، جبکہ قفقاز میں بھی ان کی شاخیں ہیں۔ ہمدان، تہران، مازندران، فارس اور خراسان میں چھوٹی جماعتیں ہیں، اور کرکوک، سلیمانیہ اور شاید موصل میں کرد اور ترکمان قبائل میں۔ ان کا مذہب ایک ہمہ گیر آمیزش ہے جس کی بنیاد شیعی غلو ہے، اور وہ علی کی عبادت میں دروز اور نصیریوں کے ساتھ شریک ہیں، مگر ان کے ہاں علی پر سلطان سہاک غالب ہے۔ انیسویں صدی کے آغاز کے یورپی سیاحوں، جیسے رالنسن، نے اس فرقے کی پہلی معتبر معلومات دیں، اور مینورسکی کے مطالعات، جن میں ان کا مخطوطہ اور بابا یادگار و پردیور کے مزارات کی زیارتیں شامل ہیں، اس بیان کے بنیادی خطوط متعین کرتے ہیں۔ 2
ماخذ
- دائرة المعارف الإسلامية، الطبعة الثانية (ليدن: بريل) , vol. 1 p. 284
- دائرة المعارف الإسلامية، الطبعة الثانية (ليدن: بريل) , vol. 1 p. 285
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “أهل الحق”. islam.museum، https://islam.museum/ur/group/ahl-i-haqq/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.