پھیپھڑوں کی دورانِ خون

الدورة الدموية الرئوية

طبیب ابن النفیس نے تیرھویں صدی عیسوی میں ابن سینا کی قانون کے تشریحی حصوں کی شرح میں لکھا کہ خون دل کے دائیں بطین سے بائیں بطین تک ان کی درمیانی دیوار کے مساموں سے نہیں گزرتا، جیسا کہ جالینوس کہتا تھا، کیونکہ وہاں دیوار ٹھوس ہے؛ بلکہ وہ پھیپھڑے سے بائیں بطین میں آتا ہے۔ یہ سارے خون کے پھیپھڑوں سے گزرنے کا پہلا معلوم بیان ہے، جو یورپ میں سرویتوس کی تحریر سے تقریباً تین صدیاں پہلے کا ہے 1۔

گہرائی

ایک نظر میں

دور
العصر المغولي وما بعده
خطہ
egypt-nile · levant-iraq
ابن سینا کی قانون پر ابن النفیس کی شرح کا ایک ہاتھ سے لکھا عربی صفحہ، سیاہ روشنائی اور نمایاں عنوانات کے ساتھ، ویلکم کلیکشن میں محفوظ
تصویر: قانون پر ابن النفیس کی شرح کا مخطوطہ (ویلکم، WMS Or. 51). Wellcome Collection, WMS Or. 51. CC BY 4.0 (https://creativecommons.org/licenses/by/4.0/). Embedded by URL from the Wellcome IIIF image service, not copied: https://wellcomecollection.org/works/sc3nmcx8

مختصر حقائق

شعبہ
طب اور جراحی
قسم
دریافت
پہلا ثبوت
تقریباً 1242 عیسوی · تقریباً 639 ھ† (اخذ شدہ)
دور
درمیانی دور
مقام
القاهرة
جس میں بیان ہوئی
شرح تشريح القانون
نسبت
اصل

کس نے بنایا

نسبت اور اس کی بنیاد

ابن النفیس پہلے شخص تھے جنہوں نے دونوں بطینوں کی درمیانی دیوار کے ان مساموں کو صاف طور پر رد کیا جو جالینوس نے تجویز کیے تھے، اور یہ کہا کہ سارا خون پھیپھڑے سے بائیں بطین تک پہنچتا ہے۔

خود شرح تشریح القانون کا متن، جیسا کہ میئرہوف نے مخطوطوں سے ترجمہ کیا اور ویسٹ نے نقل کیا؛ ماخذ اس اولیت پر اختلاف نہیں کرتا۔ کھلا سوال یہ ہے کہ کیا یہ متن سرویتوس اور اس کے بعد کے ماہرینِ تشریح تک پہنچا، نہ کہ دوران کو پہلے کس نے بیان کیا۔

ماخذ: جان بی ویسٹ، «ابن النفیس، پھیپھڑوں کی دورانِ خون اور اسلامی سنہری دور» (2008) · ویلکم کلیکشن: مخطوطہ WMS Or. 51، ابن سینا کی قانون پر ابن النفیس کی شرح

اس سے پہلے

  • جالینوس کا خون اور روحِ حیوانی کا تصور
  • ابن سینا کی القانون فی الطب

اس پر جو بنا

  • میخائیل سرویتوس، «کرسٹیانسمی ریسٹیٹیوشیو» (1553)
  • کولومبو، والویردے اور ویسالیوس
  • ولیم ہاروی (1578–1657)
  • مارچیلو مالپیگی اور پھیپھڑوں کی شعری نالیاں

یہ کیسے کام کرتی ہے

دل کے دونوں حصوں کے درمیان خون کا راستہ، جالینوس اور ابن النفیس کے مطابقدو دل ساتھ ساتھ۔ ایک میں تیر دونوں بطینوں کی درمیانی دیوار سے سیدھا گزرتا ہے، جس پر لکھا ہے: جالینوس، نظر نہ آنے والے مسام۔ دوسرے میں تیر دائیں بطین سے نکل کر پھیپھڑوں میں جاتا اور بائیں بطین میں لوٹتا ہے، جس پر لکھا ہے: ابن النفیس، پھیپھڑوں کے راستے؛ دیوار ٹھوس ہےدایاں بطینبایاں بطیندرمیانی دیواردایاں بطینبایاں بطینپھیپھڑاجالینوسدیوار میں نظر نہ آنے والے مسامابن النفیسپھیپھڑے کے راستے
دل کے دونوں حصوں کے درمیان خون کا راستہ، جالینوس اور ابن النفیس کے مطابق

خلاصہ

پھیپھڑوں کی دورانِ خون دل کے دائیں حصے سے پھیپھڑوں تک اور پھیپھڑوں سے بائیں حصے تک خون کا راستہ ہے۔ اس کا پہلا معلوم بیان طبیب ابن النفیس نے اپنی کتاب شرح تشریح القانون میں لکھا۔ انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ خون دونوں بطینوں کی درمیانی دیوار کے مساموں سے گزرتا ہے، جیسا کہ جالینوس کہتا تھا، اور لکھا کہ خون پھیپھڑے سے بائیں بطین میں داخل ہوتا ہے۔ یہ بات یورپ میں میخائیل سرویتوس کی تحریر سے تقریباً تین سو سال پہلے کی ہے۔ 2

یہ کیا ہے

یہ فعلیات کی ایک دریافت ہے، کوئی مشین یا آلہ نہیں۔ ماخذ کے مطابق اس کے تین حصے ہیں:

  • دونوں بطینوں کی درمیانی دیوار ٹھوس ہے، اس میں کوئی راستہ نہیں، نہ ظاہر نہ پوشیدہ۔
  • بائیں بطین تک پہنچنے والا سارا خون دائیں بطین سے نکل کر پھیپھڑے سے آتا ہے۔
  • پھیپھڑوی شریان اور پھیپھڑوی ورید کے درمیان چھوٹے راستے ہیں جو انہیں ملاتے ہیں۔

تیسرا حصہ اس چیز کی پیش گوئی ہے جسے صدیوں بعد پھیپھڑوی شعریاں کہا گیا۔ 2

اس سے پہلے کی دنیا

ابن النفیس سے پہلے تقریباً ایک ہزار سال تک طب میں جالینوس اور اس کے مکتب کی تعلیمات کا راج تھا۔ ابن سینا نے انہیں پڑھا اور القانون فی الطب میں کسی حد تک ان پر اضافہ کیا۔ 2

اس نظام میں خون کا راستہ یہ تھا:

  • غذا آنتوں میں ہضم ہو کر جگر تک جاتی، جہاں خون بنتا۔
  • خون دل کے دائیں بطین تک پہنچتا۔
  • اس کا ایک حصہ پردے کے نظر نہ آنے والے مساموں سے بائیں بطین میں چلا جاتا۔
  • بائیں بطین میں وہ سانس کی ہوا سے آنے والے «نفس» (نیوما) سے ملتا، اور اس سے «روحِ حیوانی» بنتی جسے شریانیں سارے بدن میں لے جاتیں۔
  • دھوئیں جیسا فضلہ پھیپھڑوی ورید کے ذریعے پھیپھڑے میں لوٹ کر سانس کے ساتھ باہر نکل جاتا۔ 2

یہ مسام ایک ہزار سال سے زیادہ ماہرینِ تشریح کے لیے معمہ رہے۔ لیکن جالینوس کے نظام کو ان کی ضرورت تھی، کیونکہ ابھی یہ معلوم نہ تھا کہ خون کی بڑی مقدار پھیپھڑوں سے دل کی طرف بہتی ہے۔ 2

کہانی

ابن النفیس دمشق میں یا اس کے قریب پیدا ہوئے اور وہاں کے نوری شفاخانے میں طب کی تعلیم پائی۔ ان کے سالِ پیدائش میں ماخذ مختلف ہیں: ویسٹ 1213ء بتاتے ہیں، جبکہ میوزیم کے استعمال کردہ عربی تذکرے چند سال پہلے کا ذکر کرتے ہیں۔ تیئیس برس کی عمر میں وہ قاہرہ منتقل ہوئے، جہاں پہلے ناصری شفاخانے میں اور پھر منصوری شفاخانے میں کام کیا اور وہاں رئیس الاطباء بنے۔ 3

انتیس برس کی عمر میں انہوں نے اپنی سب سے اہم کتاب، شرح تشریح القانون، شائع کی، جس میں دل اور پھیپھڑوں کی دورانِ خون کے بارے میں ان کی آراء ہیں۔ ان کا مقصد کوئی الگ کتاب لکھنا نہیں تھا، بلکہ ابن سینا کے تشریحی بیان کی شرح کرنا تھا۔ جب وہ دل کے مقام پر پہنچے تو ابن سینا سے بھی اور ان سے پہلے جالینوس سے بھی اختلاف کیا، اور لکھا کہ تشریح ان لوگوں کے دعوے کو رد کرتی ہے جو پردے کو مسام دار کہتے تھے۔ 3

پھر مغرب میں کتاب کا یہ حصہ صدیوں تک بھلا دیا گیا۔ بیسویں صدی میں ایک نوجوان مصری طبیب محی الدین التطاوی کو برلن کی پروشیائی سرکاری لائبریری میں یہ مخطوطہ ملا۔ وہ جرمنی کی فرائیبرگ یونیورسٹی کی طبی فیکلٹی کے لیے اپنا ڈاکٹری مقالہ لکھ رہے تھے، جو انہوں نے 1924ء میں پیش کیا۔ پھر مصری محکمۂ صحت نے انہیں چھوٹے دیہی قصبوں میں بھیج دیا جہاں مزید تحقیق ممکن نہ تھی، اور مقالہ کبھی شائع نہ ہوا۔ قاہرہ میں طبیب اور مستشرق میکس میئرہوف کو اس دریافت کا علم ہوا، انہوں نے اس پر لکھا اور متعلقہ حصوں کا ترجمہ کیا، اور یوں اسے گمنامی سے بچا لیا۔ 2

بنانے والے

ابن النفیس طبیب اور فقیہ تھے، اور ویسٹ نے انہیں ایک راسخ العقیدہ سنی مسلمان کہا ہے۔ 3

انہوں نے دمشق میں الدخوار سے طب پڑھی، جیسا کہ میوزیم میں ان کے اندراج میں درج ہے۔ انہوں نے طب کے علاوہ فقہ، کلام، فلسفہ اور فلکیات پر بھی لکھا۔ انہوں نے رسالہ فاضل بن ناطق بھی لکھا، جو ایک لڑکے کی کہانی ہے جو ایک الگ تھلگ جزیرے پر اکیلا پلتا ہے اور بعد میں باہر کی دنیا سے ملتا ہے۔ 3

انہوں نے طب کی ایک بہت بڑی کتاب الشامل فی الصناعۃ الطبیہ پر بھی کام کیا۔ وہ مکمل نہ ہو سکی، لیکن اپنے زمانے میں طب کا سب سے بڑا دائرۃ المعارف تھی جس کی کوشش کی گئی، اور محققین آج بھی اس سے رجوع کرتے ہیں۔ 3

ان کا انتقال 1288ء میں قاہرہ میں ہوا۔ 4

یہ کیسے کام کرتا ہے

یہ بیان شرح کے دو اقتباسات پر قائم ہے جو ویسٹ نے میئرہوف کے ترجمے سے نقل کیے ہیں۔

پہلا ورق 46 کے سامنے والے رخ پر ہے۔ اس میں ابن النفیس لکھتے ہیں کہ خون دائیں خانے میں صاف ہونے کے بعد لازماً بائیں خانے میں جاتا ہے جہاں روح بنتی ہے۔ پھر کہتے ہیں کہ دونوں خانوں کے درمیان کوئی راستہ نہیں، کیونکہ وہاں دل کا جسم ٹھوس ہے۔ اس میں نہ کوئی ظاہر راستہ ہے، جیسا کہ بعض نے سمجھا، اور نہ کوئی پوشیدہ راستہ، جیسا کہ جالینوس نے دعویٰ کیا۔ 2

دوسرا ورق 65 کے دونوں رخوں پر ہے۔ اس میں وہ دہراتے ہیں کہ بطینوں کے درمیان کوئی راستہ ہرگز نہیں، اور پردہ دل کے باقی حصوں سے موٹا ہے تاکہ خون نہ گزرے۔ پھر کہتے ہیں کہ خون پھیپھڑے ہی سے بائیں بطین میں جاتا ہے، دائیں بطین میں گرم ہو کر وہاں سے اٹھنے کے بعد۔ 2

تیسرے اقتباس میں، جو ورق 46 ہی پر ہے، وہ کہتے ہیں کہ پھیپھڑوی شریان اور پھیپھڑوی ورید کے درمیان محسوس ہونے والے راستے یعنی «منافذ» ہیں۔ یہی شعریوں کے بارے میں ان کی پیش گوئی ہے۔ 2

اس صفحے کا خاکہ دونوں نظاموں کو ساتھ ساتھ دکھاتا ہے: جالینوس کا نظام، جس میں خون پردہ پار کرتا ہے، اور ابن النفیس کا بیان، جس میں خون پھیپھڑے سے گزرتا ہے۔ 2

پھیلاؤ

ماخذ یہ نہیں بتاتا کہ ابن النفیس کے بعد یہ بیان اسلامی طب میں پھیلا، اور نہ شرح کے نسخوں اور اس کے قارئین کا سراغ لگاتا ہے۔ 1

یورپ میں ابن النفیس کی ایک اور کتاب، شرح الادویۃ المرکبہ، کا 1547ء میں بیلونو کے آندریا الپاگو نے لاطینی میں ترجمہ کیا۔ بظاہر اس ترجمے میں پھیپھڑوں سے خون کے گزرنے کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ 2

پھیپھڑوں کی دورانِ خون والا حصہ بیسویں صدی سے پہلے مغرب تک پہنچا ہو، یہ معلوم نہیں۔ 2

اس کی بنیاد کیا تھی

اس کی بنیاد جالینوس اور اس کے مکتب کی تشریح پر تھی، جیسا کہ ابن سینا نے اسے القانون میں منتقل کیا۔ یہ کتاب قانون کی شرح ہے: ابن النفیس ابن سینا کا ڈھانچہ لیتے ہیں اور پردے کے مقام پر اس سے الگ ہو جاتے ہیں۔ 2

اس پر کیا بنایا گیا

تقریباً تین سو سال بعد یورپی علماء اسی نتیجے پر پہنچے کہ خون کو لازماً پھیپھڑوں سے گزرنا ہے اور وہ دائیں بطین سے سیدھا بائیں میں نہیں جا سکتا۔ پہلے میخائیل سرویتوس (1511–1553) تھے، اپنی کتاب «کرسچیانزمی رستیتوتیو» میں جس پر 1553ء کی تاریخ ہے۔ کیتھولک اور کیلونسٹ دونوں نے کتاب کو بدعت قرار دیا، سرویتوس کو جنیوا میں زندہ جلا دیا گیا، اور کتاب کے صرف تین نسخے باقی ہیں۔ 2

پھر یہی خیالات ریالدو کولومبو، ان کے شاگرد خوان والویردے، آندریاس ویسالیئس اور ولیم ہاروے نے بیان کیے۔ ہاروے پہلے پہل پھیپھڑوں کی دورانِ خون کی فعلیات پر حیران تھے۔ اپنی وفات سے چند سال پہلے انہوں نے وہ تجربات بیان کیے جن سے ثابت ہوا کہ مائع پھیپھڑوی شریان سے بائیں بطین تک جاتا ہے۔ 2

مارچیلو مالپیگی (1628–1694) نے ابن النفیس کی پیش گوئی کے تقریباً چار سو سال بعد پھیپھڑوی شعریاں دیکھیں۔ 2

روزمرہ زندگی پر اثر

ماخذ ابن النفیس کے زمانے میں مریضوں کے علاج میں کسی تبدیلی کا ذکر نہیں کرتا۔ اس کا اثر سمجھ پر تھا: جالینوس کے ہاں پھیپھڑا وہ جگہ تھا جہاں فضلہ جاتا تھا، اب وہ دل کے دونوں حصوں کے درمیان سارے خون کا راستہ بن گیا۔ 2

اس نے تاریخ کو کیسے بدلا

یہ پردے کے مسئلے میں جالینوس کے اختیار سے پہلا کھلا انحراف تھا، جس کا اختیار چودہ سو سال سے زیادہ قائم رہا۔ سولہویں صدی کے آخر میں کیمبرج میں ہاروے کو بھی جالینوس کی کتابیں پڑھائی جاتی تھیں۔ 5

ویسٹ لکھتے ہیں کہ ماہرینِ فعلیات جالینوس اور یورپی نشاۃ ثانیہ کے درمیان کے طویل دور پر کم توجہ دیتے ہیں۔ وہ ابن النفیس کو اس بات کی دلیل سمجھتے ہیں کہ فعلیات کے مؤرخین اس دور پر نظر ڈالیں جسے بعض مؤرخین اسلامی سنہری دور کہتے ہیں۔ 4

اسے حقیقتاً کس نے ایجاد کیا؟

ماخذ اس سے اختلاف نہیں کرتا کہ ابن النفیس نے یورپ میں کسی سے تقریباً تین سو سال پہلے پھیپھڑوں سے خون کے گزرنے کو بیان کیا۔ اس کا اٹھایا ہوا سوال یہ ہے کہ کیا سرویتوس اور ان کے بعد والے ان کے کام سے واقف تھے۔ 2

  • جو بات دونوں متون کو قریب لاتی ہے: پردے اور پھیپھڑوں کے بارے میں سرویتوس کے الفاظ ابن النفیس سے ملتے جلتے ہیں، جس سے لگ سکتا ہے کہ وہ پرانے کام سے واقف تھے۔
  • جو بات انہیں الگ کرتی ہے: 1940ء میں اوسی ٹیمکن کے ایک مطالعے نے دونوں بیانات میں تضادات کی نشاندہی کی۔
  • یورپ تک کیا پہنچا: شرح الادویۃ المرکبہ کے 1547ء کے لاطینی ترجمے میں بظاہر پھیپھڑوں کی دورانِ خون کا کوئی ذکر نہیں تھا۔

ویسٹ لکھتے ہیں کہ بہت سے مؤرخین کے خیال میں سرویتوس ابن النفیس کے کام سے واقف نہ تھے۔ اگر ایسا ہے تو دونوں پھیپھڑوں سے خون کے گزرنے کی دریافت کے حق دار ہیں، ہر ایک اپنے زمانے میں۔ 2

آج

دل کے دائیں حصے سے پھیپھڑوں کے راستے بائیں حصے تک سارے خون کا جانا آج فعلیات کی بنیادی حقیقت ہے۔ اسی طرح پھیپھڑوی شریان کو پھیپھڑوی ورید سے ملانے والی شعریاں بھی، جب سے مالپیگی نے انہیں دیکھا۔ 2

آج خود ماہرینِ فعلیات ابن النفیس کے بارے میں لکھتے ہیں۔ ماخذ کے مصنف بھی ان میں سے ایک ہیں، جو تنفسی فعلیات کے ماہر ہیں اور جرنل آف اپلائیڈ فزیالوجی میں لکھ رہے ہیں۔ 4

باقی ماندہ شواہد

باقی شواہد خود شرح تشریح القانون کے مخطوطے ہیں۔ ان میں یہ شامل ہیں:

  • وہ مخطوطہ جو التطاوی کو برلن کی پروشیائی سرکاری لائبریری میں ملا۔ 2
  • لندن کی ویلکم کلیکشن کا مخطوطہ WMS Or. 51۔ کلیکشن کا کیٹلاگ اسے پھیپھڑوں کی دورانِ خون کا پہلا بیان رکھنے والا کہتا ہے، اور اس صفحے کی تصویر اسی سے ہے۔ 6

ثقافت میں

اس اندراج کے لیے پڑھے گئے ماخذ ادب، فن یا عوامی ثقافت میں اس دریافت کی کسی جگہ کا ذکر نہیں کرتے۔ جو بات کسی ماخذ سے ثابت ہو گی، شامل کی جائے گی۔ 1

بچوں کے لیے

تمہارے دل میں دو بڑے کمرے ہیں، ایک دائیں اور ایک بائیں، اور ان کے بیچ ایک دیوار ہے۔

تقریباً آٹھ سو سال پہلے طبیب سمجھتے تھے کہ اس دیوار میں ننھے ننھے سوراخ ہیں جو دکھائی نہیں دیتے، اور خون ان سے ایک طرف سے دوسری طرف جاتا ہے۔ طبیب ابن النفیس نے دیکھا اور کہا: یہاں کوئی سوراخ نہیں، دیوار ٹھوس ہے! خون دائیں کمرے سے نکل کر پھیپھڑے میں جاتا ہے، اور وہاں سے بائیں کمرے میں لوٹتا ہے۔ آج طبیب یہی جانتے ہیں۔ 2

مراجع

  • جان بی ویسٹ، «ابن النفیس، پھیپھڑوں کی دورانِ خون اور اسلامی سنہری دور»، جرنل آف اپلائیڈ فزیالوجی 105 (6)، 2008، ص 1877–1880۔ 1
  • ویلکم کلیکشن، مخطوطہ WMS Or. 51، ابن سینا کی قانون پر ابن النفیس کی شرح، کیٹلاگ اندراج۔ 6

تعلقات

تعلقات دریافت کریں

Invented by
ابن نفیس
Described by
شرح تشريح القانون

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

ابن نفیس· شرح تشريح القانون· علامہ علاء الدین ابن نفیس کی پیدائش دمشق میں، تقریباً 607ھ/1210ء· ابن نفیس کی وفات قاہرہ میں اور املاک و کتب کا وقف برائے مارستانِ منصوری، 21 ذی قعدہ 687ھ/دسمبر 1288ء· ابن نفیس مصر کے رئیس الاطباء اور سلطان ظاہر بیبرس کے خصوصی طبیب بنتے ہیں، تقریباً 658ھ/1260ء· ابن نفیس قاہرہ میں مقیم ہو کر ناصری اسپتال سے منسلک ہوتے ہیں، 633ھ/1235ء· ابن نفیس دمشق میں مہذب الدین دخوار سے طب کی تعلیم حاصل کرتے ہیں، 628ھ/1230ء سے پہلے· ابن نفیس قاہرہ میں «رسالہ کاملیہ» (فاضل بن ناطق) تصنیف کرتے ہیں، تقریباً 670ھ/1270ء

ماخذ

  1. جان بی ویسٹ، «ابن النفیس، پھیپھڑوں کی دورانِ خون اور اسلامی سنہری دور» (2008) , pp. 1877–1880
  2. جان بی ویسٹ، «ابن النفیس، پھیپھڑوں کی دورانِ خون اور اسلامی سنہری دور» (2008) , pp. 1877–1880, §Pulmonary circulation
  3. جان بی ویسٹ، «ابن النفیس، پھیپھڑوں کی دورانِ خون اور اسلامی سنہری دور» (2008) , pp. 1877–1880, §Ibn al-Nafis
  4. جان بی ویسٹ، «ابن النفیس، پھیپھڑوں کی دورانِ خون اور اسلامی سنہری دور» (2008) , pp. 1877–1880, introduction
  5. جان بی ویسٹ، «ابن النفیس، پھیپھڑوں کی دورانِ خون اور اسلامی سنہری دور» (2008) , pp. 1877–1880, §Islamic science in the 8th to 16th centuries
  6. ویلکم کلیکشن: مخطوطہ WMS Or. 51، ابن سینا کی قانون پر ابن النفیس کی شرح , catalogue record
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “پھیپھڑوں کی دورانِ خون”. islam.museum، https://islam.museum/ur/invention/pulmonary-circulation/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-05.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON

پہلو

خیالات

عقائد، تصورات، علوم اور مکاتبِ فکر، سادہ زبان میں۔
متعلقہ

ابن نفیس

مصر کے دیار میں شیخ الطب — «روی زمین پر ان جیسا کوئی نہ تھا، نہ ابن سینا کے بعد آیا، اور علاج میں اس سے بڑھ کر تھے»؛ الشامل تین سو جلدوں پر محیط تھا جن میں سے اسی تہذیب کیں، سب حفظے سے املا کی گئیں؛ اپنی املاک اور کتب مارستانِ منصوری پر وقف کر دیے ۔