دریافت کے اوزار

فتاویٰ ایکسپلورر 340 فتاویٰ

فتاویٰ کی کتابوں اور سرکاری و معروف فتویٰ ویب سائٹس سے فتاویٰ، ماخذ کے لحاظ سے مرتب۔ میوزیم ان فتاویٰ کو تاریخ کے طور پر ان کے جاری کرنے والوں سے منسوب کر کے درج کرتا ہے؛ وہ نہ کوئی حکم جاری کرتا ہے نہ کسی کو فتویٰ دیتا ہے۔

خلاصے میوزیم کے الفاظ میں ہیں؛ مکمل متن اور فتویٰ دینے والا اصل صفحے پر ہے۔

اردن کا جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ (aliftaa.jo) 252 فتاویٰ

  • بینک کی شرط کہ قسطیں پوری ہونے تک فنانس شدہ گاڑی نہ بیچی جائے

    بینک کے ذریعے ایسی گاڑی خریدنے کے بارے میں سوال جس میں بینک قسطیں پوری ہونے تک اسے بیچنے سے منع کرتا ہے، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ یہ شرط بیع کے تقاضے کے خلاف ہونے کی وجہ سے درست نہیں، سوائے اس کے کہ یہ بینک کے حق میں گاڑی کے رہن کی صورت میں ہو، اس صورت میں وہ صرف بینک کی اجازت سے بیچی جا سکتی ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ معاہدہ کرنے والوں کی شرائط اصلاً درست ہیں سوائے ان کے جو معاہدے کے تقاضے کے خلاف ہوں، اور کنز الراغبین پر قلیوبی کے حاشیے سے شرائط کی پانچ صورتوں کی تقسیم نقل کی، جن میں آخری معاہدے کے تقاضے کے خلاف شرط ہے جو اسے فاسد کر دیتی ہے۔ اس نے کہا کہ خریداری کا حکم دینے والے کے لیے مرابحہ بیع کی ایک قسم ہے، اس لیے بینک یہ شرط نہیں لگا سکتا کہ چیز نہ بیچی جائے کیونکہ اس کی ملکیت گاہک کو منتقل ہو چکی، البتہ وہ اپنے حق میں اس چیز کے رہن کی شرط لگا سکتا ہے، جس کے بعد وہ اس کی اجازت کے بغیر نہیں بیچی جا سکتی۔ اس نے کہا کہ گاہک قیمت کا کوئی حصہ نہ پہلے بیچنے والے کو دے سکتا ہے نہ بینک کو؛ وہ صرف سنجیدگی کی ضمانت کی رقم دیتا ہے جو قیمت کا حصہ شمار نہیں ہوتی۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ بینک کا قسطیں پوری ہونے تک گاڑی نہ بیچنے کی شرط لگانا درست نہیں، سوائے رہن کے طور پر، اس صورت میں بینک کی اجازت سے فروخت درست ہے۔

    اصل صفحہ

  • ورثا کی زمین کی قیمت سے دلال کی اجرت کاٹنا

    ورثا کی مشترکہ زمین کے بارے میں سوال جو دلال کے ذریعے بیچی گئی، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ اگر تمام ورثا دلال کے ذریعے بیع پر راضی تھے تو اس کی اجرت تقسیم سے پہلے قیمت سے کاٹی جائے اور ہر وارث اپنے حصے کے مطابق اسے برداشت کرے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ میراث میں ورثا کا تعلق شرکتِ ملک کا ہے، جس میں ہر شریک اپنے حصے کے مطابق اخراجات برداشت کرتا ہے کیونکہ نقصان نفع کے ساتھ ہے؛ دلال کی اجرت ترکہ کی تقسیم کے اخراجات میں سے ہے، اور اس نے زکریا الانصاری کی اسنی المطالب سے نقل کیا کہ تقسیم کرنے والے کی اجرت حصوں کے مطابق بٹتی ہے، افراد کی تعداد کے مطابق نہیں۔ اس نے کہا کہ اگر بیع والد کی بیوی کے ورثا کی اجازت سے ہوئی تو وہ بھی دیگر ورثا کے ساتھ دلال کی اجرت برداشت کریں گے، کیونکہ دلال اجرت کے بغیر کام نہیں کرتا اور عرف میں معروف چیز شرط کی طرح ہے۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ اگر تمام ورثا دلال کے ذریعے بیع پر راضی تھے تو اس کی اجرت تقسیم سے پہلے زمین کی قیمت سے کاٹی جائے، اور یہی حکم والد کی بیوی کے ورثا پر بھی ہے جب تک وہ بیع پر راضی تھے۔

    اصل صفحہ

  • مقامی مصنوعات خریدنے کی ترغیب دینے والی مہم شروع کرنا

    مقامی مصنوعات خریدنے کی ترغیب دینے والی مہم شروع کرنے کے بارے میں سوال، اور یہ کہ کیا اس سے مسلمانوں میں تفریق اور غیر ملکی مصنوعات کا بائیکاٹ ہوتا ہے، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ ایسی مہمیں خیر میں تعاون ہونے کی وجہ سے درست ہیں، اور نہ تفرقے کی دعوت ہیں نہ دوسری مصنوعات کا بائیکاٹ۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ معاشی قوت حقیقی خود مختاری اور عدم انحصار کی بنیاد ہے اور سماجی امن و سلامتی کا تقاضا ہے؛ اس نے ذکر کیا کہ نبی نے مدینہ پہنچنے پر سب سے پہلے کاموں میں سے ایک یہ کیا کہ دوسروں کے زیر تسلط بازار پر انحصار کے بجائے مسلمانوں کے لیے بازار قائم کیا، پھر کھیتی باڑی اور اپنے ہاتھ کی کمائی کی ترغیب دی، اور اس میں تعاون کو خیر میں تعاون شمار کیا۔ اس نے کہا کہ ملک کی معیشت کو سہارا دینے والی قومی مصنوعات اور مقامی صنعتوں کی حمایت کرنی چاہیے، کیونکہ اس سے قومی معیشت زیادہ ترقی کرتی ہے اور تاجر اور صنعت کار اپنی مصنوعات بہتر بنانے پر آمادہ ہوتے ہیں۔ اس نے وضاحت کی کہ یہ مہمیں تفرقے کی دعوت نہیں، اور نہ غیر ملکی مصنوعات کا تعطل ہیں جو بکتی اور فروخت ہوتی رہتی ہیں؛ مقامی مصنوعات کی تشہیر کا مطلب دوسروں کی مذمت نہیں، اور بنیاد مسابقت ہی رہتی ہے۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ مقامی مصنوعات کی ترغیب دینے والی مہمیں شروع کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

    اصل صفحہ

  • اسکول کینٹین کے منتظم کا ذاتی فائدہ اٹھانا

    اسکول کینٹین کے منتظم کا ذاتی فائدہ اٹھانا کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ اسکول کینٹین شراکت اور مضاربت کی بنیاد پر چلتی ہے اور اس کا منتظم امانت دار وکیل ہے، اس لیے وہ سپلائرز کے بونس یا تحفے اپنے لیے نہیں لے سکتا اور جو لیا ہو اسے کینٹین کو لوٹانا واجب ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ فقہی لحاظ سے اسکول کینٹین شراکت اور مضاربت کا عقد ہے: حصہ دار سرمایہ ملاتے ہیں پھر کسی کو کینٹین اور اس کے معاملات چلانے کا وکیل بناتے ہیں، اور عقد میں منافع مشترک معلوم حصوں کی صورت میں طے ہوتا ہے۔ اس نے کہا کہ مضارب اس وکیل کی طرح ہے جسے سرمایہ کے مالکوں نے تجارت کے لیے پسند کیا، اس لیے اس کا قبضہ امانت کا ہے اور اس پر اپنے مؤکلوں کے مفاد کی حفاظت واجب ہے، اور بخاری کی روایت کردہ حدیث کا حوالہ دیا جس کا مفہوم ہے کہ تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور اپنی رعیت کا ذمہ دار ہے، اور اسنی المطالب پر شہاب رملی کے حاشیے (2/257) سے نقل کیا کہ شریک وکیل کی طرح ہے اور مصلحت کے مطابق تصرف کرتا ہے۔ اس نے کہا کہ کینٹین کا ذمہ دار سپلائرز کے اضافی الاؤنس (بونس) نہیں لے سکتا اور نہ ذاتی فائدے کے لیے تحفے قبول کر سکتا ہے؛ ورنہ وہ امانت میں خیانت کرنے والا اور حرام کھانے والا ہے، اور اگر اس نے طلبہ پر قیمت بڑھائی تو گناہ اور بڑا ہے، اور سورۃ النساء 4:29 کا حوالہ دیا۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ جس نے اس میں سے کچھ لیا ہو اس پر اسے کینٹین کو واپس کرنا واجب ہے، اور منتظم کو چاہیے کہ جن کے لیے کام کرتا ہے ان کا امانت دار اور خیر خواہ رہے تاکہ اس کا ذمہ بری ہو۔

    اصل صفحہ

  • خیراتی بازار میں گاڑی کی قرعہ اندازی

    ایک خیراتی انجمن کا سوال جو امدادی بازار کی آمدنی بڑھانے کے لیے گاڑی کی قرعہ اندازی کے ادا شدہ کوپن بیچنا چاہتی تھی، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ یہ قرعہ اندازی جوا ہونے کی وجہ سے حرام ہے، اور اس کے بجائے بغیر قرعہ اندازی کے عطیے کے طور پر خریدے جانے والے داخلہ ٹکٹ تجویز کیے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ جن مقابلوں میں شریک مالی نفع یا نقصان کے امکان کے ساتھ داخل ہو وہ اصلاً حرام جوا ہیں، جسے علماء نے کبیرہ گناہوں میں شمار کیا ہے۔ اس نے کہا کہ مذکورہ قرعہ اندازی حرام مقابلوں کے حکم میں ہے، اور حکم اس سے نہیں بدلتا کہ انعام شرکا کے مال سے ہو یا کسی بیرونی فریق کا عطیہ، نہ اس سے کہ آمدنی کسی شرعاً مطلوب مقصد کے لیے ہو، کیونکہ مقصد ذریعے کو جائز نہیں بناتا اور ہر شریک یا تو جیتتا ہے یا ہارتا ہے۔ اس نے متبادل تجویز کیا کہ بازار میں داخلے کے ٹکٹ معمولی قیمت، مثلاً ایک دینار، پر پیش کیے جائیں جنہیں لوگ نفع کے بجائے اجر کی نیت سے عطیہ کے طور پر خریدیں، اور ٹکٹوں پر کوئی قرعہ اندازی نہ ہو۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ مذکورہ قرعہ اندازی کا انتظام حرام ہے، اور مشورہ دیا کہ اسے غزہ کے ضرورت مندوں کے لیے عطیات جمع کرنے سے بدل دیا جائے۔

    اصل صفحہ

  • خیراتی انجمن کا تجارتی بینک کی مدد قبول کر کے اشاعتوں میں اس کا شکریہ ادا کرنا

    ایک خیراتی انجمن کے بارے میں سوال جو تجارتی بینک سے اس شرط پر مدد لے کہ پوسٹس، ویڈیوز اور اشتہارات میں اس کا شکریہ ادا کرے، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ سودی بینکوں کے عطیات قبول کیے جا سکتے ہیں اگر ان میں تشہیر کی شرط نہ ہو، زبانی یا خط کے ذریعے شکریہ درست ہے، اور اشتہارات اور پوسٹس کے ذریعے شکریہ حرام ہے کیونکہ وہ تشہیر ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ سود کا لین دین کرنے والے بینکوں اور مالیاتی اداروں کی تشہیر حرام ہے کیونکہ یہ حرام میں مدد ہے۔ اس نے کہا کہ جس کا مال حلال و حرام سے مخلوط ہو، یا جس کا اکثر مال حرام ہو، اس سے معاملہ کرنے میں حرج نہیں، لہٰذا اس کا ہبہ یا عطیہ قبول ہو سکتا ہے جب تک دی گئی رقم کا بعینہ حرام ہونا معلوم نہ ہو، بشرطیکہ یہ عطیہ دینے والے کی تشہیر سے مشروط نہ ہو؛ اس نے الفتاوی الفقہیہ الکبری میں ابن حجر ہیتمی کا جواب نقل کیا کہ جس کا اکثر مال حرام ہو اس سے معاملہ مکروہ ہے جب تک عین حرام معلوم نہ ہو۔ اس نے مدد کرنے والے بینک کے شکریے کی صورتوں میں فرق کیا: انتظامیہ کا زبانی شکریہ یا شکریے کا خط درست ہے؛ اشتہارات اور ویڈیوز میں شائع کیا گیا شکریہ جائز نہیں کیونکہ وہ تشہیر کے معنی میں ہے۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ سودی بینکوں کے عطیات قبول کرنے میں حرج نہیں اگر ان میں تشہیر کی شرط نہ ہو، اور اگر وہ تشہیری کام، جیسے پوسٹس اور اشتہارات میں شکریہ، کے بدلے ہوں تو حرام ہیں۔

    اصل صفحہ

  • خیراتی انجمن کا زکات کو مریضوں کے علاج میں استعمال کرنا

    ایک خیراتی انجمن کے بارے میں سوال جو مریضوں کے علاج، دواؤں اور آلات کی خریداری اور صحت کے منصوبوں کے لیے زکات لے، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ زکات دواؤں، آلات یا صحت کے منصوبوں کی خریداری پر خرچ نہیں ہو سکتی، البتہ غریب مسلمانوں کی وکالت سے ان کے علاج کے اخراجات میں دی جا سکتی ہے، اور حکومت اسے فقیر کے لیے سب سے مفید طریقے سے خرچ کر سکتی ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ زکات کے مصارف سورۃ التوبہ کی آیت صدقات میں متعین ہیں، اور زکات دواؤں اور طبی آلات کی خریداری، لیبارٹری کے اخراجات اور صحت کے منصوبوں کے لیے نہیں دی جا سکتی؛ البتہ اسے غریب مسلمانوں اور ان کے علاج کے اخراجات پر، نہ کہ عمومی انتظامی یا عملیاتی اخراجات پر، خرچ کرنے میں حرج نہیں۔ اس نے کہا کہ ہسپتال یا مرکز فقرا سے وکالت لے سکتا ہے جس کے تحت وہ ان کی طرف سے رقم وصول کر کے پھر ان پر خرچ کرے، کیونکہ اصل یہ ہے کہ زکات فقیر کی ملکیت میں دی جائے؛ استثنا سرکاری ادارہ ہے، کیونکہ حاکم زکات کو فقیر پر اس طریقے سے خرچ کر سکتا ہے جسے وہ زیادہ مفید اور بہتر سمجھے۔ اس نے فقہا کا یہ قول نقل کیا کہ حاکم فقیر کے لیے ایسی جائیداد خرید سکتا ہے جس سے وہ آمدنی لے، اور اس پر مغنی المحتاج میں منقول زرکشی کا قول، شرح المنہج پر حاشیۃ الجمل کا یہ بیان کہ حاکم قبضے میں فقیر کا نائب ہے، اور تحفۃ المحتاج میں ابن حجر ہیتمی کا قول پیش کیا کہ وہ مصلحت عامہ کے لیے فقیر کو خریدی گئی چیز ملکیت سے نہ نکالنے کا پابند کر سکتا ہے۔ اس نے ذکر کیا کہ اردنی مجلس افتاء نے اپنی قرارداد نمبر 99 میں غریب مسلمان کینسر کے مریضوں کی زکات سے مدد کو جائز قرار دیا، اور معاذ کی حدیث پر اختتام کیا کہ صدقہ مسلمانوں کے امیروں سے لیا جائے اور ان کے غریبوں کو لوٹایا جائے۔

    اصل صفحہ

  • خیراتی انجمن کے کھاتے میں برسوں سے غیر خرچ شدہ نذر اور کفارے کی رقم

    ایک خیراتی انجمن کے بارے میں سوال جو نذریں اور کفارے جمع کرتی ہے اور جس کے پاس کچھ رقم برسوں سے خرچ نہیں ہوئی، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ انجمن وکیل ہے جس کے لیے بلا عذر ادائیگی میں تاخیر حرام ہے؛ تاخیر ہو چکی ہو تو توبہ کے ساتھ فوراً پہنچانا واجب ہے، اور ضائع ہو جائے تو اس کا ضمان واجب ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ خیراتی انجمنیں کفارے اور نذر والوں کی طرف سے انہیں مستحقین تک پہنچانے میں وکیل ہیں، لہٰذا ان کے منتظمین پر جلدی کرنا واجب ہے اور بلا عذر تاخیر جائز نہیں؛ یہ رقم امانت ہے جس کی حفاظت واجب ہے۔ اس نے تحفۃ المحتاج پر شروانی کے حواشی کا حوالہ دیا جن میں التتمہ سے نقل ہے کہ اگر قسم توڑنا خود گناہ ہو تو کفارہ فوراً واجب ہے، اور مغنی المحتاج میں خطیب شربینی کا قول کہ مستحقین کی ضرورت فوری ہے، لہٰذا تاخیر کرنے والا گناہ گار ہے اور مال ضائع ہو تو ضامن ہے۔ اس نے کہا کہ جو وکیل کسی کفارے یا نذر کو بلا عذر پہنچانے میں تاخیر کرے وہ گناہ گار ہے اور اپنی ذمہ داری سے بری ہونے کے لیے توبہ اور استغفار کے ساتھ اسے جلد پہنچانا اس پر واجب ہے، اور اگر اس کی کوتاہی سے ضائع ہو جائے تو اس کا ضمان واجب ہے۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ بغیر شرعی عذر کے کفارے اور نذریں مستحقین تک پہنچانے میں تاخیر حرام ہے؛ تاخیر ہو چکی ہو تو توبہ کے ساتھ فوراً پہنچانا واجب ہے، اور ضائع ہو جائیں تو ان کا ضمان واجب ہے۔

    اصل صفحہ

  • کھلے بوفے میں بغیر ادائیگی کے بچے کا کھانا

    آٹھ سالہ بچے کے بارے میں سوال جس نے اپنے والد کے ساتھ ایک ایسے کھلے بوفے میں کھایا جو پانچ سال یا اس سے زیادہ عمر والوں سے پیسے لیتا ہے، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ کھلے بوفے سے کھانا جائز ہے، لیکن اجازت صرف ادائیگی کرنے والے کے لیے ہے، لہٰذا والد ریستوران سے رجوع کر کے معافی مانگے یا واجب رقم ادا کرے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ کھلے بوفے سے کھانا جائز ہے اگرچہ لوگ مختلف مقدار کھاتے ہیں، کیونکہ اس میں جہالت معمولی ہے، عرف سے منضبط ہے اور جھگڑے کا سبب نہیں بنتی؛ اس نے نووی کی المجموع سے معمولی غرر میں علماء کی رعایت نقل کی۔ اس نے کہا کہ اجازت کا تقاضا یہ ہے کہ ادائیگی کرنے والا خود کھائے، کھانا اس کی ملکیت نہیں بنتا، اس لیے وہ دوسروں کو نہیں کھلا سکتا، اور والد ریستوران کی اجازت کے بغیر بیٹے کو نہیں کھلا سکتا کیونکہ رعایت پانچ سال سے کم عمر بچوں تک محدود ہے۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ والد ریستوران کی انتظامیہ کو واقعہ بتا کر معافی مانگے، اور مطالبہ ہو تو بچے کے کھانے کا عوض ادا کرے، کیونکہ جو کسی کا مال ناحق استعمال کرے وہ اس کا ضامن ہے۔

    اصل صفحہ

  • بیرونِ ملک مزدور فراہم کرنے والی ٹھیکیدار کمپنی

    بیرونِ ملک مزدور فراہم کرنے والی ٹھیکیدار کمپنی کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ کمپنی کا کام ذمے میں اجارہ ہے جس میں حرج نہیں، لیکن غیر ملکی کمپنی کے مینیجر کو اس کی تنخواہ کے علاوہ منافع کا حصہ اس کی کمپنی کی اجازت کے بغیر دینا جائز نہیں۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ کمپنی کے کام کی قریب ترین فقہی تکییف ذمے میں اجارہ ہے: وہ مزدوروں سے متعین مدت کے لیے طے شدہ اجرت پر ان کی خدمات لیتی ہے اور پھر انہی خدمات کو زیادہ اجرت پر آگے اجارے پر دیتی ہے، اور ان کے ویزا، رہائش، کھانے پینے اور نقل و حمل کے اخراجات برداشت کرتی ہے۔ اس نے بدائع الصنائع (4/208) میں کاسانی سے نقل کیا کہ اجیر خود یا اپنے اجیروں کے ذریعے کام کر سکتا ہے جب تک عقد میں اس پر اپنے ہاتھ سے کام کی شرط نہ ہو، کیونکہ عقد کام پر ہوا ہے اور اس کے اجیروں کا کام اسی کا شمار ہوتا ہے۔ اس نے کہا کہ غیر ملکی کمپنی کے ایک مینیجر کی طرف سے مزدور لانے پر کمیشن کی شرط جائز نہیں، کیونکہ وہ اس کمپنی کا ملازم ہے اور ملازم اپنی کمپنی کی اجازت کے بغیر طے شدہ اجرت کے علاوہ الگ کمیشن نہیں لے سکتا؛ اور نتیجہ نکالا کہ کمپنی کے کام کی صورت میں کوئی حرج نہیں۔

    اصل صفحہ

  • گاڑیوں کی خرابی کی ضمانت کے لیے امدادی فنڈ

    ایک مجوزہ فنڈ کے بارے میں سوال جس میں گاڑی والے مقررہ مدت تک خرابیوں کی کوریج کے لیے رکنیت فیس دیں اور زائد رقم واپس کی جائے یا عطیہ کی جائے، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ اگر یہ اسلامی امدادی (تکافل) بیمہ کے اصولوں پر قائم ہو تو اس میں حرج نہیں۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ اسلامی امدادی بیمہ کی کمپنیاں یا فنڈ قائم کرنے میں حرج نہیں، جن کی بنیاد یہ ہو کہ ارکان فنڈ کے قواعد میں مذکور خرابیوں یا خطرات کی کوریج کے لیے بطور تبرع رکنیت ادا کریں۔ اس نے اسلامی مالیاتی اداروں کی اکاؤنٹنگ اور آڈٹ تنظیم کے شرعی معیارات سے اسلامی بیمہ کی تعریف اور اصول نقل کیے: رکنیت بیمہ اکاؤنٹ کے لیے تبرع ہو، کمپنی اپنا اکاؤنٹ پالیسی ہولڈرز کے اکاؤنٹ سے الگ رکھے، اور وہ اس کے انتظام میں وکیل اور سرمایہ کاری میں مضارب یا وکیل ہو۔ ان اصولوں میں اس نے یہ بھی ذکر کیا کہ بیمہ اکاؤنٹ اپنے اثاثوں، منافع اور ذمہ داریوں کا مالک ہو، زائد رقم ارکان کے مفاد میں خرچ ہو اور انتظامی کمپنی کو اس میں سے کچھ نہ ملے، اور کمپنی کے خاتمے پر مخصوص رقوم اور زائد رقوم خیر کے کاموں میں خرچ ہوں۔ اس نے پالیسی ہولڈرز کی انتظام میں شرکت کی ترجیح، کمپنی کی تمام سرگرمیوں میں شریعت کی پابندی بشمول حرام چیزوں کا بیمہ نہ کرنا، اور ایسے شرعی نگران بورڈ کی تقرری کا بھی ذکر کیا جس کے فتوے کمپنی پر لازم ہوں۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ ان اصولوں کی پابندی کے ساتھ ممکنہ خطرات کی کوریج کے لیے اسلامی بیمہ فنڈ قائم کرنا جائز ہے۔

    اصل صفحہ

  • ڈیلیوری میں تاخیر پر مفت ڈیلیوری کی شرط

    اس شرط کے بارے میں سوال کہ اگر ڈیلیوری والا مقررہ وقت سے دیر کرے تو ڈیلیوری مفت ہوگی، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ تاخیر پر کارکن کو پوری اجرت سے محروم کرنے کی شرط حرام ہے سوائے اس کے کہ وہ خود رضاکارانہ طور پر ایسا کرے، جبکہ اجرت میں سے معلوم حصہ کاٹنے کی شرط جائز ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ اصل یہ ہے کہ حق داروں کے حقوق ادا کیے جائیں، جن میں مزدور کا حق بھی ہے، کیونکہ بغیر معاوضے مزدور سے کام لینا ظلم ہے؛ اس نے بخاری کی روایت کردہ حدیث کا حوالہ دیا اس شخص کے بارے میں جو مزدور رکھے، اس سے پورا کام لے اور اجرت نہ دے۔ اس نے کہا کہ ڈیلیوری کارکن خدمت انجام دینے والا اجیر ہے، لہٰذا تاخیر پر اجرت نہ دینے کی شرط لگا کر اس کا حق نہیں مارا جا سکتا؛ البتہ اجرت کا کچھ حصہ کاٹنے کی شرط جائز ہے، جیسا کہ بعض حنفیہ اور مجلۃ الاحکام العدلیہ میں ہے؛ اس نے الہدایہ میں مرغینانی کا قول نقل کیا کہ ابو یوسف اور محمد نے دونوں شرطوں کو جائز کہا جب کوئی کہے: آج سیو تو ایک درہم، کل سیو تو آدھا درہم۔ اس نے کہا کہ اگر کارکن خود اپنے اوپر یہ شرط لگائے تو جائز ہے کیونکہ یہ تبرع ہے، اور تنبیہ کی کہ بعض ڈیلیوری کمپنیاں یہ شرط عائد کر کے کارکن کو اس کی محنت کے حق سے محروم کرتی ہیں، جو حرام ہے۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ تاخیر پر کارکن کو اجرت سے محروم کرنے کی شرط حرام ہے سوائے اس کے کہ وہ خود تبرع کرے، اور تاخیر پر اجرت میں سے معلوم حصہ کاٹنے کی شرط جائز ہے۔

    اصل صفحہ

  • کام کے دوران ڈرائیور کا اپنے لیے کرایہ پر سواریاں لے جانا

    ایک ادارے کے ڈرائیور کے بارے میں سوال جسے ادارے سے باہر کام پر بھیجا گیا اور اس نے اپنے فائدے کے لیے کرایہ پر لوگوں کو پہنچایا، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ ادارے کی گاڑی سے بغیر اجازت کمائی ناجائز ہے جسے لوٹانا واجب ہے، اور اگر اس نے ڈیوٹی کے اوقات میں اپنی گاڑی استعمال کی تو تنخواہ کا متعلقہ حصہ حساب کر کے صدقہ کرے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ ملازم ایک اجیر ہے جو اپنے ہاتھ کی چیزوں کا امین ہے، اور امانت کا تقاضا ہے کہ وہ آجر سے طے شدہ چیز کے سوا اپنے لیے کوئی فائدہ نہ اٹھائے؛ اس نے قرطبی کی تفسیر سے نقل کیا کہ امانت دین کے تمام فرائض کو شامل ہے۔ اس نے کہا کہ اگر اس نے ادارے کی گاڑی استعمال کی تو یہ صرف ادارے کی ہدایات کے مطابق یا اس کی صریح اجازت سے جائز ہے، اور بغیر اجازت استعمال سے جو کمایا وہ ناجائز ہے جسے آجر کو لوٹانا واجب ہے، اور لوٹانا ممکن نہ ہو تو صدقہ کرے۔ اگر اس نے اپنی ذاتی گاڑی استعمال کی تو اسے متعلقہ ہدایات کی پابندی کرنی چاہیے، اور وہ ڈیوٹی کے اوقات کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کر سکتا؛ اگر ایسا کیا تو اپنے ذاتی کام میں صرف ہونے والے گھنٹوں کے مقابل تنخواہ کا حصہ حساب کر کے صدقہ کرے، کیونکہ اس نے کام کا وقت ذاتی نفع میں لگایا۔

    اصل صفحہ

  • باپ کا اولاد کو دیا گیا ہبہ واپس لینا

    باپ کے اپنی اولاد کو دیا گیا ہبہ واپس لینے کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ باپ محرم رشتہ دار کو دیا گیا ہبہ واپس نہیں لے سکتا جب تک اس سے بلا وجہ ترجیح نہ ہو، اور یہی قانون کا موقف ہے، اگرچہ شافعیہ شرائط کے ساتھ اس کی اجازت دیتے ہیں۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ ہبہ قبضے سے لازم ہو جاتا ہے اور اس کے بعد واپس نہیں لیا جا سکتا، اور اس حدیث سے استدلال کیا جس میں ہبہ واپس لینے والے کو قے چاٹنے والے کتے سے تشبیہ دی گئی۔ اس نے کہا کہ شافعیہ نے باپ کے اولاد کو دیے گئے ہبہ کو مستثنیٰ کیا ہے، اور نووی کی شرح صحیح مسلم اور منہاج الطالبین سے نقل کیا کہ شرط یہ ہے کہ ہبہ اولاد کے تصرف میں باقی ہو۔ حنفیہ محرم رشتہ دار کو دیا گیا ہبہ واپس لینے سے منع کرتے ہیں، جس میں باپ کا اولاد کو ہبہ بھی شامل ہے؛ اس نے سرخسی کی المبسوط، مجلۃ الاحکام العدلیہ کی دفعہ 866 اور اس کی شرح درر الحکام سے نقل کیا، اور بتایا کہ اردن کے سول قانون نے دفعہ 579 میں یہی اختیار کیا ہے۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ باپ محرم رشتہ دار کو دیا گیا ہبہ واپس نہیں لے سکتا جب تک اس سے ان کے درمیان بلا وجہ ترجیح نہ ہو، اور یہی قانون کا اختیار ہے، جبکہ شافعیہ اصول و فروع کے درمیان شرائط کے ساتھ رجوع جائز کہتے ہیں۔

    اصل صفحہ

  • 'قسمت کا پہیہ' انعامی قرعہ اندازی

    'قسمت کا پہیہ' انعامی قرعہ اندازی کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ اگر اس میں شرکت مفت ہو اور کمپنی گاہک کو دے، تو کوئی حرج نہیں اور یہ تاجر کی طرف سے ہبہ ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ اگر مقابلے میں شرکت مفت ہو اور اس کی قیمت نہ دی جائے، یعنی کمپنی گاہک کو انعامی قرعہ اندازی میں شرکت کا موقع دے، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ اس نے کہا کہ اس صورت میں یہ تاجر کی طرف سے ہبہ شمار ہوتا ہے، اور افتاء کونسل کی قرارداد نمبر 3/2010 پر انحصار کیا۔

    اصل صفحہ

  • ہفتہ وار سیر میں ادا کی گئی جمعہ کی نماز

    ہفتہ وار سیر میں ادا کی گئی جمعہ کی نماز کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ بیان کردہ صورت میں جمعہ درست نہیں کیونکہ اس کی شرائط، یعنی دو خطبے، وجوب والے چالیس افراد اور آبادی، موجود نہیں؛ لہٰذا سیر کرنے والے ظہر اور اس کے ساتھ جمع کی گئی عصر دوبارہ پڑھیں۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ جمعہ کے درست ہونے کی شرائط ہیں، جن میں یہ ہیں کہ ظہر کے وقت جماعت سے پڑھا جائے، اس سے پہلے دو خطبے ہوں جن میں سے ہر ایک کے ارکان پورے ہوں، آبادی کی حدود میں قائم ہو، اور ان چالیس افراد کے ساتھ ہو جن پر جمعہ واجب ہے، اور یہ ابن النقیب کی عمدۃ السالک (ص 82) سے نقل کیا۔ اس نے کہا کہ بیان کردہ صورت میں جمعہ درست نہیں کیونکہ ایک سے زیادہ شرائط مفقود ہیں: اس سے پہلے ایک وعظی خطبہ تھا؛ فجر سے پہلے لمبے سفر پر نکلنے والا جمعہ کے وجوب والوں میں سے نہیں، اس لیے اس کی حاضری شمار نہیں؛ اور یہ آبادی میں قائم نہیں ہوا۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ ان پر ظہر پڑھنا واجب ہے، اور انہیں دو رکعت قصر یا چار رکعت مکمل پڑھنے کا اختیار ہے؛ جمعہ کی نیت سے ان کی دو رکعتیں درست نہیں، نہ ہی اس کے ساتھ عصر کا جمع، کیونکہ جمع کا درست ہونا پہلی نماز کے درست ہونے پر موقوف ہے، لہٰذا ظہر اور عصر دونوں دوبارہ پڑھنی ہوں گی۔

    اصل صفحہ

  • گیراج مالک کی اپنے پاس موجود گاڑی کو پہنچنے والے نقصان کی ذمہ داری

    مرمت کی دکان پر موجود ایک گاڑی کے بارے میں سوال جو دکان کے مالک کے اسٹارٹ کرنے پر چل پڑی اور دوسری گاڑی سے ٹکرا گئی، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ گیراج کا مالک اجیر مشترک ہے جو اپنے ہاتھ میں ہونے والے نقصان کا ضامن ہے، اور گاڑی کے مالک پر کچھ نہیں سوائے اس کے کہ نقصان ایسے حادثے سے ہو جس سے بچنا ممکن نہ تھا۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ بڑھئی، درزی اور گاڑیوں کی مرمت کرنے والے جیسے کاریگروں کو فقہا اجیر مشترک کہتے ہیں کیونکہ وہ ایک سے زیادہ لوگوں کا کام لیتے ہیں، اور وہ ضامن ہیں؛ یہ حنفی مذہب اور شوافع کا ایک قول ہے، اور مجلۃ الاحکام العدلیہ کی دفعہ 611 میں ہے کہ اجیر مشترک اپنے فعل سے پیدا ہونے والے نقصان کا ضامن ہے چاہے اس نے زیادتی یا کوتاہی کی ہو یا نہیں۔ اس نے الہدایہ کی شرح العنایہ میں بابرتی کی یہ توجیہ نقل کی کہ اجیر مشترک کو ضامن ٹھہرانا ابو حنیفہ کے دونوں شاگردوں کے نزدیک لوگوں کے مال کی حفاظت کے لیے استحسان ہے، کیونکہ وہ زیادہ اجرت کی خاطر بہت سی چیزیں قبول کرتا ہے اور ممکن ہے سب کی حفاظت نہ کر سکے۔ اس نے ذکر کیا کہ یہ ضمان تین شرطوں سے مقید ہے جو اس نے حاشیہ ابن عابدین سے نقل کیں: نقصان روکنا اجیر کے بس میں ہو، کام کی چیز اس کے حوالے کی گئی ہو، اور وہ چیز ایسی ہو جس کا معاہدے سے ضمان ہو سکے، لہٰذا انسان کا ضمان نہیں۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ جب گاڑی کا مالک اپنی گاڑی گیراج والے کے حوالے کرے تو وہ اس کے ضمان میں آ جاتی ہے، لہٰذا اجیر مشترک ہونے کی وجہ سے وہ اپنے ہاتھ میں ہونے والے ہر نقصان کا ضامن ہے، اور گاڑی کے مالک پر کچھ نہیں سوائے اس کے کہ نقصان ایسے حادثے سے ہو جس سے بچنا ممکن نہ تھا۔

    اصل صفحہ

  • دادی کا پوتوں کو ہبہ اور بعد میں پیدا ہونے والا پوتا

    ایک دادی کے بارے میں سوال جس نے اپنے بیٹوں کی اولاد کو زمین ہبہ کی اور پھر فوت ہو گئی، اس کے بعد اس کے ایک بیٹے کے ہاں بچہ پیدا ہوا، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ ہبہ صرف ان پوتوں کو شامل ہے جو ہبہ کے وقت موجود تھے، لہٰذا جب وہ لازم ہو کر ان کے ناموں پر رجسٹر ہو گیا تو بعد میں پیدا ہونے والا شامل نہیں۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ ہبہ زندگی میں بغیر عوض مال کا مالک بنانا ہے، اور دادی کا اپنے پوتوں کو زمین ہبہ کرنا اصل میں صرف ان پوتوں کو شامل ہے جو ہبہ کے وقت موجود تھے، ان کو نہیں جو ابھی پیدا نہیں ہوئے۔ اس نے شرح المنہج پر حاشیے میں سلیمان الجمل کا قول نقل کیا کہ حمل کو ہبہ ممتنع ہے کیونکہ نہ اسے مالک بنایا جا سکتا ہے نہ ولی اس کی طرف سے قبضہ کر سکتا ہے، اور مجمع الانہر میں حنفی عالم شیخی زادہ کا قول کہ حمل کو ہبہ درست نہیں کیونکہ قبول شرط ہے اور جنین سے قبول متصور نہیں۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ جب ہبہ مکمل ہو کر زمین موجود پوتوں کے ناموں پر رجسٹر ہو گئی تو ہبہ لازم ہو گیا: زمین انہی کی ہے جن کے ناموں پر رجسٹر ہے، اور جو ہبہ کے لازم ہونے سے پہلے پیدا نہیں ہوا وہ ان کے ساتھ شامل نہیں۔

    اصل صفحہ

  • شادی کی تقریب میں بیوی کو دیا گیا سونا شوہر کا واپس مانگنا

    اس شوہر کے بارے میں سوال جس نے شادی کی تقریب میں بیوی کو سونا دیا اور بعد میں اسے اپنا حق کہہ کر واپس مانگا، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ سونا بیوی کا ہے، چاہے وہ مہر کا حصہ ہو یا ایسا تحفہ جو اس نے وصول کر لیا۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ شوہر شادی کی تقریب میں دلہن کو جو سونا دیتا ہے وہ یا تو مہر کا حصہ ہوتا ہے یا تحفہ اور ہبہ۔ اس نے کہا کہ اگر وہ مہر کا حصہ ہو، یعنی نکاح کے وقت طے ہو کر نکاح نامے میں درج ہو، تو وہ خالصتاً بیوی کا حق ہے۔ اس نے کہا کہ اگر وہ تحفہ تھا تو اس پر ہبہ کے احکام لاگو ہوں گے: قبضے سے ہبہ لازم ہو جاتا ہے اور بیوی کی ملکیت بن جاتا ہے، اور شوہر اسے واپس نہیں لے سکتا؛ اس نے ابو داود کی روایت کردہ ایک حدیث سے استدلال کیا جس میں دیا ہوا تحفہ واپس لینے سے منع کیا گیا ہے سوائے والد کے اپنی اولاد کو دیے گئے تحفے کے۔ اس نے ذکر کیا کہ اردنی سول قانون کی دفعہ 579 میں میاں بیوی میں سے ایک کا دوسرے کو ہبہ ان صورتوں میں شامل ہے جن میں ہبہ واپس نہیں لیا جا سکتا۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ میاں بیوی کے درمیان کسی اور اختلاف کا فیصلہ عدالت کرے گی۔

    اصل صفحہ

  • ایسا قرض جس کا سود کوئی دوسرا ادارہ ادا کرے

    ایسا قرض جس کا سود کوئی دوسرا ادارہ ادا کرے کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ ہر وہ قرض جو شرط کردہ اضافے کے ساتھ ادا ہو سودی قرض ہے، چاہے اضافہ قرض لینے والا دے یا کوئی اور، اس لیے سودی قرض پر دستخط جائز نہیں چاہے سود کوئی دوسرا ادارہ برداشت کرے، کیونکہ عقد باطل ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ ہر وہ قرض جو شرط کردہ اضافے کے ساتھ ادا کیا جائے سودی قرض ہے، چاہے اضافہ قرض لینے والا دے یا کوئی اور، کیونکہ فقہا مشہور قاعدے پر متفق ہیں کہ ہر وہ قرض جو نفع کھینچے سود ہے۔ اس نے کہا کہ مسلمان کے لیے ایسے سودی قرض کے عقد پر دستخط کرنے کا کوئی شرعی جواز نہیں جس کا سود کوئی اور ادا کرے، کیونکہ سودی قرض کا عقد باطل ہے، اور سورۃ البقرہ 2:278 اور 2:279 کا حوالہ دیا۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ سودی قرض لینا جائز نہیں چاہے سود کوئی دوسرا ادارہ ادا کرے، کیونکہ جس قرض کے عقد میں سود کی شرط ہو وہ شرعاً باطل ہے۔

    اصل صفحہ

  • ماں کا اپنی زکوٰۃ اپنی اولاد کو دینا

    ماں کا اپنی زکوٰۃ اپنی اولاد کو دینا کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ ماں اپنی اولاد کو زکوٰۃ دے سکتی ہے اگر وہ فقیر اور مستحق ہوں اور کسی اور کے نفقے سے کفایت نہ ہو۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ ماں اپنی اولاد کو زکوٰۃ دے سکتی ہے اگر وہ اس کے مستحق ہوں، مثلاً فقیر ہوں، ان کے پاس مال نہ ہو اور کسی اور کا نفقہ ان کے لیے کافی نہ ہو۔ اس نے عبداللہ بن مسعود کی اہلیہ زینب کے بارے میں بخاری کی روایت کردہ حدیث سے استدلال کیا جس کا مفہوم ہے کہ ان کا شوہر اور ان کی اولاد ان کے صدقے کے سب سے زیادہ حق دار ہیں۔ اس نے الحاوی الکبیر (8/537) میں ماوردی سے نقل کیا کہ بیوی اپنی زکوٰۃ اپنے شوہر کو دے سکتی ہے، اور انہوں نے زکوٰۃ کے مصارف والی آیت سورۃ التوبہ 9:60 کے عموم اور زینب کے بارے میں ابو ہریرہ کی حدیث سے استدلال کیا۔

    اصل صفحہ

  • نو مسلم جو ختنے سے ڈرتا ہو

    نو مسلم جو ختنے سے ڈرتا ہو کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ اگر قابلِ اعتماد ڈاکٹر کے مطابق ختنہ اسے نقصان دے تو اس سے مطالبہ نہیں، اور اگر محض خوف ہو تو اسے مطمئن ہونے اور اسلام سے دور نہ ہونے تک مؤخر کیا جا سکتا ہے، نجاست صاف رکھنے کے ساتھ۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ اگر قابلِ اعتماد ڈاکٹر کی رائے کے مطابق اس شخص کو ختنے سے نقصان ہو تو اس سے اس کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔ اس نے کہا کہ اگر یہ محض آپریشن کا خوف ہو تو اسے اس وقت تک مؤخر کیا جا سکتا ہے جب تک وہ مطمئن نہ ہو جائے اور اسلام سے متنفر نہ ہو، ساتھ ہی پوشیدہ جگہ سے نجاست دور کرنے کا خیال رکھے۔

    اصل صفحہ

  • ناسمجھ بچوں کو کھانے کی چیزیں بیچنے والی نرسری

    ناسمجھ بچوں کو کھانے کی چیزیں بیچنے والی نرسری کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ حنابلہ کے مذہب کے مطابق ناسمجھ بچہ ولی کی اجازت اور عرف کی حد میں معمولی چیزیں خرید و فروخت کر سکتا ہے، البتہ بہتر یہ ہے کہ گھر والے کھانا ساتھ بھیجیں یا اسکول انتظامیہ سے معاہدہ کریں۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ فقہا کا اتفاق ہے کہ قابلِ لحاظ قیمت والی چیزوں میں ناسمجھ بچے کی خرید و فروخت درست نہیں، اور الحاوی الکبیر (5/368) میں ماوردی سے نقل کیا کہ شافعیہ کے نزدیک بچے کی خرید باطل ہے اور ولی کی منظوری پر موقوف نہیں؛ اور کہا کہ بہتر یہ ہے کہ گھر والے بچوں کو ضرورت کی چیزیں دیں یا اسکول انتظامیہ سے کینٹین سے دینے کا معاہدہ کریں۔ اس نے کہا کہ اگر یہ ممکن نہ ہو تو حنابلہ معمولی چیزوں میں ایسے بچے کے تصرف کو درست مانتے ہیں، اور المغنی (4/186) میں ابن قدامہ سے نقل کیا کہ ولی کی اجازت سے بھی اس کا تصرف درست نہیں سوائے معمولی چیز کے، اس روایت کے ساتھ کہ ابو الدرداء نے ایک بچے سے چڑیا خرید کر آزاد کر دی، اور الانصاف میں مرداوی سے نقل کیا کہ معمولی چیزوں میں اس کا تصرف درست ہونا مذہب کا صحیح قول ہے۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ ناسمجھ بچے کا حقیر اور کم قیمت چیزیں خریدنا بیچنا ولی کی اجازت اور عرف کی حد میں جائز ہے، البتہ بہتر یہ ہے کہ گھر والے اسکول سے معاہدہ کریں یا بچے کے ساتھ کھانا بھیجیں۔

    اصل صفحہ

  • شریک کا دوسرے شریک پر مقابلہ نہ کرنے کی شرط لگانا

    اس بارے میں سوال کہ ایک شریک دوسرے پر شرط لگائے کہ وہ شراکت کے دوران یا بعد میں مقابل کاروبار قائم نہ کرے، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ یہ شرط شراکت کی مدت میں درست اور لازم ہے، اور ختم ہونے کے بعد باطل اور بے اثر ہے، البتہ سابق شریک کمپنی کو نقصان نہیں پہنچا سکتا اور نہ اس کے گاہک لے سکتا ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ طے شدہ قواعد میں سے ہے کہ معاہدہ فریقین کا قانون ہے، اور شریک کا ایسی معتبر شرط لگانا جس میں اس کا حقیقی مقصد ہو، جیسے شراکت کے دوران ملتا جلتا کاروبار قائم نہ کرنا، درست شرط ہے جسے پورا کرنا لازم ہے؛ اس نے ترمذی کی روایت کردہ حدیث کا حوالہ دیا کہ مسلمان اپنی شرطوں کے پابند ہیں سوائے اس شرط کے جو حلال کو حرام یا حرام کو حلال کرے۔ اس نے کہا کہ یہ شرط درست ہے کیونکہ اس سے ایک فریق کا مفاد پورا ہوتا ہے اور اس سے نقصان دور ہوتا ہے۔ اس نے معاہدۂ شراکت فسخ ہونے کے بعد مقابلہ نہ کرنے کی شرط کو باطل اور بے اثر قرار دیا، کیونکہ یہ بلا جواز شریک کے حق کو محدود کرتی ہے، اور متفق علیہ حدیث کا حوالہ دیا کہ جو شرط اللہ کی کتاب میں نہیں وہ باطل ہے۔ اس نے تنبیہ کی کہ شراکت ختم ہونے کے بعد بھی شریک اپنی سابق کمپنی کو نقصان نہیں پہنچا سکتا اور نہ اس کے گاہک لے سکتا ہے، اور احمد کی روایت کردہ حدیث لا ضرر ولا ضرار پر انحصار کیا۔

    اصل صفحہ

  • اسکول کے پرنسپل اور زائد درسی کتابیں

    اسکول کے پرنسپل اور زائد درسی کتابیں کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ پرنسپل کتابوں کا امین ہے اور وزارت کی ہدایات کا پابند ہے؛ اگر وہ بیچنے یا ہبہ کرنے کی اجازت دیں تو جائز، منع کریں تو حرام، اور زائد کتابیں واپس کرنا یا وزارت سے بیچنے کی اجازت لے کر قیمت اسکول کے مفاد میں لگانا واجب ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ ملازم اپنے ادارے کا اجیر اور اپنے کام میں امین ہے، اس لیے اس کے ضوابط اور ہدایات کی پابندی واجب ہے اور وہ صرف اجازت کی حد میں تصرف کر سکتا ہے۔ اس نے کہا کہ وہ کتابیں اپنے ذاتی نام سے نہ بیچ سکتا ہے نہ ہبہ کر سکتا ہے، کیونکہ یہ زیادتی اور سرکاری مال کھانا ہے، جو حرام کمائی ہے۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ پرنسپل اپنے ہاتھ کی چیزوں کا امین ہے؛ اگر وزارت کی ہدایات کتابیں بیچنے یا ہبہ کرنے کی اجازت دیں تو جائز ہے، اور اگر منع کریں تو حرام، اور زائد کتابیں وزارت کو واپس کرنا یا اس سے بیچنے کی اجازت لے کر قیمت اسکول کے مفاد میں رکھنا واجب ہے۔

    اصل صفحہ

  • لاؤڈ اسپیکر بند ہونے پر مسجد کے باہر دوسرا جمعہ قائم کرنا

    مسجد کے باہر ان نمازیوں کے بارے میں سوال جن تک لاؤڈ اسپیکر کی آواز بند ہو گئی تو ان میں سے ایک نے خطبہ دے کر انہیں جمعہ پڑھایا، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ ان کا جمعہ منعقد نہیں ہوا کیونکہ اسی جگہ پہلا جمعہ قائم تھا، اور انہیں ظہر پڑھنی ہوگی۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ جمعہ کے صحیح ہونے کی شرطیں ہیں، جن میں یہ کہ ظہر کے وقت دو خطبوں کے بعد آبادی کی حدود میں ان چالیس افراد کے ساتھ جماعت سے پڑھا جائے جن پر جمعہ واجب ہے؛ اس نے ابن النقیب المصری کی عمدۃ السالک سے نقل کیا۔ اس نے کہا کہ ایک شرط یہ بھی ہے کہ شہر میں کوئی دوسرا جمعہ اس سے پہلے یا اس کے ساتھ نہ ہو، الا یہ کہ شہر بڑا ہو اور لوگوں کا ایک جگہ جمع ہونا مشکل ہو؛ اس نے نووی کی منہاج الطالبین سے نقل کیا۔ اس نے کہا کہ یہ شرط نہیں کہ خطیب کی آواز تمام حاضرین تک پہنچے، بلکہ ان چالیس کا سننا کافی ہے جن سے جمعہ منعقد ہوتا ہے؛ اس نے خطیب شربینی کی مغنی المحتاج سے نقل کیا۔ اس لیے باہر آواز نہ پہنچنا نیا جمعہ قائم کرنے کا عذر نہیں، بیٹھ کر اقامت کا انتظار کافی تھا۔ اس نے کہا کہ اگر انہیں اقامت کا وقت معلوم نہ ہو اور وہ امام کی پیروی نہ کر سکیں تو ان پر ظہر پڑھنا لازم ہے، کیونکہ ایک ہی جگہ اور وقت میں دو جمعے قائم نہیں ہوتے۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ دونوں میں معتبر وہ جمعہ ہے جس کی امامت مقرر امام نے کی، جس کا جمعہ منعقد نہ ہوا وہ ظہر پڑھے، اور جس نے دو رکعتیں پڑھ لیں وہ انہیں ظہر کے طور پر دہرائے۔

    اصل صفحہ

  • عورت کے اپنے بالوں سے بنی وگ

    عورت کے اپنے بالوں سے بنی وگ کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ جب تک بال اس کے اپنے ہوں، فرض غسل میں وگ اتاری جائے اور وضو میں سر کے کچھ حصے کا مسح ممکن ہو، کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ وہ اسے پہن کر نامحرم مردوں کے سامنے نہ آئے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ جب تک بال خود عورت کے ہوں، فرض غسل کے وقت وگ کھول دی جائے، اور وضو میں سر کے کچھ حصے کا مسح ممکن ہو، تو اسے بنانے میں کوئی شرعی رکاوٹ نہیں۔ اس نے کہا کہ وہ اسے پہن کر نامحرم مردوں کے سامنے نہ آئے، کیونکہ ان کے لیے عورت کے جدا شدہ بالوں کو دیکھنا حلال نہیں، اور روضۃ الطالبین سے نقل کیا کہ جس چیز کو جڑی ہوئی حالت میں دیکھنا جائز نہیں، جیسے آزاد عورت کے سر کے بال، اسے جدا ہونے کے بعد دیکھنا بھی زیادہ صحیح قول کے مطابق حرام ہے۔

    اصل صفحہ

  • بھائی کے کمرشل بینک کا تحفہ قبول کرنا

    بھائی کے کمرشل بینک کا تحفہ قبول کرنا کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ اس تحفے کو قبول کرنے میں حرج نہیں کیونکہ تحفے کی ذات میں حرمت نہیں، اور گناہ تحفہ لینے والے کی طرف منتقل نہیں ہوتا۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ ایسے تحفے قبول کرنے میں حرج نہیں، کیونکہ چوری کے مال کے برخلاف تحفے کی ذات میں حرمت نہیں، اس لیے گناہ تحفہ لینے والے تک نہیں پہنچتا، اور سورۃ الانعام 6:164 کا حوالہ دیا۔ اس نے بتایا کہ نبی نے یہودیوں کا کھانا کھایا اور ان سے لین دین اور خریداری کی، حالانکہ ان کے مال میں سود ملا ہوا تھا، اور سودی بینکوں کا مال ایسا ہے جس میں حلال اور حرام ملے ہوتے ہیں۔ اس نے تحفۃ المحتاج (9/389) میں ابن حجر ہیتمی سے نقل کیا کہ جس کا زیادہ مال حرام ہو اس سے لین دین یا اس کا کھانا حرام نہیں، جیسا کہ نووی نے المجموع میں صحیح قرار دیا۔

    اصل صفحہ

  • اسکول کے پرنسپل کا طبی اور ہنگامی رخصت کے عذر قبول کرنا

    اس بارے میں سوال کہ کیا اسکول کا پرنسپل اساتذہ کے دستاویزی طبی یا ہنگامی رخصت کے عذر قبول کر کے گناہ گار ہوتا ہے، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ نہیں، کیونکہ وہ اپنے اختیارات کے اندر عمل کر رہا ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ دستاویزی عذر، طبی ہو یا ہنگامی، قبول کرنے پر سربراہ پر کوئی گناہ نہیں، کیونکہ وزارت نے اسے اختیار سونپا ہے، ہنگامی رخصت اسی کے دائرۂ اختیار میں ہے، اور ضوابط میں صرف اتنا مطلوب ہے کہ ثبوت کے ساتھ غیر حاضری سربراہ اور استاد کے درمیان جائز قرار پائے۔ اس نے سربراہوں کو تلقین کی کہ جائز اور دستاویزی عذر میں ہٹ دھرمی نہ کریں اور اساتذہ پر سختی نہ کریں، اور اس حدیث سے استدلال کیا جس میں امت پر سختی کرنے والے کے خلاف اور اس سے نرمی کرنے والے کے حق میں دعا ہے، اور اس پر نووی کی شرح سے۔ اس کے برعکس اس نے کہا کہ استاد یا کسی اور کے لیے بغیر حق اور بغیر سبب رخصت لینا جائز نہیں، کیونکہ یہ حرام جھوٹ ہے۔ اس نے مزید کہا کہ جو ڈاکٹر بغیر طبی سبب کے ملازم کو بیماری کی رخصت دے وہ گناہ گار اور مسلمانوں کو دھوکا دینے والا ہے۔

    اصل صفحہ

  • قرضِ حسنہ کارڈ پر انتظامی فیس

    قرضِ حسنہ کارڈ پر انتظامی فیس کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ قرض لینے والے سے حقیقی لاگت کے برابر انتظامی فیس لی جا سکتی ہے بغیر کسی منافع کے، بشرطیکہ اسے الگ کھاتے میں رکھا جائے اور زائد رقم تکافل اور خیر کے کاموں میں خرچ ہو۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ قرض لینے والے پر قرض کی انتظامی فیس ڈالنے میں حرج نہیں، بشرطیکہ وہ قرض کی خدمت کی حقیقی لاگت کے برابر ہو اور قرض دینے والے کے لیے ذرا سا بھی منافع نہ ہو، اور اسلامی فقہ اکیڈمی کی قرارداد نمبر 13 (1/3) نقل کی کہ قرض کی خدمات پر حقیقی اخراجات کی حد تک اجرت لینا جائز ہے اور اس سے زیادہ ہر اضافہ حرام سود ہے۔ اس نے کہا کہ قرض دینے والے یا ضامن کا لیا ہوا کمیشن یا منافع سود اور لوگوں کا مال ناحق کھانے میں شمار ہوتا ہے۔ اس نے کہا کہ اصل یہ ہے کہ انتظامی فیس الگ کھاتے میں رکھی جائے، اور اگر وہ حقیقی لاگت سے زیادہ نکلے تو زائد رقم تکافل اور خیر کے کاموں میں خرچ ہو تاکہ اس کا کوئی فائدہ فنڈ کو نہ پہنچے؛ اسے ملازمین کے باہمی تکافل کے لیے مختص کرنا جائز ہے۔

    اصل صفحہ

  • وکیل کا موکل کی زکاۃ اپنے مال سے ادا کر کے بعد میں واپس لینا

    اس بارے میں سوال کہ کیا وکیل موکل کی اجازت سے اس کی زکاۃ اپنے مال سے ادا کر کے بعد میں ادا کی گئی رقم موکل سے واپس لے سکتا ہے؛ اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ زکاۃ خالص مالی عبادت ہے جس میں وکالت جائز ہے کیونکہ اس کا مقصد مال ادا کرنا ہے، بجیرمی کی تحفۃ الحبیب سے عبادات کی اس تقسیم کو نقل کرتے ہوئے کہ خالص بدنی عبادات میں وکالت ممنوع ہے، خالص مالی میں مطلقاً جائز ہے، اور حج جیسی ملی جلی میں شرط کے ساتھ جائز ہے، اور نووی کی المجموع سے کہ زکاۃ دینے والا امام تک پہنچانے یا مستحق اصناف میں تقسیم کے لیے بلا اختلاف وکیل بنا سکتا ہے، اور موکل کے مال سے یا وکیل کے اپنے مال سے ادائیگی کی وکالت بلا اختلاف جائز ہے کیونکہ یہ قرضوں کی ادائیگی سے مشابہ ہے اور مال کی غیر موجودگی میں اس کی ضرورت پیش آ سکتی ہے؛ اگر وکیل اپنے مال سے ادا کرے تو اس کے شمار ہونے کے لیے ادائیگی کے وقت وکیل کی نیت شرط ہے اور موکل کی نیت کافی نہیں، جیسا کہ ابن حجر ہیتمی نے تحفۃ المحتاج میں کہا۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ زکاۃ دینے والا اپنی زکاۃ کی ادائیگی کے لیے دوسرے کو وکیل بنا سکتا ہے، وکیل اسے اپنے مال سے ادا کر کے ادا کی گئی رقم زکاۃ دینے والے سے واپس لے سکتا ہے، ادائیگی کے وقت وکیل کی نیت کی شرط کے ساتھ۔

    اصل صفحہ

  • وارثوں کے علم کے بغیر وکیل کا وراثت تقسیم کرنا

    ایک وکیل کے بارے میں سوال جو باقی وارثوں کے علم کے بغیر وراثت کا مال تقسیم کرے، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ ترکہ تمام وارثوں کی ان کے حصوں کے مطابق ملکیت ہے، اور وکیل نہ ترکے کی مقدار چھپا سکتا ہے، نہ شرعی تقسیم کے خلاف بانٹ سکتا ہے، نہ کسی کو اس کے حصے سے محروم کر سکتا ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ میت جو کچھ چھوڑے، نقدی، زمین، جائیداد یا کچھ اور، وہ تمام شرعی وارثوں، مرد و عورت، کی ان کے مقررہ حصوں کے مطابق ملکیت ہے؛ کوئی وارث یا غیر وارث سب کی صریح اجازت کے بغیر ترکے سے کچھ نہیں لے سکتا، نہ کسی کے حصے میں اس کی اجازت کے بغیر تصرف کر سکتا ہے۔ اس نے کہا کہ وارث تقسیم کے لیے اپنے میں سے کسی کو وکیل بنا سکتے ہیں، لیکن وکیل ترکے کی مقدار کے بارے میں کوئی معلومات نہیں چھپا سکتا، نہ شرعی تقسیم کے خلاف تقسیم کر سکتا ہے، نہ کسی وارث کا حصہ روک سکتا ہے، کیونکہ وہ وراثت کی تقسیم میں شرعی احکام نافذ کرنے کا پابند ہے۔ اس نے البیان میں عمرانی کا قول نقل کیا کہ وراثت میں نیابت نہیں سوائے اس کی تقسیم اور قبضے کے۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ کوئی وارث کسی کا شرعی حصہ نہیں روک سکتا، اور جو ایسا کرے وہ گناہ گار ہے۔

    اصل صفحہ

  • تاخیر سے شپنگ کا معاوضہ کس کا ہے: درمیانی کا یا گاہک کا؟

    ایک آن لائن دکان کی درمیانی خاتون کے بارے میں سوال جو گاہکوں کے آرڈرز کی قیمت پیشگی ادا کرتی ہے، اور دکان تاخیر سے شپنگ کے معاوضے کے طور پر رقم واپس کرنے کی پیشکش کرتی ہے، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ اگر درمیانی گاہک کی وکیل ہو تو واپس ملنے والی رقم گاہک کی ہے، اور اگر وہ سامان اپنے لیے خرید کر پھر بیچتی ہو تو اس کی۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ حکم درمیانی اور گاہکوں کے درمیان معاہداتی تعلق کی نوعیت پر موقوف ہے۔ اس نے کہا کہ اگر درمیانی ایسا وکیل ہو جو آرڈر پہنچاتا ہے اور ترسیل کی اجرت اور وکالت کا کمیشن لیتا ہے، تو یہ قاعدہ لاگو ہوتا ہے کہ وکیل کے تصرفات مؤکل کے مفاد میں ہوتے ہیں، لہٰذا وکیل سپلائر سے ملنے والی کوئی نقد واپسی نہیں رکھ سکتا اور وہ رقم گاہک کا حق ہے۔ اگر درمیانی اپنے پیسوں سے سامان خرید کر پھر گاہکوں کو بیچے تو وہ واپس ملنے والی رقم رکھ سکتی ہے، کیونکہ بیچنے سے پہلے سامان اس کی ملکیت اور ضمان میں آ چکا تھا۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ جب درمیانی خریداری اور ترسیل میں گاہک کی وکیل ہو تو واپس ملنے والی رقم گاہک کی ہے، اور جب وہ سامان اپنے لیے خرید کر بیچے تو اس کی۔

    اصل صفحہ

  • کیچووں سے جانوروں کا چارہ بنانا

    کیچوے پال کر اور ان کی افزائش کر کے جانوروں کا چارہ بنانے کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ مرغیوں اور جانوروں کو کیڑے اور حشرات کھلانے میں حرج نہیں بشرطیکہ ماہرین کے مطابق انسان کو نقصان نہ ہو، اور مردہ کیڑوں کے بارے میں جمہور اور شوافع کا اختلاف بیان کیا۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ فقہا کا اتفاق ہے کہ پرندوں اور جانوروں کو زندہ کیڑے اور حشرات کھلانے میں حرج نہیں کیونکہ وہ پاک ہیں؛ اس نے فتح القریب میں ابن قاسم غزی کا قول نقل کیا کہ کتے، خنزیر اور ان سے پیدا ہونے والے کے سوا ہر جانور پاک ہے، اور اس میں نجاست سے پیدا ہونے والے کیڑے بھی شامل ہیں۔ اس نے کہا کہ جمہور فقہا کے نزدیک انہیں مردہ کیڑے اور حشرات کھلانے میں حرج نہیں، اور المغنی میں ابن قدامہ کا قول نقل کیا کہ جن جانداروں میں بہتا خون نہ ہو، جیسے کیڑے، وہ موت سے نجس نہیں ہوتے، اور ذکر کیا کہ شوافع اسے مکروہ سمجھتے ہیں۔ اس نے کہا کہ چارے میں کیڑے شامل کرنے کا حکم مقدار پر ہے: اگر چارہ پورا یا زیادہ تر کیڑوں سے بنا ہو تو ان کی نجاست کی وجہ سے مکروہ ہے، اور تحفۃ المحتاج میں ابن حجر ہیتمی کا قول نقل کیا کہ کھائے جانے والے جانور کو نجس چیز کھلانا مکروہ ہے؛ اگر مقدار کم ہو اور پاک اجزا غالب ہوں تو حرج نہیں۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ مرغیوں اور جانوروں کو کیڑے اور حشرات کھلانے میں حرج نہیں بشرطیکہ ماہرین کے مطابق ثابت ہو کہ انسان کو نقصان نہیں؛ اگر نقصان ثابت ہو جائے تو یہ حرام ہو جاتا ہے۔

    اصل صفحہ

  • گاڑی کی دیکھ بھال کی سالانہ رکنیت

    گاڑی کی وقتاً فوقتاً دیکھ بھال اور مرمت کی سالانہ رکنیت کے بارے میں سوال، جسے اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کام اور اجرت کے واضح ہونے کی شرط پر جائز قرار دیا۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ دیکھ بھال کے معاہدے میں ایک فریق مشین کی دوری جانچ اور خراب پرزوں کی مرمت یا تبدیلی کا ذمہ لیتا ہے، اور اسے طے شدہ اجرت پر کام کا اجارہ قرار دیا۔ اس نے کہا کہ اس میں غرر کا شبہ ہے کیونکہ خرابی ہو بھی سکتی ہے اور نہیں بھی، لیکن یہ معمولی غرر ہے جسے عرف قبول کرتا ہے اور ضرورت اس کی متقاضی ہے، اجارہ اور جعالہ پر قیاس کرتے ہوئے، اور نووی کی المجموع سے ظاہر غرر اور ضرورت والے غرر کا فرق نقل کیا۔ اس نے دیکھ بھال کے معاہدے پر بین الاقوامی اسلامی فقہ اکیڈمی کی قرارداد 103 (11/6) کا حوالہ دیا، اور نتیجہ نکالا کہ رکنیت جائز ہے بشرطیکہ کام اور اجرت دونوں ٹھیک ٹھیک طے ہوں، کمپنی دیکھ بھال اور نگرانی کی پابند ہو اور مالک معاہدے کے مطابق اجرت اور پرزوں کی قیمت کا۔

    اصل صفحہ

  • روزے میں بھوک روکنے یا تمباکو نوشی چھڑانے والا پیچ لگانا

    روزے میں بھوک روکنے یا تمباکو نوشی چھڑانے والا پیچ لگانا کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ جو سنت کے مطابق سحری اور افطار کرے اسے اس کی ضرورت نہیں، لیکن یہ روزہ نہیں توڑتا کیونکہ یہ غذا نہیں اور کھلے راستے سے جوف میں داخل نہیں ہوتا۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ روزہ ایک عظیم عبادت اور اسلام کا ایک رکن ہے، اور جو سنت کے مطابق سحری اور افطار کرے اسے بڑی مشقت نہیں ہوتی، اس لیے اس پیچ کی ضرورت نہیں۔ اس نے کہا کہ اس کے باوجود پیچ روزہ نہیں توڑتا، کیونکہ یہ غذا نہیں اور کھلے راستے سے جوف میں داخل نہیں ہوتا۔

    اصل صفحہ

  • اردن سے باہر قربانی کے لیے وکیل بنانا

    اردن سے باہر قربانی کے لیے وکیل بنانا کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ قربانی کے ذبح کے لیے کسی شخص یا ادارے کو وکیل بنانا جائز ہے، چاہے قربانی کرنے والے کے ملک سے باہر ہو، بشرطیکہ وکیل اس کی شرائط کی پابندی کرے، البتہ خود کرنا افضل ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ قربانی ذبح کرنے کے لیے کسی شخص یا خیراتی ادارے کو وکیل بنانا جائز ہے، چاہے قربانی کرنے والے کے ملک کے علاوہ کہیں ہو، بشرطیکہ وکیل عیوب سے سلامتی، عمر، ذبح کے وقت اور تقسیم سے متعلق قربانی کی شرائط کی پابندی کرے۔ اس نے کہا کہ افضل یہ ہے کہ قربانی کرنے والا خود قربانی کرے تاکہ اسے اس کا پورا ثواب اور برکت حاصل ہو۔

    اصل صفحہ

  • زکات اور صدقہ کی تقسیم کے لیے وکیل بنانا

    زکات اور صدقہ کی تقسیم کے لیے وکیل بنانے اور اس کی شرطوں کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ اگر وکیل قابل اعتماد اور امانت دار ہو تو یہ جائز ہے، اور وہ شرطیں بیان کیں جن کی پابندی وکیل پر لازم ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ جس پر زکات واجب ہو وہ کسی دوسرے کو اس کی تقسیم کا وکیل بنا سکتا ہے بشرطیکہ وہ قابل اعتماد، سچا اور امانت دار ہو، اور غیر مسلم کو وکیل بنانے کی صورت میں زکات دینے والا خود زکات کی نیت کرے۔ اس نے کہا کہ وکیل زکات میں سے نہ اپنے لیے کچھ لے اور نہ ان کے لیے جن کا نفقہ اس پر واجب ہے؛ اس نے نووی کی المجموع سے نقل کیا کہ جب مالک یا اس کا وکیل زکات تقسیم کرے تو عاملین کا حصہ ساقط ہو جاتا ہے۔ اس نے کہا کہ وکیل پر لازم ہے کہ زکات بلا تاخیر مستحقین تک پہنچائے؛ اس نے خطیب شربینی کی مغنی المحتاج سے نقل کیا کہ زکات فوراً ادا کرنا واجب ہے۔ اس نے کہا کہ زکات براہ راست فقرا کو دی جائے، اس سے مسجد، مدرسہ یا ہسپتال نہ بنایا جائے کیونکہ یہ مقررہ اقسام میں شامل نہیں؛ اس نے ابن قاسم الغزی کی فتح القریب سے نقل کیا کہ اللہ کی راہ سے مراد رضاکار مجاہدین ہیں۔ اس نے کہا کہ وکیل تقسیم کی جگہ اور صورت میں مؤکل کی شرط کا پابند ہے؛ اس نے بجیرمی سے نقل کیا کہ عطیہ دینے والے کی شرط وقف کرنے والے کی شرط جیسی ہے: اگر اس نے نقد کی شرط رکھی تو وکیل کھانا یا سامان نہیں دے سکتا، اور اگر کھانے کی شرط رکھی تو حنفیہ کے قول کی بنا پر جائز ہے جو قیمت دینے کو جائز کہتے ہیں؛ اس نے نووی کی المجموع سے نقل کیا کہ شافعیہ قیمت دینے کو جائز نہیں کہتے جبکہ ابو حنیفہ جائز کہتے ہیں۔

    اصل صفحہ

  • زینتی مچھلیوں کے حوض کا پانی اور ان کا فضلہ

    زینتی مچھلیوں کے حوض کا پانی اور ان کا فضلہ کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ زینتی مچھلیوں کے حوض کا پانی جب تک تبدیل نہ ہو پاک ہے، اور مچھلی کا تھوڑا فضلہ معاف ہے جب تک پانی کو تبدیل نہ کرے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ زینتی مچھلیوں والے حوض کا پانی جب تک تبدیل نہ ہو پاک ہے، اور مچھلی کا تھوڑا فضلہ معاف ہے جب تک اس سے پانی تبدیل نہ ہو۔ اس نے شرح المنہج پر جمل کے حاشیے (1/178) سے نقل کیا کہ غیر ماکول جانور اور سواری کے جانور کے تھوڑے بال اس سے بچنے کی مشقت کی وجہ سے معاف ہیں، اور مچھلی کا فضلہ بھی اسی طرح معاف ہے، الا یہ کہ پانی کو تبدیل کر دے۔

    اصل صفحہ

  • کیا امتحانات رمضان میں روزہ چھوڑنے کا عذر ہیں؟

    اس بارے میں سوال کہ کیا اسکول کے امتحانات رمضان میں روزہ چھوڑنے کا عذر ہیں، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ اسکول اور یونیورسٹی کے امتحانات روزہ چھوڑنے کا عذر نہیں۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ اسکول اور یونیورسٹی کے امتحانات روزہ چھوڑنے کا عذر شمار نہیں ہوتے، کیونکہ زیادہ تر طلبہ معمول سے زیادہ مشقت کے بغیر روزے کی حالت میں امتحان دیتے ہیں۔ اس نے کہا کہ روزہ امتحان کی تیاری سے متصادم نہیں، اور مسلمان دنیا اور آخرت کے کاموں میں عبادت سے مدد لیتا ہے۔

    اصل صفحہ

  • اسلامی بینکوں سے نقد کے لیے طے شدہ رسیدیں

    اسلامی بینکوں سے نقد کے لیے طے شدہ رسیدیں کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ اسلامی بینکوں سے نقد حاصل کرنے کے لیے بیچنے والے سے مل کر رسیدیں بنوانا اور حیلہ کرنا جائز نہیں، کیونکہ یہ بیع کو سودی معاملے کی صورت کے قریب کر دیتا ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ معاملے سے بظاہر مقصد حیلے کے ذریعے نقد حاصل کرنا ہے، اور لیکویڈیٹی کے لیے حیلہ کرنا اور فریقین سے ساز باز کرنا جائز نہیں، کیونکہ ایسے حیلے بیع کو سودی معاملے کی صورت کے قریب کر دیتے ہیں۔ اس نے ابن بطہ کی ابطال الحیل (ص 47) میں مروی حدیث سے استدلال کیا، جسے بہت سے علما نے حسن قرار دیا، جس کا مفہوم معمولی حیلوں سے اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال کرنے سے ممانعت ہے، اور اسلامی بینکوں سے حیلے کی حرمت پر اپنے سابقہ فتویٰ نمبر 516 کا حوالہ دیا۔

    اصل صفحہ

  • بچوں کے دودھ کے ایجنٹوں کے دائیوں کو تحفے

    بچوں کے دودھ کے ایک ایجنٹ کا سوال جو ہسپتالوں میں دائیوں کو تحفے دے کر اپنی مصنوعات کی تشہیر کرنا چاہتا ہے، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ اگر تحفے کسی ایسی مصنوع کی خصوصی تشہیر کے بدلے ہوں جسے دوسروں پر کوئی برتری نہیں تو حرام ہیں، اور اگر دائیوں کے فیصلے پر اثر ڈالے بغیر صرف کمپنی کی تشہیر ہوں تو جائز ہیں۔ ڈیپارٹمنٹ نے آغاز میں کہا کہ ہبہ بالاجماع مستحب ہے، اور اس بارے میں بغوی اور نووی سے نقل کیا۔ اس نے کہا کہ اگر کمپنی دائیوں کو اس کے بدلے تحفے دے کہ وہ صرف اسی کی مصنوع کی تشہیر کریں، حالانکہ اسے دوسروں پر کوئی برتری نہیں اور وہ مہنگی ہے، تو تحفہ دینا اور لینا رشوت کے باب سے ہونے کی وجہ سے حرام ہے۔ اور اگر وہ دباؤ ڈالے یا ان کے فیصلے پر اثر ڈالے بغیر صرف اپنی تشہیر کے لیے تحفے دے تو تحفہ دینا اور لینا جائز ہے؛ اس نے افتاء کونسل کے فیصلوں نمبر 145 اور 249 کا حوالہ دیا۔

    اصل صفحہ

  • موت کے بعد اعضا کے عطیے کی وصیت

    اعضا کے عطیے کی آگاہی کے ایک اقدام کا سوال کہ انسان موت کے بعد اپنے تمام اعضا کے عطیے کی وصیت کرے، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ دوسروں سے نقصان دور کرنے کے لیے موت کے بعد اعضا کا عطیہ شریعت میں جائز ہے، اور اسے نیکی میں تعاون قرار دیا۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ اللہ نے نیکی اور تقویٰ میں تعاون کا حکم دیا ہے، اور ماوردی کی ادب الدنیا والدین سے نقل کیا کہ تقویٰ اور نیکی کو جمع کرنا اللہ اور لوگوں دونوں کی رضا کو جمع کرتا ہے۔ اس نے کہا کہ انسان کا اپنی موت کے وقت کسی کا نقصان دور کرنے کے لیے اپنا کوئی عضو عطیہ کرنا شریعت میں جائز ہے، اور یہ دو متفقہ قواعد کے تحت آتا ہے: ضرورتیں ممنوع چیزوں کو مباح کر دیتی ہیں، اور ضرورت بقدرِ ضرورت ہوتی ہے۔ اس نے لوگوں کی تکلیف دور کرنے کے بارے میں احادیث سے استدلال کیا، اور کہا کہ مریض کو عضو کی یا نابینا کو بینائی کی ضرورت فقیر کو مال کی ضرورت سے زیادہ ہے، اور جو ضرورت مند مریضوں کی خدمت کے لیے عطیے کی وصیت کرے وہ اپنی زندگی ایک عظیم عمل پر ختم کرتا ہے۔ اس نے بتایا کہ ڈیپارٹمنٹ پہلے بھی اعضا کے عطیے کے جواز پر فتاویٰ جاری کر چکا ہے، جن میں آنکھ کے قرنیہ کے عطیے کا فتویٰ بھی ہے، اور اردن کے ڈاکٹروں کی قرنیہ، جلد اور دیگر اعضا کی پیوند کاری میں کامیابی کی تعریف کی۔

    اصل صفحہ

  • دانتوں کی پیوند کاری میں مردہ انسان یا جانور سے حاصل ہڈی اور بافتیں

    دانتوں کی پیوند کاری اور مسوڑھوں کے علاج میں مردہ انسان، گائے یا خنزیر سے حاصل ہڈی اور بافتوں کے استعمال کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ نجس چیز اور مردہ انسان کے اجزا سے علاج متبادل نہ ہونے پر جائز ہے، متبادل ہو تو نہیں، اور مریض کے مسلمان یا غیر مسلم ہونے سے فرق نہیں پڑتا۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ اسلام نے علاج کو مشروع کیا ہے، اس نے ابو داود کی روایت کردہ ایک حدیث کا حوالہ دیا جس میں علاج کا حکم ہے، اور بشری الکریم میں باعشن کا قول نقل کیا کہ اللہ پر بھروسے کے ساتھ علاج مسنون ہے۔ اس نے کہا کہ فقہا کے نزدیک اصل یہ ہے کہ نجس چیز سے علاج حرام ہے، مگر انہوں نے ضرورت کے وقت، خالص شراب کے سوا، بطور استثنا اس کی اجازت دی بشرطیکہ کوئی پاک متبادل نہ ہو؛ اس نے اسنی المطالب میں زکریا انصاری کا قول نقل کیا کہ پاک چیز نہ ملنے پر غیر نشہ آور نجس چیز سے علاج جائز ہے، اور کہا کہ جس چیز میں نجس جز شامل ہو وہ بدرجہ اولیٰ جائز ہے۔ اس نے کہا کہ فقہا کا اتفاق ہے کہ کوئی بھی متبادل، چاہے نجس ہو، موجود ہو تو مردہ انسان کے اجزا سے علاج حرام ہے، جبکہ شوافع نے متبادل نہ ہونے پر اسے جائز کہا؛ اس نے تحفۃ المحتاج پر حواشی میں عبد الحمید شروانی کا قول نقل کیا کہ کوئی اور مناسب چیز نہ ملے تو مردہ انسان کی ہڈی سے ہڈی جوڑنا جائز ہو سکتا ہے۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ متبادل نہ ہو تو خالص شراب کے سوا نجس چیز سے علاج میں حرج نہیں، متبادل ہو تو جائز نہیں؛ کوئی متبادل، چاہے نجس، نہ ہو تو مردہ انسان کے اجزا سے علاج جائز ہے؛ اور مسلمان اور غیر مسلم مریض میں کوئی فرق نہیں۔

    اصل صفحہ

  • پیشگی ادا شدہ گفٹ کارڈ پر اضافی بیلنس

    190 دینار میں خریدے جانے والے اور 212 دینار سے چارج ہونے والے گفٹ کارڈ کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ اسے خریدنا جائز ہے، کیونکہ اضافہ بیچنے والے کی طرف سے ہبہ ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے کارڈ کو جاری کرنے والے کی ویب سائٹ سے آن لائن خریداری کے لیے پیشگی ادا شدہ کارڈ قرار دیا، اور کہا کہ تحقیق سے معلوم ہوا کہ ویب سائٹ کی پالیسی ادا شدہ رقم سے زائد بیلنس دینا ہے۔ اس نے کہا کہ فقہی لحاظ سے کارڈ گاہک کی ادا کردہ رقم کی حد تک نقد قیمت کی نمائندگی کرتا ہے، اور اضافی بیلنس بیچنے والے کی طرف سے کارڈ رکھنے والے کو ہبہ ہے تاکہ وہ صرف اسی سے خریداری کرے۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ یہ کارڈ خریدنے میں کوئی حرج نہیں۔

    اصل صفحہ

  • سخت جسمانی مشقت والوں کا روزہ چھوڑنا

    سخت جسمانی کام کرنے والوں، جیسے نان بائی اور کنکریٹ کے مزدور، کے روزہ چھوڑنے کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ وہ شروع ہی سے روزہ نہیں چھوڑ سکتے، بلکہ نیت کر کے روزہ شروع کریں، اور اگر واقعی مشقت ہو جائے تو چھوڑ دیں اور بعد میں قضا کریں۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ سخت کام کرنے والا شروع ہی سے روزہ نہیں چھوڑ سکتا؛ اسے رات سے روزے کی نیت کر کے روزہ شروع کرنا ہے۔ اس نے کہا کہ اگر بعد میں وہ ایسی حد تک پہنچ جائے کہ روزہ مشقت بن جائے تو روزہ چھوڑ دے اور کسی اور وقت قضا کرے۔

    اصل صفحہ

  • بچوں کو مسجد لے جانا

    بچوں کو مسجد لے جانا کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ سمجھدار بچوں کو جماعت اور مسجد کے آداب سکھانے کے لیے مسجد لانا جائز ہے، بشرطیکہ وہ ولی کے پاس رہیں، جبکہ ناسمجھ بچوں کو اصلاً نہ لایا جائے؛ اگر لانا مجبوری ہو تو ولی اسے اپنے ساتھ رکھے اور اگلی صفوں میں نماز نہ پڑھے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ سمجھدار بچوں کو مسجد لانا جائز ہے تاکہ وہ باجماعت نماز کی مشق کریں اور مسجد کے آداب اور احترام سیکھیں؛ ولی کو چاہیے کہ بچے کو اپنے پاس رکھے تاکہ اس کی رہنمائی کرے، اور اسے نماز کے دوران کھیلنے اور نمازیوں کو پریشان کرنے کے لیے نہ چھوڑے، ورنہ اسے لانے کا مقصد فوت ہو جائے گا۔ اس نے کہا کہ ناسمجھ بچوں کو اصلاً مسجد نہ لایا جائے، کیونکہ وہ صحیح نماز نہیں پڑھ سکتے اور عموماً انہیں سنبھالنا مشکل ہوتا ہے، اور ان کی موجودگی اکثر نمازیوں کی توجہ بٹانے، مسجد کو گندا کرنے یا مصاحف اور مسجد کی چیزوں کو خراب کرنے کا سبب بنتی ہے؛ اور مفاسد کو دور کرنا منافع حاصل کرنے پر مقدم ہے۔ اس نے مزید کہا کہ جسے ایسے بچے کو لانا پڑے وہ اسے اکیلا نہ چھوڑے بلکہ اپنے پاس رکھے اور اگلی صفوں میں نماز نہ پڑھے۔

    اصل صفحہ

  • راشن کارڈ اس کی قیمت سے کم پر خریدنا

    راشن کارڈ اس کی قیمت سے کم پر خریدنا کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ راشن کارڈ کو ان اشیا پر قبضے سے پہلے بیچنا جن کی وہ نمائندگی کرتا ہے جائز نہیں، کیونکہ اس میں سخت لاعلمی ہے اور یہ غریبوں کی ضرورت کا استحصال ہے؛ جب کارڈ رکھنے والا اشیا وصول کر کے ان کا مالک بن جائے تو جس قیمت پر چاہے بیچ سکتا ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ راشن کارڈ کی بیع میں سخت لاعلمی ہے کیونکہ بیچی جانے والی چیز کی قسم اور مقدار معلوم نہیں، اور لاعلمی بیع کو فاسد کر دیتی ہے، اور مسلم کی ابو ہریرہ سے روایت کردہ حدیث سے استدلال کیا جس میں کنکری کی بیع اور غرر کی بیع سے منع کیا گیا۔ اس نے کہا کہ کارڈ جاری کرنے والا ادارہ اسے ضرورت مندوں کی مدد اور ضروری غذائی اشیا پر سبسڈی کے لیے مختص کرتا ہے؛ اسے بیچنا غریبوں کی ضرورتوں کا استحصال ہے، کارڈ جاری کرنے کا مقصد فوت کرتا ہے اور امداد کو غیر مستحقین کے منافع میں بدل دیتا ہے۔ اس نے کہا کہ ممانعت کو اس روایت سے تقویت ملتی ہے جو امام مالک نے مؤطا میں بیان کی کہ مروان بن حکم کے زمانے میں لوگوں کو کھانے کی رسیدیں ملیں تو انہوں نے کھانا وصول کرنے سے پہلے ان کی خرید و فروخت کی؛ زید بن ثابت اور ایک دوسرے صحابی نے مروان پر اعتراض کیا، تو مروان نے پہرے دار بھیجے جنہوں نے رسیدیں لوگوں سے واپس لے کر ان کے اصل حقداروں کو لوٹائیں۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ اصل اشیا کی ملکیت سے پہلے راشن کارڈ بیچنا جائز نہیں، لیکن جب کارڈ رکھنے والا اپنا حق وصول کر لے اور کوپنوں کی نمائندگی کرنے والی اشیا کا مالک بن جائے تو جس قیمت پر چاہے بیچ سکتا ہے۔

    اصل صفحہ

  • آن لائن گیم اکاؤنٹ قسطوں پر خریدنا

    آن لائن گیم اکاؤنٹ قسطوں پر خریدنا کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ آن لائن گیم کی فروخت کا حکم خود گیم کے حکم کے تابع ہے، اور اگر وہ جائز ہو تو دوست اسے خرید کر مالک بننے کے بعد قسطوں پر منافع کے ساتھ بیچ سکتا ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ آن لائن گیمز کی فروخت کا حکم خود گیم کے حکم کے تابع ہے: اگر گیم جائز ہو تو اس کی فروخت جائز ہے، اور اگر اس میں ایسی شرعی خلاف ورزیاں ہوں جو اسے کھیلنا ناجائز بنا دیں تو اس کی فروخت درست نہیں، اور آن لائن گیمز کے ضوابط کے لیے اپنے فتویٰ نمبر 3369 کا حوالہ دیا۔ اس نے کہا کہ اگر گیم جائز ہو تو دوست اسے خرید سکتا ہے اور مالک بننے کے بعد خرید سے زیادہ قیمت پر قسطوں میں بیچ سکتا ہے، اور بتایا کہ ڈیپارٹمنٹ شرعی شرائط کی پابندی کے ساتھ مرابحہ کو جائز قرار دیتا ہے، اور اپنے فتویٰ نمبر 2861 کا حوالہ دیا۔

    اصل صفحہ

  • کمپنیوں کے ذریعے قربانی یا عقیقہ خریدنا

    نجی کمپنیوں سے قربانی یا عقیقہ خریدنے اور انہیں ذبح اور تقسیم کا وکیل بنانے کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ اگر عقد کے وقت کمپنی جانور کی مالک ہو تو جائز ہے، ورنہ عقد کو مقررہ اوصاف کے ساتھ سلم بنانا ہوگا، یا وعدہ کر کے کمپنی کے مالک بننے پر بیع کرنی ہوگی۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ اگر گاہک عقد کے وقت پوری قیمت ادا کرے اور اس وقت جانور کمپنی کی ملکیت ہو تو حرج نہیں، لیکن اگر کمپنی مالک نہ ہو تو جو چیز ملکیت میں نہ ہو اسے بیچنے کی ممانعت کی وجہ سے جائز نہیں۔ اس نے کہا کہ عقد کو سلم کی صورت دی جا سکتی ہے جس میں مبیع مؤخر اور قیمت پیشگی ہو، اور کمپنی عقد میں جانور کی قسم، جنس، عمر، رنگ، وزن اور مقام متعین کرے؛ اس نے خطیب شربینی کی مغنی المحتاج سے نقل کیا کہ مویشیوں میں سلم کے لیے یہ اوصاف شرط ہیں۔ یا فریقین ابتدائی وعدہ کریں، اور جب کمپنی جانور کی مالک بن جائے تو گاہک کو بیچ دے؛ پھر ذبح اور تقسیم کی وکالت گاہک کی ملکیت کی بنیاد پر طے ہو۔

    اصل صفحہ

  • ذبح کے بعد گوشت کے وزن کے حساب سے جانور خریدنا

    ذبح کے بعد گوشت کے وزن کے حساب سے جانور خریدنا کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ ذبح کے بعد گوشت کے فی کلو کے حساب سے مویشی بیچنا جائز نہیں کیونکہ گوشت نظر نہیں آتا اور غرر ہوتا ہے، خریدنے کا وعدہ اور وزن پر بیع ممکن ہے، اور قربانی کا جانور ذبح سے پہلے زندہ حالت میں ملکیت میں ہونا ضروری ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ مویشیوں کو اس طرح بیچنا جائز نہیں کہ ذبح کے بعد ہر کلو گوشت اتنے کا ہو، کیونکہ ذبح سے پہلے گوشت نظر نہیں آتا، جس سے جہالت اور غرر پیدا ہوتا ہے، اور یہ دونوں بیع کو فاسد کرتے ہیں۔ اس نے کہا کہ اس کے بجائے خریدار ذبح کے بعد مقررہ فی کلو قیمت پر گوشت خریدنے کا وعدہ کر سکتا ہے، اور بیع گوشت تولتے وقت مکمل ہو جب مقدار اور قیمت معلوم ہوں، اس میں کوئی رکاوٹ نہیں، اور مغنی المحتاج (2/355) میں خطیب شربینی سے نقل کیا کہ نامعلوم پیمانوں والا ڈھیر فی پیمانہ قیمت پر بیچنا درست ہے کیونکہ مال سامنے ہے اور قیمت تفصیلاً معلوم ہے۔ اس نے کہا کہ قربانی، عقیقہ اور نذر کا جانور ذبح سے پہلے مکمل طور پر ملکیت میں ہونا ضروری ہے، لہٰذا قصاب کی ملکیت میں ذبح درست نہیں؛ اسے زندہ خریدا جائے پھر قربانی وغیرہ کی نیت سے ذبح کیا جائے۔

    اصل صفحہ

  • فون کے ذریعے قربانی خریدنا اور ذبح کا وکیل بنانا

    فون کے ذریعے قربانی خریدنا اور ذبح کا وکیل بنانا کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ افضل یہ ہے کہ قربانی کرنے والا خود ذبح کرے یا موجود ہو، لیکن قصاب کو خریدنے اور ذبح کرنے کا وکیل بنانے میں حرج نہیں، بشرطیکہ وہ ذبح سے پہلے جانور متعین کر کے اس کے لیے خریدے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ افضل یہ ہے کہ قربانی کرنے والا سنت پر عمل کرتے ہوئے اپنے ہاتھ سے ذبح کرے، یا ممکن ہو تو موقع پر موجود ہو۔ اس نے کہا کہ قصاب کو اپنے لیے جانور خریدنے اور اپنی طرف سے ذبح کرنے کا وکیل بنانے میں کوئی حرج نہیں، چاہے جانور قصاب کی ملکیت ہو یا حنابلہ کے نزدیک وہ اسے بیچنے کا وکیل ہو، بشرطیکہ قصاب ذبح سے پہلے جانور متعین کرے اور قربانی کرنے والے کے لیے خریدے۔

    اصل صفحہ

  • استعمال شدہ کپڑوں اور کھلونوں کی گانٹھیں وزن سے خریدنا

    استعمال شدہ کپڑوں اور کھلونوں کی گانٹھیں وزن سے خریدنا کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ نمونہ دیکھنے کے بعد بند گانٹھیں وزن سے خریدنے میں کوئی رکاوٹ نہیں جب اس کا رواج ہو اور ایسی لاعلمی نہ ہو جو جھگڑے یا جوئے کی طرف لے جائے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ ایسے سامان کو جس کی گنتی کثرت کی وجہ سے مشکل یا ناممکن ہو، بند حالت میں وزن سے خریدنے میں کوئی حرج نہیں، چاہے کھولنے کے بعد اشیا میں فرق نکلے، لوگوں کی سہولت اور ان کے رواج کے مطابق، جب تک اس سے جھگڑا یا اختلاف نہ ہو؛ قدیم فقہا میں سے بعض نے کپڑوں کو بغیر گنتی ڈھیر کی صورت بیچنا قبول کیا جب انہیں کھولنا اور گننا مشکل ہو، الا یہ کہ اس سے جھگڑا، غرر یا جوا پیدا ہو۔ اس نے الحجۃ علی اہل المدینہ میں محمد بن حسن شیبانی کا قول نقل کیا، جنہوں نے دلیل دی کہ کپڑوں کی وہ گانٹھ جسے کھولنے سے نقصان ہو بغیر گنے بیچی جا سکتی ہے، جیسے اخروٹ، انڈے اور سبزیاں ڈھیر کی صورت بیچے جاتے ہیں، اور کہا کہ ڈھیر کی بیع سب سے واضح جائز بیوع میں سے ہے۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ جسے گانٹھ کہا جاتا ہے اس میں کپڑے یا کھلونے خریدنا شرعاً جائز ہے جب اس کا رواج ہو اور جھگڑے اور خطرے کی طرف لے جانے والی لاعلمی نہ ہو۔

    اصل صفحہ

  • عالمی برانڈز کی نقلی اشیا خریدنا

    عالمی برانڈز کی نقلی اشیا خریدنا کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ چوری شدہ ٹریڈ مارک والی اشیا کا لین دین حرام ہے؛ ملتے جلتے نشان والی اشیا ذاتی استعمال کے لیے خریدی جا سکتی ہیں اگر بیچنے والا جھوٹ یا دھوکہ نہ دے، مگر دوبارہ بیچنے کے لیے نہیں؛ اور صرف ڈیزائن کی نقل دانشورانہ املاک کے قوانین کے تحت ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ اسلام نے معاملات میں سچائی کا حکم دیا اور دھوکے اور جعل سازی سے منع کیا، اور ابن ماجہ اور ترمذی کی روایت کردہ حدیث کا حوالہ دیا جس کا مفہوم ہے کہ امانت دار سچا تاجر قیامت کے دن شہدا کے ساتھ ہوگا؛ اصل یہ ہے کہ ہر ایک اپنے میدان میں اپنی ایجاد رکھے اور جہاں تک ممکن ہو نقل سے بچے۔ اس نے نقل کی اقسام میں فرق کیا۔ چوری شدہ ٹریڈ مارک والی اشیا حرام ہیں، کیونکہ ان میں جھوٹ اور حقیقت کی غلط بیانی ہے اور یہ ٹریڈ مارک کے حقوق پر زیادتی ہے، جو قابلِ قدر مالی حقوق ہیں جن کی حفاظت واجب ہے۔ جن اشیا پر اصل سے ملتا جلتا نشان ہو جس سے لوگ دھوکہ کھا سکیں، ان کا حکم خریداری کے مقصد پر ہے: ذاتی استعمال کے لیے خریدنا جائز ہے بشرطیکہ بیچنے والا انہیں بیچنے کے لیے جھوٹ یا دھوکہ نہ دے، لیکن تجارت اور صارفین کو بیچنے کے لیے خریدنا جائز نہیں، کیونکہ بہت سے لوگ دھوکہ کھا کر انہیں اصلی سمجھتے ہیں۔ صرف ڈیزائن کی نقل، بغیر ٹریڈ مارک کے، دانشورانہ املاک کے حقوق کے قوانین کے تحت ہے۔ اس نے اسلامی فقہ اکیڈمی کی قرارداد 43 (5/5) نقل کی کہ تجارتی نام، ٹریڈ مارک، تصنیف اور ایجاد ان کے مالکوں کے خاص حقوق ہیں جن کی معتبر مالی قیمت ہے اور ان پر زیادتی جائز نہیں، عوام کو اصلی اور نقلی میں تمیز کرنے کی نصیحت کی، اور تاجروں کو معاملات میں اللہ سے ڈرنے کی یاد دہانی کرائی۔

    اصل صفحہ

  • ایپ کے ذریعے سونے کی اینٹیں خریدنا

    ایپ کے ذریعے سونے کی اینٹیں خریدنا کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ اگر چار معتبر طریقوں میں سے کسی ایک سے قبضہ ہو جائے تو ایپ کے ذریعے سونے کا لین دین جائز ہے ورنہ حرام، اور پہلے سے طے شدہ معاہدے کے بغیر اسی تاجر کو دوبارہ بیچنے میں حرج نہیں۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ اسلام نے ربوی اموال کی بیع میں سختی کی ہے، اور چھ اشیا والی حدیث سے استدلال کیا جسے مسلم نے روایت کیا؛ سونے کے بدلے سونے میں وزن کی برابری اور مجلسِ عقد میں قبضہ شرط ہے، جبکہ سونا کرنسی کے بدلے بیچنے میں صرف مجلس میں قبضہ شرط ہے۔ اس نے قبضے کے طریقے بتائے: خریدار مجلس میں خود اینٹ پر قبضہ کرے؛ اس کا وکیل قبضہ کرے؛ اینٹ کو ممتاز نمبروں اور نشانات سے متعین کر کے خریدار کو اس میں تصرف کا اختیار دیا جائے؛ یا وہ لائسنس یافتہ گوداموں میں ضابطوں کے تحت سرٹیفکیٹوں کے ذریعے رکھی جائے اور گودام چلانے والا ادارہ سرٹیفکیٹ رکھنے والے کا وکیل ہو، اور اسلامی مالیاتی اداروں کے شرعی معیار نمبر 57 کا حوالہ دیا۔ اس نے کہا کہ سونے کی بہت سی سٹے بازی والی خرید و فروخت ان ضوابط کی پابندی نہیں کرتی؛ اگر ان چار طریقوں میں سے کسی ایک سے قبضہ ہو جائے تو لین دین جائز ہے، ورنہ حرام۔ اسی تاجر کو اینٹ دوبارہ بیچنے کے بارے میں اس نے کہا کہ اصل یہ ہے کہ ممنوع بیعِ عینہ سے بچنے کے لیے کسی اور کو بیچی جائے، لیکن اگر یہ پہلے سے کسی معاہدے یا نیت کے بغیر ہو تو کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ بیع کی سابقہ شرائط پوری ہوں۔

    اصل صفحہ

  • قربانی کا جانور قسطوں پر خریدنا

    قربانی کا جانور قسطوں پر خریدنا کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ قربانی قسطوں پر خریدنا یا اس کے لیے قرض لینا جائز ہے، لیکن فقرا کے لیے مستحب نہیں، اور اہل و عیال کا واجب نفقہ مقدم ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ قربانی قسطوں پر خریدنا اور اس کی قیمت قرض لینا جائز ہے، لیکن فقرا کے لیے یہ مستحب نہیں کیونکہ ان سے قربانی کا مطالبہ نہیں، اور اس اصول کی طرف اشارہ کیا کہ اللہ کسی جان کو اس کی وسعت سے زیادہ مکلف نہیں کرتا، جیسا کہ سورۃ البقرہ 2:286 میں ہے۔ اس نے کہا کہ اگر اس سے اہل و عیال کے نفقے میں کوتاہی ہو تو قربانی کے لیے قرض لینے پر واجب نفقے کو مقدم کرنا چاہیے، اور مسلم کی روایت کردہ حدیث سے استدلال کیا جس کا مفہوم ہے کہ آدمی کے گناہ کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ اپنے زیرِ کفالت لوگوں کا رزق روک لے۔ اس نے بتایا کہ مقروض کی قربانی درست ہے، البتہ قرض ادا کرنا اولیٰ ہے، خاص طور پر جب وہ واجب الادا ہو۔

    اصل صفحہ

  • انگور کے پتوں کے لیے پکنے سے پہلے انگور خریدنا

    انگور کے پتوں کے حصول کے لیے انگور پکنے یا بننے سے پہلے خریدنے کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ کچا پھل کاٹنے اور قابلِ استعمال ہونے کی شرط پر بیچنا درست ہے، بننے سے پہلے درست نہیں، اور پتے سودے میں شامل نہیں جب تک عقد میں ان کا ذکر نہ ہو۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ درخت پر پکنے سے پہلے پھل بیچنا صرف اس شرط پر درست ہے کہ اسے فوراً کاٹا جائے اور اس میں کوئی فائدہ ہو، اور یہ خطیب شربینی کی الاقناع سے نقل کیا، اور بننے سے پہلے پھل بیچنا کبھی درست نہیں کیونکہ یہ معدوم اور غرر کی بیع ہے، اور یہ نووی کی المجموع سے نقل کیا۔ اس نے کہا کہ جہاں ایسی بیع درست ہو وہاں خریدار صرف پھل کا مالک ہوتا ہے اور پتے یا شاخیں نہیں لے سکتا جب تک عقد میں شامل نہ ہوں، البتہ پھل اور پتے اکٹھے خرید سکتا ہے۔ اس نے کہا کہ قابلِ استعمال پتے پھل کی طرح ہیں، صرف پکنے کے بعد یا اس سے پہلے کاٹنے اور قابلِ استعمال ہونے کی شرط پر بیچے جائیں، اور شہتوت کے پتوں کے بارے میں شربینی، رویانی اور زکریا الانصاری کے اقوال سے استدلال کیا، اور کہا کہ انگور کے پتے عرف میں شہتوت کے پتوں کی طرح استعمال ہوتے ہیں۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ کچے انگور (حصرم) کاٹنے کی شرط پر بیچے جا سکتے ہیں، ان کے پتے ساتھ نہیں لیے جا سکتے جب تک دونوں پر عقد نہ ہو، اور پتے اکیلے بیچے جا سکتے ہیں، ان کے پکنے یعنی کھلنے کے ضابطے یا کاٹنے کی شرط کے ساتھ۔

    اصل صفحہ

  • گاڑی کی مشترکہ خریداری پھر قرعہ اندازی کا منصوبہ

    ایک منصوبے کے بارے میں سوال جس میں دو سو افراد ایک گاڑی کی قیمت میں شریک ہوتے ہیں اور پھر قرعہ اندازی سے وہ ان میں سے ایک کو ملتی ہے، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ یہ جوئے پر مبنی ہونے کی وجہ سے حرام ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ جوا اور قمار اصولاً حرام ہیں، کیونکہ اس میں ایک شریک دوسروں کی قیمت پر کماتا ہے، جو جھگڑے اور لوگوں کا مال ناحق کھانے تک لے جاتا ہے۔ اس نے کہا کہ یہاں ہر شریک گاڑی کی قیمت کا ایک حصہ دیتا ہے تاکہ جس کا قرعہ نکلے اسے گاڑی ملے، اور یہی حرام جوا ہے، اور شراکت و ملکیت کی صورت محض پردہ ہے، جس کی دلیل یہ ہے کہ قرعہ نکلتے ہی شرکاء کی ملکیت ختم ہو جاتی ہے اور گاڑی ان سے چھن جاتی ہے۔ اس نے شراب اور جوئے کی ممانعت والی حدیث اور بجیرمی کی میسر کی تعریف سے استدلال کیا کہ یہ ایسا عمل ہے جس کا کرنے والا یا تو نفع اٹھاتا ہے یا نقصان، اور نتیجہ نکالا کہ یہ منصوبہ حرام ہے۔

    اصل صفحہ

  • سیاحتی ریستورانوں کے لیے کارڈ پیمنٹ مشینیں

    سیاحتی ریستورانوں کے لیے کارڈ پیمنٹ مشینیں کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ پوائنٹ آف سیل مشینیں لگانے کا حکم ادارے کے کاروبار کے تابع ہے: جس کا زیادہ کام حلال ہو، جیسے سیاحتی ریستوران اور ہوٹل، اس کے لیے جائز ہے، جس کا زیادہ کام حرام اشیا کی فروخت ہو اس کے لیے حرام، اور مخلوط میں غالب کا اعتبار ہے، اگرچہ احتیاط بہتر ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ الیکٹرانک ادائیگی کی مشینیں لگانے کا حکم ادارے کے کاروبار سے جڑا ہے: اگر وہ جائز ہو تو وہاں مشینیں لگانا جائز ہے؛ اور اگر دکان کا زیادہ کام حرام اشیا جیسے شراب اور خنزیر یا نائٹ کلب ہو تو یہ حرام ہے کیونکہ اس میں حرام پر مدد ہے، اور سورۃ المائدہ 5:2 کا حوالہ دیا۔ اس نے کہا کہ اگر ادارے کا کام مخلوط ہو تو حلال یا حرام میں سے جو غالب ہو اسی کا حکم ہے، اور اس صورت میں شبہات سے بچنے کے لیے مشینیں نہ لگانا بہتر ہے۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ سیاحتی ریستورانوں اور ہوٹلوں میں مشینیں لگانا جائز ہے کیونکہ ان کا زیادہ کام جائز ہے، اور ان میں پیش کی جانے والی کسی عارضی حرام چیز کا بوجھ انہیں چلانے والوں پر ہے۔

    اصل صفحہ

  • خیراتی انجمنوں کا زکات کی نقدی کو خدمات اور اشیا میں بدلنا

    خیراتی انجمنوں کے زکات کی نقدی کو دوا اور کھانے جیسی خدمات یا اشیا میں بدلنے کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ انجمنیں زکات دینے والوں کی وکیل ہیں اس لیے فقیر کی اجازت کے بغیر ایسا نہیں کر سکتیں، اور استثنا ریاست کے لیے ہے جب وہ زکات جمع کرے اور فقیر کو مالک بناتے ہوئے اس کے مفاد میں تصرف کرے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ زکات نصوص سے متعین فریضہ ہے، اور فقرا کو دی جانے والی نقدی کو سامان اور اشیا میں بدلنا اس کے احکام سے تجاوز ہے، سوائے حکمران کے ایسے تصرف کے جو فقیر کے معتبر مفاد کو پورا کرے اور اسے زکات کا مالک بنائے۔ اس نے کہا کہ اصل یہ ہے کہ انجمنیں زکات مستحقین تک پہنچانے میں زکات دینے والوں کی وکیل ہیں، اس لیے وہ اسے نقدی سے اشیا میں نہیں بدل سکتیں، کیونکہ یہ مال فقیر کا حق ہے جس میں اس کی اجازت کے بغیر تصرف جائز نہیں۔ اس نے کہا کہ جب ریاست زکات جمع کرے تو وہ اسے فقیر کے مفاد میں اور اسے مالک بناتے ہوئے ایک قسم سے دوسری قسم میں بدل سکتی ہے، کیونکہ زکات جمع کرنا اور تقسیم کرنا اس کے سپرد عوامی فریضہ ہے، اور ریاست کو دینے سے زکات دینے والا بری الذمہ ہو جاتا ہے۔ اس کے لیے اس نے کفایۃ النبیہ میں ابن الرفعہ کے اس قول پر انحصار کیا کہ زکات عام ضروریات کے لیے مقرر ایک کلی ذمہ داری ہے، اور ابن حجر الہیتمی کے تحفۃ المحتاج کے اس بیان پر کہ حکمران کا زکات وصول کرنا محض ولایت اور وکالت کے درمیان ہے، اور وہ عام مصلحت کے لیے فقیر کو خریداری کا پابند کر سکتا ہے۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ خیراتی انجمنیں فقیر کی اجازت کے بغیر زکات کے مال کو ایک قسم سے دوسری قسم میں نہیں بدل سکتیں، اور یہ استثنا صرف حکمران کے لیے ہے، مذکورہ حدود میں فقرا کو مالک بناتے ہوئے۔

    اصل صفحہ

  • ساتھیوں کا اوور ٹائم کے دنوں میں باری باری آنا

    ساتھیوں کا اوور ٹائم کے دنوں میں باری باری آنا کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ ملازم پر اوور ٹائم کے ضوابط کی پابندی اور کام کی جگہ پر موجودگی لازم ہے، اور ہدایات کے خلاف کام کی اجرت حلال نہیں۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ ملازم پر اوور ٹائم کے اوقات سے متعلق ہدایات اور ضوابط کی پابندی، سچائی، اور حیلے اور جھوٹ سے بچنا لازم ہے، اور سورۃ التوبہ 9:119 کا حوالہ دیا۔ اس نے کہا کہ جسے اوور ٹائم سونپا جائے وہ کام کی جگہ پر موجود رہے چاہے کام نہ ہو، اوور ٹائم منظور کرنے کا مجاز شخص ضوابط کے خلاف گھنٹے نہ دے، اور ہدایات کے خلاف کسی چیز کی اجرت حلال نہیں۔

    اصل صفحہ

  • ضرورت مند طلبہ کی مدد کے منصوبے کے لیے زکوٰۃ اور صدقات جمع کرنا

    ضرورت مند طلبہ کی مدد کے منصوبے کے لیے زکوٰۃ اور صدقات جمع کرنا کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ طلبہ کی مدد کے "دینار" منصوبے کے لیے نفلی صدقات جمع کرنے میں کوئی حرج نہیں، مگر زکوٰۃ صرف شرائط کے ساتھ جمع کی جا سکتی ہے: وہ مستحق طلبہ کو ملکیت کے طور پر پہنچے، نفلی صدقات سے الگ کھاتے میں رکھی جائے، اور ماہانہ قسطوں میں دینے کے لیے روکی نہ جائے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ اسلام نے نیکی میں پہل پر ابھارا ہے، جس میں ایسے خیالات پیش کرنا بھی شامل ہے جو دوسروں کو نیکی کی ترغیب دیں، اور مسلم کی روایت کردہ حدیث کا حوالہ دیا جس کا مفہوم ہے کہ جو اسلام میں کوئی اچھا طریقہ جاری کرے اسے اس کا اجر اور بعد میں اس پر عمل کرنے والوں کا اجر ملے گا؛ طلبہ کے ایک طبقے کے لیے نفلی صدقات جمع کرنے کا منصوبہ شروع کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ البتہ منصوبے کے لیے زکوٰۃ جمع کرنا صرف شرائط کے ساتھ جائز ہے۔ پہلی یہ کہ اسے جمع اور تقسیم کرنے والا رضاکار زکوٰۃ دینے والوں کا وکیل اور اپنے پاس آنے والے مال کا امین ہے، اس لیے مال ان مسلمان طلبہ تک پہنچنا ضروری ہے جو زکوٰۃ لینے کی شرائط پوری کرتے ہوں، انہیں مالک بنا کر۔ دوسری یہ کہ زکوٰۃ اور نفلی صدقات کو الگ الگ کھاتوں میں رکھنا واجب ہے، کیونکہ زکوٰۃ واجب اور قابلِ ادا ہونے کے بعد اسے طلبہ کو ماہانہ قسطوں میں دینے کے ارادے سے جان بوجھ کر مؤخر کرنا حرام ہے، اور ایسا کرنے والا فقرا کا حق غصب کرنے والا ہے۔ اس نے مغنی المحتاج (2/129) سے نقل کیا کہ زکوٰۃ فوراً ادا کرنا واجب ہے، اور جو تاخیر کرے وہ گناہگار ہے اور مال ضائع ہو تو ضامن ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے تاکید کی کہ نفلی صدقات دینے والوں کو جمع کرنے کا مقصد اور خرچ کے مصارف بتانا ضروری ہے۔

    اصل صفحہ

  • سر پر ضرب والے جنگی کھیلوں کے ضوابط

    ایسے کھیلوں کے حکم کے بارے میں سوال جن میں سر پر ضرب لگائی جاتی ہے، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ اسلام نے ایسی ورزش کی ترغیب دی ہے جو جسم کو تندرستی اور صحت دے، اور ہر اس چیز کو حرام کیا جو جسم کو نقصان پہنچائے، جیسے چہرے اور سر پر ضرب جس کا دماغی چوٹ یا موت کا خطرہ ثابت ہے؛ اس نے بخاری کی اس حدیث سے استدلال کیا کہ جو لڑے وہ چہرے سے بچے، اور نووی کی اس وجہ سے جو بدر الدین عینی نے عمدۃ القاری میں نقل کی کہ چہرہ نازک ہے، خوبیوں کا مجموعہ ہے اور ادراک کا زیادہ تر حصہ اسی سے ہوتا ہے، اس لیے اس پر ضرب سے اس کے ناکارہ یا بدنما ہونے کا خطرہ ہے۔ اس نے فیصلہ کیا کہ شریعت کا قاعدہ ہے کہ جس چیز کا نقصان ثابت ہو اس کی حرمت ثابت ہے، لہٰذا یہ کھیل حرام ہیں اگر ان سے ضرب کھانے والے کو نقصان یا اذیت پہنچے، سوائے اس کے کہ کھلاڑیوں کو اذیت سے بچانے کے ضروری اقدامات کیے جائیں، جیسے ہیلمٹ اور حفاظتی لباس پہننا اور اسی طرح کی احتیاطیں، تو اس صورت میں ان کے کھیلنے میں کوئی حرج نہیں۔

    اصل صفحہ

  • ای والٹ کے ذریعے بل ادا کرنے پر کمیشن

    ای والٹ کے ذریعے بل ادا کرنے پر کمیشن کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ ای والٹ رکھنے والا ادائیگی میں وکیل ہے، اس لیے اگر گاہک ادائیگی کے وقت یا اس سے پہلے رقم دے دے تو وہ مقررہ یا فیصدی معلوم اجرت لے سکتا ہے؛ اگر گاہک فوراً ادا نہ کرے تو وکالت اور قرض جمع ہو جاتے ہیں اور کمیشن جائز نہیں۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ ای والٹ رکھنے والا ان موکلین کا ادائیگی کا وکیل ہے جو اپنے بل ادا کرنا یا کسی اور کے کھاتے میں رقم بھیجنا چاہتے ہیں، اور اصلاً وکیل اپنے موکل سے معلوم اجرت لے سکتا ہے، چاہے مقررہ رقم ہو یا فیصدی کمیشن، بشرطیکہ موکل بل کی ادائیگی سے پہلے بغیر تاخیر کے رقم براہِ راست دے دے۔ اس نے کہا کہ اگر موکل فوراً ادا نہ کرے تو معاملے میں وکالت کے ساتھ وکیل کی طرف سے موکل کو قرض بھی شامل ہو جاتا ہے، اور اس وقت سود کے شبہے سے بچنے کے لیے وکیل کمیشن نہیں لے سکتا۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ اگر موکل ادائیگی کے وقت یا اس سے پہلے رقم دے دے تو وکیل بل کی ادائیگی یا منتقلی پر معلوم اجرت لے سکتا ہے۔

    اصل صفحہ

  • ڈاکٹر کی غلطی پر مریض کو معاوضہ

    ڈاکٹر کی غلطی پر مریض کو معاوضہ کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ ڈاکٹر اپنی کوتاہی یا لاعلمی سے ہونے والے نقصان کا ضامن ہے، اور اگر اس نے پوری احتیاط کی اور ناگزیر پیچیدگیاں پیش آئیں تو ضامن نہیں۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ اصل یہ ہے کہ ڈاکٹر کی ہر وہ غلطی جو کوتاہی یا لاعلمی سے دوسرے کو نقصان پہنچائے، اس پر ضمان اور متاثرہ کو معاوضہ لازم کرتی ہے، اور قاعدہ ذکر کیا کہ براہِ راست کرنے والا ضامن ہے، اور المغنی میں ابن قدامہ کا قول نقل کیا کہ ماہر ڈاکٹر کا ہاتھ چوک جائے، جیسے کاٹنے کی جگہ سے آگے بڑھ جائے یا غلط جگہ کاٹ دے، تو وہ ضامن ہے۔ اس نے کہا کہ اگر ڈاکٹر نے لازمی کام مکمل طور پر کیا اور ہر احتیاط برتی، پھر ایسی پیچیدگیاں پیش آئیں جو ماہرین کے مطابق ناگزیر تھیں، تو وہ ضامن نہیں، اور روضۃ الطالبین میں نووی کا قول نقل کیا کہ حجام، ختنہ کرنے والا اور جانوروں کا معالج کوتاہی نہ کریں تو ضامن نہیں۔ اس نے معالم السنن میں خطابی کا قول نقل کیا کہ معالج زیادتی کرے اور مریض ہلاک ہو جائے تو اس کے ضامن ہونے میں انہیں کوئی اختلاف معلوم نہیں، اور جو ایسا علم یا کام کرے جسے وہ نہیں جانتا وہ زیادتی کرنے والا ہے جس پر دیت ہے قصاص نہیں، اور نتیجہ نکالا کہ اگر ڈاکٹر کی کوتاہی یا زیادتی ثابت ہو تو مریض کو معاوضہ دینا یا اس سے معافی مانگنا ضروری ہے۔

    اصل صفحہ

  • تیس روزے پورے کر کے ایسے ملک جانا جہاں لوگ ابھی روزے سے ہوں

    تیس روزے پورے کر کے ایسے ملک جانا جہاں لوگ ابھی روزے سے ہوں کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ وہ مہینے کے آخر کے روزے میں ان کے ساتھ موافقت کرے اور ان کے ساتھ لازماً رکا رہے، چاہے تیس روزے پورے کر چکا ہو، کیونکہ وہ انہی میں سے ہو گیا۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ جس نے اپنے ملک میں روزے مکمل کیے پھر دوسرے ملک گیا اور انہیں روزے سے پایا، وہ مہینے کے آخر کے روزے میں ان کے ساتھ موافقت کرے۔ اس نے کہا کہ وہ ان کے ساتھ لازماً کھانے پینے سے رکا رہے، چاہے تیس روزے پورے کر چکا ہو اور اس کے ملک میں عید ہو چکی ہو، کیونکہ وہ انہی میں سے ہو گیا۔

    اصل صفحہ

  • رمضان میں روزہ نہ رکھنے والے کے لیے کھانا بنانا

    رمضان میں روزہ نہ رکھنے والے کے لیے کھانا بنانا کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ بلا عذر روزہ نہ رکھنے والے کے لیے کھانا بنانا حرام ہے کیونکہ یہ گناہ میں مدد ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ رمضان میں بلا عذر روزہ نہ رکھنے والے کے لیے کھانا بنانا حرام ہے، کیونکہ اس میں گناہ پر مدد ہے، اور گناہ پر مدد خود گناہ ہے۔ اس نے گناہ اور زیادتی میں تعاون سے منع کرنے والی آیت سورۃ المائدہ 5:2 کا حوالہ دیا۔

    اصل صفحہ

  • نادار مقروض کی طرف سے ضامن کی ادائیگی کو زکوٰۃ شمار کرنا

    ایک نادار مقروض کے ضامن کا سوال جس کے خلاف عدالتی کارروائی ہے، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ ضامن ضمانت کی وجہ سے جو ادا کرے اسے زکوٰۃ شمار نہیں کیا جا سکتا، البتہ وہ مقروض کو مقروض یا فقیر ہونے کی حیثیت سے اپنی زکوٰۃ دے سکتا ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ جو کسی قرض کی ضمانت دے اس پر لازم ہے کہ مقروض کے عاجز آنے یا ادائیگی نہ کرنے پر ادا کرے، اور قرض خواہ مقروض یا ضامن میں سے جس سے چاہے مطالبہ کر سکتا ہے؛ اس نے یہ باجوری کے حاشیے سے نقل کیا۔ اس نے کہا کہ زکوٰۃ کے مصارف اللہ نے قرآن میں متعین کیے ہیں اور اس کی صحت کی شرائط ہیں، جن میں مستحق کو مالک بنانا، ادائیگی کے وقت نیت، جیسا کہ اس نے نووی کی منہاج الطالبین سے نقل کیا، اور اسے اپنے لیے یا فقر کے نام پر زیرِ کفالت افراد کے لیے نہ نکالنا شامل ہے، جیسا کہ اس نے خطیب شربینی کی الاقناع سے نقل کیا۔ اس نے کہا کہ اپنی ضمانت سے لازم ہونے والے قرض کی ادائیگی کے لیے زکوٰۃ نکالنا اسے اپنے لیے نکالنے کے مشابہ ہے، لہٰذا سائل نے ضمانت کی وجہ سے جو ادا کیا وہ زکوٰۃ شمار نہیں ہو سکتا کیونکہ نیت اور تملیک کی شرطیں پوری نہیں۔ اس نے مزید کہا کہ ضامن مقروض کو مقروض، فقیر یا مسکین کی حیثیت سے اپنی زکوٰۃ دے سکتا ہے، اور مقروض اس کا مالک بننے کے بعد چاہے تو اس سے اپنا قرض ادا کرے۔

    اصل صفحہ

  • سال پورا ہونے پر پیشگی ادا کی گئی زکات کا شمار

    اس سوال کے بارے میں کہ کیا پیشگی زکات کے طور پر دیا گیا مال سال پورا ہونے پر باقی مال کے ساتھ شمار ہوتا ہے، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ نصاب پورا ہونے کے بعد زکات پیشگی دی جا سکتی ہے، اور پیشگی ادائیگی ایسے سمجھی جاتی ہے گویا وہ ادا کرنے والے کی ملکیت میں باقی ہے، لہٰذا اس سے نصاب پورا ہوتا ہے اور وہ اس کے حساب میں شمار ہوتی ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ سال پورا ہونے سے پہلے اور مال کے نصاب کو پہنچنے کے بعد زکات پیشگی ادا کی جا سکتی ہے، خاص طور پر جب اس میں فقرا کا مفاد ہو؛ اس نے علی کی اس روایت پر انحصار کیا جسے ابو داود نے روایت کیا کہ نبی نے عباس کو اپنی زکات پیشگی دینے کی اجازت دی۔ اس نے نہایۃ المحتاج میں شمس الدین رملی کا قول نقل کیا کہ سالانہ مال میں سال شروع ہونے اور نصاب موجود ہونے کے بعد پیشگی ادائیگی جائز ہے، اور یہ اسی صورت میں معتبر ہے کہ مالک آخر سال تک وجوب کا اہل رہے، مال بھی باقی رہے، اور لینے والا اس وقت مستحق ہو۔ اس نے کہا کہ سال پورا ہونے سے پہلے پیشگی دیا گیا مال ایسے ہے گویا ادا کرنے والے کی ملکیت میں باقی ہے، لہٰذا اگر سال کے آخر میں مال نصاب سے کم ہو مگر پیشگی رقم ملانے سے نصاب پورا ہو جائے تو دونوں کو ملانا واجب ہے؛ اس نے المجموع میں نووی کا قول نقل کیا کہ پیشگی ادائیگی نصاب پورا کرنے اور زکات میں شمار ہونے دونوں میں ادا کرنے والے کے مال کے ساتھ ملائی جاتی ہے۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ پیشگی ادا کیا گیا مال ادا کرنے والے کی ملکیت میں باقی سمجھا جاتا ہے، اس سے نصاب پورا ہوتا ہے اور جو اس نے دیا وہ اس کے حساب میں شمار ہوتا ہے۔

    اصل صفحہ

  • عدالتی نیلامی اور تاجروں کی قیمت پر ملی بھگت

    عدالتی نیلامی اور تاجروں اور خریداری کے خواہش مندوں کی کسی خاص قیمت پر ملی بھگت کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ نیلامی کی بیع جائز ہے، اور قاضی مقروض کا مال اس کے قرض خواہوں کی ادائیگی کے لیے بیچ سکتا ہے بشرطیکہ بیع مالک کے لیے سب سے مفید قیمت پر ہو اور قیمت پر ملی بھگت سے پاک ہو۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ نیلامی کی بیع جائز ہے، اور انس بن مالک کی اس حدیث سے استدلال کیا جسے ابو داود نے روایت کیا، جس میں نبی نے ایک انصاری کا سامان پیش کر کے پوچھا کہ ایک درہم سے زیادہ کون دے گا۔ اس نے کہا کہ قاضی مقروض یا دیوالیہ کا مال اس کے قرض خواہوں کی ادائیگی کے لیے بیچ سکتا ہے، بشرطیکہ بیع مالک کے لیے سب سے مفید اور فائدہ مند ہو اور تاجروں اور خریداروں کی کسی مقررہ قیمت پر ملی بھگت سے خالی ہو۔ اس نے مغنی المحتاج میں خطیب شربینی کا قول نقل کیا کہ تہمت دور کرنے کے لیے دیوالیہ اور اس کے قرض خواہوں کی موجودگی میں، اور سامان کے اپنے بازار میں بیچنا مستحب ہے، جائیداد کی فروخت کی تشہیر کی جائے، اور بیع بازار کی قیمت یا اس سے زیادہ پر لازم ہے، کیونکہ دوسرے کی طرف سے تصرف میں اس کی مصلحت کا لحاظ واجب ہے۔ اس نے کہا کہ آج عدالتوں میں جو ہوتا ہے اس کا جائزہ فریقین کی مصلحت کے لیے قاضی پر چھوڑا جاتا ہے، اور نتیجہ نکالا کہ کھلی نیلامی میں حرج نہیں بشرطیکہ وہ مالک کے لیے سب سے مفید اور فائدہ مند قیمت پر ہو۔

    اصل صفحہ

  • عدالت کی طرف سے دیا گیا قانونی سود

    عدالت کی طرف سے دیا گیا قانونی سود کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ مقدمے کے حقیقی اخراجات اس سے منہا کیے جا سکتے ہیں، اور باقی جس پر عائد ہوا اسے لوٹایا جائے، یا اگر وہ سرکاری ادارہ ہو تو عوامی مفاد یا فقرا پر خرچ کیا جائے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ جس کے حق میں قاضی نے قانونی سود کا فیصلہ دیا ہو وہ اس سے مقدمہ دائر کرنے کے حقیقی اخراجات منہا کر سکتا ہے۔ اس نے کہا کہ اس سے زائد رقم، اگر کسی معین شخص پر عائد ہوئی ہو تو اسے لوٹائی جائے، اور اگر سرکاری ادارہ ہو تو مسلمانوں کے عمومی مفادات جیسے اسکولوں، مساجد اور سڑکوں پر خرچ کی جائے، یا فقرا اور مساکین پر صدقہ کی جائے۔

    اصل صفحہ

  • مقررہ مدت کا معاہدہ چھوڑنے والے ملازم کے لیے عدالتی معاوضہ

    مقررہ مدت کا معاہدہ چھوڑنے والے ملازم کے لیے عدالتی معاوضہ کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ ملازم لیبر قانون کے دیے ہوئے حقوق کا مطالبہ کر سکتا ہے اور جج کا دیا ہوا معاوضہ لے سکتا ہے، سوائے قانونی سود کے، بشرطیکہ اس کے دعوے میں جھوٹ یا جعل سازی نہ ہو۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ اصل یہ ہے کہ عقد فریقین کا قانون ہے، اس لیے اس کی شرائط کا احترام واجب ہے، اور سورۃ المائدہ 5:1 اور اس حدیث کا حوالہ دیا جسے بخاری نے جزم کے صیغے سے معلقاً ذکر کیا، جس کا مفہوم ہے کہ مسلمان اپنی شرطوں کے پابند ہیں۔ اس نے کہا کہ ملازم ناجائز برطرفی پر لیبر قانون کا مقرر کردہ معاوضہ مانگ سکتا ہے، کیونکہ قانون مزدور اور آجر دونوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے ہے، حاکم کے اقدامات مصلحت سے وابستہ ہیں، اور قانون عرفِ عام کی حیثیت رکھتا ہے؛ جو عرف میں معروف ہو وہ شرط کی طرح ہے، اس لیے اس کی شقیں ملک کے ہر ملازمتی معاہدے میں خود بخود شامل ہیں۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ وہ قانون کے مطابق جج کا دیا ہوا معاوضہ لے سکتا ہے بشرطیکہ جھوٹ یا جعل سازی نہ ہو، سوائے قانونی سود کے؛ اور تقویٰ یہ ہے کہ اگر وہ معاوضے کو اپنے نقصان سے زیادہ سمجھے تو نقصان کے برابر لے اور باقی چھوڑ دے۔

    اصل صفحہ

  • طبی دوا کی تیاری میں گائے کا خون استعمال کرنا

    طبی دوا کی تیاری میں گائے کا خون استعمال کرنے کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ خون نجس ہے اور جن دواؤں میں خون شامل ہو ان کا استعمال حرام ہے، الا یہ کہ کوئی پاک دوا ان کی جگہ نہ لے سکے اور ان کی افادیت ثابت ہو، تب ضرورت کی وجہ سے جائز ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ خون نجاسات میں سے ہے، اور نووی کی شرح صحیح مسلم سے اس کی نجاست پر اجماع نقل کیا۔ اس نے کہا کہ شافعیہ نے خون، پیشاب اور مردار کے گوشت جیسی نجس چیزوں سے علاج کو اس وقت جائز رکھا ہے جب مقصد پورا کرنے والی پاک دوا نہ ملے؛ اس نے شروانی کے تحفۃ المحتاج پر حاشیے سے نقل کیا۔ اس نے ذکر کیا کہ اردنی افتاء کونسل نے 2009 کے فیصلہ نمبر 128 میں طے کیا کہ سور کے اجزا یا نجس جانوروں سے بنا جیلاٹن ادویات، غذائی سپلیمنٹس یا ان کے کیپسول میں استعمال کرنا جائز نہیں، کیونکہ حلال جانوروں یا نباتات سے متبادل موجود ہیں، سوائے ضرورت کے اور متبادل نہ ہونے کی صورت میں۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ جن طبی مواد اور دواؤں کی تیاری میں کچھ بھی خون شامل ہو وہ نجس ہیں اور ان کا استعمال حرام ہے، الا یہ کہ کوئی پاک دوا ان کی جگہ نہ لے سکے اور علاج میں ان کی افادیت ثابت ہو، تب ضرورت کی وجہ سے ان کا استعمال جائز ہے۔

    اصل صفحہ

  • جہاں مسلم تدفین پر اعتراض ہو وہاں میت کو جلانا

    جہاں مسلم تدفین پر اعتراض ہو وہاں میت کو جلانا کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ میت کی لاش جلانا حرام ہے کیونکہ اس میں میت کی تذلیل اور اس کی کرامت کی پامالی ہے، اور شریعت کے مطابق تدفین کا طریقہ تلاش کرنا واجب ہے چاہے لاش کو کسی دوسرے علاقے میں منتقل کرنا پڑے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ اسلام نے انسان کو زندگی اور موت دونوں میں عزت دی ہے، جس میں میت کو غسل دینا، کفن دینا، نمازِ جنازہ اور تدفین شامل ہیں، اور سورۃ الاسراء 17:70 اور ابو داود کی سنن میں روایت کردہ حدیث کا حوالہ دیا جس کا مفہوم ہے کہ میت کی ہڈی توڑنا زندہ کی ہڈی توڑنے کی طرح ہے۔ اس نے کہا کہ لاش جلانا حرام ہے کیونکہ اس میں میت کو اذیت، اس کی توہین و تذلیل اور جسم کے نقوش کا مٹ جانا ہے، اور بتایا کہ فقہا نے ایسے طریقے سے قصاص کو منع کیا جو لاش کو بگاڑ دے، اور نہایۃ المطلب (16/147) میں جوینی سے نقل کیا کہ بعض شافعیوں نے لاش کی حفاظت کے لیے زہر سے قصاص کو منع کیا کیونکہ میت کا جسم محترم ہے۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ شریعت کے مطابق میت کی تدفین کا طریقہ تلاش کرنا واجب ہے، چاہے اس کے لیے لاش کو کسی ایسے علاقے میں منتقل کرنا پڑے جہاں تدفین ممکن ہو۔

    اصل صفحہ

  • شادی شدہ بیٹی جس نے ماں کی مالی مدد کم کر دی

    ایک شادی شدہ بیٹی کے بارے میں سوال جس نے اپنی بیوہ ماں کو دی جانے والی رقم کم کر دی تو ماں نے اس سے قطع تعلق کر لیا، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ عذر کی بنا پر مدد کم کرنا نافرمانی نہیں، تنگ دست ماں کا نفقہ تمام اولاد پر ہے، اور ماں کے لیے بیٹی سے قطع تعلق جائز نہیں۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ اسلام والدین سے حسنِ سلوک، محنت اور مال سے ان کی مدد اور ان کے ساتھ ادب کی تلقین کرتا ہے، خصوصاً بڑھاپے میں۔ اس نے کہا کہ تنگ دست ماں کا نفقہ اس کی ضرورت کے مطابق بیٹوں اور بیٹیوں میں تقسیم ہوتا ہے، اور اردن کے پرسنل اسٹیٹس قانون کی دفعہ 197 کا حوالہ دیا جو صاحبِ حیثیت اولاد پر غریب والدین کا نفقہ لازم کرتی ہے، لہٰذا سب کے قادر ہونے کی صورت میں بوجھ صرف بعض پر نہیں ڈالا جا سکتا۔ اگر ماں کی ضروریات پوری ہوں تو وہ بیٹی پر ضرورت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈال سکتی، اور کسی بھی حال میں بیٹی سے قطع تعلق یا اپنے بچوں کو اس کا حکم دینا جائز نہیں کیونکہ یہ قطع رحمی کا حکم ہے؛ اس نے ابن حجر الہیتمی کی الزواجر سے حرام قطع رحمی کا ضابطہ نقل کیا۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ بیٹی ماں سے حسنِ سلوک اور اطاعت جاری رکھے، اور مذکورہ صورت میں مدد کم کرنا نافرمانی نہیں اگر آمدنی ناکافی ہونے کی وجہ سے وہ معذور ہو۔

    اصل صفحہ

  • میراث کی تقسیم میں تاخیر اور وراثتی فلیٹوں کا کرایہ

    ایسے ترکے کی تقسیم میں تاخیر کے بارے میں سوال جس میں جائیداد اور فلیٹ ہیں، جبکہ کچھ بھائیوں کو اپنے حصوں کی ضرورت ہے اور والدہ تمام کرایہ لیتی ہیں، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ ترکہ جتنی جلد ممکن ہو تقسیم کیا جائے، اپنا حصہ مانگنے والے کسی وارث کو روکا نہیں جا سکتا، اور ورثا کے حقوق میں کوتاہی کیے بغیر والدہ کے لیے باعزت آمدنی کا انتظام نیکی ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ اصل یہ ہے کہ وفات کے بعد جتنی جلد ممکن ہو ترکہ تقسیم کیا جائے تاکہ اختلاف اور حقوق کے ضیاع سے بچا جائے؛ اگر ورثا جائیداد کو اسی حالت میں رکھنے پر متفق ہوں اور ہر ایک اپنے حصے کے مطابق اس میں شریک ہو تو جائز ہے، لیکن جب کوئی وارث اپنا حصہ مانگے تو کسی کے لیے تقسیم سے انکار جائز نہیں۔ اس نے کہا کہ انسان کی ہر ملکیت اس کی وفات کے بعد تمام ورثا کی ملکیت بن جاتی ہے، ہر وارث کرائے پر دی گئی جائیداد اور فلیٹوں کے کرائے میں اپنے حق کا مطالبہ کر سکتا ہے، اور یہ مطالبہ والدین کی نافرمانی شمار نہیں ہوتا۔ اس نے فریقوں کو بات چیت سے معاملہ حل کرنے کا مشورہ دیا، اور کہا کہ اگر یہ ممکن نہ ہو تو وارث معاملہ عدالت میں لے جا سکتا ہے۔ اس نے کہا کہ یہ نیکی ہے کہ ورثا اپنی والدہ کے لیے باعزت زندگی کی آمدنی کا ذریعہ فراہم کریں، اعتدال اور توازن کے ساتھ اور دوسروں کے حقوق میں کوتاہی کیے بغیر، اور یہ کہ غریب والدین کا نفقہ خوشحال اولاد پر ہے؛ اس نے اردن کے قانون احوال شخصیہ نمبر 15 سال 2019 کی دفعہ 197 کا حوالہ دیا۔

    اصل صفحہ

  • جائز سامان کے ساتھ ملے ہوئے حرام سامان کی ڈیلیوری

    خریدار تک جائز سامان کے ساتھ ملا ہوا حرام سامان پہنچانے کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ اگر کارکن کو اس کی موجودگی کا علم ہو تو یہ حرام ہے، علم نہ ہو تو حرج نہیں، اور اس پر آرڈر کے مواد کی تلاشی لازم نہیں۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ اسلام نے ہر وہ کام حرام کیا ہے جو حرام میں مدد دے، اور حرام سامان پہنچانا حرام مدد ہے؛ اس نے اسنی المطالب میں زکریا انصاری کا قول نقل کیا کہ اس شخص کو انگور بیچنا حرام ہے جس کے بارے میں معلوم یا گمان ہو کہ وہ اس سے شراب بنائے گا، اور ہر وہ تصرف جو گناہ تک لے جائے۔ اس نے کہا کہ عمومی طور پر ڈیلیوری کا کام کرنے میں حرج نہیں اگر کارکن کو آرڈر کے مواد کا علم نہ ہو، اور اس پر تلاشی یا پوچھ گچھ لازم نہیں؛ لیکن اگر اسے یقین ہو کہ آرڈر خنزیر کا گوشت، شراب یا اس جیسی حرام چیز ہے تو وہ اسے نہیں پہنچا سکتا اور اسے معذرت کر لینی چاہیے۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ حرام سامان پہنچانا، چاہے جائز سامان کے ساتھ ملا ہو، حرام ہے اگر کارکن کو اس کی موجودگی کا علم ہو، اور علم نہ ہو تو حرج نہیں۔

    اصل صفحہ

  • حصص کی ٹریڈنگ کمپنیوں میں غیر فعال اکاؤنٹ کی فیس

    حصص کے ایک بروکر کے بارے میں سوال جس کا معاہدہ ہر اس اکاؤنٹ پر سو ڈالر فیس لیتا ہے جس میں مسلسل گیارہ ماہ کوئی لین دین نہ ہو، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ یہ شرط حرام ہے کیونکہ یہ لوگوں کا مال ناحق کھانا ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے واضح کیا کہ حصص کا سرمایہ کار منافع کے لیے خرید و فروخت کرتا ہے اور بروکر ہر خرید و فروخت پر کمیشن لیتا ہے، اور سرمایہ کار منافع کے لیے برسوں حصص رکھ سکتا ہے یا اپنے سرمائے کی حفاظت کے لیے قیمت بڑھنے تک ٹریڈنگ روک سکتا ہے، جس سے اکاؤنٹ غیر فعال ہو جاتا ہے۔ اس نے کہا کہ غیر فعال اکاؤنٹ پر بروکر کی فیس لوگوں کا مال ناحق کھانا ہے، کیونکہ اکاؤنٹ روکنے سے اس پر کوئی محنت یا مالی بوجھ نہیں پڑتا؛ وہ صرف اپنا کمیشن کھوتا ہے اور فیس سے اس کی تلافی کرتا ہے۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ کمپنی کے لیے یہ شرط لگانا حرام ہے۔

    اصل صفحہ

  • آن لائن تجارت میں ڈراپ شپنگ

    آن لائن تجارت میں ڈراپ شپنگ کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ ڈراپ شپنگ کا حکم اس کی صورت پر موقوف ہے: پیشگی وکالت، لنک پر کمیشن، اور پیشگی قیمت کے ساتھ بیعِ سلم جائز ہیں، جبکہ مال کی ملکیت اور قبضے سے پہلے اسے بیچنا ممنوع ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ ڈراپ شپنگ عملاً تین فریقوں کے درمیان بیع ہے: ویب سائٹ یا آن لائن اسٹور کا مالک، گاہک، اور مال کا مالک تاجر یا کارخانہ؛ یہ اصطلاح کئی مختلف صورتوں پر بولی جاتی ہے جن کے احکام مختلف ہیں۔ پہلی صورت میں سائٹ کا مالک سپلائر سے مخصوص سامان بیچنے کی پیشگی وکالت فیصد یا مقررہ رقم کے عوض لیتا ہے اور سپلائر براہِ راست گاہک کو بھیجتا ہے: یہ جائز وکالت ہے۔ دوسری میں وہ تاجر کے سامان کا لنک دکھاتا ہے اور ہر خریداری پر کمیشن لیتا ہے: یہ جائز کمیشن یا دلالی ہے۔ تیسری میں وہ بغیر وکالت یا پیشگی معاہدے کے سامان دکھا کر ملکیت اور قبضے سے پہلے گاہک کو بیچ دیتا ہے، پھر سپلائر سے خرید کر گاہک کو بھجواتا ہے: یہ ایسی چیز کی بیع ہے جو ملکیت میں نہیں، جو ممنوع ہے۔ چوتھی میں وہ متعین اوصاف والا سامان پیش کرتا ہے جو وہ فراہم کر سکتا ہے، قیمت پیشگی لیتا ہے اور طے شدہ مدت میں فراہم کرتا ہے، اور سپلائر سے گاہک کے پتے پر بھجواتا ہے: یہ جائز بیعِ سلم ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے تنبیہ کی کہ اس اصطلاح کے تحت دوسری صورتیں بھی آ سکتی ہیں، جن میں سے ہر ایک کا حکم جاننے کے لیے مطالعہ درکار ہے۔

    اصل صفحہ

  • مسجد کی لائبریری سے مکرر کتابیں نکالنا

    مسجد کی لائبریری سے زائد مکرر نسخے دوسری لائبریریوں کو منتقل کرنے کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ حکم اس پر منحصر ہے کہ کتاب لائبریری تک کیسے پہنچی، اور فیصلہ وزارتِ اوقاف کا ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ جو چیز کسی خاص مسجد پر وقف ہو اصلاً وہیں رہے اور شرعی وجہ کے بغیر منتقل یا فروخت نہ ہو؛ اگر وہ بوسیدہ ہو جائے، یا اس کا متبادل آ جائے اور مسجد میں اس سے فائدہ ممکن نہ رہے، تو وقف کا مقصد پورا کرنے کے لیے اسے دوسری مسجد منتقل کیا جا سکتا ہے؛ اس نے نووی کی روضۃ الطالبین اور اعانۃ الطالبین سے نقل کیا۔ جو عطیات سے خریدا گیا اور ناظر نے وقف نہیں کیا، یا مصنفین نے وقف کی صراحت کے بغیر دیا، اسے ضرورت کے وقت بیچا جا سکتا ہے اور رقم لائبریری کے مصالح پر خرچ ہو، کیونکہ وہ مسجد کی ملکیت ہے، جیسا کہ اس نے نووی سے نقل کیا۔ جو کسی نے نمازیوں کے فائدے کے لیے وقف یا تحفے کی نیت کے بغیر مسجد میں رکھا وہ عاریت ہے اور اپنے مالک کی ملکیت میں رہتا ہے۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ ان مسائل میں فیصلہ 2001 کے اوقاف قانون نمبر 32 کے تحت وقف کی متولی وزارتِ اوقاف و شؤون و مقدساتِ اسلامیہ کا ہے۔

    اصل صفحہ

  • قسم کے کفارے کے روزے میں بھول کر کھا پی لینا

    قسم کے کفارے کے روزے میں بھول کر کھا پی لینا کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ جو بھول کر کھا پی لے اس کا روزہ نہیں ٹوٹتا اور وہ روزہ جاری رکھے، روزہ کسی بھی قسم کا ہو۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ جو بھول کر کھائے یا پیے اسے اللہ ہی نے کھلایا پلایا، اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا بلکہ وہ روزہ جاری رکھے۔ اس نے کہا کہ یہ حکم عام ہے، روزہ فرض ہو، قضا ہو، کفارہ ہو یا نفل۔

    اصل صفحہ

  • ہیمسٹر کھانے کا حکم

    ہیمسٹر کھانے کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ یہ حرام ہے کیونکہ ہیمسٹر چوہوں کے خاندان سے ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے ہیمسٹر کو ایک چھوٹا کترنے والا جانور قرار دیا جو یورپ اور شمالی امریکہ میں بکثرت پالا جاتا ہے، چوہوں کے خاندان میں شمار ہوتا ہے اور اپنے چوڑے گالوں سے پہچانا جاتا ہے جن میں وہ خوراک جمع کرتا ہے۔ اس نے کہا کہ پہلے فقہاء نے اسے کھانے کے بارے میں کچھ نہیں کہا کیونکہ یہ انیسویں صدی عیسوی میں دریافت ہوا۔ چونکہ یہ چوہوں کے خاندان سے ہے اس لیے اس پر چوہے کا حکم لاگو ہوتا ہے، اور چوہا کھانا حرام ہے؛ اس نے جلال الدین المحلی سے نقل کیا کہ جن جانوروں کو مارنے کی شریعت نے ترغیب دی، جیسے چوہا، ان کا کھانا حرام ہے۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ ہیمسٹر کھانا حرام ہے۔

    اصل صفحہ

  • کار لیز کی مدت سے پہلے فسخ

    کار لیز کی مدت سے پہلے فسخ کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ اجارہ لازم عقد ہے جسے کوئی ایک فریق اکیلے ختم نہیں کر سکتا؛ اگر کرایہ پر دینے والا فسخ پر راضی ہو تو استعمال شدہ مدت کا طے شدہ کرایہ لے گا اور بازاری کرایے کی طرف رجوع نہیں کر سکتا، یا وہ کرایہ دار کو پوری مدت کا پابند رکھ سکتا ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ اصلاً اجارہ لازم ہے اور ایک فریق کے ارادے سے ختم نہیں ہوتا؛ اگر دونوں مدت ختم ہونے سے پہلے فسخ پر متفق ہوں تو جائز ہے اور گزری ہوئی استعمال کی مدت کا کرایہ پختہ ہو جاتا ہے، کیونکہ کرایہ صرف استعمال سے پختہ ہوتا ہے۔ اس نے منہاج الطالبین (ص 163) میں نووی سے نقل کیا کہ جب کرایہ دار جانور یا گھر پر قبضہ کر کے مدت گزرنے تک رکھے تو کرایہ پختہ ہو جاتا ہے۔ اس نے کہا کہ جب طے شدہ کرایہ مہینوں پر تقسیم ہو، جیسے تین سال کے لیے ہر مہینے ایک مقررہ رقم، تو گزری مدت کا طے شدہ کرایہ پختہ ہو جاتا ہے اور بازاری کرایہ نہیں دیکھا جاتا، اور عقد کی شرائط پر عمل کرتے ہوئے یہ بات تحفۃ المحتاج پر شروانی کے حواشی (6/187) سے نقل کی۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ کرایہ دار مالک کی رضا کے بغیر اجارہ ختم نہیں کر سکتا؛ اگر مالک راضی ہو تو معاہدے کے مطابق استعمال شدہ مدت کا طے شدہ کرایہ لے گا، اور بازاری کرایے کی طرف رجوع نہیں کر سکتا کیونکہ فسخ باہمی رضامندی سے ہوا؛ یا اس کے بجائے وہ کرایہ دار کو معاہدے کی پوری مدت کا پابند رکھ سکتا ہے۔

    اصل صفحہ

  • رمضان کے دن میں اینڈوسکوپی

    رمضان کے دن میں اینڈوسکوپی کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ کسی بھی راستے سے اینڈوسکوپی روزہ فاسد کر دیتی ہے اور مریض کو اس دن کی قضا کرنی ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ رمضان کے دن میں اینڈوسکوپی، چاہے منہ، ناک، اگلی یا پچھلی شرمگاہ کے راستے ہو، روزہ فاسد کر دیتی ہے۔ اس نے کہا کہ جس کی اینڈوسکوپی ہو وہ رمضان کے بعد اس دن کی قضا کرے۔

    اصل صفحہ

  • روزے میں انیما اور سپوزیٹری کا استعمال

    روزے میں انیما اور سپوزیٹری کا استعمال کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ دونوں راستوں میں سے کسی میں انیما یا سپوزیٹری روزہ توڑ دیتی ہے، اور جسے ضرورت ہو وہ استعمال کرے، رکا رہے اور قضا کرے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ دونوں راستوں میں سے کسی میں انیما یا سپوزیٹری روزہ توڑنے والی چیزوں میں سے ہے۔ اس نے ابن عباس کے ایک اثر پر انحصار کیا جسے بیہقی نے السنن الکبریٰ میں روایت کیا کہ روزہ اس چیز سے ٹوٹتا ہے جو اندر جائے نہ کہ جو باہر نکلے، اور کہا کہ اس کے عموم سے معلوم ہوتا ہے کہ اندر جانے والی چیز روزہ توڑتی ہے چاہے کھانے کی ہو یا نہ ہو۔ اس نے کہا کہ انہیں فجر سے پہلے یا افطار کے بعد استعمال کرنا چاہیے؛ اگر دن میں ضرورت ہو تو استعمال کرے، کھانے پینے سے رکا رہے اور اس دن کی قضا کرے۔

    اصل صفحہ

  • گاڑیوں کی نیلامی میں داخلے کی فیس

    گاڑی کی ایسی نیلامی سے خریداری کے بارے میں سوال جس میں قابل واپسی زر ضمانت، اس کی واپسی پر فیس اور منتظم کمپنی کی فیس شرط ہے، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ نیلامی کی بیع اپنی حدود کے ساتھ جائز ہے، داخلہ فیس اصل لاگت کی حد تک جائز ہے، اور ثالث کمپنی کی فیس جائز ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ فقہا نے نیلامی کی بیع کو جائز رکھا ہے بشرطیکہ نجش سے بچا جائے، یعنی خریدنے کا ارادہ نہ رکھنے والا دوسروں کو پھنسانے کے لیے بولی بڑھائے، اور تدلیس سے، یعنی ایسا دھوکا جو انسان کو غلطی میں ڈال کر معاہدے پر آمادہ کرے۔ اس نے کہا کہ نیلامی میں داخلہ فیس میں حرج نہیں اگر وہ اصل لاگت تک محدود ہو، کیونکہ یہ انتظامی خرچ ہے؛ اس نے بین الاقوامی اسلامی فقہ اکیڈمی کے فیصلہ نمبر 73 کا حوالہ دیا جس میں شرائط نامے کی اصل قیمت سے زیادہ نہ ہونے والی داخلہ فیس کو جائز کہا گیا ہے۔ اس نے کہا کہ بیچنے والا اصل لاگت سے زیادہ جو فیس لے وہ لوگوں کا مال ناحق کھانا ہے، جبکہ نیلامی منظم کرنے والی ثالث کمپنیوں کی فیس اصل لاگت کا حصہ ہے اور ثالث کی اجرت کے طور پر اس میں حرج نہیں۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ اگر نیلامی کی فیس بیچنے والے کی بجائے ثالث کمپنی لے تو یہ جائز ہے، بشرطیکہ نجش اور تدلیس سے بچا جائے۔

    اصل صفحہ

  • منسوخ شدہ کرنسی کا تبادلہ

    اس سوال کے بارے میں کہ کیا منسوخ شدہ کرنسی پر فوری قبضے اور برابری میں رائج کرنسی کے احکام لاگو ہوتے ہیں، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ کرنسی منسوخ ہونے پر اس کی ثمنیت ختم ہو جاتی ہے اور وہ سامان بن جاتی ہے، لہٰذا اسے رائج کرنسی کے بدلے کمی بیشی کے ساتھ بیچا جا سکتا ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ سونے چاندی کے علاوہ کاغذی کرنسیاں بذات خود ثمن نہیں بلکہ اس لیے ثمن ہیں کہ وہ لازمی قوت خرید کی نمائندگی کرتی ہیں، لہٰذا جب تک رائج ہوں ان پر سود، زکات وغیرہ میں سونے چاندی کے احکام لاگو ہوتے ہیں؛ جب ان سے لین دین ختم ہو جائے تو ان کی ثمنیت ختم ہو جاتی ہے اور وہ عام سامان بن جاتی ہیں۔ اس نے نہایۃ المطلب میں امام الحرمین الجوینی کا قول نقل کیا کہ جب تانبے کے سکے چلن سے نکل جائیں اور حاکم کا منادی ان سے لین دین سے منع کر دے تو وہ بلا اختلاف سامان بن جاتے ہیں۔ اس نے کہا کہ منسوخ کرنسی پھر ایسے سامان کی طرح ہے جس پر صرف کے احکام لاگو نہیں ہوتے، لہٰذا اسے رائج کرنسی کے بدلے کمی بیشی کے ساتھ، فریقین کے اتفاق کے مطابق، بیچا جا سکتا ہے۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ منسوخ کرنسی دوسرے سامان کی طرح ایک جنس ہے، جس پر سود، زکات اور صرف کے احکام لاگو نہیں ہوتے۔

    اصل صفحہ

  • صحت بیمہ پر ملنے والی زائد دواؤں کا تبادلہ

    ایک ملازم کا سوال جس کے پاس صحت بیمہ پر ملی ہوئی دوا بچ جاتی ہے، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ دوا جاری کرنے کی ہدایات کی پابندی اور نسخہ نہ بدلنا اصل ہے، لیکن اگر دوا قانونی طور پر حقیقی بیماری کے لیے بغیر حیلے کے جاری ہوئی ہو تو قبضے کے بعد اسے بیچنا، ہبہ کرنا یا بدلنا جائز ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ صحت بیمہ مستفید اور بیمہ انتظامیہ کے درمیان ایک معاہدہ ہے جس کے ذریعے اسے اور معاہدے میں مذکور افراد کو علاج کی سہولت ملتی ہے، اور دواؤں کی فراہمی کی ہدایات کی پابندی لازم ہے۔ اس نے کہا کہ اصل یہ ہے کہ دوا صرف مستفید کو ڈاکٹر کے نسخے کے مطابق دی جائے، اور وہ نسخہ نہیں بدل سکتا اگرچہ اسے دوا کی ضرورت نہ ہو۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ اگر علاج قانونی طور پر اور معالج کے نسخے کے مطابق بغیر حیلے کے جاری ہوا، اور بیماری کو واقعی اس کی ضرورت تھی، تو قبضے کے بعد اسے بیچنے، ہبہ کرنے یا بدلنے میں حرج نہیں، کیونکہ بیمہ معاہدے کی شرائط کے مطابق جاری ہونے کے بعد اس کی ملکیت مستفید کی ہو جاتی ہے۔

    اصل صفحہ

  • مسجد میں جماعت چھوڑنے کی اجازت دینے والے اعذار

    مسجد میں جماعت چھوڑنے کی اجازت دینے والے اعذار کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ جماعت چھوڑنے کی اجازت عمومی اعذار، جیسے مشقت والی بارش، رات کی تیز ہوا، کیچڑ اور شدید گرمی یا سردی، اور ذاتی اعذار، جیسے بیماری، بھوک اور خوف، کی وجہ سے ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ مسجد میں جماعت چھوڑنے کی اجازت عمومی اعذار کی وجہ سے ہے، جیسے ایسی بارش جس میں نکلنا مشقت ہو، رات کی تیز ہوا، ایسا گہرا کیچڑ جس سے آلودگی کا اندیشہ ہو، گرم ہوا، اور شدید گرمی یا سردی۔ اس نے ذاتی اعذار بھی ذکر کیے، جیسے ایسی بیماری جس میں چلنا بارش میں چلنے جیسا مشکل ہو، شدید اونگھ، ظاہری بھوک اور پیاس، پیشاب، پاخانہ یا ریح کا زور، اور اپنی جان، کسی عضو یا اس کی منفعت، مال یا عزت پر خوف، وغیرہ۔

    اصل صفحہ

  • روزے سے عاجز شخص کے لیے قتل خطا کا کفارہ

    ایسے شخص کے بارے میں سوال جس سے غیر ارادی طور پر کسی کی موت واقع ہوئی اور وہ سخت مشقت والے کام کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکتا، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے شافعیہ کا معتمد قول بیان کیا کہ روزہ اس کے ذمے باقی رہتا ہے، اور مقابل قول کہ وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے، اور نتیجہ نکالا کہ اس قول کی تقلید میں کھانا کھلانے میں حرج نہیں۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ شافعی مذہب کا معتمد قول، جو جمہور کا قول ہے، یہ ہے کہ قتل کے کفارے میں روزے سے عاجز شخص کھانا کھلانے کی طرف منتقل نہیں ہوتا بلکہ روزہ اس کے ذمے باقی رہتا ہے؛ اگر وہ مر جائے تو اس کے ورثا اس کی طرف سے روزہ رکھنے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے میں اختیار رکھتے ہیں، نص کے ظاہر پر رکتے ہوئے۔ اس نے مغنی المحتاج میں خطیب شربینی کا قول نقل کیا کہ کفارات میں نص کی پیروی ہوتی ہے، قیاس کی نہیں، اور اللہ نے قتل کے کفارے میں غلام آزاد کرنے اور روزے کے سوا کچھ ذکر نہیں کیا۔ اس نے کہا کہ مشقت، یا ایسی بیماری جو روزے کو انتہائی دشوار بنا دے، قدرت حاصل ہونے تک روزے کی تاخیر کو جائز کرتی ہے، اور المجموع میں نووی کا قول نقل کیا کہ جو کفارہ زیادتی کے بغیر ہو، جیسے قتل خطا کا کفارہ، وہ بلا اختلاف تاخیر کے ساتھ ادا ہو سکتا ہے۔ اس نے شافعیہ کا دوسرا قول، جیسا کہ شیرازی نے نقل کیا، اور حنابلہ کا دوسرا قول، جیسا کہ ابن قدامہ نے المغنی میں نقل کیا، بیان کیا کہ عاجز شخص ظہار اور رمضان کے دن میں جماع کے کفارے پر قیاس کرتے ہوئے ساٹھ مسکینوں کو، ہر ایک کو ایک مد، کھانا کھلائے۔ اس نے کہا کہ فتویٰ کے لیے یہ قول اختیار کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ گناہ کی پردہ پوشی اور کوتاہی کی تلافی میں کفارے کا مقصد پورا کرتا ہے، اور نتیجہ نکالا کہ روزے سے عاجز شخص پر، شافعیہ کے معتمد کے مقابل قول اور حنابلہ کے دوسرے قول کی تقلید میں، ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے میں حرج نہیں۔

    اصل صفحہ

  • روزے دار کے لیے آنکھ کے قطرے

    روزے دار کے لیے آنکھ کے قطروں کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ یہ روزہ نہیں توڑتے، چاہے روزے دار کو حلق میں ان کا ذائقہ محسوس ہو۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ آنکھ کے قطرے روزہ نہیں توڑتے، چاہے روزے دار کو حلق میں ان کا ذائقہ محسوس ہو۔ اس نے وجہ یہ بتائی کہ آنکھ جسم کے اندرونی حصے (جوف) تک کھلا راستہ نہیں۔

    اصل صفحہ

  • تاخیر کے جرمانے کی شرط کے ساتھ فیس بک کے سپانسرڈ اشتہارات

    تاخیر سے ادائیگی پر جرمانے کی موجودگی میں فیس بک کے سپانسرڈ اشتہارات کے ذریعے تشہیر کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ یہ صرف پیشگی ادائیگی کے طریقے سے جائز ہیں، خودکار بلنگ سے نہیں۔ ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ اس نے فیس بک کے اشتہارات کی اقسام کا جائزہ لیا تو مفت اور سپانسرڈ اشتہارات پائے، اور سپانسرڈ کے دو طریقے ہیں: خودکار بلنگ اور پیشگی ادا شدہ رقم۔ اس نے سیلف سروس سپانسرڈ اشتہارات کی شرائط میں ایک شق پائی کہ واجب الادا متاخر رقم پر ماہانہ 1 فیصد یا قانوناً زیادہ سے زیادہ جائز شرح، جو بھی کم ہو، سود لگے گا، اور وصولی کے اخراجات بھی۔ اس نے کہا کہ قرض کی ادائیگی میں تاخیر پر جرمانے کی شرط اصولاً سود ہونے کی وجہ سے حرام ہے، اور بین الاقوامی اسلامی فقہ اکیڈمی کے بارہویں اجلاس کی قرارداد نقل کی کہ مالی عقود میں تعزیری شرط جائز ہے سوائے ان کے جن میں اصل ذمہ داری قرض ہو۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ سپانسرڈ اشتہارات پیشگی ادائیگی کے طریقے سے جائز ہیں جو سودی شرط سے خالی ہے، اور خودکار بلنگ سے جائز نہیں جس میں یہ شرط ہے۔

    اصل صفحہ

  • اٹھائیس روزے رکھ کر ایسے ملک جانا جہاں عید ہو رہی ہو

    اٹھائیس روزے رکھ کر ایسے ملک جانا جہاں عید ہو رہی ہو کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ وہ ان کے ساتھ عید منائے؛ اگر کل روزے انتیس ہوں تو اس پر کچھ نہیں، اور اٹھائیس ہوں تو ایک دن کی قضا کرے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ جس نے اپنے ملک میں روزے رکھے پھر ایسے ملک گیا جہاں عید ہو رہی تھی، وہ ان کے ساتھ عید منائے۔ اس نے کہا کہ اگر اس کے کل روزے انتیس ہوں تو اس پر کچھ نہیں، اور اگر اٹھائیس ہوں تو ایک دن کی قضا واجب ہے، کیونکہ مہینہ اٹھائیس دن کا نہیں ہوتا۔

    اصل صفحہ

  • روزے کا فدیہ غریب پوتی کو دینا

    روزے کا فدیہ غریب پوتی کو دینا کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ یہ جائز ہے اگر وہ غریب ہو اور جن پر اس کا نفقہ واجب ہے ان کے نفقے سے اس کی کفایت نہ ہوتی ہو۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ عورت رمضان کے چھوڑے ہوئے روزوں کا فدیہ اپنے بیٹے کی بیٹی کو دے سکتی ہے۔ اس نے شرط یہ رکھی کہ لڑکی غریب ہو اور جن پر اس کا نفقہ واجب ہے ان کے نفقے سے اس کی کفایت نہ ہوتی ہو۔

    اصل صفحہ

  • جمعہ، ہفتہ یا اتوار کا اکیلا روزہ

    جمعہ، ہفتہ یا اتوار کا اکیلا روزہ کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ مطلق نفلی روزے میں ان میں سے کسی دن کو اکیلا روزے کے لیے خاص کرنا مکروہ ہے، اور اگر ساتھ پہلے یا بعد کا دن ملا لیا جائے یا وہ کسی مسنون روزے کے دن سے آ ملے تو کراہت نہیں۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ مطلق نفلی روزے میں جمعہ، ہفتہ یا اتوار کو اکیلا روزے کے لیے خاص کرنا مکروہ ہے۔ اس نے کہا کہ اگر جمعہ کے ساتھ ایک دن پہلے یا بعد کا روزہ رکھا جائے تو حرج نہیں، ہفتہ اور اتوار کا بھی یہی حکم ہے، اور جمعہ، ہفتہ اور اتوار تینوں اکٹھے رکھنے میں کراہت نہیں۔ اس نے مزید کہا کہ اگر ان میں سے کوئی دن کسی ایسے دن سے آ ملے جس کا روزہ مسنون ہے، جیسے یوم عرفہ یا عاشورا، تو اکیلا روزہ رکھنے میں کراہت نہیں۔

    اصل صفحہ

  • شوال کے چھ روزے

    شوال کے چھ روزے کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ یہ سنت ہے، اور مسلم کی روایت کردہ ایک حدیث پر انحصار کیا کہ جو رمضان کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے وہ گویا پورے سال کے روزے رکھنے والا ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ شوال کے چھ روزے سنت ہیں، اور مسلم کی روایت کردہ ایک حدیث پر انحصار کیا کہ جو رمضان کے روزے رکھے پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے وہ پورے سال کے روزے رکھنے والے کی طرح ہے۔ اس نے وضاحت کی کہ رمضان کے روزوں کا ثواب دس مہینوں کے روزوں کے برابر اور چھ دنوں کا ثواب ساٹھ دنوں کے برابر ہے، اور یوں سال مکمل ہو جاتا ہے۔

    اصل صفحہ

  • رمضان کی قضا سے پہلے شوال کے چھ روزے

    رمضان کی قضا سے پہلے شوال کے چھ روزے کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ اگر روزے عذر سے چھوٹے ہوں تو جائز ہے، بلا عذر چھوڑنے والے پر جلد قضا واجب ہے، اور دونوں نیتوں کو جمع کرنا جائز ہے مگر الگ رکھنا زیادہ محتاط ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ اگر روزہ عذر سے چھوٹا ہو تو چھ روزے قضا سے پہلے رکھے جا سکتے ہیں، کیونکہ اس صورت میں قضا میں تاخیر کی گنجائش ہے، شوال میں ہو یا بعد میں، جبکہ چھ روزے صرف شوال ہی میں ہوتے ہیں۔ اس نے کہا کہ اگر روزہ بلا عذر چھوڑا ہو تو عید کے فوراً بعد اور چھ روزوں سے پہلے قضا واجب ہے؛ لیکن اگر چھ روزے رکھ لے تو درست ہیں، اور اس کے بعد چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا واجب ہے۔ اس نے مزید کہا کہ قضا اور چھ روزوں کی نیت جمع کرنا جائز ہے، اگرچہ زیادہ اجر اور منع کرنے والوں کے اختلاف سے بچنے کے لیے ہر روزہ الگ رکھنا زیادہ محتاط ہے۔

    اصل صفحہ

  • حاملہ اور دودھ پلانے والی کا روزہ

    حاملہ اور دودھ پلانے والی کے روزے کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ ان پر روزہ واجب ہے؛ اگر اپنی جان کا خوف ہو تو روزہ چھوڑیں اور صرف قضا کریں، اور اگر صرف بچے کے خوف سے چھوڑیں تو قضا کے ساتھ فدیہ بھی واجب ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ حاملہ اور دودھ پلانے والی پر روزہ واجب ہے، لیکن اگر انہیں اپنے لیے، یا اپنے اور بچے دونوں کے لیے، ایسے نقصان کا خوف ہو جو عام طور پر برداشت نہ ہو، تو روزہ چھوڑ دیں اور ان پر صرف قضا ہے۔ اس نے کہا کہ اگر روزہ صرف جنین یا بچے کے خوف سے چھوڑا جائے تو قضا کے ساتھ فدیہ بھی واجب ہے، کیونکہ اس افطار کا فائدہ صرف بچے کو ہوا۔ اس نے وضاحت کی کہ فدیہ ہر چھوڑے ہوئے دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے۔

    اصل صفحہ

  • ذیابیطس، دل، بلڈ پریشر، گردے اور السر کے مریضوں کا روزہ

    ذیابیطس، دل، بلڈ پریشر، گردے اور السر کے مریضوں کے روزے کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ جو روزے سے بالکل عاجز ہو وہ روزہ نہ رکھے اور فدیہ دے، قضا نہیں؛ جو بعض دنوں میں رکھ سکے وہ رکھے اور باقی کی قضا کرے؛ اور جس پر گرمی میں مشقت ہو مگر سردی میں رکھ سکے وہ روزہ چھوڑے اور بعد میں قضا کرے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ جو روزے سے بالکل عاجز ہو وہ روزہ نہ رکھے، اس پر فدیہ ہے اور قضا نہیں، اور فدیہ کی آیت سورۃ البقرہ 2:184 کا حوالہ دیا۔ اس نے کہا کہ جو مہینے کے بعض دنوں میں روزہ رکھ سکے اور بعض میں نہیں، وہ جتنے رکھ سکے رکھے اور چھوٹے ہوئے روزوں کی رمضان کے بعد جب ممکن ہو قضا کرے، اس پر فدیہ نہیں۔ اس نے مزید کہا کہ جس مریض پر گرمیوں کے لمبے گرم دنوں میں روزہ مشکل ہو اور وہ سردیوں کے چھوٹے دنوں میں قضا کر سکے، وہ روزہ چھوڑے اور قدرت ہونے پر قضا کرے، اس پر فدیہ نہیں۔

    اصل صفحہ

  • فوت شدہ وکیل کے مقدمات کی فیس

    ایک وکیل کے بارے میں سوال جو فوت ہو گیا اور اس کے بعض مقدمات موکلوں کی اجازت سے نئی وکالت اور نئے معاہدے کے تحت ایک خاتون وکیل کو منتقل ہوئے، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ فوت شدہ وکیل اپنے مکمل کیے گئے کام کے بقدر فیس کا حق دار ہے جس کا اندازہ ماہرین کریں، اور باقی نئی وکالت کی بنا پر نئی وکیل کا حق ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ وکیلوں کی فیس وکالت پر اجرت ہے، اور جمہور فقہا کے نزدیک جس اجیر کا معاہدہ فسخ ہو جائے وہ اپنے کام کے تناسب سے حق دار ہے؛ اس نے المہذب میں شیرازی کا قول نقل کیا کہ فسخ پر طے شدہ اجرت انجام شدہ اور باقی کام پر تقسیم ہوگی، اور قیمت کا اندازہ ماہرین سے لیا جائے گا۔ اس نے کہا کہ اگر وارث کام پورا نہ کرے تو کسی ایک فریق کی موت سے معاہدہ فسخ ہو جاتا ہے، چنانچہ کارکن طے شدہ اجرت میں سے اتنے کا حق دار ہے جتنا ماہرین اس کے کام کا اندازہ لگائیں: کچھ نہ کیا تو کچھ نہیں، آدھا کیا تو آدھا، وغیرہ؛ اس نے موت کے بعد متناسب حصے کے استحقاق پر مغنی المحتاج میں خطیب شربینی کا قول، اور اس میں ماوردی سے ان کی نقل، پیش کی۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ وکیل کی فیس کا تعین وکالت کے پیشے کے ماہرین کے اس اندازے سے ہوگا جو وہ اس کے وفات سے پہلے کیے گئے کام کا لگائیں، وفات سے وکالت ختم ہو گئی، اور باقی فیس نئی وکالت کی بنا پر نئی وکیل کا حق ہے۔

    اصل صفحہ

  • رمضان کی افطار دعوت قسطوں پر فنانس کرنا

    رمضان کی افطار دعوت قسطوں پر فنانس کرنا کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ صلہ رحمی استطاعت کے مطابق ہے اور اس کے لیے قرض لے کر خود پر بوجھ نہ ڈالنا بہتر ہے؛ سودی قرض حرام ہے، قرضِ حسن یا شرعی ضوابط والی مرابحہ حرام نہیں مگر بوجھ ہے، اور اگر قرض اہل و عیال کے خرچ میں تنگی کا سبب بنے یا دعوت دکھاوے کے لیے ہو تو حرام ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ اسلام نے صلہ رحمی پر ابھارا ہے، اور انس بن مالک سے متفق علیہ حدیث کا حوالہ دیا جس کا مفہوم ہے کہ جو چاہے کہ اس کا رزق کشادہ اور عمر دراز ہو وہ صلہ رحمی کرے؛ صلہ رحمی استطاعت کے مطابق ہے: جو استطاعت رکھے اس کا رشتہ داروں کو افطار پر بلانا اچھا ہے، اور جو نہ رکھے وہ تکلف اور قرض نہ لے، ان سے ملنا اور سلام کرنا کافی ہے۔ اس نے کہا کہ اگر کوئی افطار کی دعوت کے لیے قرض لے تو طریقہ دیکھا جائے گا: سودی قرض حرام ہے، اور مسلم کی جابر بن عبداللہ سے روایت کردہ حدیث سے استدلال کیا کہ سود کھانے، کھلانے، لکھنے اور اس کے گواہوں پر لعنت کی گئی؛ قرضِ حسن یا شرعی ضوابط کے مطابق مرابحہ حرام نہیں، مگر اس نے خود پر طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالا، خاص طور پر اگر اس کی مالی حالت ادائیگی کی اجازت نہ دے۔ اس نے مزید کہا کہ اگر قرض گھر والوں کے خرچ میں تنگی کا باعث بنے تو حرام ہے، اور ابو داود کی روایت کردہ حدیث سے استدلال کیا جس کا مفہوم ہے کہ آدمی کے گناہ کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے زیرِ کفالت لوگوں کو ضائع کرے، اور اسی طرح دکھاوے، فخر اور ریا کے لیے دعوت بھی حرام ہے۔

    اصل صفحہ

  • ٹیلی ویژن کے ذریعے امام کی اقتدا

    ٹیلی ویژن کے ذریعے امام کی اقتدا کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ یہ درست نہیں کیونکہ اقتدا کے لیے امام اور مقتدی کا ایک جگہ ہونا شرط ہے، البتہ اگر وہ اسی مسجد میں ہو تو درست ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ اقتدا کے درست ہونے کی شرائط میں سے ہے کہ امام اور مقتدی ایک جگہ ہوں۔ اس نے کہا کہ اس لیے دور جگہ سے ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی نماز کے امام کی اقتدا کرنے والے کی نماز درست نہیں، البتہ اگر وہ امام کے ساتھ اسی مسجد میں ہو تو درست ہے۔

    اصل صفحہ

  • فاریکس ٹریڈنگ اور لیوریج

    فاریکس ٹریڈنگ کے بارے میں سوال جس میں بعض کمپنیاں کہتی ہیں کہ لیوریج قرض نہیں اور سواپ فیس نہیں لی جاتی، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ لیوریج ایسا قرض ہے جو قرض دینے والے کو فائدہ پہنچاتا ہے، لہٰذا اس پر مشتمل کوئی معاملہ جائز نہیں۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ فقہی طور پر لیوریج بروکر کی طرف سے ٹریڈر کو قرض ہے؛ سود کے ساتھ ہو تو واضح سود ہے، اور سود کے بغیر بھی سود ہے، کیونکہ بروکر ہر لین دین پر طے شدہ کمیشن کماتا ہے اور اس میں قرض اور بیع جمع ہوتے ہیں۔ اس نے کہا کہ لیوریج کا حقیقی اثر ہے: یہ ٹریڈر کا سرمایہ، منافع اور خطرہ کئی گنا کرتا ہے، اور بروکر کو اس سے زیادہ کمیشن ملتا ہے بنسبت اس کے کہ ٹریڈر صرف اپنے سرمائے سے تجارت کرے، اس لیے یہ فرضی رقم نہیں۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ لیوریج پر مشتمل کوئی معاملہ جائز نہیں کیونکہ یہ سودی قرض ہے، اور پوچھے گئے معاملے کی حرمت کے لیے یہی کافی ہے۔

    اصل صفحہ

  • اگلے رمضان تک قضا روزہ بھول جانا

    اگلے رمضان تک قضا روزہ بھول جانا کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ اس پر گناہ نہیں اور قضا کے ساتھ فدیہ لازم نہیں، کیونکہ بھول جیسے عذر سے تاخیر پر فدیہ نہیں۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ جو رمضان کی قضا بھول جائے یہاں تک کہ دوسرا رمضان آ جائے، اس پر گناہ نہیں، اور ابن ماجہ اور بیہقی کی السنن الکبریٰ کی ایک حدیث سے استدلال کیا جس کا مفہوم ہے کہ اللہ نے اس امت سے خطا، بھول اور زبردستی کرائے گئے کام سے درگزر فرمایا۔ اس نے کہا کہ اس پر فدیہ لازم نہیں، اور شافعی کتاب بشریٰ الکریم (ص 580) سے نقل کیا کہ سفر، دودھ پلانے، بھول یا تاخیر کی حرمت سے ناواقفیت جیسے عذر سے قضا میں تاخیر پر فدیہ نہیں چاہے برسوں گزر جائیں، کیونکہ ان عذروں سے اصل روزے میں تاخیر جائز ہے تو قضا میں بدرجۂ اولیٰ۔

    اصل صفحہ

  • کورونا ویکسین سرٹیفکیٹ میں جعل سازی

    کورونا ویکسین سرٹیفکیٹ میں جعل سازی کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ ویکسین سرٹیفکیٹ یا کورونا ٹیسٹ میں جعل سازی حرام جھوٹ، دھوکہ اور جعل سازی ہے؛ جعلی سرٹیفکیٹ جاری کرنے والا گناہ میں شریک ہے، اور اگر اس کے لیے رشوت دی جائے تو حرمت اور بڑھ جاتی ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ مسلمان ہر حال میں اپنے قول و فعل میں سچائی کا پابند ہے، اور سورۃ التوبہ 9:119 کا حوالہ دیا؛ اور سچائی میں درست طبی ٹیسٹ اور سرٹیفکیٹ پیش کرنا بھی شامل ہے جو صحت کی حالت کو دیانت سے ظاہر کریں، جن میں ویکسین سرٹیفکیٹ اور وائرس کا ٹیسٹ بھی ہے۔ اس نے کہا کہ ویکسین لگوانے کا جعلی سرٹیفکیٹ یا عدمِ انفیکشن کا جعلی ٹیسٹ پیش کرنا جھوٹ، دھوکہ اور جعل سازی ہے جسے اللہ نے حرام کیا، اور بخاری کی روایت کردہ حدیث سے استدلال کیا جس کا مفہوم ہے کہ جھوٹی بات سب سے بڑے کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ اس نے مزید کہا کہ ان طبی امور میں جعل سازی کے معاشرے پر سنگین اثرات ہیں اور یہ متعلقہ اداروں کی بہت سی کوششوں کو ضائع کر سکتی ہے؛ جعلی سرٹیفکیٹ دینے والا گناہ میں مددگار اور شریک ہے، اور رشوت شامل ہو تو حرمت بڑھ جاتی ہے، اور سورۃ المائدہ 5:2 کا حوالہ دیا۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ طبی سرٹیفکیٹ اور ٹیسٹ پیش کرنے میں سچائی اختیار کرنا اور جعل سازی، جھوٹ اور حیلے سے بچنا سب پر واجب ہے، خاص طور پر جب پورے معاشرے کی سلامتی کا معاملہ ہو۔

    اصل صفحہ

  • مسافر کے لیے نمازِ جمعہ

    مسافر کے لیے نمازِ جمعہ کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ یہ اس مسافر پر واجب نہیں جو فجر سے پہلے گھر سے نکلے اور چار یا زیادہ دن ٹھہرنے کی نیت نہ کرے، لیکن فجر کی اذان کے بعد سفر شروع کرے تو واجب ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ نمازِ جمعہ مسافر پر واجب نہیں، سفر طویل ہو یا مختصر، بشرطیکہ شافعی مذہب کے مطابق وہ فجر کا وقت داخل ہونے سے پہلے اپنی رہائش سے نکلے، اور منزل پر آنے اور جانے کے دنوں کے علاوہ چار یا زیادہ دن ٹھہرنے کی نیت نہ کرے۔ اس نے کہا کہ اگر وہ فجر کی اذان کے بعد سفر شروع کرے تو اس پر اپنے شہر میں یا جہاں جمعہ ہوتا ہو وہاں جمعہ ادا کرنا واجب ہے، اور یہ شافعی کتاب بشریٰ الکریم (1/383) سے نقل کیا، اور واضح کیا کہ مختصر سفر 81 کلومیٹر سے کم ہے اور رخصت شہر کی آبادی سے نکلنے پر شروع ہوتی ہے۔

    اصل صفحہ

  • مالکِ زمین کی اجازت کے بغیر گرے ہوئے زیتون جمع کرنا

    مالکِ زمین کی اجازت کے بغیر گرے ہوئے زیتون جمع کرنا کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ اصلاً کسی کا پھل اس کی اجازت کے بغیر لینا جائز نہیں، لیکن فصل کے بعد بچا ہوا چننا چار شرطوں کے ساتھ گوارا ہے: مالکوں کی کٹائی کے بعد ہو، زمین باڑ والی یا گھر کے قریب نہ ہو، مالک کی رضا کا غالب گمان ہو، اور درختوں کو نقصان نہ پہنچے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ اصلاً گھروں یا باغوں میں لگے پھل دار درختوں سے مالک کی اجازت کے بغیر کھانا جائز نہیں، اور اس حدیث سے استدلال کیا جو احمد نے المسند میں روایت کی جس کا مفہوم ہے کہ کسی شخص کا مال اس کی خوش دلی کے بغیر حلال نہیں۔ اس نے کہا کہ پھل اتارنے کے بعد بچی ہوئی چیزوں میں چار شرطوں کے ساتھ نرمی ہو سکتی ہے: چننے والا مالکوں کی کٹائی کے بعد بچا ہوا لے، پہلے نہیں؛ زمین باڑ والی یا گھر کی حدود کے قریب نہ ہو، ورنہ اجازت لینا ضروری ہے؛ مالک کی معافی کا غالب گمان ہو، مثلاً جب عرف میں اس کی اجازت مشہور ہو؛ اور چننے والا درختوں کا خیال رکھے اور انہیں نقصان نہ پہنچائے یا نہ توڑے۔ اس نے مغنی المحتاج (3/592) سے نقل کیا کہ کٹائی کے وقت بالیاں وغیرہ چننا جائز ہے اگر گمان ہو کہ مالک نے انہیں چھوڑ دیا ہے یا ان کے لینے پر راضی ہے، چاہے چننے والا زکوٰۃ کا مستحق ہو یا نہیں، اگرچہ دوسری بات میں زرکشی نے اختلاف کیا، کیونکہ یہ تھوڑی مقدار معاف ہے جیسا کہ سلف و خلف کا عمل رہا۔

    اصل صفحہ

  • زکوٰۃ میں کوئی خدمت دینا

    زکوٰۃ میں کوئی خدمت دینا کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ رہائش، تعلیم اور علاج جیسی خدمات زکوٰۃ میں نہیں دی جا سکتیں، کیونکہ زکوٰۃ ایسا مال ہونا چاہیے جس کا فقیر مالک بنے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ زکوٰۃ اسی مال سے ادا کرنا واجب ہے جس پر واجب ہوئی، سوائے تجارتی سامان کے جس کی زکوٰۃ قیمت سے ادا ہوتی ہے، اور یہ ملکیت منتقل کرنے کے طور پر ہو، اور زکوٰۃ کے مصارف والی آیت سورۃ التوبہ 9:60 کا حوالہ دیا اور کہا کہ اس میں حرفِ لام ملکیت کے لیے ہے۔ اس نے کہا کہ رہائش، تعلیم اور علاج جیسی خدمات مال کی زکوٰۃ میں دینا جائز نہیں، کیونکہ مال کی زکوٰۃ ایسا مال ہونی چاہیے جس کا فقیر مالک بنے، اور یہ خدمات غیر مادی چیزیں ہیں جن کا مالک نہیں بنا جا سکتا۔

    اصل صفحہ

  • غریب اہلِ کتاب کو قربانی کا گوشت دینا

    غریب اہلِ کتاب کو قربانی کا گوشت دینا کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ نفلی قربانی سے انہیں دینا جائز ہے جیسے انہیں صدقہ دینا جائز ہے، یہ شافعیہ کا ایک قول ہے جس کی طرف محب طبری اور نووی مائل ہوئے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ غریب اہلِ کتاب کو نفلی قربانی کا گوشت دینا جائز ہے، جیسے انہیں صدقہ دینا جائز ہے۔ اس نے کہا کہ یہ شافعی مذہب کا ایک قول ہے جس کی طرف محب طبری اور نووی مائل ہوئے، اور تحفۃ المحتاج پر ابن قاسم العبادی کے حاشیے (9/365) کا حوالہ دیا۔

    اصل صفحہ

  • سسر کو دیا گیا سونا اور اس کی وفات کے بعد اس کا مطالبہ

    ایک خاتون کا سوال جس نے اپنے سسر کو سونے کے زیورات اور ایک اونس سونا دیا اور اس کی وفات کے بعد اپنا حق مانگا تو ورثا نے نقد رقم پیش کی، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ قرض اسی صورت میں ادا ہوتا ہے جس میں لیا گیا، اس لیے قرض لیا گیا سونا وزن کے حساب سے سونا ہی واپس ہوگا۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ قرض کسی کو فائدہ اٹھانے کے لیے مال دینا ہے تاکہ وہ اس کا مثل واپس کرے، جو قرض لینے والے کے لیے جائز اور دینے والے کے لیے مستحب ہے، اور قرض لینے والے پر لازم ہے کہ اسی صورت میں ادا کرے جس میں لیا: نقدی نقدی کی صورت میں اور سونا وزن کے حساب سے سونے کی صورت میں، کیونکہ قرض میں ملکیت قبضے سے ثابت ہوتی ہے اور اسی صورت میں ذمے میں ٹھہرتی ہے۔ اس نے خطیب شربینی کا مغنی المحتاج میں یہ قول نقل کیا کہ قرض میں مثلی چیز کا مثل واپس کیا جائے کیونکہ یہ حق کے زیادہ قریب ہے، اور بین الاقوامی اسلامی فقہ اکیڈمی کے پانچویں اجلاس کا یہ فیصلہ کہ قرضوں کی ادائیگی میں مثل کا اعتبار ہے، قیمت کا نہیں۔ اس نے دو صورتیں الگ کیں: اگر قرض دینے والی نے سونا بیچ کر اس کی قیمت نقد دی تو نقدی کی وہی مقدار واپس کرنا لازم ہے؛ اور اگر اس نے خود سونا دیا اور قرض لینے والے نے اسے بیچا تو وزن کے حساب سے اس کا مثل واپس کرنا لازم ہے۔ اس نے کہا کہ دوسری صورت میں ادائیگی کے دن، نہ کہ اس سے پہلے، دونوں فریقوں کے اتفاق سے فوری نقد ادائیگی میں حرج نہیں، بشرطیکہ اسی دن کا سونے کا نرخ لیا جائے اور اسی مجلس میں لین دین مکمل ہو۔

    اصل صفحہ

  • مختلف عیار کے سونے میں نصاب کا حساب

    مختلف عیار کے سونے میں نصاب کا حساب کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ نصاب 24 عیار کا 85 گرام، 21 عیار کا 97 گرام یا 18 عیار کا 113 گرام سونا ہے، اور مختلف عیار ہوں تو زکوٰۃ کے دن کی خرید قیمت پر نقد قیمتیں جمع کی جائیں۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ نقدی اور بچت یا تجارت کے لیے رکھے گئے سونے پر زکوٰۃ اس وقت واجب ہے جب مجموعہ نصاب کو پہنچے اور اس پر قمری سال گزر جائے، اور نصاب 24 عیار سونے کا 85 گرام ہے، جو 21 عیار کے 97 گرام اور 18 عیار کے 113 گرام کے برابر ہے۔ اس نے کہا کہ مختلف عیار ہوں تو زکوٰۃ دینے والا اپنے سونے کی نقد قیمت نکالے، نصاب کے حساب میں قیمتیں جمع کرے، اور مجموعہ نصاب کو پہنچے تو قیمت پر نقد زکوٰۃ دے، اور معتبر قیمت زکوٰۃ واجب ہونے کے دن کی خرید قیمت ہے، یعنی جو تاجر سونے کے مالک کو ادا کرتا ہے۔

    اصل صفحہ

  • وضو کے بعد بواسیر کا خون نکلنا

    وضو سے فارغ ہونے کے بعد بواسیر کا خون نکلنے کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ اگر خون مقعد کے باہر سے نکلے تو وضو نہیں ٹوٹتا، اگر اندر سے نکلے تو ٹوٹ جاتا ہے، اور جس کا خون مسلسل نکلتا ہو اس پر سلس البول کا حکم ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ اگر خون بواسیر کے باہر نکل آنے کی وجہ سے مقعد کے باہر سے نکلے تو وضو نہیں ٹوٹتا، کیونکہ دونوں راستوں کے علاوہ جسم سے نکلنے والا خون وضو نہیں توڑتا۔ اس نے کہا کہ اگر خون مقعد سے نکلے، یعنی بواسیر اندر ہو، تو یہ وضو توڑ دیتا ہے، لہٰذا اس سے استنجا، نجاست کی جگہ دھونا اور وضو دہرانا واجب ہے۔ اس نے مزید کہا کہ اگر خون مسلسل نکلتا ہو اور اتنا وقفہ نہ ملے جس میں طہارت اور نماز ہو سکے تو اس پر سلس البول کا حکم ہے: ہر نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد صفائی کرے، اس کے فوراً بعد وضو کرے اور فوراً فرض پڑھے؛ اس کے بعد کچھ نکلے تو کچھ لازم نہیں، اور جتنے نفل چاہے پڑھ سکتا ہے، لیکن دوسرا فرض پڑھنے کے لیے دوبارہ صفائی اور وضو واجب ہے۔

    اصل صفحہ

  • پہلے حج یا پہلے اولاد؟

    سعودی عرب میں مقیم ایک جوڑے کا سوال کہ پہلے حج کریں یا اولاد، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ حج میں جلدی کرنی چاہیے، لیکن اس کا وجوب فوری نہیں، اس لیے ترجیحات کی ترتیب جوڑے کی ضرورت پر منحصر ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ حج اس مکلف پر واجب ہے جو استطاعت رکھتا ہو، اور استطاعت کا مطلب ہے رہائش اور نفقہ جیسی بنیادی ضروریات سے زائد حج کے اخراجات کا مالک ہونا، اور اس کی تعریف ابن حجر الہیتمی سے نقل کی۔ اس نے کہا کہ ترجیحات ضرورت کے مطابق ہوتی ہیں، کیونکہ حج واجب ہونے کے باوجود فوری نہیں، اور نووی کی روضۃ الطالبین سے نقل کیا کہ جسے گناہ کے خوف سے نکاح کی ضرورت ہو اس کا مال نکاح پر خرچ کرنا حج سے زیادہ اہم ہے، کیونکہ وہ ضرورت فوری ہے اور حج فوری نہیں، اور کہا کہ ہر صاحبِ ضرورت اپنی ترجیحات بہتر جانتا ہے۔ اس نے ذکر کیا کہ اولاد شریعت کے بڑے مقاصد میں سے حفظِ نسل ہے، لیکن اسے مؤخر کیا جا سکتا ہے اور یہ فوری ضرورت نہیں، خاص طور پر جب بیوی جوان ہو۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ حج ایک عظیم رکن ہے جس میں جلدی کرنی چاہیے، لیکن چونکہ اس کا وجوب فوری نہیں، اس لیے تعارض کے وقت ترجیحات کے فقہی قواعد اس پر لاگو ہوتے ہیں۔

    اصل صفحہ

  • پرورش میں لیے گئے بچے کو ہیلتھ انشورنس میں شامل کرنا

    پرورش میں لیے گئے بچے کو ہیلتھ انشورنس میں شامل کرنے کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ اگر ضوابط اجازت دیں تو شرعاً کوئی رکاوٹ نہیں، اور اس میں بڑا اجر ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ اگر ضوابط اور قوانین اجازت دیں تو پرورش کرنے والے خاندان کو ریاست کی طرف سے دی جانے والی ہیلتھ انشورنس اور تعلیم میں ایسے بچوں کو شامل کرنے میں شرعاً کوئی رکاوٹ نہیں، اور خاندان کے لیے اس میں بڑا اجر ہے، کیونکہ شریعت ان بچوں کی دیکھ بھال کی ترغیب دیتی ہے۔ اس نے نووی کی روضۃ الطالبین سے نقل کیا کہ لقیط کے احکام میں پانے والے پر اس کی حفاظت اور دیکھ بھال لازم ہے، اور فقہاء اس باب میں حضانت کا لفظ حفاظت اور تربیت کے معنی میں استعمال کرتے ہیں۔ اس نے کہا کہ پرورش کرنے والے خاندانوں، خصوصاً بے اولاد خاندانوں، کے لیے طریقۂ کار آسان بنانا ان بچوں کو ضائع ہونے سے بچانے کا ایک ذریعہ ہے، اور اگر ان کا اپنا مال نہ ہو تو ان کا نفقہ بیت المال پر ہے، اور وہ نہ ہو تو مسلمانوں پر فرضِ کفایہ ہے، جیسا کہ اس نے نووی سے نقل کیا۔ آخر میں اس نے سرکاری اداروں اور شہریوں کو ایسے بچوں کی دیکھ بھال اور پرورش کرنے والے خاندانوں کے لیے طریقۂ کار آسان بنانے میں تعاون کی تلقین کی۔

    اصل صفحہ

  • قرض کی حالت میں وفات اور کوئی مال نہ چھوڑنا

    قرض کی حالت میں وفات اور کوئی مال نہ چھوڑنا کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ قرض ترکے کی تقسیم سے پہلے اس میں سے ادا ہوں گے، اور اگر ترکہ نہ ہو یا کافی نہ ہو تو ورثا پر اپنے مال سے ادائیگی واجب نہیں مگر مستحب ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ جو شخص لوگوں کے حقوق، جیسے قرض، کے ساتھ فوت ہو، اگر اس کا مال ہو تو تقسیم سے پہلے اس کے ترکے سے ادا کیے جائیں گے، اور قرض کی ادائیگی ورثا کے حقِ میراث پر مقدم ہے، اور ترمذی کی حسن قرار دی گئی حدیث پر انحصار کیا کہ مومن کی جان اس کے قرض کے ساتھ معلق رہتی ہے یہاں تک کہ اس کی طرف سے ادا کر دیا جائے۔ اس نے کہا کہ اگر میت نے ترکہ نہ چھوڑا ہو، یا اتنا مال چھوڑا ہو جو قرض کے لیے کافی نہ ہو، تو ورثا پر اپنے مال سے ادائیگی واجب نہیں، لیکن ان کے لیے مستحب ہے، کیونکہ میت کا ذمہ قرض سے مشغول رہتا ہے، اور یہ نیکی نہیں کہ بیٹا اپنے باپ کا ذمہ مشغول چھوڑ دے۔ اس نے مزید کہا کہ تمام اولاد مل کر اپنے والد کا قرض ادا کرنے میں حصہ ڈال سکتی ہے، چاہے اپنی استطاعت کے مطابق قسطوں میں ہو۔

    اصل صفحہ

  • مسجد کے عطیات سے فقرا کی مدد

    لوگوں کے مسجد کی دیکھ بھال کے لیے دیے گئے عطیات سے فقرا کی مدد کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ یہ حرام ہے، کیونکہ عطیہ دینے والا وقف کرنے والے کے درجے میں ہے جس کی شرط معتبر ہے، اور فقرا کی کفالت زکات کمیٹیوں کے ذریعے ہونی چاہیے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ مسجد کمیٹیوں کے لیے مسجد کے عطیات میں سے کچھ بھی اس مقصد کے علاوہ خرچ کرنا حرام ہے جس کے لیے وہ جمع کیے گئے، کیونکہ عطیات عطیہ دینے والے کی نیت اور شرط کے مطابق خرچ ہوتے ہیں، عطیہ دینے والا وقف کرنے والے کے درجے میں ہے، اور اصل یہ ہے کہ وقف کرنے والے کی شرط کی پابندی کی جائے۔ اس نے نہایۃ المطلب میں امام الحرمین الجوینی کا قول نقل کیا کہ مستحقین کی صفات، مقدار اور ترتیب میں وقف کرنے والے کی شرط کی طرف رجوع کیا جائے، اور المہذب میں شیرازی کا قول کہ وقف کی آمدنی وقف کرنے والے کی شرط کے مطابق خرچ ہو۔ اس نے کہا کہ فقرا اور مساکین کا مسلمانوں کے مال میں معلوم حق ہے، اور ہر محلے کے لوگوں کو وہاں کے ضرورت مندوں کی کفالت کرنی چاہیے، جو ان کے علاقے میں کام کرنے والی زکات کمیٹیوں کے ذریعے ہو سکتی ہے۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ مساجد کے عطیات میں سے کچھ بھی فقرا اور مساکین پر خرچ کرنا حرام ہے، کیونکہ جو کسی خاص مقصد کے لیے جمع ہو وہ دوسرے مقصد میں خرچ نہیں ہو سکتا اور صدقہ دینے والے کی شرط معتبر ہے۔

    اصل صفحہ

  • قیمتیں بڑھنے کے انتظار میں خوراک روکنا

    خوراک کے ایک تاجر کا سوال ان تاجروں کے بارے میں جو قیمتیں جلد بڑھنے کے علم کی وجہ سے سامان روک لیتے ہیں، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ ذخیرہ اندوزی حرام ہے، اور بنیادی خوراک میں زیادہ سخت حرام ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ شریعت نے ذخیرہ اندوزی کو لوگوں کو نقصان پہنچانے کی وجہ سے حرام کیا ہے، اور اس کی تعریف کی کہ مہنگائی کے وقت خریدی گئی چیز کو شدید ضرورت کے وقت مہنگا بیچنے کے لیے روکنا۔ اس نے کہا کہ یہ ہر اس چیز میں ہے جس کی لوگوں کو ضرورت ہو اگر اسے روکنا ان کے لیے نقصان دہ ہو، اور یہ مالکیہ کا مذہب اور حنفیہ میں ابو یوسف کا قول ہے؛ اس نے ابن رشد الجد کی البیان والتحصیل اور کاسانی کی بدائع الصنائع سے نقل کیا۔ اس نے کہا کہ بنیادی خوراک میں یہ زیادہ سخت حرام ہے، اور زکریا الانصاری کی اسنی المطالب سے نقل کیا کہ لوگوں پر تنگی کی وجہ سے حرام ہے، اور ابن حجر الہیتمی کی الزواجر سے کہ یہ کبیرہ گناہ ہے، اور یہ کہ غزالی نے خوراک کے ساتھ گوشت اور پھل جیسی معاون اشیا کو شامل کیا۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ تاجروں کے لیے مہنگائی کے وقت خریدی گئی بنیادی خوراک اور دیگر اشیا کو شدید ضرورت کے وقت مہنگا بیچنے کے لیے روکنا حرام ہے۔

    اصل صفحہ

  • مسجد میں دوسری جماعت کرانا

    مسجد میں دوسری جماعت کرانا کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ محلے کی مسجد میں جس کا مقرر امام ہو، اس کی اجازت کے بغیر قصداً دوسری جماعت مکروہ ہے، اور بازاروں جیسی گزرگاہ والی مساجد میں دوسری اور تیسری جماعت جائز ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ جو مسجد گزرگاہ نہ ہو، جیسے محلے کی مسجد، اور اس کا مقرر امام ہو، اس میں امام کی اجازت کے بغیر قصداً دوسری جماعت کرانا مکروہ ہے، کیونکہ اس سے امام پر تنقید کا پہلو نکلتا ہے۔ اس نے کہا کہ اگر مسجد گزرگاہ ہو، جیسے بازاروں کی مساجد، تو اس میں دوسری اور تیسری جماعت جائز ہے، چاہے اس کا مقرر امام ہو یا نہ ہو اور امام اجازت دے یا نہ دے، کیونکہ وہاں لوگ کثرت سے آتے ہیں اور کئی جماعتوں سے امام پر تنقید نہیں سمجھی جاتی۔

    اصل صفحہ

  • رومانیہ اور آسٹریلیا کی بھیڑوں کی قربانی

    رومانیہ اور آسٹریلیا کی بھیڑوں کی قربانی کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ بھیڑ اگر شرعی عمر کو پہنچی ہو اور نقصان دہ عیوب سے پاک ہو تو قربانی درست ہے، خواہ وہ کسی ملک کی ہو۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ جس بھیڑ میں قربانی کی شرائط پوری ہوں، یعنی شرعی طور پر معتبر عمر کو پہنچی ہو اور نقصان دہ عیوب سے پاک ہو، وہ کافی ہے چاہے اس کا ملکِ پیدائش کوئی بھی ہو۔ اس نے کہا کہ اس لیے رومانیہ، آسٹریلیا، اسپین، ہندوستان، سوڈان، مقامی اور دیگر بھیڑوں کی قربانی جائز ہے۔

    اصل صفحہ

  • روزے میں انجکشن اور ڈرپ

    روزے میں انجکشن اور ڈرپ کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ جلد اور پٹھوں میں علاج کے انجکشن روزہ نہیں توڑتے، جبکہ غذائیت والی ڈرپ روزہ توڑ دیتی ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ جلد اور پٹھوں میں علاج کے انجکشن روزہ توڑنے والی چیزوں میں شمار نہیں ہوتے، کیونکہ وہ کھلے راستے سے جوف میں داخل نہیں ہوتے۔ اس نے کہا کہ غذائیت والی ڈرپ روزہ توڑ دیتی ہے، کیونکہ معنی کے اعتبار سے وہ کھانے پینے کی طرح ہے۔

    اصل صفحہ

  • بینک کے ذریعے حج و عمرہ کے سفر کی قسطوں میں فنانسنگ

    حج و عمرہ کی ایک کمپنی کے بارے میں سوال جس نے اپنے گاہکوں کو قسطوں پر فروخت کے لیے بینک سے معاہدہ کیا، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ ایسی خدمات کی فنانسنگ ذمے میں موصوف اجارہ اور متوازی اجارے کی بنیاد پر ترتیب دی جاتی ہے، اور اس کی شرائط بیان کیں جن میں تاخیر کے جرمانوں کی ممانعت شامل ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ خدمات کی فنانسنگ کے معاہدے اس بنیاد پر ہوتے ہیں کہ فنانسنگ ادارہ ٹریول کمپنیوں سے گاہک کی مطلوبہ شرائط اور خصوصیات پر اتفاق کرے، ان سے یہ خدمت خریدے اور پھر گاہک کو قسطوں پر بیچ دے، اور یہ عمل ذمے میں موصوف اجارہ اور متوازی اجارے کی بنیاد پر ترتیب پاتا ہے۔ اس کی شرائط میں اس نے ذکر کیا کہ خدمت کی خصوصیات معلوم ہوں، وہ شرعاً اور عرفاً قیمت رکھتی ہو، اور فنانسر آخر تک گاہک کو خدمت فراہم کرنے کا پابند رہے، لہٰذا اگر کمپنی خدمت دینے سے انکار کرے تو گاہک فنانسر سے رجوع کرے، سوائے اس کے کہ انکار کا سبب معاہدے میں درج ہو۔ اس نے مزید کہا کہ فنانسر گاہک پر ادائیگی میں تاخیر کے جرمانے نہیں لگا سکتا، کیونکہ یہ حرام سود ہیں۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ معاہدے ذمے میں موصوف اجارہ اور متوازی اجارے کے مطابق بنائے جائیں اور ان شرائط کے پابند ہوں۔

    اصل صفحہ

  • قسطوں پر بیع اور اس کی شرائط

    قسطوں پر بیع کے حکم اور شرائط کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ یہ جائز ہے چاہے قسطوں کی قیمت نقد قیمت سے زیادہ ہو، کچھ شرائط کے ساتھ، جن میں معاہدے کے وقت دونوں میں سے ایک قیمت طے کرنا، قسطوں کی مدت متعین کرنا، تاخیر پر کوئی اضافہ نہ لینا، اور جلد ادائیگی پر کمی کی شرط نہ لگانا شامل ہیں۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ قسطوں پر سامان خریدنے اور بیچنے میں حرج نہیں چاہے قسطوں کی قیمت نقد قیمت سے زیادہ ہو، اور چاروں مذاہب کے جمہور علما اس صورت کے جواز پر متفق ہیں؛ انہوں نے بریرہ کے بارے میں عائشہ کی روایت سے استدلال کیا جنہوں نے اپنے مالکوں سے نو اوقیہ پر، ہر سال ایک اوقیہ، مکاتبت کی۔ اس نے روضۃ الطالبین میں نووی کا قول نقل کیا کہ اگر کوئی کہے کہ میں تمہیں یہ نقد ایک ہزار یا ادھار دو ہزار میں بیچتا ہوں تو معاہدہ درست ہے۔ اس نے شرائط بیان کیں: معاہدے کے وقت دونوں قیمتوں، نقد یا قسط، میں سے ایک پر اتفاق ہو؛ جہالت سے بچنے کے لیے قسطوں کی مدت متعین ہو؛ خریدار کی تاخیر پر کوئی اضافی رقم نہ ہو کیونکہ اصل قرض پر ہر اضافہ سود ہے؛ اور معاہدے میں جلد ادائیگی پر قیمت میں کمی کی شرط نہ ہو۔ اس نے تنبیہ کی کہ یہ جواب قسطوں پر بیع کے عمومی ضوابط کے بارے میں ہے، کسی خاص معاہدے کے لیے فتویٰ نہیں۔

    اصل صفحہ

  • روزے میں انسولین کا انجکشن

    روزے میں انسولین کا انجکشن کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ یہ روزہ نہیں توڑتا کیونکہ یہ جلد کے نیچے لگتا ہے اور جوف تک نہیں پہنچتا۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ انسولین کا انجکشن روزہ نہیں توڑتا۔ اس نے وجہ یہ بتائی کہ یہ جلد کے نیچے لگتا ہے اور جوف تک نہیں پہنچتا۔

    اصل صفحہ

  • ٹریفک حادثے کی چوٹوں پر بیمہ کمپنی سے معاوضہ لینا

    ٹریفک حادثے میں زخمی ہونے والے کا بیمہ کمپنی سے معاوضہ لینے کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ نقصان کا معاوضہ جائز ہے، لہٰذا حقیقی نقصان پر بغیر حیلے یا جھوٹ کے اسے لینے میں حرج نہیں۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ مادی نقصان کا معاوضہ فقہ میں جائز ہے اور فقہا نے اس کے موجب اسباب تفصیل سے بیان کیے ہیں؛ اس نے قتلِ خطا میں دیت کے قرآنی اصول سے استدلال کیا، اور ماوردی کی الحاوی الکبیر سے نقل کیا کہ جو کسی چیز کو تلف کرے وہ اس کا ضامن ہے۔ اس نے کہا کہ معاوضہ براہِ راست نقصان کرنے والے یا اس کا سبب بننے والے پر ہے کیونکہ موجب فعل ہے، اور رملی کی نہایۃ المحتاج سے نقل کیا کہ جو دوسرے کا مال تلف کرے یا اس کے استعمال میں زیادتی کرے اس پر بدل اور اجرت لازم ہے۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ بیمہ کمپنیوں سے معاوضہ لینے میں حرج نہیں جب وہ حادثے سے ہونے والے حقیقی نقصان کی وجہ سے ہو اور اس میں کوئی حیلہ یا جھوٹ نہ ہو۔

    اصل صفحہ

  • قابل وصول قرضوں کا بیمہ

    ایک تاجر کے بارے میں سوال جسے ایک کمپنی نے سالانہ فیصد کے بدلے دوسرے تاجروں پر واجب اس کے قرضوں کا بیمہ پیش کیا، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ اگر بیمہ تعاونی ہو اور قرض جائز معاملے سے پیدا ہوا ہو تو قرضوں کا بیمہ جائز ہے، اور اگر بیمہ تجارتی ہو تو جائز نہیں۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ قرضوں کے بیمے کا حکم بیمے کی نوعیت سے بدلتا ہے: اگر تجارتی ہو تو اس میں معاملہ حرام ہے، کیونکہ جمہور فقہا اور فقہی اکیڈمیوں کے نزدیک تجارتی بیمہ جوئے پر مبنی معاہدہ ہونے کی وجہ سے حرام ہے۔ اس نے کہا کہ اگر بیمہ اسلامی تعاونی ہو تو اس میں معاملہ جائز ہے، کیونکہ یہ فنڈ کے شرکا کے درمیان باہمی کفالت، تعاون اور تبرع پر قائم ہے، اور یہی اکثر فقہی اکیڈمیوں اور معاصر دارالافتاؤں کا قول ہے۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ اگر بیمہ تعاونی ہو تو قرضوں کا بیمہ جائز ہے، کیونکہ ادائیگی میں تاخیر یا عدم ادائیگی کا خطرہ ان خطرات میں سے ہے جن کا بیمہ ہو سکتا ہے، بشرطیکہ قرض جائز معاملے سے پیدا ہوا ہو، اور اگر بیمہ تجارتی ہو تو جائز نہیں۔

    اصل صفحہ

  • منافع کے حصے کے بدلے کار شوروم میں رقم لگانا

    کار شوروم کے مالک بھائی کو منافع کے حصے کے بدلے تجارت کے لیے رقم دینے کے بارے میں سوال، جسے اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے مضاربت قرار دیا۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ یہ مضاربت کی ایک صورت ہے، جس میں سرمایہ دار کسی کو تجارت کے لیے مال دیتا ہے اور منافع طے شدہ تناسب سے دونوں میں تقسیم ہوتا ہے، اور ابن حجر ہیتمی کی تحفۃ المحتاج سے اس کی تعریف نقل کی۔ اس نے شرط رکھی کہ ہر فریق کا حصہ حاصل شدہ منافع کا ایک تناسب ہو؛ کسی ایک کے لیے مقررہ رقم یا سرمائے کا فیصد طے کرنا جائز نہیں، کیونکہ یہ سرمائے کی ضمانت اور مقررہ منافع کے حکم میں ہے۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ حاصل شدہ منافع کو طے شدہ تناسب سے تقسیم کرنا جائز ہے، اور سرمائے کی ضمانت کے ساتھ منافع کو ادا کردہ رقم سے جوڑنا حرام سود ہے۔

    اصل صفحہ

  • کیا آدھی رات سے پہلے سونے سے قبل کھانا سحری شمار ہوتا ہے؟

    کیا آدھی رات سے پہلے سونے سے قبل کھانا سحری شمار ہوتا ہے؟ کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ سحری وہ کھانا ہے جو آدھی رات کے بعد کھایا جائے، اور جتنا فجر کے قریب ہو اتنا بہتر ہے، جب تک فجر طلوع ہونے کا خوف نہ ہو۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ سحری وہ کھانا ہے جو آدھی رات کے بعد کھایا جائے تاکہ مسلمان روزے کے لیے قوت حاصل کرے، اور جتنا فجر کے قریب ہو اتنا بہتر ہے۔ اس نے احمد کی روایت کردہ ایک حدیث پر انحصار کیا کہ امت اس وقت تک خیر پر رہے گی جب تک افطار میں جلدی اور سحری میں تاخیر کرے، اور کہا کہ تاخیر عبادت کے لیے زیادہ قوت کا باعث ہے۔ اس نے کہا کہ یہ اس وقت ہے جب فجر طلوع ہونے کا خوف نہ ہو؛ اگر رات باقی ہونے میں شک ہو تو سحری چھوڑ دینا بہتر ہے، اور شک والی چیز چھوڑ کر بے شک چیز اختیار کرنے کے بارے میں ترمذی کی روایت کردہ حدیث پر انحصار کیا۔

    اصل صفحہ

  • پیشاب سے استبرا کا حکم اور طریقہ

    پیشاب سے استبرا کے حکم اور طریقے کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ یہ مستحب ہے، اس کا مقصد یہ غالب گمان ہے کہ پیشاب کی نالی میں کچھ باقی نہ رہے، اور اس کا طریقہ لوگوں کے لحاظ سے مختلف ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ پیشاب سے استبرا مستحب ہے، یعنی استنجا سے پہلے یقین کر لینا کہ پیشاب کی نالی میں کچھ باقی نہیں۔ اس نے کہا کہ اس کا طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ کھنکھارے، نرمی سے انگلی پھیرے تاکہ باقی ماندہ پیشاب نکل جائے، اور اگر چلنے کی ضرورت ہو تو اتنے قدم چلے جتنے سے گمان ہو کہ کچھ باقی نہیں۔ اس نے مزید کہا کہ ہر شخص اپنی طبیعت کو بہتر جانتا ہے، مختار قول یہ ہے کہ یہ لوگوں کے لحاظ سے مختلف ہے، اور مقصد یہ گمان ہے کہ نالی میں ایسا کچھ باقی نہیں جس کے نکلنے کا خدشہ ہو۔

    اصل صفحہ

  • اردن لوٹو کا حکم

    اردن لوٹو کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ یہ خیراتی لاٹری کی ایک نئی شکل ہے اور حرام جوا ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ لوٹو حقیقت میں نام نہاد خیراتی لاٹری کا ایک نیا قالب ہے، اور اس کا مقصد اردنی خیراتی لاٹری کو دوبارہ زندہ کرنا ہے۔ اس نے اپنے فتویٰ نمبر 1303 کا حوالہ دیا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ خیراتی لاٹری حرام ہے کیونکہ وہ جوئے پر قائم اور میسر کا حصہ ہے، اور اس کی آمدنی خیراتی کاموں اور فقرا کی مدد پر خرچ کرنا اسے حلال نہیں بناتا کیونکہ مقصد ذریعے کو جائز نہیں بناتا۔ اس نے کہا کہ ٹکٹ خریدنے والا نفع کی نیت سے خریدتا ہے اور پھر جیتتا یا ہارتا ہے، اور نتیجہ نکالا کہ لوٹو جوئے کی ایک صورت ہے، کیونکہ آدمی مال دیتا ہے اور نفع و نقصان کے درمیان رہتا ہے، اور یہ شرعاً حرام ہے۔

    اصل صفحہ

  • رمضان میں روزے دار کا ڈائیلاسز

    رمضان میں روزے دار کا ڈائیلاسز کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ یہ روزہ توڑ دیتا ہے، مریض کو قضا کرنی ہے، اور اگر نہ کر سکے تو فدیہ دے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ ڈائیلاسز روزہ توڑ دیتا ہے، کیونکہ طبی ماہرین کے نزدیک ڈائیلاسز کا سیال غذائیت رکھتا ہے، اور اس سے اجسام جوف میں داخل ہوتے ہیں۔ اس نے کہا کہ مریض رمضان کے بعد اس دن کی قضا کرے، اور اگر نہ کر سکے تو فدیہ دے، یعنی ہر چھوڑے ہوئے دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلائے۔

    اصل صفحہ

  • کوآپریٹو کی مرابحہ فنانسنگ میں تاخیر کا جرمانہ

    کوآپریٹو کی مرابحہ فنانسنگ میں تاخیر کا جرمانہ کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ مقروض پر تاخیر کا جرمانہ شرط کرنا حرام ہے، جبکہ کچھ اقساط میں تاخیر پر باقی تمام اقساط کے فوری واجب ہونے کی شرط جائز ہے، اور قرض خواہ ضامنوں یا رہن سے قرض محفوظ کر سکتا ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ ادائیگی پر قادر مقروض کے لیے ٹال مٹول حرام ہے، اور بخاری کی روایت کردہ حدیث سے استدلال کیا جس کا مفہوم ہے کہ مالدار کا ٹال مٹول ظلم ہے، اور ابو داود کی روایت سے کہ ایسا ٹال مٹول اسے ملامت اور سزا کا مستحق بناتا ہے؛ قرض خواہ مناسب طریقوں سے اپنے حق سے زیادہ لیے بغیر قرض کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ اس نے کہا کہ مقروض پر تاخیر کا جرمانہ یا معاوضہ عائد کرنا شریعت کے مقصد کے خلاف ہے، اور سورۃ البقرہ 2:280 کا حوالہ دیا، اور اردنی مجلسِ افتاء کی قرارداد نمبر 124 نقل کی کہ قرضوں میں شرطِ جزائی فاسد اور عقد کو فاسد کرنے والی ہے کیونکہ یہ جاہلیت کا سود ہے جو سورۃ البقرہ 2:275 میں حرام کیا گیا، اور قرطبی کی تفسیر (3/275) کا حوالہ دیا کہ عرب قرض کی مدت آنے پر اس میں اضافہ کرتے تھے۔ اس نے کہا کہ قرض خواہ یہ شرط لگا سکتا ہے کہ تاخیر کی صورت میں باقی تمام اقساط فوراً واجب ہوں، اور ترمذی کی روایت کردہ حدیث سے استدلال کیا کہ مسلمان اپنی شرطوں کے پابند ہیں سوائے اس شرط کے جو حلال کو حرام یا حرام کو حلال کرے، اور اسلامی فقہ اکیڈمی کی قرارداد نمبر 51 (2/6) سے کہ اگر مقروض عقد کے وقت راضی ہو تو یہ شرط جائز ہے؛ قرض خواہ ابتدا ہی سے ضامن یا رہن کے ذریعے قرض محفوظ کر سکتا ہے۔

    اصل صفحہ

  • یونیورسٹی کے استاد پر حاضری کی ہدایات کی پابندی

    ایک استاد کے ہفتے میں چار دن حاضری کی پابندی پر اعتراض کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ اسے بااختیار حکام کی جاری کردہ انتظامی ہدایات کی پابندی کرنی ہوگی۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ معاوضے کے عقود کے فریقین پر ان کی شرائط پوری کرنا لازم ہے، اور اس حدیث سے استدلال کیا کہ مسلمان اپنی شرطوں کے پابند ہیں، سوائے اس شرط کے جو صراحتاً شریعت کے خلاف ہو کہ حرام کو حلال یا حلال کو حرام کرے۔ اس نے کہا کہ تدریسی بوجھ، گھنٹوں اور دنوں کے لحاظ سے، ان ضوابط کے تابع ہے جنہیں بااختیار حکام نافذ کرتے ہیں، لہٰذا جب تک ذمہ دار اپنے اختیارات کے اندر اور تعلیمی مصلحت کے لیے عمل کرے، اس کے انتظامی فیصلوں کی پابندی لازم ہے۔ اس نے مزید کہا کہ جو خود کو متاثر سمجھے وہ متعلقہ اداروں سے رجوع کرے، نافرمانی یا جھگڑے سے بچے جن کا نقصان نفع سے زیادہ ہے، اور نتیجہ نکالا کہ استاد پر ہدایات کی پابندی لازم ہے جب تک وہ قوانین اور ضوابط کے مطابق ہوں۔

    اصل صفحہ

  • کمپنیوں کے حصص قرض لینا

    کمپنیوں کے حصص قرض لے کر بعد میں واپس کرنے اور ضمانت کے طور پر چیک دینے کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ حصص قرض دینا جائز نہیں، کیونکہ ان کی قیمت بدلتی رہتی ہے اور ان کا مثل واپس کرنا ممکن نہیں۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ قرض کسی کو مال دینا ہے تاکہ وہ اس سے فائدہ اٹھا کر اس کا مثل واپس کرے، اور یہ قرض لینے والے کے لیے مباح اور قرض دینے والے کے لیے مستحب ہے۔ اس نے کہا کہ حصص مشترکہ اسٹاک کمپنیوں کی ملکیت میں غیر منقسم حصے ہیں جن کی قیمت کمپنی کے اثاثوں اور سرگرمیوں کے ساتھ بدلتی ہے، اس لیے ان کا مثل واپس نہیں ہو سکتا؛ قرض اور واپسی کے وقت کی قیمت میں بڑا فرق ہو سکتا ہے جس سے شدید نقصان ہوتا ہے۔ اس نے اسلامی مالیاتی اداروں کے شرعی معیارات کے معیار نمبر 24 سے نقل کیا کہ حصص قرض دینے کی ممانعت کی بنیاد یہ ہے کہ کمپنی کے اثاثوں میں مسلسل تبدیلی کی وجہ سے واپسی کے وقت حصص قرض کے وقت والے حصص کا مثل نہیں رہتے۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ کمپنیوں کے حصص کی قیمت میں بڑے اتار چڑھاؤ کی وجہ سے انہیں قرض دینا جائز نہیں۔

    اصل صفحہ

  • سونا قرض دینا اور واپسی پر بنوائی کی اجرت کی شرط

    ایک خاتون کا سوال جو اپنی بہن کو بیچنے کے لیے سونے کا ٹکڑا قرض دینا چاہتی ہے، اس شرط پر کہ وہ اسی وزن کا ٹکڑا لوٹائے جس کی بنوائی کی اجرت بہن دے، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ سونے کا مثل وزن اور صفت میں لوٹانا لازم ہے، اور بنوائی کی اجرت کی شرط سود ہونے کی وجہ سے جائز نہیں۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ سونے کا قرض اصولاً اسی مقدار، وزن اور صفت کے سونے سے ادا ہوتا ہے، اور سونے کے بدلے سونا برابر وزن والی حدیث سے استدلال کیا، اور کہا کہ اضافہ اگر شرط ہو تو سود ہے، اور بغیر شرط ہو تو اچھی ادائیگی ہے۔ اس نے کہا کہ قرض دینے والا قرض لینے والے پر بنوائی کی اجرت کی شرط نہیں لگا سکتا، کیونکہ سونا ان سودی اموال میں سے ہے جن کا اپنی جنس سے تبادلہ برابری کے ساتھ لازم ہے، اور اعتبار خالص سونے کے برابر وزن کا ہے، معیار یا بنوائی کا نہیں۔ اس نے تقی الدین السبکی کی تکملۃ المجموع سے استدلال کیا کہ شریعت نے معیار کا اعتبار ساقط کیا ہے، اور شافعی کی الام سے کہ سنار سے چاندی کے بدلے بنی ہوئی چاندی کے زیور لینا اور ساتھ اجرت دینا درست نہیں کیونکہ یہ کمی بیشی ہے۔ اس نے مزید کہا کہ پرانے ٹکڑے کے بدلے نیا ٹکڑا لوٹانے میں حرج نہیں بشرطیکہ وزن اور صفت برابر ہوں۔

    اصل صفحہ

  • جب بینک فوت شدہ قرض دار کا قرض معاف کر دے تو جس کے لیے اس نے قرض لیا اس کا کیا حکم؟

    ایسے شخص کا سوال جس کے لیے کسی نے سودی بینک سے قرض لیا اور پھر فوت ہو گیا اور انشورنس نے قرض ادا کر دیا، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ حکم دونوں کے باہمی تعلق کی صورت پر موقوف ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے پہلے کہا کہ سود پر قرض لینا حرام اور کبیرہ گناہ ہے، اور جو اس میں پڑ جائے اسے سچی توبہ کرنی چاہیے۔ پھر اس نے دو صورتوں میں فرق کیا۔ پہلی یہ کہ سائل نے فوت شدہ کو اپنے لیے قرض لینے کا وکیل بنایا ہو: یہ وکالت ہے، کیونکہ وکیل نے اپنے لیے نہیں بلکہ اپنے موکل کے لیے قرض لیا جو اصل قرض دار ہے، اور وکیل کے تصرفات موکل کی مصلحت سے وابستہ ہوتے ہیں جیسا کہ تاج الدین السبکی نے بیان کیا؛ لہٰذا اگر بینک نے وکیل سے قرض ساقط کر دیا تو موکل سے بھی ساقط ہو گیا اور اس پر ورثہ کو باقی رقم دینا لازم نہیں۔ دوسری یہ کہ سائل نے فوت شدہ سے قرض مانگا ہو اور اس کا ذریعہ متعین نہ کیا ہو، پھر فوت شدہ نے بینک سے قرض لے کر اسے دیا ہو: یہ دو الگ عقد ہیں، اور بینک کا قرض ساقط ہونے سے سائل کا فوت شدہ کو واجب الادا قرض ساقط نہیں ہوتا۔ اس نے اسی سے ملتی صورت میں اپنی افتاء کونسل کے سابقہ فیصلے نمبر 251 بابت 2018 کا حوالہ دیا۔

    اصل صفحہ

  • عوامی مقامات پر قرآن اور ذکر کے لیے لاؤڈ اسپیکر

    عوامی مقامات پر قرآن اور ذکر کے لیے لاؤڈ اسپیکر کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ لاؤڈ اسپیکر پر بلند آواز سے ذکر ان جگہوں میں جائز ہے جو فطرتاً شور والی ہوں، جیسے بازار، ایسی آواز میں جو جگہ کے مناسب ہو اور کسی کو تکلیف نہ دے، جبکہ گنجان رہائشی علاقوں میں ہر وہ بلند آواز جائز نہیں جو ان کے سکون کو خراب کرے، کیونکہ پریشان کرنا اور تکلیف دینا ممنوع ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ اسلام نے اللہ کے ذکر پر ابھارا اور اس پر بڑا اجر رکھا، اور سورۃ الاحزاب 33:35، ترمذی کی روایت کردہ حدیث جس کا مفہوم ہے کہ اللہ کا ذکر بہترین اور پاکیزہ ترین عمل ہے، سورۃ الانبیاء 21:1 میں غفلت کی مذمت، اور سورۃ النساء 4:103 میں ذکر کی مطلق ترغیب کا حوالہ دیا۔ اس نے کہا کہ بلند آواز سے ذکر، خود یا ریکارڈنگ کے آلات سے، اگر لوگوں کو پریشانی یا صوتی تکلیف دے تو ممنوع ہے، اور مؤطا امام مالک کی حدیث سے استدلال کیا جس کا مفہوم ہے کہ نمازی اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے، اس لیے کوئی دوسرے پر بلند آواز سے قرآن نہ پڑھے، اور مرعاۃ المفاتیح (3/167) سے نقل کیا کہ یہ ممانعت نماز کے اندر اور باہر، نمازی، سونے والے یا تلاوت کرنے والے سب کو شامل ہے، کیونکہ اس سے تکلیف ہوتی ہے۔ اس نے کہا کہ جو جگہیں فطرتاً شور والی ہیں، جیسے بازار اور بعض پارک، ان میں بلند آواز سے ذکر اصلاً جائز ہے اور اسے روکنا نہیں چاہیے، اور بخاری کی روایت کردہ اثر کا حوالہ دیا کہ ابن عمر اور ابو ہریرہ ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں میں بازار جا کر تکبیر کہتے اور لوگ ان کے ساتھ تکبیر کہتے، اور متفق علیہ حدیث میں ابن عباس کا قول کہ فرض نماز کے بعد بلند آواز سے ذکر نبی کے زمانے میں ہوتا تھا۔ شرط یہ ہے کہ آواز جگہ کے مناسب ہو اور لوگوں کی باہمی گفتگو میں رکاوٹ نہ بنے؛ اور جو محض ذکر سننا نہ چاہے اس کے پریشانی کے دعوے کا اعتبار نہیں۔ رہے گنجان رہائشی علاقے جہاں لوگ رہتے، سوتے اور آرام کرتے ہیں، تو ڈیپارٹمنٹ کے نزدیک اصلاً ہر وہ بلند آواز جائز نہیں جو ان کے سکون کے منافی ہو، چاہے ذکر ہو، تلاوت ہو یا کچھ اور، کیونکہ ان میں سونے والے، بیمار اور نمازی ہوتے ہیں، اور شریعت نے لوگوں پر نرمی کا حکم دیا ہے۔

    اصل صفحہ

  • کوئلہ بنانے کا کارخانہ قائم کرنا

    کوئلہ بنانے کا کارخانہ قائم کرنے کے بارے میں سوال، جبکہ کوئلہ کئی کاموں میں استعمال ہوتا ہے، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ کوئلہ بنانے اور بیچنے میں حرج نہیں جب اس کا جائز استعمال ممکن ہو، اور جو قسم صرف حرام استعمال کے لیے ہو اس کا بنانا اور بیچنا حرام ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ کوئلہ بنانے اور اس کی مارکیٹنگ کے کام میں حرج نہیں، کیونکہ یہ پاک اور مفید سامان ہے جس کی فطرت غیر جانبدار ہے: یہ کھانا پکانے، گرمائش اور بخور جلانے جیسے جائز کاموں میں بھی استعمال ہوتا ہے اور حقہ جلانے یا حرام کھانا پکانے جیسے حرام کاموں میں بھی، اور گناہ اس پر ہے جو اسے حرام طریقے سے استعمال کرے۔ اس نے کہا کہ اگر کوئلے کی کوئی قسم صرف حرام استعمال کے لیے متعین ہو اور اس کے سوا استعمال ممکن نہ ہو تو اس کا بنانا اور بیچنا حرام ہوگا۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ جب کوئلے کا جائز استعمال، جیسے کھانا پکانا اور گرمائش، ممکن ہو تو اسے بنانے اور بیچنے میں حرج نہیں، لیکن جو قسم صرف حرام استعمال کے لیے مخصوص ہو اور اس کا کوئی اور استعمال ممکن نہ ہو اس کا بنانا اور بیچنا حرام ہے۔

    اصل صفحہ

  • زچگی اور امراضِ نسواں کی تعلیم اور پیشے کے ضوابط

    ایک میڈیکل طالب علم کا سوال جو زچگی اور امراضِ نسواں کی عملی کلاسوں میں شرکت، مردوں کے اس شعبے میں تخصص، اور مریضاؤں کو طلبہ کے سامنے معائنے پر مجبور کرنے کے بارے میں تھا، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ اصل یہ ہے کہ عورت عورت کا علاج کرے، ضرورت کو اس کی حد تک رکھا جائے، اور مریضہ کو مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ شریعت علاج اور طب سیکھنے کی ترغیب دیتی ہے، جسے فقہاء فرضِ کفایہ شمار کرتے ہیں اور وہ کسی ایک جنس تک محدود نہیں، لیکن اصل یہ ہے کہ عورت عورت کا اور مرد مرد کا علاج کرے، اور ضرورت کو اس کی حد تک رکھا جائے۔ اس نے کہا کہ یہی حکم تعلیم کا ہے: عورت عورت کو اور مرد مرد کو سکھائے، اور دونوں جنسوں کے ماہرین مہیا کرنے کی کوشش لازم ہے؛ جہاں ہم جنس ماہر میسر نہ ہو وہاں ضرورت کی بنا پر مرد عورت کا یا عورت مرد کا علاج ضوابط کی پابندی کے ساتھ کر سکتے ہیں، اور بجیرمی کے حاشیے سے نقل کیا۔ تعلیم میں پہلے ایسے تعلیمی ذرائع اختیار کیے جائیں جو ستر کھولے بغیر مقصد پورا کریں؛ اگر یہ ممکن نہ ہو تو عملی مشق ہم جنس طلبہ کے درمیان ضرورت کی حد تک ہو۔ اس نے کہا کہ مریضہ کو مرد ڈاکٹر یا زیرِ تربیت طالب علم سے علاج پر مجبور کرنا مریض کی رازداری کے تحفظ کے ضوابط کے خلاف ہے، اور خاتون ڈاکٹر یا تربیت پانے والی میسر ہو تو شرعاً جائز نہیں۔

    اصل صفحہ

  • عقیقہ اور قربانی کے جانور کی کم از کم عمر

    عقیقہ اور قربانی کے جانور کی کم از کم عمر کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ کم از کم عمر اونٹ میں پانچ سال، گائے اور بکری میں دو سال، اور بھیڑ میں ایک سال ہے، اور چھ ماہ سے زیادہ کی بھیڑ بڑی اور موٹی ہو تو جائز ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ قربانی اور عقیقہ کی کم از کم عمر اونٹ میں پانچ سال پورے ہو کر چھٹے میں داخل ہونا، گائے اور بکری میں دو سال پورے ہو کر تیسرے میں داخل ہونا، اور بھیڑ میں ایک سال پورا ہو کر دوسرے میں داخل ہونا ہے۔ اس نے کہا کہ بھیڑ چھ ماہ سے زیادہ کی بھی ہو سکتی ہے بشرطیکہ بڑے جسم والی اور موٹی ہو۔

    اصل صفحہ

  • مسجد تعمیر کمیٹی کا تعمیری عطیات سے گاڑی کرائے پر لینا

    مسجد تعمیر کمیٹی کا تعمیری عطیات سے گاڑی کرائے پر لینا کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ تعمیری عطیات کا کوئی حصہ ان کے مقصد کے سوا خرچ کرنا حرام ہے، اور حل یہ ہے کہ کمیٹی عطیہ دہندگان کو بتا کر انتظامی اخراجات کے لیے عطیات جمع کرے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ مسجد تعمیر کمیٹیوں کے لیے مسجد کی تعمیر کے عطیات میں سے کچھ بھی اس مقصد کے سوا خرچ کرنا حرام ہے جس کے لیے وہ جمع کیے گئے، کیونکہ عطیات عطیہ دہندہ کی نیت اور شرط کے مطابق خرچ ہوتے ہیں، عطیہ دہندہ واقف کے درجے میں ہے، اور واقف کی شرط کی پابندی اصل ہے۔ اس نے نہایۃ المطلب (8/362) میں امام الحرمین الجوینی کا قول پیش کیا کہ مستحقین کی صفات، مقدار اور ترتیب میں واقف کی شرط کی طرف رجوع کیا جائے، اور المہذب (2/328) میں شیرازی کا قول کہ وقف کی آمدنی واقف کی شرط کے مطابق خرچ ہو کیونکہ صحابہ نے وقف کیے اور اپنی شرطیں لکھیں۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ عطیات میں سے کچھ بھی گاڑی کے کرائے یا کسی اور چیز پر خرچ کرنا جائز نہیں، اور اگر ذمہ دار گناہ سے بچنا چاہیں تو تعمیر کمیٹی کے انتظامی امور کے لیے کچھ عطیات الگ سے جمع کریں، بشرطیکہ عطیہ دہندگان کو اس کی اطلاع دی جائے۔

    اصل صفحہ

  • مسجد کے عطیات سے امام کے مکان کا کرایہ ادا کرنا

    مسجد سے باہر امام کے مکان کا کرایہ عطیات کے صندوق سے ادا کرنے کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ عطیات اسی مقصد میں خرچ ہوں جس کے لیے جمع کیے گئے، اور مسجد کمیٹی اوقاف کے ڈائریکٹر کی منظوری سے امام کے لیے مکان کرائے پر لے سکتی ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ مسجد کی دیکھ بھال کمیٹی جو کچھ مسجد کے اخراجات اور مرمت کے نام پر جمع کرتی ہے وہ مسجد پر وقف کی طرح ہے، اور اس میں عطیہ دہندہ کی شرط کا لحاظ رکھا جاتا ہے جب تک شریعت کے خلاف نہ ہو۔ اس نے مسجد کے لیے وقف کو دو قسموں میں تقسیم کیا: جو خود مسجد کے لیے ہو جیسے فرش، سامان، کتابیں اور تعمیر، اور جو اس کے منتظمین کے لیے ہو جیسے امام یا مؤذن کا مکان؛ دوسری قسم کے لیے جمع کیے گئے عطیات ناظرِ وقف، یعنی وزارتِ اوقاف جس کی نمائندگی کمیٹی کرتی ہے، کی اجازت سے امام کے مکان پر خرچ ہو سکتے ہیں۔ اگر کمیٹی نے لوگوں کو مقصد نہ بتایا ہو تو معاملہ وزارت کی طرف سے مجاز کمیٹی کی رائے پر ہے، مسجد اور اس کی سہولیات کے مفاد کا لحاظ رکھتے ہوئے، اور اس نے پسند کیا کہ عطیات 'مسجد کے مصالح' کے نام پر جمع کیے جائیں۔ اس نے ذکر کیا کہ 2004 کے مساجد و دور القرآن ضابطہ نمبر 95 کی دفعہ 25 کمیٹی کو ایسے دیگر امور کی اجازت دیتی ہے جنہیں ڈائریکٹر تحریری طور پر منظور کرے، لہٰذا وہ امام کے لیے مکان کرائے پر لینے کی منظوری کے لیے اوقاف کے ڈائریکٹر سے رجوع کر سکتی ہے۔

    اصل صفحہ

  • مسجد کا وقف شدہ سامان دوسری مسجد منتقل کرنا

    مسجد کے وقف شدہ قالین اور کتابیں ایک مسجد سے دوسری میں منتقل کرنے کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ اصولاً انہیں اپنی مسجد میں رہنا چاہیے، البتہ وہاں قابلِ استعمال نہ رہیں تو منتقل کیے جا سکتے ہیں۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ مسجد میں وقف کے طور پر رکھی گئی ہر چیز پر وقف کے احکام لاگو ہوتے ہیں: اس کا فائدہ عام مسلمانوں کے لیے رہتا ہے اور کوئی اس کا مالک نہیں، اور کسی خاص مسجد پر وقف چیز واقف کی منشا کے احترام میں اصولاً وہیں رہے، لہٰذا نہ اسے بیچا جا سکتا ہے، نہ ہبہ کیا جا سکتا ہے اور نہ کسی نجی فریق کو عاریتاً دیا جا سکتا ہے۔ اس نے کہا کہ جو وقف اشیا بوسیدہ ہو جائیں یا ان کی جگہ ان جیسی چیزیں آ جائیں، انہیں بیچنا یا منتقل کرنا جائز ہے جب یہ ثابت ہو کہ وہ اسی مسجد میں قابلِ استعمال نہیں اور اس پر بوجھ بن گئی ہیں، کیونکہ منتقلی سے وقف کا مقصد پورا ہوتا ہے چاہے دوسری جگہ ہو، اور انہیں چھوڑ دینے سے فائدہ مکمل ضائع ہوتا ہے۔ اس نے نووی کی روضۃ الطالبین سے استدلال کیا کہ مسجد کی بوسیدہ چٹائیاں صحیح تر قول پر بیچ دی جاتی ہیں تاکہ ضائع نہ ہوں، اور اعانۃ الطالبین سے کہ مسجد کی چٹائیاں اور قندیلیں ضرورت نہ ہونے پر دوسری مسجد منتقل کی جا سکتی ہیں۔ اس نے تنبیہ کی کہ ایسے معاملات میں فیصلہ وقف کے اموال کے ذمہ دار اداروں کا ہے۔

    اصل صفحہ

  • میت کی باقیات خاندانی قبرستان منتقل کرنا

    میت کی باقیات خاندانی قبرستان منتقل کرنا کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ جب تک قبر میں میت کی ہڈیاں موجود ہوں قبر کھولنا اور باقیات منتقل کرنا جائز نہیں، اور زیارت کی مشکل ایسی ضرورت نہیں جو قبر کشائی کو جائز کرے، کیونکہ میت کے لیے دور سے دعا کی جا سکتی ہے اور وقفے وقفے سے زیارت ہو سکتی ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ میت کی حرمت اور عزت ہے، اور سورۃ الاسراء 17:70 کا حوالہ دیا، اور کہا کہ جب تک قبروں میں مردوں کی ہڈیاں ہوں انہیں کھولنا یا ہٹانا جائز نہیں؛ اور ہڈیاں سینکڑوں سال بعد ہی گلتی ہیں، جیسا کہ ملک میں مشاہدہ ہے۔ اس نے اس بات پر کہ مردوں کی حرمت زندوں جیسی ہے، ابو داود کی روایت کردہ حدیث سے استدلال کیا جس کا مفہوم ہے کہ میت کی ہڈی توڑنا زندگی میں توڑنے جیسا ہے، اور مسلم کی روایت کردہ حدیث سے جس کا مفہوم ہے کہ ایسے انگارے پر بیٹھنا جو کپڑے جلا کر جلد تک پہنچ جائے قبر پر بیٹھنے سے بہتر ہے؛ اور میت کی عزت میں یہ بھی ہے کہ اس کی قبر نہ کھولی جائے اور اس کی حرمت پامال نہ ہو۔ اس نے کہا کہ جس جگہ میت دفن ہو وہ اس کے لیے وقف شمار ہوتی ہے، اور عام قبرستان میں دفن بہتر ہے تاکہ دعا اور زیارت کرنے والے زیادہ ہوں؛ چونکہ اسے نجی قبرستان میں دفن کیا گیا ہے، اس لیے اسے زیارت اور دعا کی خاطر گھر والوں کے قریب منتقل کرنے کی کوئی حاجت یا ضرورت نہیں، کیونکہ دعا دور سے ہو سکتی ہے اور مشکل ہو تو زیارت وقفے وقفے سے ہو سکتی ہے۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ میت کی باقیات مکمل گل جانے سے پہلے قبر کھولنا جائز نہیں۔

    اصل صفحہ

  • حرمین میں نماز کا بڑھا ہوا اجر نفل کو بھی شامل ہے

    حرمین میں نماز کا بڑھا ہوا اجر نفل کو بھی شامل ہے کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ حرمین میں نماز کے بڑھے ہوئے اجر میں فرض اور نفل کا کوئی فرق نہیں کیونکہ احادیث مطلق ہیں، اور یہ حرم کے اندر کسی بھی جگہ نماز کو شامل ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ حرمین میں اجر بڑھنے کی احادیث میں فرض اور نفل کا کوئی فرق نہیں، کیونکہ صحیح احادیث مطلق اور عام ہیں، اس لیے بلا دلیل ان کی تخصیص جائز نہیں، اور المجموع (8/476) میں نووی سے نقل کیا کہ شافعیہ کا مذہب ہے کہ مکہ اور مدینہ کی مسجدوں میں نماز کی فضیلت فرض اور نفل دونوں کو شامل ہے۔ اس نے کہا کہ یہ اضافہ اس کے لیے ہے جو مسجدِ حرام میں یا حرم کے اندر کسی بھی جگہ نماز پڑھے، اور تحفۃ المحتاج پر شروانی کے حواشی (10/95) سے نقل کیا کہ نووی کے نزدیک اصح یہ ہے کہ یہ اضافہ پورے حرم کو شامل ہے اور مسجد یا مکہ کے ساتھ خاص نہیں۔

    اصل صفحہ

  • مسلمان مزدوروں کا مسیحی قبرستان کی تعمیر میں کام کرنا

    اس بارے میں سوال کہ کیا مسلمان مزدور ایسے مسیحی قبرستان کی تعمیر میں کام کر سکتے ہیں جس میں مسیحی مردے دفن ہوں گے؛ اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ مسلمان مزدور ہمارے ملک کے مسیحیوں اور دوسروں سمیت غیر مسلموں کے قبرستانوں کی تعمیر اور تیاری میں کام کر سکتے ہیں، کیونکہ یہ نیکی اور اچھا سلوک ہے، اور غیر مسلموں سے معاملے میں اصل سورہ ممتحنہ کی نص سے عدل اور احسان ہے؛ یہ اہلِ ذمہ کے حقوق میں سے اور سورہ اسراء کی آیت میں اللہ کے انسان کو عزت دینے کی علامت ہے۔ سنت، آثار اور فقہا کے اقوال مسلمان کے لیے جائز قرار دیتے ہیں کہ وہ اجرت پر یا رضاکارانہ طور پر غیر مسلموں کی ان کاموں میں مدد کرے جو انسانی وقار قائم کریں، جن میں ان کی تدفین شامل ہے: نبی نے علی کو ابو طالب کو دفن کرنے کا حکم دیا جو اسلام پر نہیں مرے تھے، جیسا کہ نسائی کی سنن میں ہے، اور ابن عباس نے ایک مسیحی کے بارے میں جس کا بیٹا مسلمان تھا کہا کہ بیٹے کو اس کے جنازے کے ساتھ جانا اور اسے دفن کرنا چاہیے تھا۔ ڈیپارٹمنٹ نے جوینی کی نہایۃ المطلب سے نقل کیا کہ غیر مسلم میت کو، جس کا اپنے دین کا کوئی ولی نہ ہو، کفن دینا اور دفن کرنا مسلمانوں پر فرضِ کفایہ ہے، شربینی کی مغنی المحتاج سے کہ اصح قول پر ذمی کو کفن دینا اور دفن کرنا بیت المال سے پھر مسلمانوں پر واجب ہے، اور بہوتی کی کشاف القناع سے کہ ذمی کے لیے اجرت پر قبر کھودنے میں کوئی مضائقہ نہیں؛ لہٰذا غیر مسلموں کے قبرستانوں میں کام کرنے والے مسلمان پر کوئی حرج نہیں۔

    اصل صفحہ

  • کیا اعتکاف کی مسجد میں جمعہ ہونا شرط ہے؟

    کیا اعتکاف کی مسجد میں جمعہ ہونا شرط ہے؟ کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ یہ شرط نہیں، سوائے اس کے جس نے ایسے مسلسل اعتکاف کی نذر مانی ہو جس کے درمیان جمعہ آتا ہو۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ اعتکاف کی مسجد میں جمعہ کا ہونا شرط نہیں۔ اس نے اس شخص کو مستثنیٰ کیا جس نے ایسے مسلسل اعتکاف کی نذر مانی ہو جس کے درمیان جمعہ آتا ہو؛ اس کا اعتکاف ایسی مسجد میں ہونا ضروری ہے جہاں جمعہ ہوتا ہو، تاکہ جمعہ کے لیے نکلنے سے تسلسل نہ ٹوٹے۔

    اصل صفحہ

  • ناخن پالش کے ساتھ وضو اور غسل

    ایک خاتون کے بارے میں سوال جس نے ناخنوں پر پالش کے ساتھ وضو یا غسل کیا، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ وضو یا غسل سے پہلے پالش اتارنا واجب ہے کیونکہ یہ پانی پہنچنے سے روکنے والی رکاوٹ ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ وضو یا غسل سے پہلے ناخن پالش اتارنا واجب ہے تاکہ یقینی ہو کہ پانی اس کے نیچے تک پہنچے، کیونکہ یہ پانی پہنچنے سے روکنے والی رکاوٹ شمار ہوتی ہے۔ اس نے علی کی روایت کردہ اس حدیث کا حوالہ دیا جس میں جنابت کے غسل میں ایک بال کی جگہ بھی پانی کے بغیر چھوڑ دینے پر وعید ہے۔

    اصل صفحہ

  • پہلی خریداری کی رعایت کے لیے نئے اکاؤنٹ بنانا

    پہلی خریداری کی رعایت کے لیے نئے اکاؤنٹ بنانا کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ مسلمان پر سچائی لازم ہے، اور اسی خریدار کے لیے نیا اکاؤنٹ بنانے میں ویب سائٹ کی ہدایات کی پابندی ضروری ہے؛ ان کی خلاف ورزی ہو تو جائز نہیں۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ مسلمان پر اپنے قول و فعل میں سچائی لازم ہے، اور سورۃ الانفال 8:27، سورۃ التوبہ 9:119 اور اس حدیث کا حوالہ دیا جسے اس نے بخاری کی طرف منسوب کیا، جس کا مفہوم ہے کہ جو مسلمانوں کو دھوکہ دے وہ ان میں سے نہیں۔ اس نے کہا کہ اسی خریدار کے لیے نیا اکاؤنٹ بنانے میں ویب سائٹ کی ہدایات کا لحاظ ضروری ہے؛ اگر ان کی خلاف ورزی ہو تو یہ جائز نہیں۔

    اصل صفحہ

  • تراویح کی رکعات کی تعداد

    تراویح کی رکعات کی تعداد کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ اس کی کامل صورت شفع اور وتر کے علاوہ بیس رکعات ہے، اور اس کی اصل کسی بھی جفت تعداد سے، حتیٰ کہ دو رکعات سے، حاصل ہو جاتی ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ تراویح کی کامل صورت شفع اور وتر کے علاوہ بیس رکعات ہے، اور کہا کہ یہی سلف و خلف کے جمہور علما کا موقف ہے اور حرمین شریفین کے علاقے میں اسی پر عمل ہے۔ اس نے کہا کہ تراویح کی اصل قیامِ رمضان کی نیت سے کسی بھی جفت تعداد، حتیٰ کہ دو رکعات، سے حاصل ہو جاتی ہے۔

    اصل صفحہ

  • بارش کی وجہ سے نمازیں جمع کرنے پر امام پر اعتراض

    بارش کی وجہ سے نمازیں جمع کرنے پر امام پر اعتراض کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ نمازیوں کے لیے اس معاملے میں امام پر اعتراض جائز نہیں، چاہے جمع کرنے کا مطالبہ ہو یا نہ کرنے کا۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ نمازیوں میں سے کسی کے لیے مسجد میں امام پر اعتراض جائز نہیں، چاہے اعتراض جمع کرنے کے مطالبے کے لیے ہو یا اسے ترک کرنے کے لیے۔ اس نے وجہ یہ بتائی کہ اصل یہ ہے کہ امام کے پاس وہ شرعی علم ہے جو اسے اس معاملے میں فیصلہ کرنے کا اہل بناتا ہے۔

    اصل صفحہ

  • زیتون چننے کی اجرت تیل کے کنستروں میں

    کھیتوں کے مالکان کے بارے میں سوال جو زیتون چننے والوں کو اس شرط پر دیتے ہیں کہ مالک کو تیل کے مقررہ کنستر ملیں، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ غرر کی وجہ سے یہ درست نہیں، البتہ پیداوار تناسب سے تقسیم ہو تو درست ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے واضح کیا کہ جذاذ ایسا عقد ہے جس میں مزدور درختوں کی دیکھ بھال کے بغیر موسم میں زیتون چنتا ہے؛ شافعیہ کے نزدیک اصل یہ ہے کہ اجرت پہلے سے طے شدہ اور معلوم ہو، پیداوار کا تناسب نہیں، جبکہ حنابلہ پیداوار کے حصے کو اجرت بنانے کی اجازت دیتے ہیں بشرطیکہ وہ نصف یا تہائی جیسا تناسب ہو۔ اس نے کہا کہ مالک کا پسائی کے بعد تین کنستر تیل کی شرط لگانا غرر اور جہالت کی وجہ سے درست نہیں، کیونکہ تیل مطلوبہ تعداد سے کم ہو سکتا ہے۔ اس نے بہوتی کی دقائق اولی النہیٰ سے نقل کیا کہ کسی چیز کو اس کی پیداوار کے مشترک حصے پر کام کرنے والے کے حوالے کرنا درست ہے، جیسے مساقات میں درخت، اور ممنوع قفیز الطحان سے مراد پیداوار کی مقررہ مقدار ہے جس سے مزدور کا فائدہ نامعلوم رہتا ہے۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ نصف یا تہائی جیسے تناسب کے بدلے چنائی اور پسائی کا معاہدہ جائز ہے، اور دو یا تین کنستر تیل کے بدلے جائز نہیں۔

    اصل صفحہ

  • مسجد کے احاطے میں زیتون کے درخت

    مسجد کے احاطے میں زیتون کے درخت کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ مسجد کے لیے لگائے گئے درخت کا پھل مسجد کی ضروریات میں صرف ہوگا، عام لوگوں کے لیے لگائے گئے درخت سے مسجد میں آنے والا کھا سکتا ہے، اور مسجد کے اخراجات عطیہ کرنے والا والد اپنے عطیے کا عوض نہیں لے سکتا؛ وزارتِ اوقاف سے رجوع ضروری ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ مسجد میں پھل دار درخت اگر مسجد کے لیے لگائے گئے ہوں تو ان کا پھل صرف مسجد کے مفادات میں خرچ ہوگا؛ اگر عام لوگوں کے لیے لگائے گئے ہوں تو مسجد میں آنے والا ہر مسلمان ان سے کھا سکتا ہے؛ اور اگر لگانے والے کی نیت معلوم نہ ہو تو جہاں ایسا رواج ہو وہ عام کے لیے وقف شدہ کی طرح ہیں۔ اس نے تحفۃ المحتاج (6/295) پر اعتماد کیا کہ مسجد کے لیے لگائے گئے درخت کا پھل بلا عوض مباح نہیں بلکہ امام اس کا عوض مسجد کے مفادات میں خرچ کرے گا، جبکہ عام کے لیے لگائے گئے درخت سے بلا عوض کھانا جائز ہے، اور امام مناسب سمجھے تو درخت اکھاڑ سکتا ہے۔ اس نے کہا کہ والد متبرع ہیں، اس لیے مسجد کو دیے گئے عطیے کا عوض نہیں لے سکتے، اور وزارتِ اوقاف وقف کے معاملات کی نگران ہے، لہٰذا اس سے اور ان امور کو منظم کرنے والی شرعی و انتظامی ہدایات سے رجوع ضروری ہے۔

    اصل صفحہ

  • ایک قربانی پورے گھرانے کی طرف سے

    اس سوال کے بارے میں کہ کیا ایک قربانی پورے گھرانے کی طرف سے کافی ہے چاہے قربانی کرنے والی بیوی ہو یا اولاد میں سے کوئی، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ یہ ایک گھرانے کے حق میں سنت کفایہ ہے: اگر کوئی ایک کر لے تو باقیوں سے مطالبہ ساقط ہو جاتا ہے، جبکہ ثواب قربانی کرنے والے کا ہے سوائے اس کے کہ وہ دوسروں کو شریک کرے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ قربانی صاحب استطاعت کے لیے سنت مؤکدہ ہے، یعنی اس کے لیے جس کے پاس عید کے دن اور رات اور ایام تشریق کی ضرورت سے زائد اتنا ہو کہ قربانی کا جانور خرید سکے۔ اس نے کہا کہ یہ ان گھر والوں کے حق میں سنت کفایہ ہے جن کا نان نفقہ ایک شخص کے ذمے ہو: اگر ان میں سے کوئی ایک کر لے، چاہے وہ نفقے کا ذمہ دار نہ ہو جیسے بیوی یا اولاد میں سے کوئی، تو باقیوں سے مطالبہ ساقط ہو جاتا ہے، جیسے بعض کے ادا کرنے سے نماز جنازہ سب سے ساقط ہو جاتی ہے، البتہ ثواب قربانی کرنے والے کے سوا کسی کو نہیں ملتا سوائے اس کے کہ وہ انہیں شریک کرنے کی نیت کرے۔ اس نے فتح الوہاب پر حاشیے میں سلیمان الجمل کا قول نقل کیا کہ سنت کفایہ ہونے کا مطلب کیا ہے، اور ان کا یہ بیان کہ نووی نے صحیح مسلم کی شرح میں کہا کہ دوسرے کو اس کے ثواب میں شریک کرنا جائز ہے۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ قربانی صاحب استطاعت کے لیے سنت مؤکدہ اور ایک گھرانے کے لیے سنت کفایہ ہے: اگر کوئی ایک، چاہے وہ کمانے والا نہ ہو، کر لے تو باقیوں سے مطالبہ ساقط ہو جاتا ہے، اور قربانی کرنے والا جسے چاہے اس کے ثواب میں شریک کر سکتا ہے۔

    اصل صفحہ

  • ذاتی استعمال کے لیے روایتی بینک میں اکاؤنٹ کھولنا

    ذاتی استعمال کے لیے روایتی بینک میں اکاؤنٹ کھولنا کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ اگر اختیار ہو تو مسلمان کے لیے سودی بینک میں اکاؤنٹ کھولنا، چاہے بغیر سود ہو، حرام ہے کیونکہ یہ سود میں مدد ہے، البتہ شدید ضرورت اور اسلامی بینک ممکن نہ ہونے کی صورت میں جائز ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ اگر مسلمان کو اختیار ہو تو اس کے لیے سودی بینکوں میں اکاؤنٹ کھولنا حرام ہے، چاہے وہ بغیر سود ہو، کیونکہ اس میں سود پر مدد ہے، اور نیکی اور تقویٰ میں تعاون کا حکم اور گناہ و زیادتی میں تعاون کی ممانعت والی آیت سورۃ المائدہ 5:2 کا حوالہ دیا۔ اس نے وجہ یہ بتائی کہ یہ بینک رقوم کو حرام سودی معاملات میں لگاتے ہیں، اس لیے ان میں رقم رکھنا حرام پر مدد ہے۔ اس نے کہا کہ اگر سودی بینک میں اکاؤنٹ کھولنے کی شدید ضرورت ہو اور اسلامی بینک میں کھولنا ممکن نہ ہو تو کوئی حرج نہیں، اور بینکوں کے سود اور انعامات کے حکم کے لیے اپنے فتویٰ نمبر 471 کا حوالہ دیا۔

    اصل صفحہ

  • والدین کی اطاعت جب وہ مسجد میں باجماعت نماز سے روکیں

    ایک نوجوان کا سوال جسے اس کے گھر والے مسجد میں باجماعت نماز سے روکتے ہیں، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ اگر وہ کسی واضح مصلحت سے روکیں تو اطاعت لازم ہے، اور اگر ضد یا وہم کی بنا پر روکیں تو لازم نہیں۔ ڈیپارٹمنٹ نے واضح کیا کہ باجماعت نماز مشروع ہے، اس کے لیے کم از کم دو افراد چاہییں، اور اس کی فضیلت گھر یا کام کی جگہ بھی حاصل ہو سکتی ہے؛ یہ مقیم مردوں پر فرض نمازوں میں فرضِ کفایہ ہے اور مرد کے لیے مسجد میں افضل ہے، اور اس نے جماعت چھوڑنے کے عمومی عذر، جیسے شدید بارش یا سردی، اور ذاتی عذر، جیسے بیماری یا جان و مال کا خوف، بیان کیے۔ اس نے کہا کہ اگر والدین کسی واضح مصلحت سے روکیں، بیٹے کو ایسے نقصان سے بچانے کے لیے جس کا انہیں غالب گمان ہو، جیسے وبا کے دوران بیماری یا فتنوں میں اغوا یا حملہ، یا اپنی مصلحت کے لیے، جیسے بڑھاپا، بیماری یا اس کی صحبت کی خواہش، تو اطاعت لازم ہے۔ اور اگر وہ ضد یا وہم کی بنا پر روکیں تو عاقل اور سمجھ دار بیٹے پر اطاعت لازم نہیں، کیونکہ واجب اطاعت اسی میں ہے جس میں ان کی واضح مصلحت ہو؛ اس نے ابن حجر الہیتمی کی الفتاویٰ الفقہیۃ الکبریٰ کے ایک جواب سے استدلال کیا جو ایسے باپ کے بارے میں تھا جس نے بری صحبت کے خوف سے اپنے سمجھ دار بیٹے کو علم حاصل کرنے سے روکا۔ آخر میں اس نے کہا کہ بیٹا ہر حال میں والدین سے نرمی کا برتاؤ کرے۔

    اصل صفحہ

  • قریبی مسجد چھوڑ کر دور کی مسجد جانا

    قریبی مسجد چھوڑ کر دور کی مسجد جانا کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ دور کی بڑی جماعت والی مسجد میں نماز بہتر ہے جب تک قریبی مسجد کی جماعت اس کی غیر موجودگی سے متاثر نہ ہو؛ اگر متاثر ہو تو قریبی مسجد بہتر ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ اگر دور کی مسجد کی جماعت بڑی ہو اور قریبی مسجد کی جماعت نمازی کی غیر موجودگی سے متاثر نہ ہو تو دور کی مسجد میں نماز پڑھنا بہتر ہے۔ اس نے کہا کہ اگر قریبی مسجد کی جماعت اس کی غیر موجودگی سے متاثر ہو، مثلاً وہ اس کا امام ہو یا اس کے آنے سے لوگ آتے ہوں، تو قریبی مسجد میں نماز بہتر ہے، تاکہ شہر میں دو جگہ جماعت قائم ہو۔ اس نے احمد، ابو داود اور نسائی کی روایت کردہ ایک حدیث پر انحصار کیا کہ آدمی کی دوسروں کے ساتھ نماز اکیلے کی نماز سے زیادہ پاکیزہ ہے، اور جماعت جتنی بڑی ہو اللہ کو اتنی زیادہ محبوب ہے۔

    اصل صفحہ

  • قربانی کی قیمت کریڈٹ کارڈ سے قسطوں میں ادا کرنا

    قربانی کی قیمت کریڈٹ کارڈ سے قسطوں میں ادا کرنا کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ قربانی استطاعت رکھنے والے کے لیے سنت ہے اور قرض لے کر کرنے والے کی بھی درست ہے؛ رقم والے کریڈٹ کارڈ سے خریدنے میں کوئی حرج نہیں، اور بغیر رقم والے کارڈ سے تین شرطوں کے ساتھ جائز ہے: کوئی سودی اضافہ نہ ہو، تاخیر کا جرمانہ نہ ہو، اور تاجر کارڈ کمیشن کی وجہ سے قیمت نہ بڑھائے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ قربانی استطاعت والے کے لیے سنت ہے اور دوسروں سے مطلوب نہیں، لیکن اگر کوئی تکلف کر کے قرض لے تو اس کی قربانی درست ہے۔ اس نے المجموع (8/383) میں نووی سے نقل کیا کہ قربانی سنتِ مؤکدہ اور ظاہری شعار ہے جس کی پابندی صاحبِ استطاعت کو کرنی چاہیے، اور یہ صرف نذر سے واجب ہوتی ہے۔ اس نے کہا کہ کافی رقم والے کارڈ سے قربانی خریدنے میں کوئی حرج نہیں؛ بغیر رقم والے کارڈ سے ادا کی گئی رقم قرض کے حکم میں ہے، اور اس وقت تین شرطوں کے ساتھ خریداری جائز ہے: جاری کرنے والا ادارہ رقم پر کوئی سودی اضافہ شرط نہ کرے، تاخیر سے ادائیگی پر جرمانہ شرط نہ کرے، اور تاجر کارڈ کمپنی کے لیے جانے والے کمیشن کی وجہ سے قیمت نہ بڑھائے۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ ان شرائط کے ساتھ کریڈٹ کارڈ کے ذریعے قسطوں پر قربانی خریدنا عموماً درست ہے، جبکہ کسی خاص کارڈ پر حکم لگانے کے لیے اس کی شرائط کا تفصیلی مطالعہ ضروری ہے۔

    اصل صفحہ

  • قسم کے کفارے کی نقد مقدار

    قسم کے کفارے کی نقد مقدار کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ یہ دس مسکینوں کو فی کس چھ سو گرام چاول کھلانا ہے، اور اس کی قیمت نقد دی جا سکتی ہے جو ایک دینار مقرر کی گئی۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ قسم کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے، جو ہر مسکین کے لیے چھ سو گرام چاول مقرر ہے۔ اس نے کہا کہ اس کی قیمت نقد دی جا سکتی ہے، جو ایک دینار مقرر کی گئی ہے۔

    اصل صفحہ

  • قسم کا کفارہ کسی خیراتی ادارے کے ذریعے دینا

    قسم کا کفارہ کسی خیراتی ادارے کے ذریعے دینا کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ فقرا کو کھانا کھلانے والے خیراتی ادارے کو کفارہ ادا کرنے کا وکیل بنانے میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ زکوٰۃ، کفارہ اور نذر کی تقسیم میں وکالت جائز ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ مسلمان پر کوئی حرج نہیں کہ وہ کسی کو اپنی طرف سے کفارہ ادا کرنے کا وکیل بنائے، اور فقہا نے زکوٰۃ، کفارہ اور نذر کی تقسیم میں وکالت کے جواز کی تصریح کی ہے۔ اس نے مغنی المحتاج (3/237) سے نقل کیا کہ آدمی اپنے مال کی زکوٰۃ خود ادا کر سکتا ہے اور اس کے لیے وکیل بھی بنا سکتا ہے۔

    اصل صفحہ

  • زیتون کی زکات پرانے تیل سے ادا کرنا

    نئی فصل کے تیل کی بجائے پرانے تیل سے زیتون کی زکات ادا کرنے کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ فصل ہی سے ادا کرنا بہتر ہے، پرانا تیل معیار میں نئے کے برابر ہو تو کافی ہے، اور اس مسئلے میں شافعیہ اور حنفیہ کا اختلاف نقل کیا۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ زیتون پر زکات شافعیہ کے ایک قول اور حنفیہ کے مذہب کے مطابق واجب ہے: بارانی پر دسواں حصہ اور خرچ سے سیراب پر بیسواں حصہ، اور اس کا نصاب پانچ وسق یعنی تقریباً 611 کلوگرام ہے۔ اس نے کہا کہ اصلاً زکات فصل ہی سے دی جائے، کیونکہ زکات مال سے شراکت کی طرح متعلق ہوتی ہے؛ اس نے خطیب شربینی کی مغنی المحتاج سے نقل کیا۔ اس نے شافعیہ کا قول نقل کیا کہ زکات دینے والے کی سہولت کے لیے اصل مال کے علاوہ سے بھی ادا ہو سکتی ہے بشرطیکہ معیار برابر ہو، جس کا تعین ماہرین تیل کی تیزابیت سے کرتے ہیں، اور عمرانی کی البیان سے نقل کیا کہ ان کے نزدیک صرف پرانا ہونا عیب نہیں۔ اس نے حنفیہ کا قول نقل کیا کہ قیمت بھی ادا کی جا سکتی ہے، اور ابن مازہ کی المحیط البرہانی سے کہ ابو حنیفہ اور ابو یوسف کے نزدیک اسی جنس سے برابر مقدار دی جائے تو معیار کا اعتبار نہیں، جبکہ محمد بن الحسن قیمت کا فرق ادا کرنا لازم قرار دیتے ہیں۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ فصل ہی سے ادا کرنا زیادہ کامل اور ذمہ داری سے بری ہونے کا یقینی طریقہ ہے، کیونکہ پچھلی فصل سے ادا کرنے میں فقیر کو کم قیمت تیل دے کر دھوکے کا شائبہ ہو سکتا ہے، اور پرانا تیل اگر معیار میں نئے کے برابر ہو تو کافی ہے۔

    اصل صفحہ

  • صدقۂ فطر نقد ادا کرنا

    صدقۂ فطر نقد ادا کرنا کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ اصل یہ ہے کہ اسے ملک کی عام خوراک سے ادا کیا جائے، اور نقل کیا کہ حنفی فقہا نے اس کی قیمت نقد دینے کو جائز کہا ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ اصل یہ ہے کہ صدقۂ فطر ملک کی عام خوراک سے ادا کیا جائے، جو اردن میں گندم یا چاول ہے، اس کی مقدار فی کس 2500 گرام بتائی، کہا کہ یہ مقدار چاول فقرا اور مساکین کو دینا آسان ہے، اور یہی تمام مذاہب میں درست ہے۔ اس نے نقل کیا کہ حنفی فقہا نے قیمت نقد دینے کو جائز کہا ہے، کیونکہ یہ فقیر کے لیے زیادہ مفید اور دینے والے کے لیے آسان ہے۔

    اصل صفحہ

  • احرام سے پہلے خوشبو لگانے کا حکم

    احرام سے پہلے خوشبو لگانے کے حکم کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ احرام سے پہلے کچھ خوشبو لگانا نقصان نہیں دیتا چاہے اس کا اثر بعد تک رہے، بلکہ حاجی اور عمرہ کرنے والے کے لیے احرام سے پہلے خوشبو لگانا سنت ہے؛ اس نے نووی جاوی کی نہایۃ الزین (1/212) سے نقل کیا کہ احرام سے کچھ پہلے بدن پر خوشبو لگانا مرد اور عورت دونوں کے لیے اس کی سنتوں میں سے ہے، غسل کے بعد، کسی بھی خوشبو سے، اور مشک بہتر ہے، اور احرام کے بعد بدن پر خوشبو کا باقی رہنا بلا مضائقہ ہے، سوائے اس کے کہ عورت پر احرام کے بعد سوگ لازم ہو جائے تو اسے زائل کرے؛ البتہ کپڑے پر خوشبو لگانا معتمد قول پر محض مباح ہے نہ کہ مستحب، اور جو خوشبو لگا کپڑا اتارے جبکہ اس میں خوشبو باقی ہو اور پھر پہن لے اس پر فدیہ لازم ہے۔

    اصل صفحہ

  • پودوں کی کلوننگ

    پودوں کے خلیوں کی کلوننگ اور انہیں بڑھا کر جوس اور غذائی اجزا بنانے کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ پودوں میں کلوننگ کی تکنیک سے فائدہ اٹھانے میں حرج نہیں، بشرطیکہ ثابت ہو کہ اس سے صارف کو نقصان نہیں اور نباتاتی نظام میں خلل نہیں پڑتا۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ علما پودوں کی کلوننگ کی تعریف ایسے حیاتیاتی عمل سے کرتے ہیں جس سے خلیوں کا ایک مجموعہ بنتا ہے اور بہتر پیداوار والا پودا وجود میں آتا ہے جو اپنے جینیاتی مواد میں تبدیلی کے بغیر بڑھتا ہے، اور یہ کہ زمین اور اس پر موجود سب کچھ انسان کے فائدے کے لیے مسخر کیا گیا ہے، اور انسان کو اس کی اصلاح اور اسے بگاڑنے سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس نے کہا کہ غیر انسانی کلوننگ میں شریعت جس حد تک اجازت دیتی ہے وہ دو باتوں سے طے ہوتی ہے: مصلحتیں حاصل کرنا اور مفاسد دور کرنا، اور ان کا تعین ماہرین اور اہل اختصاص پر ہے؛ اگر اس عمل سے پودے اور اس کی پیداوار میں بہتری ہو اور صارف کو نقصان یا نباتاتی نظام میں خلل نہ ہو تو حرج نہیں، اور اگر اس سے انسان کو نقصان یا نباتاتی نظام میں خلل ہو تو جائز نہیں۔ اس نے بین الاقوامی اسلامی فقہ اکیڈمی کے 1997 میں جدہ میں منعقدہ دسویں اجلاس کی قرارداد کا حوالہ دیا کہ جراثیم، دیگر خرد حیاتیات، پودوں اور جانوروں میں کلوننگ اور جینیاتی انجینئرنگ کی تکنیکیں شرعی ضوابط کی حدود میں استعمال کی جا سکتی ہیں۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ پودوں میں کلوننگ کی تکنیک سے فائدہ اٹھانے میں حرج نہیں، بشرطیکہ ثابت ہو کہ اس سے صارف کو نقصان نہیں اور نباتاتی نظام میں خلل نہیں پڑتا۔

    اصل صفحہ

  • حیوانی پروٹین والی خوراک پر پالی گئی مرغیوں کا گوشت کھانا

    ان مرغیوں کے بارے میں سوال جنہیں مذبح خانوں کے فضلے سے بنے پروٹین پاؤڈر کھلائے جاتے ہیں جن میں سور کے اثرات ہو سکتے ہیں، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ اگر ان کی زیادہ تر خوراک پاک ہو اور گوشت میں تبدیلی نہ ہو تو وہ جلّالہ (نجاست کھانے والا جانور) کے حکم میں نہیں، اور شرعی ذبح کے بعد انہیں کھانے میں حرج نہیں۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ کھائے جانے والے جانور کو نجاست کھلانا اصلاً مکروہ ہے، اور ابن حجر الہیتمی کی تحفۃ المحتاج سے نقل کیا۔ اس نے کہا کہ نجاست کھانے والا جانور جلّالہ کے حکم میں ہے: شافعیہ کے نزدیک اگر اس کی بو یا ذائقہ بدل جائے تو اس کا گوشت مکروہ ہے اور تبدیلی ظاہر نہ ہو تو مکروہ نہیں؛ اس نے زکریا الانصاری کی اسنی المطالب اور خطیب شربینی کی مغنی المحتاج سے نقل کیا۔ اس نے ذکر کیا کہ بعض علما جلّالہ کا وصف اسی وقت لگاتے ہیں جب جانور کی زیادہ تر خوراک نجس ہو، اور مذکورہ خوراک میں یہ پاؤڈر تھوڑا حصہ ہیں اور باقی اجزا پاک ہیں۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ اگر ان مرغیوں کی زیادہ تر خوراک پاک ہو، ان کے گوشت یا انڈوں میں خرابی ظاہر نہ ہو اور ماہرین کے نزدیک ان کا کھانا نقصان دہ نہ ہو تو وہ جلّالہ کے حکم میں نہیں اور شرعی ذبح کے بعد انہیں کھانے میں حرج نہیں؛ اور اگر ساری خوراک نجس ہو یا گوشت خراب ہو جائے تو کھانا مکروہ ہے، اور بہتر ہے کہ ذبح سے پہلے کچھ مدت انہیں پاک خوراک دی جائے۔

    اصل صفحہ

  • شدید موٹاپے کی وجہ سے بیٹھ کر نماز

    شدید موٹاپے کی وجہ سے بیٹھ کر نماز کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ جسے موٹاپے کی وجہ سے ناقابلِ برداشت شدید مشقت ہو یا نقصان کا خوف ہو، یا کھڑے ہونے سے خشوع جاتا رہے، وہ کرسی پر یا زمین پر نماز پڑھ سکتا ہے، اور جن ارکان کی قدرت ہو انہیں ادا کرے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ قدرت ہو تو قیام نماز کا رکن ہے؛ جسے ناقابلِ برداشت شدید مشقت ہو، یا موٹاپے کی وجہ سے اپنی جان یا کسی عضو کو نقصان کا خوف ہو، یا کھڑے ہونے سے نماز کا خشوع جاتا رہے، وہ کرسی پر یا زمین پر نماز پڑھ سکتا ہے، اور رکوع و سجود اشارے سے کرے، سجدہ رکوع سے زیادہ جھکا ہوا ہو۔ اس نے کہا کہ جو کسی بھی وقت ان میں سے کسی رکن پر قادر ہو اس پر اسے مکمل ادا کرنا واجب ہے، کیونکہ اسے چھوڑنا عجز سے مقید رخصت ہے، اور بخاری کی روایت کردہ حدیث سے استدلال کیا جس کا مفہوم ہے کہ حکم پر جتنا ہو سکے عمل کرو، اور فقہا کے قاعدے سے کہ آسان کام مشکل کی وجہ سے ساقط نہیں ہوتا؛ اور ذکر کیا کہ جوینی نے عجز کا ضابطہ یہ اختیار کیا کہ نمازی کو ایسی مشقت ہو جو اس کا خشوع ختم کر دے۔ اس نے مزید کہا کہ نفل نماز قیام کی قدرت کے باوجود بیٹھ کر پڑھی جا سکتی ہے، لیکن جو رکوع اور سجدہ کر سکتا ہو اس کے لیے انہیں ادا کرنا ضروری ہے۔

    اصل صفحہ

  • تراویح گھر میں پڑھنا

    تراویح گھر میں پڑھنا کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ سنت یہ ہے کہ تراویح مسجد میں جماعت سے پڑھی جائے، اور کسی وجہ سے کبھی کبھار گھر والوں کے ساتھ جماعت سے پڑھنے میں حرج نہیں۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ سنت یہ ہے کہ مسلمان تراویح مسجد میں جماعت سے پڑھے۔ اس نے کہا کہ اگر وہ کسی وجہ سے کبھی کبھار گھر میں اپنے گھر والوں کے ساتھ جماعت سے پڑھ لے تو اس میں حرج نہیں۔

    اصل صفحہ

  • مصنوعات کے اندر انعامی کوپن والے تشہیری مقابلے

    ایک غذائی کمپنی کے اپنی کچھ مصنوعات کے اندر انعامی کوپن رکھنے کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ ایسے انعامات ہدیے ہیں اور تین شرطوں کے ساتھ جائز ہیں۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ کمپنیاں خریداری کی ترغیب کے لیے خریداروں کو جو انعامات دیتی ہیں وہ ہدیے شمار ہوتے ہیں اور شرائط کے ساتھ جائز ہیں۔ پہلی یہ کہ خریدار چیز کو خود اس کی ضرورت کے لیے خریدے، محض مقابلے میں شرکت کے لیے نہیں؛ دوسری یہ کہ چیز کی قیمت بازار سے زیادہ نہ کی جائے، کیونکہ اضافہ قرعہ اندازی میں شرکت کا معاوضہ بن کر جوا ہو جائے گا، اور اس مفہوم میں اردن کی افتاء کونسل کا فیصلہ نمبر 47 نقل کیا۔ تیسری یہ کہ انعامات میں صارفین کے ساتھ دھوکا یا فریب نہ ہو، جیسے خراب مال کی ترویج یا ان کے بدلے قیمتیں بڑھانا؛ اور بین الاقوامی اسلامی فقہ اکیڈمی کی قرارداد 127 (1/14) نقل کی کہ انعام دینے والے جائز مقابلوں کے ذریعے اپنی مصنوعات کی تشہیر سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں بشرطیکہ انعامات مقابلہ کرنے والوں کے مال سے نہ ہوں اور تشہیر میں دھوکا نہ ہو۔

    اصل صفحہ

  • تنازل کی فیس پوری کرنے کے لیے بینک پر فلیٹ کی قیمت بڑھانا

    فلیٹ بیچنے والے کا سوال جس سے بینک کے گاہک نے قیمت بڑھانے کو کہا تاکہ تنازل کی فیس اور مرمت کا خرچ نکل آئے، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ یہ سود سے بچنے کا حیلہ ہے، جبکہ بینک کے ساتھ معاہدے سے پہلے جائیداد میں کیے گئے حقیقی اضافوں کے بدلے قیمت بڑھانا جائز ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ گاہک اور بیچنے والے کا فنانس کرنے والے ادارے پر قیمت بڑھانے کا اتفاق، تاکہ گاہک اضافی رقم بیچنے والے سے لے، سود سے بچنے کا حیلہ ہے، کیونکہ گاہک یہ نقدی منافع سمیت واپس کرے گا، اور نقدی پر مرابحہ سود ہے۔ اس نے ابن بطہ کی ابطال الحیل میں منقول ایک حدیث کا حوالہ دیا جس میں معمولی حیلوں سے حرام کو حلال کرنے سے منع کیا گیا ہے، اور ذکر کیا کہ ابن کثیر نے اس کی سند کو جید کہا۔ اس نے کہا کہ اگر گاہک اور بیچنے والا جائیداد میں کچھ اضافوں پر متفق ہوں، اور بیچنے والا بینک کو فروخت سے پہلے انہیں کر دے اور ان کے بدلے قیمت بڑھائے، تو یہ جائز ہے۔ اس نے کہا کہ تنازل کی فیس جائیداد کی قیمت کا حصہ نہیں بلکہ اس سے باہر ہے، اس لیے اسے ادا کرنے کے لیے قیمت بڑھانے کی شرط بینک سے نقدی لینے اور بیچنے والے کو فیس ادا کرنے کا وکیل بنانے کے مترادف ہے، جو سود سے بچنے کا حیلہ ہے۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ خریداری کا حکم دینے والے کے لیے مرابحہ میں بیچنے والے کے تنازل کی فیس ادا کرنے کی خاطر قیمت بڑھانے کی شرط حرام ہے، جبکہ حقیقی اضافوں اور ان کے بدلے قیمت بڑھانے پر اتفاق جائز ہے، بشرطیکہ یہ اضافے بیچنے والے کے بینک کے ساتھ فروخت کے معاہدے پر دستخط سے پہلے ہوں۔

    اصل صفحہ

  • تراویح میں مصحف سے دیکھ کر پڑھنا

    تراویح میں مصحف سے دیکھ کر پڑھنا کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ یہ جائز ہے بشرطیکہ نمازی ایسی زیادہ حرکات نہ کرے جو نماز باطل کر دیں، اور بہتر یہ ہے کہ امام زبانی پڑھے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ تراویح میں مصحف سے دیکھ کر پڑھنا جائز ہے، بشرطیکہ ایسی زیادہ حرکات نہ ہوں جو نماز کو باطل کر دیں۔ اس نے کہا کہ بہتر یہ ہے کہ امام قرآن کا حافظ ہو اور زبانی پڑھے۔

    اصل صفحہ

  • مساجد میں دوبارہ قابلِ استعمال بنائے گئے پانی کا استعمال

    گھریلو گندے پانی سے دوبارہ قابلِ استعمال بنائے گئے پانی کو مساجد میں صفائی اور وضو کے لیے استعمال کرنے کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ کیمیائی عمل اور طبعی علیحدگی اسے پاک قرار دینے کے لیے کافی نہیں، لہٰذا اس سے وضو درست نہیں اور مساجد کی صفائی میں اس سے بچنا لازم ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ سیوریج کا پانی اپنی صفات بدل جانے کی وجہ سے ناپاک ہے خواہ کتنا ہی زیادہ ہو، اس لیے اس سے طہارت درست نہیں؛ ناپاک پانی زیادہ پانی ملانے سے پاک ہوتا ہے یہاں تک کہ مجموعہ اپنی اصل حالت پر لوٹ آئے اور نجاست کے رنگ، ذائقے اور بو سے خالی ہو، جیسا کہ اس نے نووی کی منہاج الطالبین سے نقل کیا۔ اس نے کہا کہ کیمیائی عمل اور طبعی علیحدگی سے صفائی پانی کو پاک قرار دینے کے لیے کافی نہیں کیونکہ اس سے حقیقتاً نجاست دور نہیں ہوئی، اور بتایا کہ گھریلو گندے پانی کی دوبارہ قابلِ استعمال صورت کے لیے اردنی معیار نمبر 893/2021 اسے ہر مقصد کے لیے استعمال کی اجازت نہیں دیتا۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ اسے وضو یا بدن اور کپڑوں کی صفائی میں استعمال نہیں کیا جا سکتا، اور مساجد کے احترام میں ان کی صفائی میں اس سے بچنا لازم ہے، کیونکہ وہ نماز کی جگہ ہیں جہاں طہارت شرط ہے۔

    اصل صفحہ

  • فوت شدہ چچا کو معاف کیا ہوا قرض واپس مانگنا

    فوت شدہ چچا کو معاف کیا ہوا قرض واپس مانگنا کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ اگر قرض خواہ کسی بھی ایسے لفظ سے جو اس پر دلالت کرے مقروض کو بری کر دے اور ابرا کی شرائط پوری ہوں تو بعد میں قرض کا مطالبہ نہیں کر سکتا، کیونکہ ساقط شدہ چیز واپس نہیں آتی۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ اگر قرض خواہ کسی بھی ایسے لفظ سے مقروض کو بری کر دے جو اس پر دلالت کرے، چاہے معافی کے لفظ سے یا ابرا کے، تو اسے ساقط کیے ہوئے قرض کا دوبارہ مطالبہ کرنے کا حق نہیں۔ اس نے کہا کہ ابرا کے درست ہونے کے لیے شرط ہے کہ بری کرنے والا قرض کی مقدار تفصیل سے جانتا ہو، مکلف اور تبرع کا اہل ہو، اور مذاق یا جبر کی حالت میں نہ ہو؛ یہ شرائط جمع ہوں تو ابرا درست ہے۔ اس نے فقہی قاعدہ "ساقط شدہ واپس نہیں آتا" پر اعتماد کیا، اور درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام (1/54) سے نقل کیا کہ جو شخص ایسا حق ساقط کرے جسے ساقط کرنا اس کے لیے جائز ہو تو وہ ساقط ہو جاتا ہے اور واپس نہیں آتا، لہٰذا اگر کوئی قرض معاف کر کے پچھتائے تو مقروض سے مطالبہ نہیں کر سکتا کیونکہ اس کا ذمہ بری ہو چکا۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ اگر معاملہ سوال میں بیان کے مطابق ہے تو قرض خواہ کو اپنے چچا سے ساقط کیے ہوئے قرضوں سے رجوع کا حق نہیں۔

    اصل صفحہ

  • معذور بچوں کی مدد کے لیے پلاسٹک کے ڈھکن جمع کر کے ری سائیکل کرنا

    ایک ادارے کے بارے میں سوال جو ماحول کے تحفظ کے لیے پلاسٹک کے ڈھکن جمع کر کے ری سائیکل کرتا ہے اور اس کی آمدنی پولیو سے معذور بچوں کی مدد کے لیے مختص کرتا ہے، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ یہ مہم خیر کے ان دروازوں میں سے ہے جو مستحب صدقات میں داخل ہیں اور جن پر مسلمان کو ثواب ملتا ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ ماحول کا تحفظ شریعت کی توجہ کا موضوع ہے، اس نے زمین میں فساد سے روکنے والی نصوص، قیامت قریب ہو تب بھی پودا لگانے کے بارے میں احمد کی روایت کردہ انس کی حدیث، اور اس متفق علیہ حدیث کا حوالہ دیا کہ جو کچھ لگائے اور اس سے پرندہ، انسان یا جانور کھائے تو یہ اس کے لیے صدقہ ہے۔ اس نے کہا کہ خیر اور صدقے کے دروازے بہت ہیں اور ہر اس نیکی کو شامل ہیں جسے شریعت نے منظور کیا اور جس کی ترغیب دی، اور بخاری کی روایت کردہ حدیث کا حوالہ دیا کہ ہر نیکی صدقہ ہے۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ پلاسٹک کی بوتلیں ری سائیکلنگ کے لیے جمع کرنا اور اس کی آمدنی معذور بچوں کی مدد کے لیے مختص کرنا مستحب صدقات میں داخل خیر کا دروازہ ہے، کیونکہ اس میں ماحول کا تحفظ اور ضرورت مندوں کی مدد ہے، اور اسے ان اچھے طریقوں میں شمار کیا جن کی اسلام نے دعوت دی، اور اچھا طریقہ شروع کرنے والے کے اجر کے بارے میں مسلم کی روایت کردہ حدیث کا حوالہ دیا۔

    اصل صفحہ

  • زرعی زمین نقد کرایے پر دینا

    زرعی زمین نقد کرایے پر دینا کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ بغیر درختوں والی خالی زمین معلوم نقد رقم پر کرایے پر دی جا سکتی ہے، جبکہ پھل دار درختوں والی زمین کرایے پر نہیں دی جا سکتی، البتہ باغ کی شراکت (مساقات) کا عقد اس کی شرائط کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ بغیر درختوں والی خالی زمین معلوم نقد رقم پر کرایے پر دینا جائز ہے، اور مسلم کی روایت کردہ حدیث کا حوالہ دیا جس میں حنظلہ بن قیس نے رافع بن خدیج سے زمین کرایے پر دینے کے بارے میں پوچھا؛ رافع نے اس کی ممانعت کا ذکر کیا، پھر کہا کہ سونے اور چاندی کے عوض اس میں کوئی حرج نہیں۔ اس نے صحیح مسلم کی شرح (10/198) میں نووی سے نقل کیا کہ شافعی، ابو حنیفہ اور بہت سے دوسروں نے سونے اور چاندی کے عوض زمین کرایے پر دینا جائز قرار دیا۔ اس نے کہا کہ جس زمین میں پھل دار درخت ہوں جن کا پھل پکا نہ ہو، اسے کرایے پر دینا حلال نہیں کیونکہ یہ پھل کے واضح طور پر پکنے سے پہلے اس کی بیع ہے، جو ممنوع ہے، البتہ کارکن اور زمین کا مالک درختوں کے لیے شرعی شرائط کے ساتھ مساقات کا عقد کر سکتے ہیں۔ اس نے ذکر کیا کہ اردن کی افتا کونسل نے اپنی قرارداد 80 میں خالی زمین، جسے سونے، چاندی یا نقد پر کرایے پر دیا جا سکتا ہے، اور درختوں والی زمین میں فرق کیا، جسے ایک سال، زیادہ یا کم، پھل پکنے سے پہلے یا بعد، نقد پر کرایے پر نہیں دیا جا سکتا، نہ اس کی پیداوار کا کوئی غیر مشترک مقررہ حصہ طے کیا جا سکتا ہے۔

    اصل صفحہ

  • سونے کے زیورات کرائے پر دینا

    سونے کے زیورات کرائے پر دینا کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ سونے اور چاندی کے زیورات معلوم رقم اور مدت کے لیے کرائے پر دینا جائز ہے، اور یہ سود نہیں کیونکہ عقد منفعت پر ہے، عین پر نہیں۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ سونے یا چاندی کے زیورات معلوم رقم کے عوض معلوم مدت کے لیے کرائے پر دینا جائز ہے، اور یہ سود میں شمار نہیں کیونکہ عقد منفعت پر ہوتا ہے، خود چیز پر نہیں۔ اس نے البیان (7/327) میں عمرانی سے نقل کیا کہ سونے کے زیور کو سونے اور چاندی کے بدلے، اور چاندی کے زیور کو چاندی اور سونے کے بدلے کرائے پر لینا جائز ہے، اور یہ کہ صیمری نے ذکر کیا کہ بعض شافعیوں نے اس میں توقف کیا، اور یہ توقف درست نہیں کیونکہ عقد سونے کی منفعت پر ہے، سونے کی ذات پر نہیں۔ اس نے النجم الوہاج (5/330) میں دمیری سے شافعی کا قول نقل کیا کہ زیورات، جواہرات اور عورتوں کی پہنی جانے والی دیگر چیزیں کرائے پر دینا جائز ہے، اور سونے کا زیور سونے یا چاندی کے بدلے کرائے پر لیا جائے تو مجلس میں قبضے کی شرط کے بغیر جائز ہے، کیونکہ سونے اور سونے کی منفعت کے درمیان سود نہیں۔

    اصل صفحہ

  • مضاربت میں عامل پر سرمائے کی ضمانت کی شرط

    سرمایہ دار کے عامل پر نقصان کی صورت میں سرمائے کی ضمانت کی شرط لگانے کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ مضاربت میں یہ جائز نہیں: سرمایہ دار اپنا مال کھوتا ہے اور عامل اپنی محنت، اور عامل صرف زیادتی یا کوتاہی کی صورت میں ضامن ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ مضاربت ایسا معاہدہ ہے جس میں سرمایہ دار کسی شخص یا کمپنی کو تجارت کے لیے مال دیتا ہے، اور منافع دونوں کے درمیان طے شدہ مشترکہ تناسب سے ہوتا ہے۔ اس نے اس کی صحت کی شرائط بیان کیں: سرمایہ عامل کی ضمانت میں نہ ہو بلکہ نفع و نقصان کے تابع ہو؛ وہ موجود اور حوالے کیا گیا ہو، قرض نہ ہو؛ منافع حاصل شدہ منافع کے مشترکہ حصے ہوں، طے شدہ رقم یا سرمائے کا فیصد نہ ہوں؛ منافع حقیقت میں حاصل ہو؛ اور سرمایہ کاری جائز کام میں ہو، فاریکس، نیٹ ورک یا اہرامی مارکیٹنگ یا پونزی اسکیم میں نہیں۔ اس نے کہا کہ نقصان کی صورت میں سرمایہ دار اپنا مال کھوتا ہے اور عامل اپنی محنت اور وقت، اور عامل سرمائے کا نقصان نہیں اٹھاتا سوائے زیادتی یا کوتاہی کے، جس کا اندازہ ماہرین کرتے ہیں؛ اس نے روضۃ الطالبین میں نووی کا قول نقل کیا کہ عامل کا تصرف وکیل کی طرح مصلحت سے مقید ہے۔ اس نے اردنی سول کوڈ کی دفعہ 628 کا حوالہ دیا جس کے مطابق نقصان صرف سرمایہ دار اٹھاتا ہے اور اس کے خلاف کوئی شرط معتبر نہیں، اور نتیجہ نکالا کہ اگر شرعی طریقے سے عامل کی زیادتی یا کوتاہی ثابت ہو جائے تو اس پر اسی قدر نقصان کی ضمانت لازم ہے۔

    اصل صفحہ

  • ایسی کتاب بیچنا جس کا کوئی خصوصی ایجنٹ نہیں

    مارکیٹ میں ایک ایجنٹ کے ذریعے بکنے والی میڈیکل کتاب درآمد کرنے کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ اگر خصوصی ایجنسی نہ ہو تو اسے بیچنا جائز ہے، البتہ موجودہ خصوصی ایجنسی ختم کروانے کی کوشش حرام ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ بیع کی بنیاد باہمی رضامندی ہے، اور مسئلے کی دو صورتیں ہیں۔ پہلی یہ کہ سپلائر اور پہلے درآمد کنندہ کے درمیان خصوصی ایجنسی کا کوئی معاہدہ نہ ہو، تو اسی سپلائر سے اس کا سامان درآمد کر کے بیچنے کا معاہدہ کرنے میں کوئی حرج نہیں، چاہے قیمت پہلے درآمد کنندہ سے مختلف ہو۔ دوسری یہ کہ پہلے درآمد کنندہ کے پاس خصوصی ایجنسی ہو اور دوسرا سپلائر کو اس کا معاہدہ ختم کر کے اپنے ساتھ معاہدہ کرنے پر آمادہ کرے؛ یہ حرام ہے کیونکہ اس سے مسلمانوں میں دشمنی پیدا ہوتی ہے، اور اس نے ایک دوسرے کے سودے پر سودا کرنے کی ممانعت والی حدیث سے استدلال کیا۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ چونکہ سوال کی صورت میں خصوصی ایجنسی کا کوئی معاہدہ نہیں، اس لیے دوسرا درآمد کنندہ کتاب لا کر مناسب قیمت پر بیچ سکتا ہے۔

    اصل صفحہ

  • واپس شدہ سامان کے بند ڈبوں کی فروخت

    ایک کمپنی کے بارے میں سوال جو گاہکوں کی واپس کی ہوئی مصنوعات بڑے بند ڈبوں میں جمع کر کے درمیانی لوگوں کو بیچتی ہے، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ بند ڈبوں کی فروخت جائز ہے اگر ان میں خریدار کو معلوم مصنوعات ہوں، عرف میں یہ رائج ہو اور نزاع پیدا کرنے والا غرر نہ ہو، اور اگر ان کے سامان کی جنس معلوم نہ ہو تو جائز نہیں، اور نہ دیکھی ہوئی چیز کی فروخت میں جمہور اور احناف کا اختلاف بیان کیا۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ اصل یہ ہے کہ لوگوں میں رائج بیوع کو درست مانا جائے، بشرطیکہ وہ نزاع پیدا کرنے والے غرر اور جہالت سے پاک ہوں، اور جہالت و غرر پر مبنی معاملات حرام ہیں کیونکہ یہ لوگوں کا مال ناحق کھانا ہے۔ اس نے کہا کہ بند ڈبوں کی فروخت کی دو صورتیں ہیں: پہلی یہ کہ ان میں موجود سامان کا نہ نوع معلوم ہو نہ تعداد، یہ جہالت اور غرر کی وجہ سے حرام ہے؛ دوسری یہ کہ ان میں خریدار کو معلوم مصنوعات ہوں جو اس نے دیکھی نہ ہوں اور لوگوں میں ان کی خرید و فروخت رائج ہو، تو جمہور فقہا کے نزدیک یہ اصلاً جائز نہیں اور احناف نے اسے جائز کہا ہے۔ احناف کے قول کے لیے اس نے الحجۃ علی اہل المدینہ میں محمد بن حسن شیبانی کا حوالہ دیا، جنہوں نے کپڑوں کی ایسی گٹھڑی جسے کھولنے سے نقصان ہو، اس میں موجود تعداد جانے بغیر بیچنا جائز کہا، اور کہا کہ اندازے سے بیع، جس میں ناپ، تول یا گنتی کی ضرورت نہ ہو، سب سے واضح طور پر جائز بیوع میں سے ہے۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ بند ڈبوں کی فروخت جائز ہے جب ان میں خریدار کو معلوم مصنوعات ہوں، عرف میں یہ رائج ہو اور نزاع پیدا کرنے والی جہالت اور غرر نہ ہو، اور جن بند ڈبوں کی مصنوعات کی جنس معلوم نہ ہو ان کی فروخت جائز نہیں۔

    اصل صفحہ

  • مسجد میں مخصوص جگہ پر اصرار اور دوسرے کے وہاں نماز پڑھنے پر ناراضی

    مسجد میں مخصوص جگہ پر اصرار اور دوسرے کے وہاں نماز پڑھنے پر ناراضی کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ مسجد میں مستقل جگہ مخصوص کرنا مکروہ ہے، اور جو پہلے کسی جگہ پہنچے وہی اس کا زیادہ حق دار ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ نبی نے منع فرمایا کہ آدمی مسجد میں اپنے لیے ایک مستقل جگہ بنا لے اور اس سے ایسے چمٹا رہے جیسے اونٹ اپنے بیٹھنے کی جگہ سے، اور علما نے اسے مکروہات میں شمار کیا۔ اس نے کہا کہ اس شخص کو نصیحت کی جائے کہ مسجد میں جو پہلے کسی جگہ پہنچے وہی اس کا زیادہ حق دار ہے۔

    اصل صفحہ

  • ناپ پورا نہ آنے والی سونے کی انگوٹھی واپس کرنا

    ناپ پورا نہ آنے والی سونے کی انگوٹھی واپس کرنا کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ سونے کی بیع میں اقالہ جائز اور بیچنے والے کے لیے مستحب ہے؛ یہ فسخ ہے، نیا عقد نہیں، اس لیے خریدار ادا کردہ قیمت واپس لے گا نہ کہ آج کی قیمت، بشرطیکہ عقد کے وقت یہ شرط نہ لگائی گئی ہو۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ اگر خریدار نادم ہو کر اقالہ مانگے تو بیچنے والے کے لیے اقالہ مستحب ہے، اور ابو داود کی روایت کردہ حدیث سے استدلال کیا جس کا مفہوم ہے کہ جو کسی مسلمان سے اقالہ کرے اللہ اس کی لغزش معاف کرے گا۔ اس نے کہا کہ شافعیہ کے معتمد قول کے مطابق اقالہ عقد کا فسخ ہے، نیا عقد نہیں، چنانچہ بیچنے والا مال اور خریدار قیمت واپس لیتا ہے، اور یہ سونے کی بیع میں بھی ثابت ہے، اور زکریا انصاری سے اسنی المطالب (2/74) میں نقل کیا کہ اقالہ کے فسخ ہونے کی بنا پر بیعِ صرف میں فریقین باہمی قبضے سے پہلے جدا ہو سکتے ہیں۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ بیچنے والا سونا اسی قیمت پر واپس لے گا جس پر بیچا تھا، آج کی قیمت پر نہیں، بشرطیکہ یہ عقد کے وقت مشروط نہ ہو، کیونکہ بیعِ صرف میں خیار داخل نہیں ہوتا؛ اور اگر بیچنے والا اقالے پر راضی نہ ہو تو باہمی رضامندی کی قیمت پر انگوٹھی اسے بیچنے میں کوئی رکاوٹ نہیں۔

    اصل صفحہ

  • خریداری کی ویب سائٹوں پر مصنوعات کے ریویو کے بدلے انعام یا ڈسکاؤنٹ کوڈ لینا

    خریداری کی ویب سائٹوں کی جانب سے مصنوعات کے ریویو کے بدلے نقد انعامات اور ڈسکاؤنٹ کوڈ کے بارے میں سوال، جنہیں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے ریویو کے سچا ہونے کی شرط پر جائز قرار دیا۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ خریداری کے تجربے کے ریویو پر ویب سائٹ کی دی ہوئی رقم میں کوئی حرج نہیں اگر ریویو حقیقی اور سچا ہو، کیونکہ یہ ویب سائٹ کی طرف سے انعام ہے۔ اس نے کہا کہ ویب سائٹ کا اپنا ڈسکاؤنٹ کوڈ گاہکوں کو متوجہ کرنے کی تشہیری پیشکش کا حصہ ہے جو بلا معاوضہ ہے، اس لیے یہ تبرع کا معاملہ ہے جس میں غرر معاف ہے۔ اور انعام کے لالچ میں مصنوعات کو استعمال یا ان کا معیار جانچے بغیر ریویو دینے کو اس نے خریداروں کو دھوکا دینا قرار دیا، جو جھوٹ اور ملاوٹ کی طرح جعلی ریویو اور خیر خواہی کے خلاف ہے؛ اس نے شرط رکھی کہ ہر قسم کی ہیرا پھیری اور گمراہی سے بچا جائے اور ریویو امانت داری اور سچائی سے ہو۔

    اصل صفحہ

  • ترکی حمام میں جانے اور کام کرنے کے ضوابط

    ایک ترکی حمام کے مالک کا اپنے کاروبار کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ ستر اور نظر جھکانے کے شرعی ضوابط کی پابندی کے ساتھ اس میں کام کرنے میں حرج نہیں۔ ڈیپارٹمنٹ نے آغاز میں کہا کہ اسلام صفائی اور طہارت کو اہمیت دیتا ہے، اور احادیث میں حمام سے مراد وہ عام حمام ہے جو نہانے اور علاج کے لیے جایا جاتا ہے، جس کی آج کی مثال موٹاپے کے علاج کے مراکز کے بھاپ والے حمام ہیں۔ اس نے کہا کہ مردوں کا داخلہ ستر ڈھانپنے اور نظر جھکانے کے ساتھ جائز ہے، جبکہ خواتین کا بغیر عذر، جیسے علاج یا ایسی صفائی جو اس کے بغیر ممکن نہ ہو، داخل ہونا مکروہ ہے، اور اس پر عورت کے اپنے گھر سے باہر کپڑے اتارنے کی مذمت والی حدیث اور شافعی کتاب مغنی المحتاج کی ایک عبارت سے استدلال کیا۔ اگر عورت کو جانے کی ضرورت ہو تو وہ یقینی بنائے کہ جگہ کا انتظام صرف خواتین کے ہاتھ میں ہے، دوسری خواتین کے سامنے ستر کی حدود کی پابندی کرے، ایسا لباس نہ پہنے جو جسم کا اکثر حصہ ظاہر کرے، بلا ضرورت ستر کو نہ چھوئے، اور نظر جھکائے رکھے۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ ان ضوابط کی پابندی کے ساتھ خواتین کے ایسی جگہوں پر کام کرنے میں کوئی حرج نہیں، نظر جھکانے اور ضرورت کی حد تک ہی دوسری خواتین کو چھونے کے ساتھ۔

    اصل صفحہ

  • میت کی طرف سے قربانی

    میت کی طرف سے قربانی کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ میت کی طرف سے قربانی جائز ہے، یہ حنبلی مذہب اور شافعیہ میں سے عبادی کا قول ہے، کیونکہ قربانی مالی صدقہ ہے جس کا ثواب مُردوں تک پہنچتا ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ میت کی طرف سے قربانی جائز ہے، یہ حنبلی مذہب ہے جیسا کہ بہوتی کی کشاف القناع (6/428) میں ہے، شافعیہ میں سے عبادی کا یہی قول ہے جیسا کہ ابن قاضی شہبہ نے بدایۃ المحتاج (4/358) میں نقل کیا، اور بعض مالکیہ اور حنفیہ سے بھی منقول ہے۔ اس نے بتایا کہ ابو داود نے اپنی سنن میں میت کی طرف سے قربانی کا باب باندھا، جس میں حنش سے روایت کی کہ انہوں نے علی بن ابی طالب کو دو مینڈھوں کی قربانی کرتے دیکھا اور علی نے بتایا کہ نبی نے انہیں اپنی طرف سے قربانی کی وصیت کی تھی، اور جابر بن عبداللہ سے روایت کی کہ نبی نے اپنی امت کی طرف سے قربانی کی، اور امت میں فوت شدہ بھی ہیں۔ اس نے کہا کہ نصوص سے روزے اور حج کا ثواب میت تک پہنچنا ثابت ہے، تو قربانی، جو خالص مالی عبادت اور صدقات میں سے ہے، بدرجۂ اولیٰ پہنچتی ہے، اور علما کا اجماع ہے کہ صدقات کا ثواب مُردوں کو پہنچتا ہے، اسی لیے ڈیپارٹمنٹ نے اسے جائز قرار دیا۔

    اصل صفحہ

  • قربانی یا اس کی قیمت صدقہ کرنا

    قربانی یا اس کی قیمت صدقہ کرنا کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ قربانی اس کی قیمت صدقہ کرنے سے افضل ہے، کیونکہ یہ دین کا ایک نمایاں شعار ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ قربانی اس کی قیمت فقرا اور مساکین پر صدقہ کرنے سے افضل ہے، کیونکہ یہ دین کے نمایاں شعائر میں سے ہے، اور سورۃ الحج 22:32 کا حوالہ دیا۔ اس نے بتایا کہ اس کی فضیلت میں صریح صحیح احادیث آئی ہیں، اور نبی اور ان کے بعد خلفا نے قربانی کی۔

    اصل صفحہ

  • سودی بینک سے قرض لینے والے خریدار کو گاڑی بیچنا

    کار شوروم کے مالک کا سوال کہ کیا وہ ایسے شخص کو گاڑی بیچ سکتا ہے جس نے اس کی قیمت سودی بینک سے قرض لی ہو، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ اگر قرض فروخت سے پہلے لیا جا چکا ہو تو حرج نہیں، لیکن اگر قرض صرف بیچنے والے کے فراہم کردہ کاغذات پر ملتا ہو تو یہ حرام ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ بیچنے والا خریدار سے اس کے مال کا ذریعہ پوچھنے کا مکلف نہیں، کیونکہ حرام کا گناہ کرنے والے کے ذمے ہے، خود مال سے متعلق نہیں، جب تک وہ مال بعینہ چوری کا نہ ہو۔ اس نے کہا کہ ایسے شخص کو سامان بیچنے میں حرج نہیں جو پہلے ہی سودی قرض لے چکا ہو، کیونکہ قرض فروخت کے معاہدے سے کسی تعلق کے بغیر ہوا اور اس پر موقوف نہیں تھا، اس لیے فروخت میں سود پر کوئی مدد نہیں۔ اس نے کہا کہ ایسے شخص کو بیچنا حرام ہے جو ایسے سودی قرض سے خریدنا چاہے جو صرف اس وقت ملتا ہے جب بیچنے والا فروخت مکمل کرنے کے لیے ضروری کاغذات دے، کیونکہ اس میں حرام پر مدد ہے۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ اگر خریدار قرض لے کر رقم لے آئے تو اسے بیچنے میں حرج نہیں اور سود کا گناہ بینک سے معاملہ کرنے والے پر ہے؛ اور اگر اس نے ابھی قرض نہیں لیا اور اسے حاصل کرنے کے لیے کاغذات مانگے تو اس میں اس کی مدد کرنا حرام ہے۔

    اصل صفحہ

  • فوت شدہ مصنف کا مخطوطہ ایسے شخص کو بیچنا جو اسے اپنے نام سے شائع کرنا چاہے

    فوت شدہ مصنف کا مخطوطہ ایسے شخص کو بیچنا جو اسے اپنے نام سے شائع کرنا چاہے کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ خریدار کے لیے کتاب اپنی طرف منسوب کرنا حرام ہے، ورثا کے لیے یہ جانتے ہوئے اسے بیچنا جائز نہیں، اور وہ تصانیف بیچ کر ان کی آمدنی سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں بشرطیکہ وہ مصنف کے نام سے چھپیں۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ فوت شدہ کی تصانیف خریدنے والے کے لیے انہیں اپنی طرف منسوب کرنا حرام ہے، کیونکہ یہ دھوکا اور جعل سازی ہے، اور اسے علمی سرقہ قرار دیا، اور بخاری کی روایت کردہ اس حدیث پر انحصار کیا کہ جو چیز نہ ملی ہو اس پر فخر کرنے والا جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والے کی طرح ہے۔ اس نے کہا کہ اگر ورثا جانتے ہوں کہ وہ انہیں اپنی طرف منسوب کرنا چاہتا ہے تو ان کے لیے اسے بیچنا جائز نہیں، اور اسلامی فقہ اکیڈمی کی کویت میں 1409ھ/1988ء کی پانچویں کانفرنس کی قرارداد نقل کی کہ تصنیف اور ایجاد کے حقوق شرعاً محفوظ ہیں اور ان کے مالکوں کو ان میں تصرف کا حق ہے۔ اس نے وضاحت کی کہ فوت شدہ کا مال، بشمول حقوقِ تصنیف اور دانشورانہ ملکیت، اس کی وفات پر ورثا کو ان کے حصوں کے مطابق منتقل ہو جاتا ہے، اور جائز و مفید کتابوں اور مخطوطات کی فروخت جائز ہے، اور المجموع (9/253) میں نووی کا قول پیش کیا کہ حدیث، فقہ، لغت، ادب، طب، حساب اور دیگر مفید جائز علوم کی کتابیں بیچی جا سکتی ہیں۔ اس نے اردنی افتاء کونسل کی قرارداد نمبر 48 نقل کی کہ مصنف کا حق اس کی وفات کے بعد ورثا کو منتقل ہوتا ہے، اور نتیجہ نکالا کہ ورثا یہ تصانیف بیچ کر ان کی آمدنی سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں بشرطیکہ وہ فوت شدہ مصنف کے نام سے چھپیں، اور انہیں ایسے شخص کو بیچنا جائز نہیں جو انہیں اپنی طرف منسوب کرنا چاہے۔

    اصل صفحہ

  • جانوروں کا مادۂ منویہ بیچنا اور نر جانور کرائے پر لینا

    جانوروں کا مادۂ منویہ بیچنے اور اس کے نر جانور کی جفتی کی اجرت کی ممانعت سے فرق کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ پاک جانور سے نکالا گیا مادہ بیچنا جائز ہے، اور ممانعت غرر کی وجہ سے حمل کے لیے نر کو کرائے پر لینے سے متعلق ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ کتے اور خنزیر کے علاوہ کسی پاک جانور کا مادہ بیچنے یا اس سے تلقیح کی اجرت لینے میں حرج نہیں، کیونکہ جب کل کا بیچنا جائز ہے تو جز کا بھی جائز ہے۔ اس نے کہا کہ جفتی کی اجرت کی ممانعت کی علت یہ ہے کہ حمل کے لیے نر کو کرائے پر لینا غرر ہے، کیونکہ حمل یقینی نہیں اور منفعت نہ معلوم ہے نہ اس کی سپردگی ممکن، جیسا کہ ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری میں ذکر کیا؛ نکالے گئے مادے کی بیع میں یہ مسائل نہیں۔ اس نے ابن حجر الہیتمی کی الزواجر اور نہایۃ المحتاج پر شبراملسی کے حاشیے سے نقل کیا کہ جو نر کو مقررہ وقت کے لیے عمومی فائدے کے لیے کرائے پر لے، وہ اسے مقصد کے طور پر نہیں بلکہ تبعاً جفتی میں استعمال کر سکتا ہے۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ عمومی فائدے کے لیے مقررہ رقم پر مقررہ وقت کے لیے نر کو کرائے پر لینا درست اجارہ ہے، اور کرایہ دار تبعاً اس سے جفتی کا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

    اصل صفحہ

  • شیر اور چیتے چڑیا گھروں کو بیچنا

    شیر اور چیتے جیسے درندوں کو نمائش اور تفریح کے لیے چڑیا گھروں کو بیچنے کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ نافذ قوانین کی حدود میں اس میں حرج نہیں، کیونکہ ان جانوروں کا فائدہ چند لوگوں تک محدود رہنے کے بعد اب عام ہو گیا ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ بیع کے حکم کے لحاظ سے جانور، ان سے فائدے کے امکان کے مطابق، دو قسموں میں ہیں: پہلی قسم وہ جانور جن سے عام اور معتبر فائدہ ہو، انہیں بیچنا اور رکھنا جائز ہے چاہے فائدہ غیر مادی ہو، جیسے مور کے رنگوں یا بلبل کی آواز سے لطف؛ اس نے مغنی المحتاج میں خطیب شربینی کا قول نقل کیا کہ فائدہ بیچی جانے والی چیز کی شرط ہے، اور ان کی مثالیں دیں: شکار کے لیے چیتا، شہد کے لیے مکھی اور آواز کے لیے بلبل۔ دوسری قسم وہ جانور جن سے کوئی فائدہ نہ ہو یا صرف چند لوگوں کا فائدہ ہو، انہیں بیچنا جائز نہیں، جیسے شیر، چیتا، سانپ اور بچھو؛ اس نے اسنی المطالب میں زکریا انصاری کا قول نقل کیا کہ شیر اور بھیڑیے جیسے بے فائدہ جانور کی بیع باطل ہے، اور بادشاہوں کا رعب اور سیاست کے لیے انہیں رکھنا معتبر نہیں۔ اس نے کہا کہ جب بعض جانوروں کے بارے میں عرف بدل جائے اور جہاں فائدہ نہ تھا وہاں عام فائدہ ممکن ہو جائے تو شوافع کے اقوال کی بنیاد پر ان کی بیع جائز ہو جاتی ہے، جیسے سانپ اور بچھو جن کا زہر آج دوائیں اور کاسمیٹکس بنانے میں کام آتا ہے، اور شیر اور چیتے جو عوام کو دکھانے کے لیے چڑیا گھروں کو بیچے جاتے ہیں۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ نافذ قوانین کی حدود میں شیر اور چیتے عوامی چڑیا گھروں کو بیچنا تاکہ لوگ انہیں دیکھ کر لطف اٹھائیں، جائز ہے، کیونکہ ان کا فائدہ اب چند لوگوں تک محدود نہیں بلکہ عام ہو گیا ہے۔

    اصل صفحہ

  • سرپرائز باکس بیچنا

    سرپرائز باکس بیچنا کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ اگر خود ڈبہ بیچی جانے والی چیز ہو اور اس کے اندر کی اشیا انعام ہوں تو بیع درست ہے، لیکن اگر اس کے اندر کی نادیدہ اشیا بیچی جا رہی ہوں تو غرر کی وجہ سے بیع باطل ہے، اس لیے بیان کردہ سرپرائز باکس نہ بیچے جا سکتے ہیں نہ خریدے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ بیع کے ارکان اور شرائط ہیں، جن میں یہ بھی ہے کہ بیچی جانے والی چیز اس طرح معلوم ہو کہ لاعلمی دور ہو جائے؛ اگر وہ نہ دیکھنے کی وجہ سے نامعلوم ہو تو بیع درست نہیں۔ اس نے عمدۃ السالک (ص 150) میں ابن النقیب سے نقل کیا کہ غیر متعین یا نظر سے غائب چیز کی بیع درست نہیں، اور نہایۃ الزین (ص 226) سے کہ اگر عاقدین میں سے کسی نے چیز نہ دیکھی ہو تو بیع درست نہیں چاہے وہ مجلسِ عقد میں موجود ہو۔ اس نے کہا کہ اس صورت کی دو حالتیں ہیں: اگر ڈبہ ہی مقصود بیع ہو اور اندر کی اشیا خریدار کو انعام کے طور پر دی جائیں تو بیع درست ہے کیونکہ چیز اور قیمت معلوم ہیں؛ لیکن اگر ڈبوں کے اندر کی اشیا مقصود بیع ہوں تو وہ نادیدہ اور نامعلوم ہیں، جو حرام غرر ہے۔ اس نے مسلم کی ابو ہریرہ سے روایت کردہ حدیث سے استدلال کیا جس میں کنکری کی بیع اور غرر کی بیع سے منع کیا گیا، اور اسنی المطالب (2/11) میں زکریا انصاری سے نقل کیا کہ غرر وہ ہے جو دو متضاد نتیجوں کے درمیان مترددہو اور زیادہ امکان والا زیادہ خوفناک ہو، یا جس کا انجام پوشیدہ ہو؛ یہاں ڈبوں کے اندر کی چیزیں اور ان کی قیمت نامعلوم ہیں، جو قیمت سے زیادہ یا کم ہو سکتی ہیں۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ یہ سرپرائز باکس نہ بیچے جا سکتے ہیں نہ خریدے، کیونکہ درست بیع کی شرائط پوری نہیں اور حرام غرر موجود ہے۔

    اصل صفحہ

  • زیتون کی آئندہ پانچ برس کی فصل بیچنا

    زیتون کی فصل کو آئندہ پانچ برس کے لیے پہلے سے طے شدہ قیمت پر بیچنے (تضمین) کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ فقہا کا اتفاق ہے کہ دو یا زیادہ برسوں کے لیے پھل بیچنا جائز نہیں، کیونکہ معاہدے کے وقت پھل موجود نہیں ہوتا۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ فقہا کا اتفاق ہے کہ دو یا زیادہ برسوں کے لیے پھل نہیں بیچا جا سکتا، کیونکہ معاہدے کے وقت پھل معدوم ہوتا ہے، اور معدوم کی بیع نص اور اجماع سے باطل ہے۔ اس نے جابر بن عبد اللہ کی اس حدیث پر انحصار کیا جسے مسلم نے روایت کیا، جس میں معاومہ، یعنی کئی برسوں کے لیے پھل بیچنے، سے منع کیا گیا ہے۔ اس نے المجموع شرح المہذب میں نووی کا قول نقل کیا کہ معدوم کی بیع بالاجماع باطل ہے، اور ابن المنذر وغیرہ نے دو برس یا اس جیسی مدت کے لیے پھل بیچنے کے باطل ہونے پر مسلمانوں کا اجماع نقل کیا ہے۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ دو یا زیادہ برسوں کے لیے پھل بیچنا جائز نہیں۔

    اصل صفحہ

  • خراب یا میعاد ختم شدہ اشیا بیچنا

    خراب یا میعاد ختم شدہ اشیا بیچنا کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ خراب یا میعاد ختم شدہ اشیا بیچنا یا ان کی تاریخوں میں ہیرا پھیری حرام ہے؛ جس بیچنے والے کی اشیا کسی کی موت کا سبب بنیں وہ زیادتی کرنے والا ہے جس پر دیت اور کفارہ ہے، اور حکام عبرت ناک تعزیری سزائیں دے سکتے ہیں۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ اسلام نے پاکیزہ چیزوں پر ابھارا اور خرچ اور تجارت میں انہیں حرام سے بدلنے سے منع کیا، اور سورۃ البقرہ 2:267، حلال سے حرام کی طرف نہ پھرنے کے بارے میں تفسیر ابن کثیر (1/697)، اور احمد اور ابن ماجہ کی روایت کردہ حدیث کا حوالہ دیا کہ نہ نقصان پہنچانا ہے نہ نقصان کا بدلہ نقصان؛ اسی میں خراب یا میعاد ختم شدہ غذائی اشیا کی فروخت اور ان کی تاریخِ تیاری یا اختتام میں ہیرا پھیری کی ممانعت شامل ہے۔ اس نے کہا کہ جو تاجر جانتا ہو کہ اشیا کی میعاد ختم ہو چکی ہے اس پر انہیں بیچنا حرام ہے کیونکہ وہ عموماً نقصان دہ ہوتی ہیں، ان کی قیمت لینا لوگوں کا مال ناحق کھانا ہے، اور سورۃ النساء 4:29 کا حوالہ دیا، اور یہ حرام دھوکہ ہے، اور مسلم کی روایت کردہ حدیث سے استدلال کیا جس کا مفہوم ہے کہ جو دھوکہ دے وہ نبی کی امت میں سے نہیں۔ اس نے کہا کہ اگر یہ اشیا کسی کی موت کا سبب بنیں اور طبی طور پر ثابت ہو تو سبب بننے والا زیادتی کرنے والا ہے اور زیادتی ضمان کا سبب ہے، جیسے کوئی عام راستے میں پتھر رکھ دے؛ اور خراب اشیا کو صحیح بتا کر بیچنا ایک قسم کا اکراہ ہے، اور نہایۃ المطلب (16/127) میں جوینی سے نقل کیا کہ زہریلا کھانا ایسے شخص کو بیچنا جس کے کھانے کا غالب گمان ہو، ہلاکت تک پہنچانے کے لحاظ سے اکراہ کے مشابہ ہے۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ خطرہ جاننے والا بیچنے والا، اگر نہ جاننے والا کھانے والا مر جائے، سبب ہونے کی وجہ سے دیت اور کفارہ ادا کرے گا، اور اسی طرح اگر اسے خرابی کا علم نہ ہو، کیونکہ لکھی ہوئی میعاد اس کے لیے اطلاع کے حکم میں ہے؛ اور حکام ایسی اشیا بیچنے والوں پر عبرت ناک تعزیری سزائیں عائد کر سکتے ہیں۔

    اصل صفحہ

  • مسجد کے زائد واٹر کولر بیچنا

    مسجد کے غیر مستعمل زائد واٹر کولر بیچ کر اس کی قیمت سے کچھ اور خریدنے کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے فرق کیا کہ جو چیز بعینہ وقف ہو وہ صرف خراب ہونے پر بیچی جا سکتی ہے، اور جو مسجد کو ہبہ کی گئی یا متولی نے بغیر وقف کیے خریدی وہ ضرورت کے وقت بیچی جا سکتی ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ اصل یہ ہے کہ وقف نہ بیچا جا سکتا ہے، نہ ہبہ کیا جا سکتا ہے، نہ وراثت میں جاتا ہے، اور خیبر میں عمر بن الخطاب کے اپنی زمین وقف کرنے کی متفق علیہ روایت کا حوالہ دیا۔ اس نے کہا کہ قالین اور واٹر کولر جیسی وقف کی اشیا دو قسم کی ہیں: جو بعینہ وقف ہوں وہ نہیں بیچی جا سکتیں جب تک خراب ہو کر ناقابل استعمال نہ ہو جائیں، اس صورت میں بیچ کر ان کی جگہ ویسی ہی چیز خریدی جائے یا ضرورت مند دوسری مسجد میں منتقل کی جائیں؛ اور جو مسجد کو وقف کے بغیر ہبہ کی گئیں یا متولی نے خرید کر وقف نہیں کیں، وہ ضرورت کے وقت بیچی جا سکتی ہیں۔ اس نے روضۃ الطالبین میں نووی کا قول نقل کیا کہ مسجد کی پرانی چٹائیوں کی فروخت میں دو اقوال ہیں جن میں زیادہ صحیح یہ ہے کہ انہیں ضائع ہونے سے بچانے کے لیے بیچ دیا جائے، اور یہ کہ جو متولی نے مسجد کے لیے خریدا یا کسی نے ہبہ کیا وہ ملکیت ہونے کی وجہ سے ضرورت کے وقت بلا اختلاف بیچا جا سکتا ہے؛ اس نے مسجد کی چٹائیاں منتقل کرنے کے بارے میں بکری دمیاطی کا کلام بھی نقل کیا۔ اس نے کولروں کے حکم میں یہی فرق بیان کیا کہ وہ وقف ہیں یا مسجد کی ملکیت۔

    اصل صفحہ

  • خیراتی انجمن کے بلا سود قرضوں پر سروس فیس

    ایک خیراتی انجمن کا سوال جو گردشی بلا سود قرضے دیتی ہے اور ہر قرض دار سے سروس چارج کے طور پر 2% کاٹتی ہے، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ قرض دار سے قرض کی حقیقی براہِ راست لاگت بغیر کسی اضافے کے لی جا سکتی ہے، ورنہ یہ سود ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ قرض دار سے قرض کے اخراجات، جیسے دفتری کام اور ادائیگی کی نگرانی پر مامور عملے کی تنخواہیں، لیے جا سکتے ہیں بشرطیکہ رقم حقیقی براہِ راست لاگت کے برابر ہو اور اس میں ذرا بھی منافع نہ ہو، اور یہ حنفی فقہاء کے قول پر مبنی ہے جنہوں نے قرض لکھنے کی اجرت قرض دار پر رکھی۔ اس نے شرائط رکھیں: فیس خالص انتظامی ہو اور اس میں منافع نہ ہو، تخمینے کے بجائے ٹھیک ٹھیک حساب ہو، صرف انہی قرضوں پر کام کرنے والے عملے کی تنخواہ شامل ہو، دوسرے کاموں میں استعمال ہونے والی جگہ اور فرنیچر کا کرایہ شامل نہ ہو، اور حساب کا طریقہ شرعی کمیٹی کی نگرانی میں واضح کیا جائے۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ اگر قرض دینے والا ادارہ ان شرائط کی پابندی کرے تو حرج نہیں، ورنہ یہ فیس حرام سود ہے۔

    اصل صفحہ

  • حالتِ جنابت میں جسم کے بال مونڈنے اور ناخن کاٹنے کا حکم

    حالتِ جنابت میں جسم کے بال مونڈنے اور ناخن کاٹنے کے حکم کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ جنبی کے لیے مستحب ہے کہ غسل سے پہلے اپنے بدن سے کوئی چیز نہ اتارے، بشریٰ الکریم بشرح مسائل التعلیم (ص 135) سے نقل کرتے ہوئے کہ اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ وہ اجزا آخرت میں اس کی طرف لوٹتے ہیں تو اس کی سرزنش کے لیے جنبی حالت میں لوٹتے ہیں، اور کہا جاتا ہے کہ ہر بال اپنی جنابت کا مطالبہ کرے گا، اور شبراملسی کے نہایۃ المحتاج پر حاشیے (2/341) سے کہ جو جمعے کے دن جنابت کی حالت میں مونڈنے اور غسل کو جمع کرنا چاہے اسے مونڈنے کو غسل کے بعد تک مؤخر کرنا چاہیے تاکہ غسل بالوں سے جنابت کا اثر دور کر دے۔

    اصل صفحہ

  • روزانہ سفر میں قصر اور جمع

    روزانہ سفر میں قصر اور جمع کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ 81 کلومیٹر یا زیادہ کے جائز سفر میں آبادی سے نکلنے کے بعد قصر اور جمع جائز ہے، چاہے سفر روزانہ ہو۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ مسافر 81 کلومیٹر یا زیادہ کی مسافت پر قصر اور جمع کی رخصت لے سکتا ہے، بشرطیکہ سفر جائز ہو اور وہ سفر شروع کر کے اپنے شہر کی آبادی یا اپنے علاقے کی انتظامی حدود سے نکلنے کے بعد آغاز کرے۔ اس نے کہا کہ اگر کام کی جگہ اور رہائش کے درمیان فاصلہ رخصت کی مسافت تک پہنچے تو آبادی سے نکلتے ہی قصر اور جمع جائز ہے، چاہے سفر روزانہ ہو۔ اس نے مغنی المحتاج (1/529) میں خطیب شربینی سے نقل کیا کہ طویل جائز سفر میں جمعِ تقدیم اور جمعِ تاخیر جائز ہے، جمعِ تاخیر صحیحین میں انس بن مالک اور عبداللہ بن عمر کی حدیث سے ثابت ہے، اور جمعِ تقدیم کو ابن حبان اور بیہقی نے معاذ بن جبل کی حدیث سے صحیح اور ترمذی نے حسن کہا۔

    اصل صفحہ

  • بیمار حاجی جو طوافِ افاضہ نہ کر سکا

    ایک بیمار حاجی کا سوال جس نے عرفہ کا وقوف، منیٰ میں قیام، رمی اور حلق کیا پھر طوافِ افاضہ اور سعی کے بغیر گھر لوٹ آیا، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ وہ جزوی طور پر اب بھی احرام میں ہے، محصر نہیں، اور مناسک خود مکمل کرے، اور نائب صرف اسی صورت بنائے جب وہ مستقل طور پر عاجز ہو جائے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ طوافِ افاضہ ایسا رکن ہے جس کے بغیر حاجی حج سے نہیں نکلتا، اور اس کا وقت کبھی ختم نہیں ہوتا، اور نووی اور خطیب شربینی کی مغنی المحتاج سے نقل کیا کہ جس پر یہ باقی ہو وہ محرم رہتا ہے۔ اس نے کہا کہ سائل پہلا تحلل کر چکا ہے جو عورتوں سے متعلق پابندیوں کے سوا احرام کی تمام پابندیاں ختم کر دیتا ہے؛ اگر وہ قادر ہو تو مکہ لوٹنا لازم ہے، اور میقات سے گزرنے پر کچھ لازم نہیں کیونکہ وہ اب بھی محرم ہے، پھر طواف کرے اور اگر حجِ تمتع تھا تو سعی کرے، اور یوں دوسرا تحلل کرے۔ اور اگر وہ عاجز ہو کر معضوب کے حکم میں آ جائے تو کسی کو طواف اور سعی کے لیے نائب بنا سکتا ہے، اور شہاب رملی کے فتاویٰ سے نقل کیا کہ یہ جائز بلکہ واجب ہے، کیونکہ جب پورے نسک میں نیابت کافی ہے تو اس کے کچھ حصے میں بدرجۂ اولیٰ کافی ہے۔ طوافِ وداع کے بارے میں اس نے علماء کا اختلاف ذکر کیا کہ واجب ہے یا مستحب، اور آسانی کے لیے مستحب کا قول لیا، لہٰذا قربانی لازم نہیں؛ اور کہا کہ وہ محصر نہیں، کیونکہ بیماری احصار کا سبب نہیں اور وہ عرفہ میں وقوف کر کے حج جاری رکھ چکا تھا۔

    اصل صفحہ

  • رمضان کے دن میں نسوار، بھاپ اور ویپر رب کا استعمال

    رمضان کے دن میں نسوار، بھاپ لینے اور ویپر رب (وکس) سونگھنے کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ یہ روزہ توڑ دیتے ہیں کیونکہ یہ سانس کے ذریعے پھیپھڑوں تک جانے والے مادے ہیں، البتہ محض خوشبو جس کا کوئی جز جوف تک نہ پہنچے روزہ نہیں توڑتی۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ رمضان کے دن میں نسوار، بھاپ اور وکس کا استعمال روزہ فاسد کر دیتا ہے، کیونکہ یہ ایسے مادے ہیں جو سانس کے ذریعے پھیپھڑوں میں داخل ہوتے ہیں، اور پھیپھڑے جوف کا حصہ ہیں۔ اس نے کہا کہ جو انہیں استعمال کرے وہ مہینے کے احترام میں باقی دن کھانے پینے سے رکا رہے اور رمضان کے بعد قضا کرے۔ اس نے مزید کہا کہ اگر یہ محض خوشبو ہو اور اس کا کوئی جز جوف تک نہ پہنچے تو روزہ نہیں ٹوٹتا۔

    اصل صفحہ

  • جو روزے باقی ہوتے ہوئے فوت ہو جائے

    جو روزے باقی ہوتے ہوئے فوت ہو جائے کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ جو قضا کی قدرت سے پہلے فوت ہو اس پر کچھ نہیں، اور جو قدرت کے بعد فوت ہو اس کے ترکے سے ہر دن کے بدلے ایک مُد غلہ دیا جائے، اور اس کا ولی اس کی طرف سے روزہ رکھ سکتا ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ جو قضا کی قدرت سے پہلے فوت ہو جائے، جیسے وہ شخص جس کا عذر موت تک باقی رہا، اس پر نہ قضا ہے نہ فدیہ اور نہ گناہ۔ اس نے کہا کہ اگر وہ قدرت کے بعد فوت ہو تو چھوٹے ہوئے روزوں کی تلافی واجب ہے، یعنی اس کے ترکے سے ہر دن کے بدلے ایک مُد غلہ دیا جائے، اور میت کی طرف سے کھانا کھلانے کے بارے میں ترمذی کی روایت کردہ ایک حدیث پر انحصار کیا۔ اس نے مزید کہا کہ اس کا ولی اس کی طرف سے روزہ رکھ سکتا ہے، بخاری اور مسلم کی روایت کردہ ایک حدیث کی بنا پر، جس کی ایک روایت میں 'اگر وہ چاہے' کا اضافہ ہے، اور نتیجہ نکالا کہ اس کی طرف سے کھانا کھلانا بھی جائز ہے اور روزہ رکھنا بھی۔

    اصل صفحہ

  • مسجد کی تعمیر کے لیے جمع کیے گئے عطیات خرچ کرنے کے ضوابط

    ایک یورپی ملک کی ایسی جماعت کا سوال جو اپنی کرائے کی مسجد کے انہدام کے حکم کے بعد نئی مسجد کے لیے عطیات جمع کر رہی ہے، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ یہ رقم وقف کے حکم میں ہے اور صرف عطیہ دینے والے کے منشا کے مطابق خرچ ہو سکتی ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ مسجد جیسے وقف کی تعمیر کے لیے جمع کی گئی رقم وقف کے حکم میں ہے: وہ دینے والوں کی ملکیت سے نکل چکی ہے، کسی کو اس میں تصرف کا اختیار نہیں، اور تعمیر مکمل ہونے تک یہی حکم رہتا ہے۔ اس نے تنبیہ کی کہ زکوٰۃ کی رقم مسجدوں کی تعمیر کے لیے جمع کرنا جائز نہیں، کیونکہ زکوٰۃ کے مصارف آٹھ اقسام میں محدود ہیں؛ مسجدیں نفلی صدقات اور عطیات سے بنتی ہیں۔ اس نے کہا کہ مسجد کے لیے جمع شدہ رقم سے سفر، کھانے وغیرہ پر کچھ خرچ نہیں ہو سکتا جب تک عطیہ دینے والا حقیقت جان کر ایک مقررہ مقدار کی اجازت نہ دے، اور اس صورت میں خرچ معروف طریقے سے اور مقصد کے مطابق ہو۔ عطیات کی سرمایہ کاری کے لیے اس نے شرط رکھی کہ جمع کرتے وقت عطیہ دہندگان کو اس سے آگاہ کیا جائے، کیونکہ ممکن ہے دینے والا اپنی رقم کے مقصد تک پہنچنے میں تاخیر یا اسے نقصان کے خطرے میں ڈالنے پر راضی نہ ہو، اور اس کی شرط معتبر ہے؛ اس نے واقف کی شرط کی پیروی پر زکریا الانصاری کی فتح الوہاب اور حاشیہ اعانۃ الطالبین سے نقل کیا۔ آخر میں اس نے کہا کہ اس رقم کا نگران امین ہے، اگر وہ اسے کسی اور مد میں خرچ کرے یا اس کی حفاظت میں کوتاہی کرے تو گناہ گار اور ضامن ہوگا۔

    اصل صفحہ

  • صدقۂ فطر کا ایک صاع کئی فقیروں میں تقسیم کرنا

    صدقۂ فطر کا ایک صاع کئی فقیروں میں تقسیم کرنا کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ صاع یا اس کی قیمت کئی فقیروں میں تقسیم کی جا سکتی ہے، کیونکہ لینے والوں کی تعداد مقرر نہیں۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ صدقۂ فطر فی کس ایک صاع مقرر ہے، لیکن اس صاع کو لینے والوں کی تعداد مقرر نہیں کی گئی۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ ایک صاع کو ایک سے زیادہ فقیروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

    اصل صفحہ

  • گلی سے انٹرنیٹ اور ٹیلی فون کے کیبل اٹھا لینے کا حکم

    گلی سے انٹرنیٹ اور ٹیلی فون کے کیبل چوری کرنے کے حکم اور یہ کہ کیا انہیں گلی میں رکھنا ان کا حرز (محفوظ جگہ) شمار ہوتا ہے، کے بارے میں سوال؛ اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ چوری کبیرہ گناہوں میں سے ہے جس کے مرتکب کو اللہ نے سورہ مائدہ اور نساء کی آیات میں دنیا میں سزا اور آخرت میں عذاب کی وعید دی، شرائط پوری ہونے پر یہ حد کو واجب کرتی ہے اور ایسے گناہ کو جو حد کے ساقط ہونے پر بھی ساقط نہیں ہوتا، اور توبہ صرف چوری شدہ چیز واپس کرنے یا اس کی قیمت کی ضمانت سے درست ہوتی ہے۔ اس نے چوری کی تعریف زکریا انصاری کی اسنی المطالب سے کی کہ یہ مال کو چھپ کر اس جیسے حرز سے شرائط کے ساتھ لینا ہے، واضح کیا کہ حرز سے لینا حد کے ثبوت کی شرط ہے، اور حرز عرف، مال کی قسم، لوگوں کے حالات اور اوقات کے فرق سے مختلف ہوتا ہے، خطیب شربینی کی الاقناع سے نقل کرتے ہوئے کہ حرز میں فیصلہ عرف کا ہے اور غزالی نے اس کی حد یہ مقرر کی کہ جس سے مالک ضیاع کرنے والا نہ شمار ہو، برتنوں، کپڑوں، زیور، نقد اور سونے والے کے سامان کے حرز کی مثالوں کے ساتھ۔ اس نے فیصلہ کیا کہ انٹرنیٹ اور ٹیلی فون کے کیبلوں کا حرز انہیں کھمبوں پر چڑھانا یا ان کے مخصوص راستوں میں دفن کرنا ہے، لہٰذا جو انہیں اٹھائے وہ چور ہے، کیونکہ اس نے انہیں ان جیسے حرز سے لیا۔

    اصل صفحہ

  • طلبہ کا تحقیق کی تیاری میں ChatGPT سے مدد لینا

    طلبہ کا تحقیق کی تیاری میں ChatGPT سے مدد لینا کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ طالب علم تحقیق کی اصل فکری محنت اس ٹیکنالوجی سے تیار کروا کر اپنی طرف منسوب نہیں کر سکتا کیونکہ یہ جھوٹ اور دھوکہ ہے، البتہ معلومات اور مآخذ جمع کرنے اور زبان کی درستی جیسے ظاہری کاموں میں اس سے مدد لے سکتا ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ ChatGPT مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک تعاملی ماڈل ہے جسے امریکی کمپنی OpenAI نے تیار کیا اور نومبر 2022 میں جاری کیا، جو مواد بنانے، مضامین لکھنے اور تحقیق میں مدد کے لیے استعمال ہو سکتا ہے؛ تحقیق اور اسائنمنٹس میں اس کے استعمال کا حکم محنت کی نوعیت پر موقوف ہے۔ اصل محنت جو بذاتِ خود مقصود ہے، یعنی معلومات کی تشکیل، نتائج اخذ کرنا، خیالات کی ترتیب اور مسائل پر بحث، اسے اس ٹیکنالوجی سے تیار کر کے نگرانوں کو دھوکہ دینے کے لیے اپنی طرف منسوب کرنا جائز نہیں، کیونکہ تحقیق جانچ کا ذریعہ ہے، اور اس سے غیر مستحق نمبر ملتے اور محنتی طلبہ کے برابری ہوتی ہے۔ اس نے متفق علیہ حدیث کا حوالہ دیا جس کا مفہوم ہے کہ جو ایسی چیز کا اظہار کرے جو اسے نہیں دی گئی وہ جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والے کی طرح ہے، نیز سورۃ التوبہ 9:119 اور مسلم کی روایت کردہ حدیث کا جس کا مفہوم ہے کہ جو ہمیں دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں، اور اسے جھوٹ، دھوکہ اور جعل سازی قرار دیا۔ رہی ظاہری محنت، جیسے سرچ انجن سے تلاش، معلومات، اعداد و شمار اور مآخذ جمع کرنا اور زبان کی درستی، تو اس میں مصنوعی ذہانت کے کسی بھی ذریعے سے مدد لینے میں کوئی حرج نہیں جو تحقیق کو مضبوطی اور علمی اصالت دے۔ ڈیپارٹمنٹ نے طلبہ اور محققین کو نصیحت کی کہ جھوٹ، دھوکے اور جعل سازی سے بچیں، اپنی تحقیق لکھنے میں ذاتی محنت برقرار رکھیں، اور ان ٹیکنالوجیز کو اللہ کی رضا کے مطابق استعمال کریں۔

    اصل صفحہ

  • سرجن کا دو نمازیں جمع کرنا

    کئی گھنٹے جاری رہنے والا آپریشن کرنے والے ڈاکٹر کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ جہاں تک ممکن ہو نماز وقت پر پڑھنا لازم ہے، اور اگر مریض کے خوف سے یہ ممکن نہ ہو تو وہ جمعِ تاخیر کی نیت کر سکتا ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ مسلمان پر جہاں تک ممکن ہو نماز وقت پر پڑھنا لازم ہے، لہٰذا اگر ڈاکٹر آپریشن مؤخر کر سکے، اس سے پہلے نماز پڑھ سکے، یا بعد میں نماز کا وقت باقی رہے تو نماز مؤخر کرنا حرام ہے۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو فقہاء نے ضرورت کے لیے، یا کسی واجب یا ایسی مصلحت کے فوت ہونے کے خوف سے جس کی حفاظت شریعت چاہتی ہے، جیسے جان یا مال، نماز مقدم یا مؤخر کرنے کی اجازت دی ہے؛ اس نے اسنی المطالب پر رملی کے حاشیے سے نقل کیا کہ یہ ڈوبتے کو بچانے یا حملہ آور کو روکنے میں مشغول شخص پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اس نے بغیۃ المسترشدین سے نقل کیا کہ خطابی نے ابو اسحاق سے حضر میں ضرورت کے لیے جمع کا جواز نقل کیا، اور ابن المنذر کا بھی یہی قول ہے، اور حنابلہ کی الانصاف سے کہ ہر ایسے مشغلے یا عذر والے کے لیے جمع جائز ہے جس سے جمعہ اور جماعت چھوڑنا جائز ہو۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ آپریشن میں مشغول ڈاکٹر جو مریض کے خوف سے نماز وقت پر نہ پڑھ سکے، جمعِ تاخیر کی نیت کر سکتا ہے۔

    اصل صفحہ

  • روزے کی حالت میں بے ہوشی کے تحت آپریشن

    روزے کی حالت میں بے ہوشی کے تحت آپریشن کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ بے ہوشی بذات خود روزہ نہیں توڑتی بشرطیکہ مریض پورا دن بے ہوش نہ رہے، لیکن آپریشن میں کوئی اور روزہ توڑنے والی چیز پیش آ سکتی ہے جس سے قضا لازم ہو۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ بے ہوشی بذات خود روزہ نہیں توڑتی، کیونکہ بے ہوشی کی گیسوں کا کوئی جسم نہیں، اور جلد کے نیچے بے ہوشی کے انجکشن بھی ایسے ہی ہیں۔ اس نے شرط رکھی کہ مریض پورا دن بے ہوش نہ رہے: اگر دن کے شروع میں ہوش میں تھا تو روزہ درست ہے، اور اسی طرح اگر آپریشن کے بعد غروب سے ایک لمحہ پہلے بھی ہوش میں آ جائے۔ اس نے کہا کہ آپریشن میں کوئی اور روزہ توڑنے والی چیز پیش آ سکتی ہے، جیسے اجسام کا جوف میں داخل ہونا، اور ایسا ہو تو اس پر قضا ہے۔

    اصل صفحہ

  • حیض مؤخر کرنے کی دوا لینے والی کا روزہ

    ایک خاتون کے بارے میں سوال جس نے حیض مؤخر کرنے کی دوا لے کر روزہ رکھا، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ اس کا روزہ درست ہے، لیکن ضرورت نہ ہونے کی وجہ سے اسے اس کا مشورہ نہیں دیا جاتا، اور اگر دوا سے نقصان ہو، چاہے صرف امکان ہو، تو اسے لینا حرام ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ اگر عورت دوا لے، حیض کا خون نہ دیکھے اور روزہ رکھے تو اس کا روزہ درست ہے۔ اس نے کہا کہ اسے اس کا مشورہ نہیں دیا جاتا کیونکہ اس کی ضرورت نہیں، اور اگر دوا اسے نقصان دے، چاہے صرف امکان ہو، تو اس کا لینا اس پر حرام ہے۔

    اصل صفحہ

  • سڑکوں اور عوامی مقامات سے روشنی کے یونٹ اتارنا

    سڑکوں اور عوامی مقامات سے روشنی کے یونٹ اتارنا کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ روشنی کے یونٹوں کی حفاظت (حرز) ان کی مقررہ جگہوں پر تنصیب ہے، لہٰذا وہاں سے انہیں اتارنا چوری ہے کیونکہ وہ اپنے مناسب حرز سے لیے گئے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ چوری کبیرہ گناہ ہے، اور سورۃ المائدہ 5:38 اور سورۃ النساء 4:29–30 کا حوالہ دیا؛ اس نے کہا کہ شرائط پوری ہوں تو اس پر حد ہے اور گناہ ہر حال میں ہے، حد ساقط ہو جائے تب بھی گناہ ساقط نہیں ہوتا، اور توبہ صرف چوری کا مال واپس کرنے یا اس کی قیمت کا ضامن بننے سے درست ہوتی ہے۔ اس نے اسنی المطالب (4/137) میں زکریا انصاری کی تعریف نقل کی کہ چوری مال کو اس کے مناسب حرز سے چھپ کر شرائط کے ساتھ لینا ہے، اور کہا کہ حد کے لیے حرز سے لینا شرط ہے، اور حرز عرف، مال کی نوعیت، لوگوں کے حالات اور زمانے کے ساتھ بدلتا ہے، اور الاقناع فی حل الفاظ ابی شجاع (2/535) میں خطیب شربینی سے نقل کیا کہ حرز کا مرجع عرف ہے، اور غزالی کا ضابطہ ذکر کیا کہ حرز وہ ہے جس میں مالک کو مال ضائع کرنے والا نہ سمجھا جائے۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ روشنی کے یونٹوں کا حرز ان کی روشنی کے لیے مقررہ جگہوں پر تنصیب ہے، اور وہاں سے انہیں اتارنا چوری ہے کیونکہ وہ اپنے مناسب حرز سے لیے گئے۔

    اصل صفحہ

  • ہنگامی فنڈ رکھتے ہوئے زکوٰۃ لینا

    کریانے کی دکان کے شراکت داروں کا سوال جنہوں نے ہنگامی فنڈ جمع کیا اور ان کی تنخواہیں ناکافی ہیں، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ جمع شدہ مال نصاب کو پہنچ کر سال گزرنے پر اس میں زکوٰۃ واجب ہے، اور زکوٰۃ دینے والا اپنی زکوٰۃ خود نہیں لے سکتا۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ جو نصاب کا مالک ہو اور اس پر سال گزر جائے اس پر مستحقین کو زکوٰۃ دینا واجب ہے، مال جمع کرنے کی وجہ کچھ بھی ہو، اور اللہ نے قرآن میں اس کے مصارف متعین کیے ہیں۔ اس نے کہا کہ زکوٰۃ دینے والا اسے اپنے لیے نہیں نکال سکتا، کیونکہ یہ نہ نکالنا ہے نہ مالک بنانا، لہٰذا وہ ایک ہی وقت میں دینے والا اور مستحق نہیں ہو سکتا؛ نہ وہ فقر کے نام پر اسے ان لوگوں کو دے سکتا ہے جن کا نفقہ اس پر لازم ہے؛ اس نے اس بارے میں خطیب شربینی کی الاقناع سے نقل کیا۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ زکوٰۃ دینے والا اپنی زکوٰۃ سے اپنے لیے نہیں لے سکتا، نہ اسے فقر کے نام پر والدین، بیوی اور چھوٹے بچوں جیسے زیرِ کفالت افراد کو دے سکتا ہے، جبکہ اس کے پاس جمع شدہ مال ہو جس سے وہ خرچ کر سکے۔

    اصل صفحہ

  • حاملہ کا تیمم جسے غسل سے سخت تکلیف ہو

    حاملہ کا تیمم جسے غسل سے سخت تکلیف ہو کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ پانی گرم کر کے اور جگہ گرم کر کے استعمال ممکن ہو تو تیمم نہیں، اور اگر یہ ممکن نہ ہو اور غسل سے شدید نقصان ہو تو تیمم کرے، لیکن نمازوں کی قضا کرے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ پانی استعمال کرنے کی قدرت ہو، مثلاً پانی گرم کر کے اور غسل کی جگہ گرم کر کے یا ایسی دوسری احتیاطوں سے، تو فرض غسل کی جگہ تیمم نہیں کیا جائے گا۔ اس نے کہا کہ اگر اس سے فائدہ نہ ہو یا یہ ممکن نہ ہو، اور غسل شدید نقصان کا باعث ہو، تو نقصان کی وجہ سے پانی کے استعمال سے عاجز ہونے کی بنا پر وہ تیمم کر سکتی ہے، لیکن اس تیمم سے پڑھی گئی نمازوں کی قضا اس پر ہے۔ اس نے بشریٰ الکریم سے نقل کیا کہ سردی تیمم کو اسی وقت جائز کرتی ہے جب گرمائش فائدہ نہ دے، پانی گرم کرنے کا سامان نہ ہو، اور جان، عضو یا بیماری پیدا ہونے یا بڑھنے کا خوف ہو، اور محض پانی سے تکلیف تیمم کو جائز نہیں کرتی۔

    اصل صفحہ

  • شدید سردی میں غسل کے بجائے تیمم

    شدید سردی کی وجہ سے غسل کے بجائے تیمم کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ یہ اس شخص کے لیے جائز ہے جو بیماری کی وجہ سے پانی استعمال نہ کر سکے، یا پانی ٹھنڈا پائے، اسے گرم نہ کر سکے اور اس سے نقصان ہو، البتہ اس تیمم سے پڑھی گئی نمازوں کی قضا واجب ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ جو بیمار ہو اور پانی استعمال نہ کر سکے، یا پانی ٹھنڈا پائے، اسے گرم کرنا ممکن نہ ہو اور اس کے استعمال سے نقصان ہو، وہ تیمم کر سکتا ہے۔ اس نے کہا کہ اس صورت میں تیمم سے پڑھی گئی نمازوں کی قضا اس پر واجب ہے، کیونکہ وہ ایسی جگہ ہے جہاں پانی کا نہ ملنا نادر ہے۔

    اصل صفحہ

  • ایک استانی جو کوتاہی کرنے والے پلیٹ فارم شریک کے بغیر کام کرنا چاہتی ہے

    ایک استانی کا سوال جو ایک آن لائن پلیٹ فارم کے ساتھ آمدنی کے 60% پر کام کرتی ہے اور 40% پلیٹ فارم کا ہے، جب پلیٹ فارم نے اپنا کام چھوڑ دیا، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ وہ طے شدہ حصے سے زیادہ کی حق دار نہیں، اور اکیلے کام کرنا چاہے تو پہلے شراکت ختم کرے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ عقد فریقین کے درمیان قانون ہے، اور طے شدہ شرائط کی پابندی لازم ہے اگر ان میں کوئی حرام بات نہ ہو۔ اس نے استانی اور پلیٹ فارم کے مالک کے تعلق کو شرکتِ اعمال قرار دیا جس میں منافع طے شدہ تناسب سے تقسیم ہوتا ہے، اور مرغینانی کی الہدایہ سے نقل کیا کہ صنائع کی شرکت جائز ہے۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ جو استانی پلیٹ فارم کے منتظم کا کام کرتی ہے وہ طے شدہ حصے سے زیادہ کی حق دار نہیں، اور اگر اکیلے کام کرنا چاہے تو پہلے شراکت کا عقد ختم کرے پھر خود کام کرے۔

    اصل صفحہ

  • جمعے کے دن غسل کا حکم

    جمعے کے دن غسل کے حکم کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ یہ سنت مؤکدہ ہے جو جمعے کی نماز میں حاضری کا ارادہ رکھنے والے ہر شخص کے لیے مستحب ہے، اور جنبی اگر جنابت دور کرنے اور جمعے کے غسل دونوں کی نیت کرے تو دونوں حاصل ہو جاتے ہیں۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ جمعے کا غسل سنت مؤکدہ ہے، اور ابو داود اور ترمذی کی روایت کردہ حدیث کا حوالہ دیا، جسے ترمذی نے حسن کہا، کہ جس نے جمعے کو وضو کیا اس نے اچھا کیا، اور جس نے غسل کیا تو غسل افضل ہے۔ اس نے کہا کہ یہ ہر اس شخص کے لیے مستحب ہے جو جمعے کی نماز میں حاضر ہونا چاہے، چاہے اس پر جمعہ لازم نہ ہو، جیسے عورت اور لڑکا۔ اس نے مزید کہا کہ جو جنبی ایک غسل سے جنابت دور کرنے اور جمعے کے غسل دونوں کی نیت کرے اسے دونوں حاصل ہو جاتے ہیں، اور اگر ایک کی نیت کرے تو صرف وہی حاصل ہوتا ہے۔

    اصل صفحہ

  • رمضان کے دن میں ٹوتھ پیسٹ کا استعمال

    رمضان کے دن میں ٹوتھ پیسٹ کے استعمال کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ اگر یقین ہو کہ اس کا کچھ حصہ جوف تک نہیں پہنچا تو روزہ نہیں ٹوٹتا، لیکن یہ مکروہ ہے، اور بہتر ہے کہ سحری کے اختتام سے پہلے یا افطار کے بعد استعمال کیا جائے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ رمضان کے دن میں ٹوتھ پیسٹ کا استعمال روزہ نہیں توڑتا اگر یقین ہو کہ اس کا کچھ بھی جوف تک نہیں پہنچا، لیکن یہ مکروہ ہے۔ اس نے کہا کہ بہتر ہے کہ روزے دار اسے روزہ شروع ہونے سے پہلے یا افطار کے بعد استعمال کرے تاکہ روزے کو خطرے میں نہ ڈالے۔

    اصل صفحہ

  • حرام چیزوں کی تشہیر کا ترجمہ

    ایک ویب سائٹ کے مترجم کا سوال جو کبھی شراب یا ہم جنس پرستوں کے ریزورٹس سے متعلق ریستورانوں اور ہوٹلوں کی پیشکشوں کا ترجمہ کرتا ہے، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ ترجمہ اصلاً جائز ہے، لیکن جس میں حرام کی براہِ راست مدد یا تشہیر ہو وہ ناجائز ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ ترجمے کا کام اصلاً جائز ہے، بشرطیکہ اس کے شعبوں کا حرام چیزوں کی براہِ راست مدد یا تشہیر سے تعلق نہ ہو۔ اس نے کہا کہ جس مواد میں حرام کی مدد ہو اس کا ترجمہ جائز نہیں، جیسے ان چیزوں کی تشہیر جنہیں ڈیپارٹمنٹ برائی اور فساد سمجھتا ہے، یا شراب نوشی کی تشہیر؛ اس نے نیکی اور تقویٰ میں تعاون اور گناہ میں تعاون نہ کرنے کے قرآنی حکم سے استدلال کیا۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ حرام سے متعلق یا اس کی تشہیر کرنے والے مواد کا ترجمہ ناجائز ہے، اور جو اس سے متعلق نہ ہو اس کا ترجمہ جائز ہے۔

    اصل صفحہ

  • تعلیمی پلیٹ فارمز کا جھوٹا دعویٰ کہ نمایاں طلبہ ان کے ہاں پڑھے

    تعلیمی پلیٹ فارمز کا جھوٹا دعویٰ کہ نمایاں طلبہ ان کے ہاں پڑھے کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ یہ حرام جھوٹ اور فریب ہے، چاہے طلبہ کی طرف سے ہو یا پلیٹ فارم مالکان کی طرف سے، اور معاوضے کے بدلے ہو تو گناہ بڑھ جاتا ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ مسلمان پر اپنے قول، عمل اور ہر حال میں سچائی لازم ہے، اور سچوں کے ساتھ رہنے کے حکم والی آیت سورۃ التوبہ 9:119 کا حوالہ دیا۔ اس نے کہا کہ دنیاوی فائدے کے لیے جھوٹ اور دھوکا بڑے گناہوں میں سے ہیں، اور بخاری کی روایت کردہ اس حدیث پر انحصار کیا کہ جو دھوکا دے وہ ہم میں سے نہیں، اور جھوٹی بات سے بچنے کے حکم والی آیت سورۃ الحج 22:30 پر، اور جھوٹے بیانات کے بدلے لیے گئے مال کو حرام کمائی (سحت) اور لوگوں کا مال ناحق کھانا قرار دیا۔ اس نے مزید کہا کہ پلیٹ فارم مالکان کے لیے اپنی طرف وہ بات منسوب کرنا حرام ہے جو ان میں نہیں، جیسے کسی نمایاں طالب علم کو اپنا شاگرد بتانا جبکہ وہ نہ ہو، اور اسماء بنت ابی بکر کی بخاری میں روایت کردہ حدیث پر انحصار کیا کہ جو چیز نہ ملی ہو اس پر فخر کرنے والا جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والے کی طرح ہے۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ میڈیا بیانات میں اور ہر حال میں جھوٹ حرام ہے، چاہے طلبہ کی طرف سے ہو یا پلیٹ فارم مالکان کی طرف سے، اور ادا شدہ معاوضے کے بدلے ہو تو گناہ بڑھ جاتا ہے۔

    اصل صفحہ

  • بیمار کی طرف سے حج یا عمرہ کی نیابت کی شرائط

    ایک بیمار والد کی طرف سے شفا کی نیت سے عمرہ ادا کرنے کے لیے کسی کو مقرر کرنے کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ مستقل طور پر عاجز شخص کی طرف سے اس کی اجازت سے نیابت جائز ہے، اور شفا کی نیت میں حرج نہیں۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ حج اور عمرہ زندگی میں ایک بار فرض ہیں، اور جو ایسی بیماری جس کے ختم ہونے کی امید نہ ہو یا بڑھاپے کی وجہ سے انہیں ادا نہ کر سکے وہ کسی اور کو نائب بنا سکتا ہے، اور فرض میں ایسا کرنا لازم ہے، اور اس پر تحفۃ المحتاج پر شروانی کے حاشیے اور نووی کی المجموع میں معضوب کی تعریف سے استدلال کیا۔ اس نے معضوب کی اجازت کو شرط قرار دیا کیونکہ وہ زندہ ہے اور اپنی مرضی و اختیار رکھتا ہے، اور نووی کی روضۃ الطالبین سے نقل کیا کہ اس کی اجازت کے بغیر اس کی طرف سے حج کافی نہیں، اور کہا کہ عارضی بیماری جس سے شفا کی امید ہو نیابت کی اجازت نہیں دیتی۔ اس نے کہا کہ عمرے کا شفا کی نیت سے ہونا درست ہے، کیونکہ شفا طلب کرنا دعا ہے اور دعا سے پہلے نیک عمل پیش کرنا مستحب ہے۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ جسے استطاعت حاصل ہوئی پھر وہ عاجز ہو گیا اس پر نائب بنانا لازم ہے، عاجز نفلی حج و عمرہ میں بھی نائب بنا سکتا ہے، اور نائب کے لیے اجازت لینا اور پہلے اپنی طرف سے حج یا عمرہ کر چکا ہونا ضروری ہے۔

    اصل صفحہ

  • نذر کی شرط پوری ہونے سے پہلے نذر کا عمرہ ادا کرنا

    ایک شخص کا سوال جس نے نذر مانی کہ اگر اسے واجب الادا رقم ملی تو عمرہ کرے گا، پھر رقم ملنے سے پہلے عمرہ کر لیا، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ احتیاط شرط پوری ہونے کا انتظار کرنے میں ہے، اور جس نے پہلے ادا کر دیا اور دوبارہ نہ کر سکے وہ حنابلہ کے مذہب پر بری الذمہ ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ نذر ایسی عبادت کا التزام ہے جو شریعت نے واجب نہیں کی، اور منعقد ہونے کے بعد اسے پورا کرنا لازم ہے، اور علماء میں اختلاف ہے کہ معلق نذر شرط سے پہلے ادا ہو سکتی ہے یا نہیں۔ شافعیہ مالی نذر کو پہلے ادا کرنے کی اجازت دیتے ہیں، بدنی کو نہیں، اور حج و عمرہ کو بدنی شمار کرتے ہیں؛ اس نے زکریا الانصاری کی اسنی المطالب سے، اور امام الحرمین الجوینی کی نہایۃ المطلب سے نقل کیا کہ حج میں نیابت ضرورت کی رخصت ہے۔ حنفیہ کہتے ہیں کہ شرط سے پہلے کیا گیا عمل نفل ہے اور دوبارہ لازم ہے، اور اس نے شرنبلالی کی مراقی الفلاح سے نقل کیا، جبکہ حنابلہ پہلے ادا کرنے کی اجازت دیتے ہیں، اور اس نے بہوتی کی کشاف القناع سے نقل کیا۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ احتیاط یہ ہے کہ نذر ماننے والا شرط پوری ہونے کا انتظار کرے تاکہ بالاجماع بری الذمہ ہو، لیکن اگر وہ پہلے ادا کر چکا ہو اور دوبارہ نہ کر سکے تو حنابلہ کے مذہب پر اسے بری الذمہ قرار دینے میں حرج نہیں۔

    اصل صفحہ

  • حریفوں کو بازار سے نکالنے کے لیے قیمتیں گرانا

    ایک سیلز کمپنی کا سوال کہ کیا وہ دو مہینے قیمتیں کم کر کے حریفوں کو بازار سے نکال سکتی ہے، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ حکم نیت کے لحاظ سے بدلتا ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ دوسرے تاجروں کو نقصان پہنچانے کی نیت سے، جیسے انہیں خسارے میں ڈالنا یا بازار پر اجارہ داری کے لیے انہیں نکالنا، بازار کی قیمت سے کم بیچنا حرام ہے، اور اس پر نقصان نہ دینے اور نقصان کا بدلہ نقصان سے نہ دینے والی حدیث سے استدلال کیا۔ اس نے کہا کہ نقصان کی نیت کے بغیر قیمت کم کرنے سے معمولی نقصان ہو تو لوگوں کی سہولت کی عام مصلحت کے لیے اسے برداشت کیا جاتا ہے، جیسے موسم یا میعاد ختم ہونے کے قریب سامان کی عارضی اور محدود مدت کی کلیئرنس۔ اور اگر اس سے پورے بازار کو شدید نقصان ہو تو اس نے دو آرا ذکر کیں: جمہور کے نزدیک تاجر جس قیمت پر چاہے بیچ سکتا ہے اور اسے کسی قیمت کا پابند نہیں کیا جاتا، اس پر عمر اور حاطب بن ابی بلتعہ کے واقعے سے استدلال ہے؛ اور مالکیہ کے نزدیک اسے بازار کی قیمت اختیار کرنی ہوگی یا بازار سے نکلنا ہوگا، جس میں ابن رشد کی البیان والتحصیل سے نقل کیا۔ اس نے تاجروں کو اس کا لحاظ رکھنے کی تلقین کی۔

    اصل صفحہ

  • مصنوعات پر حقیقت سے کم کیلوریز لکھنا

    مصنوعات پر حقیقت سے کم کیلوریز لکھنا کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ مال میں ایسی صفات کا دعویٰ جو اس میں نہ ہوں جھوٹ اور دھوکہ ہونے کی وجہ سے حرام ہے؛ ایسا کرنے والا توبہ کرے اور معلومات درست کرے، لیکن قیمت نہ بدلنے کی وجہ سے منافع الگ کرنا لازم نہیں، البتہ کمائی پاک کرنے کے لیے صدقہ اچھا ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ اسلام نے معاملات میں جھوٹ اور دھوکہ حرام کیا ہے، اور سورۃ المؤمنون 23:8 اور سورۃ التوبہ 9:119 کا، اور مسلم کی روایت کردہ اس حدیث کا حوالہ دیا جس کا مفہوم ہے کہ جو مسلمانوں کو دھوکہ دے وہ ان میں سے نہیں؛ اور کہا کہ مال میں ایسی صفات بیان کرنا جو اس میں نہ ہوں جھوٹ اور دھوکہ ہے۔ اس نے اردنی مجلسِ افتاء کی قرارداد نمبر 101 نقل کی کہ مسلمان، چاہے تاجر ہو یا سیلز نمائندہ یا کسی بھی منصب پر، اپنی تمام باتوں میں سچا رہے اور ہر اس چیز کی حقیقت بیان کرے جس کی وہ تشہیر کرتا ہے، اور اس پر جھوٹ اور فریب حرام ہے۔ اس نے کہا کہ جو اس میں مبتلا ہو وہ فوراً سچی توبہ کرے: شائع شدہ معلومات درست کر کے اور اس کا اعلان کر کے فوراً باز آئے، دوبارہ نہ کرنے کا عزم کرے، نادم ہو، اور کثرت سے استغفار اور نیک عمل کرے۔ اس نے بتایا کہ چونکہ غلط صفات کی وجہ سے مصنوعات کی قیمت نہیں بڑھی، بلکہ ان کے ساتھ اور ان کے بغیر ایک ہی تھی، اس لیے منافع میں سے کچھ الگ کرنا لازم نہیں کیونکہ لوٹانے کو کوئی فرق نہیں؛ کمائی کو پاک کرنے کے لیے خیر کے کاموں میں صدقہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

    اصل صفحہ

  • لغو قسم

    لغو قسم کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ جو قسم کے ارادے اور پختہ عزم کے بغیر اللہ کی قسم کھائے اس پر کچھ نہیں، البتہ کثرت سے قسم نہ کھائی جائے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ جو اللہ کی قسم کھائے مگر قسم کا ارادہ نہ ہو اور اسے پختہ کرنے کا عزم نہ ہو، اس پر کچھ نہیں، اور سورۃ البقرہ 2:225 کا حوالہ دیا۔ اس نے کہا کہ مسلمان کثرت سے قسمیں نہ کھائے تاکہ اس کی زبان اس کی عادی نہ ہو جائے، اور سورۃ البقرہ 2:224 کا حوالہ دیا۔

    اصل صفحہ

  • موئسچرائزنگ کریموں میں یوریا شامل کرنا

    موئسچرائزنگ کریموں میں یوریا شامل کرنے کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ مصنوعی یوریا پاک ہے اور اس کے استعمال میں حرج نہیں، جبکہ پیشاب سے نکالی گئی نامیاتی یوریا نجس ہے الا یہ کہ اس کی ماہیت بدل جائے، اور متبادل نہ ہونے پر علاج میں اس کا استعمال جائز ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ یوریا ایک نامیاتی مرکب ہے جو جانوروں اور انسان کے جسم بناتے ہیں اور زیادہ تر پیشاب کے ساتھ خارج ہوتا ہے، اور آج یہ صنعتی طور پر تیار ہو کر جانوروں کی خوراک، کھاد، ادویات، پلاسٹک وغیرہ میں استعمال ہوتا ہے۔ اس نے کہا کہ مصنوعی یوریا پاک ہے کیونکہ یہ امونیا گیس اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے زیادہ دباؤ پر تعامل سے بنتی ہے، اور قاعدہ یہ ہے کہ چیزوں میں اصل پاکی ہے۔ اس نے کہا کہ پیشاب سے نکالی گئی نامیاتی یوریا اس کے ساتھ ملنے کی وجہ سے نجس ہے، لیکن پاک متبادل نہ ہو تو علاج میں اس کا استعمال جائز ہے؛ اس نے خطیب شربینی کی مغنی المحتاج سے پاک چیز نہ ملنے پر نجس سے علاج کا جواز نقل کیا۔ اس نے کہا کہ اگر اس میں ایسے مادے ملائے جائیں جو اس کی صفات ختم کر کے اسے دوسری چیز میں بدل دیں تو حنفیہ کے نزدیک، جو استحالہ کے قائل ہیں، وہ پاک ہے؛ اس نے ابن الہمام کی فتح القدیر سے نقل کیا۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ مصنوعی یوریا کو کاسمیٹک اور طبی مصنوعات میں استعمال کرنے میں حرج نہیں، نہ ہی ماہیت بدلی ہوئی نامیاتی یوریا میں، اور غیر تبدیل شدہ نامیاتی یوریا سے علاج متبادل نہ ہونے اور نقصان نہ ہونے کی شرط پر جائز ہے، جس کا تعین ادویات کی تیاری کی نگرانی کرنے والے ادارے کریں گے۔

    اصل صفحہ

  • احرام کی حالت میں انہیلر کا استعمال

    احرام کی حالت میں انہیلر کا استعمال کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ محرم علاج کے لیے خوشبودار مواد والی بھاپ، اسپرے اور انہیلر استعمال کر سکتا ہے، اور اس پر فدیہ نہیں۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ محرم علاج کے لیے خوشبودار مواد والی بھاپ، اسپرے اور انہیلر استعمال کر سکتا ہے، کیونکہ مقصد علاج ہے خوشبو لگانا نہیں، اور اس پر اس کا فدیہ لازم نہیں۔ اس نے حاشیۃ البجیرمی علی الخطیب (2/455) سے نقل کیا کہ جو چیز کھانے یا علاج کے لیے ہو وہ محرم پر حرام نہیں اور اس میں فدیہ نہیں، چاہے اس میں اچھی خوشبو ہو۔

    اصل صفحہ

  • رمضان کے دن میں مریض کا انہیلر استعمال کرنا

    رمضان کے دن میں مریض کے انہیلر استعمال کرنے کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ ناک یا منہ کے ذریعے انہیلر روزہ توڑ دیتا ہے؛ جسے بعض دنوں میں ضرورت ہو وہ استعمال کرے، رکا رہے اور قضا کرے، اور جسے ہر روز ضرورت ہو وہ استعمال کرے، رکا رہے اور ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلائے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ ناک یا منہ کے ذریعے انہیلر کا استعمال روزہ توڑ دیتا ہے، کیونکہ ان انہیلرز میں دوا کا مقصد پھیپھڑوں تک پہنچنا ہے، اور پھیپھڑے جوف کا حصہ ہیں۔ اس نے کہا کہ جو اسے بعض دنوں میں استعمال کرتا ہو وہ روزے کے وقت استعمال کرے، کھانے پینے سے رکا رہے اور بعد میں قضا کرے۔ اس نے مزید کہا کہ جو اسے ہر روز استعمال کرتا ہو وہ روزے کے وقت استعمال کرے، رکا رہے، اور ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلائے۔

    اصل صفحہ

  • روزے کی حالت میں آکسیجن کا استعمال

    روزے دار کے آکسیجن مشین استعمال کرنے کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ اس سے روزے کی صحت پر اثر نہیں پڑتا کیونکہ آکسیجن ہوا ہے جس کا کوئی جسم نہیں، سوائے اس کے کہ اس میں جسم رکھنے والی دوائیں شامل کی جائیں۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ آکسیجن مشین کا استعمال روزے کی صحت پر اثر نہیں ڈالتا، کیونکہ آکسیجن ایسی ہوا ہے جس کا کوئی جسم نہیں۔ اس نے کہا کہ اگر آکسیجن میں جسم رکھنے والی دوائیں شامل کی جائیں تو رمضان کے دن میں اس کا استعمال روزہ توڑ دیتا ہے، کیونکہ وہ معمول کے راستے سے جوف میں داخل ہوتی ہیں۔

    اصل صفحہ

  • اوور ٹائم کے دوران فون میں مشغول ہونا

    اوور ٹائم کے دوران فون میں مشغول ہونا کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ ملازم پر اوور ٹائم کے قواعد، سچائی اور حاضری کی پابندی لازم ہے؛ ذمہ داریاں پوری کرنے کے بعد خالی وقت مفید کام میں گزار سکتا ہے، لیکن اگر ذاتی کاموں سے کام میں تاخیر کرے تو ضائع وقت کی اجرت اس کے لیے حلال نہیں اور وہ اس کی مقدار واپس کرے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ ملازم پر اوور ٹائم کے اوقات سے متعلق ہدایات اور ضوابط کی پابندی، سچائی اور حیلے و جھوٹ سے اجتناب لازم ہے، اور سورۃ التوبہ 9:119 کا حوالہ دیا؛ اور جسے اوور ٹائم سونپا گیا ہو وہ کام کی جگہ پر موجود رہے، چاہے اس کے پاس کوئی کام نہ ہو۔ اس نے کہا کہ اس صورت میں وہ ممکنہ حد تک وقت اپنے ادارے کے فائدے میں گزارنے کی کوشش کرے؛ اگر کوئی کام نہ ہو تو مفید چیزوں، جیسے قرآن یا کتابیں پڑھنے یا علمی دروس سننے، میں وقت گزارنے میں حرج نہیں، بشرطیکہ وہ اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کر چکا ہو۔ اس نے کہا کہ اگر اس کے پاس کام ہو تو اسے مکمل کرنا واجب ہے، اور وہ قابلِ قبول عرف کے مطابق کالوں کا جواب یا دیگر ذاتی کام کر سکتا ہے بشرطیکہ کام میں تاخیر نہ ہو؛ اگر ذاتی کاموں کی وجہ سے کام مؤخر ہو جائے تو ضائع کیے گئے وقت کی اجرت اس کے لیے حلال نہیں، اور اسے ہر ممکن طریقے سے اس کی مقدار ادارے کو لوٹانی ہوگی۔

    اصل صفحہ

  • رمضان کے دن میں قے

    رمضان کے دن میں قے کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ جان بوجھ کر قے کرنا روزہ توڑ دیتا ہے، جبکہ جس پر قے غالب آ جائے اس کا روزہ نہیں ٹوٹتا جب تک اس کا کچھ حصہ جوف میں واپس نہ جائے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ جان بوجھ کر قے کرنا روزہ توڑنے والی چیزوں میں سے ہے، چنانچہ جو عمداً قے کرے اس کا روزہ ٹوٹ گیا۔ اس نے کہا کہ جس پر قے غالب آ جائے اس کا روزہ نہیں ٹوٹتا اگر اس کا کچھ حصہ جوف میں واپس نہ جائے، ورنہ ٹوٹ جاتا ہے۔ اس نے ابو داود اور ترمذی کی روایت کردہ ایک حدیث پر انحصار کیا جو اس شخص میں فرق کرتی ہے جس پر قے غالب آ جائے، اس پر قضا نہیں، اور جو جان بوجھ کر قے کرے، اس پر قضا ہے۔

    اصل صفحہ

  • پورے سال کے روزوں کی نذر

    پورے سال کے روزوں کی نذر کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ معین سال کی نذر میں عیدین، ایامِ تشریق، رمضان اور حیض و نفاس کے دن داخل نہیں اور ان کی قضا نہیں، اور غیر معین سال کی نذر میں شرط ہو تو تسلسل لازم ہے اور حیض و نفاس کے سوا ان دنوں کی قضا ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ جو معین سال کے روزوں کی نذر مانے اس کی نذر میں عید، ایامِ تشریق، رمضان اور حیض و نفاس کے دن داخل نہیں، اور ان دنوں کی قضا نہیں۔ اس نے کہا کہ جو غیر معین سال کی نذر مانے اور تسلسل کی شرط لگائے اس پر تسلسل لازم ہے، وہ عید، رمضان اور حیض کے دنوں میں روزہ نہ رکھے، لیکن حیض و نفاس کے سوا ان دنوں کی قضا اس پر واجب ہے۔ اس نے شرح ابن قاسم پر باجوری کے حاشیے (2/606) سے نقل کیا کہ رمضان میں کوئی دوسرا روزہ نہیں ہو سکتا اور عید و تشریق میں روزہ ہوتا ہی نہیں، اس لیے یہ دن شرعاً معین سال کی نذر سے مستثنیٰ ہیں اور تسلسل نہیں توڑتے، اور اس میں معین سال کے حیض و نفاس کے دنوں میں رافعی کے اختلاف اور غیر معین سال میں حیض کے دنوں کی قضا کے بارے میں ابن الرفعہ کے قول کا ذکر ہے کہ رمضان کی طرح ان کی قضا لازم ہے۔

    اصل صفحہ

  • احرام میں ماسک پہننا

    احرام میں ماسک پہننا کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ احرام میں مرد کا ماسک پہننا اصلاً ممنوع ہے جس پر فدیہ واجب ہوتا ہے، لیکن اگر سرکاری ادارے وبا کی وجہ سے ماسک لازم کریں تو مرد و عورت دونوں کے لیے جائز ہے، نہ گناہ نہ فدیہ۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ اصل یہ ہے کہ احرام والی عورت چہرہ نہیں ڈھانپ سکتی، جبکہ مرد ایسی چیز سے چہرہ ڈھانپ سکتا ہے جو عادتاً سلا ہوا لباس نہ سمجھی جائے، اور بخاری کی روایت کردہ حدیث سے استدلال کیا جس میں ان کپڑوں کا ذکر ہے جن سے محرم بچے، جن میں یہ بھی ہے کہ احرام والی عورت نقاب اور دستانے نہ پہنے، اور متن الایضاح فی المناسک (ص 45) میں نووی سے نقل کیا کہ سر کے علاوہ حصوں کو تہبند اور چادر سے ڈھانپنا حرام نہیں، صرف وہ لباس حرام ہے جو جسم یا کسی عضو کے ناپ پر بنا ہو۔ اس نے کہا کہ احرام میں مرد کا چہرے پر ماسک لگانا اصلاً ایسا ممنوع کام ہے جس پر فدیہ واجب ہے کیونکہ یہ جسم کے حصے کو ڈھانپنے والا لباس ہے؛ لیکن اگر سرکاری ادارے وبا وغیرہ کی وجہ سے محرم کو ماسک پر مجبور کریں تو مرد و عورت دونوں کے لیے بغیر فدیہ اور گناہ کے جائز ہے، اور ضرورت کے تحت مباح اور جبراً کیے گئے کاموں کے بارے میں شرح المقدمۃ الحضرمیہ (ص 666) پر اعتماد کیا۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ ان ہدایات کی پابندی ان کی خلاف ورزی کر کے خود کو اور دوسروں کو انفیکشن کے خطرے میں ڈالنے سے بہتر ہے۔

    اصل صفحہ

  • توانائی کے پتھر پہننا

    توانائی کے پتھر پہننا کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ معمول کے قیمتی پتھروں سے زینت میں کوئی حرج نہیں، اور علاج کے لیے توانائی کے پتھروں کا معاملہ تجربے اور سائنسی مطالعات پر ہے؛ اگر ان کا فائدہ ثابت ہو تو استعمال میں حرج نہیں، بشرطیکہ یہ عقیدہ نہ ہو کہ پتھر بذاتِ خود نفع یا نقصان دیتا ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ عورت کے لیے یاقوت، عقیق اور دیگر قیمتی پتھروں سے زینت میں کوئی حرج نہیں جب وہ ان چیزوں میں سے ہوں جن سے عادتاً زینت کی جاتی ہے۔ اس نے کہا کہ نام نہاد توانائی کے پتھر اگر علاج کی نیت سے استعمال ہوں تو ان کا معاملہ تجربے اور سائنسی مطالعات پر ہے جو بتائیں کہ ان کا اثر ہے یا نہیں؛ اگر مطالعات یا تجربات انسانی صحت کے لیے ان کا فائدہ دکھائیں تو استعمال میں کوئی رکاوٹ نہیں، کیونکہ یہ بھی اللہ کی مخلوق ہیں، جیسے پودوں اور دیگر مخلوقات سے بنی دوائیں۔ اس نے شرط رکھی کہ مسلمان یہ عقیدہ نہ رکھے کہ پتھر بذاتِ خود نفع یا نقصان دیتا ہے؛ وہ محض اسباب میں سے ایک سبب ہے، اور اصل معاملہ صرف اللہ کے اختیار میں ہے۔

    اصل صفحہ

  • جسے کوئی رہنما شیخ نہ ملے وہ کیا کرے

    ایک طالب کا سوال جو ایک مدت سے ایسے رہنما شیخ کی تلاش میں ہے جو اسے سلوک اور شرعی علوم سکھائے اور کوئی نہ ملا؛ اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ امت میں خیر بہت ہے اور تربیت کرنے والے علما کبھی ختم نہیں ہوتے، لہٰذا طالبِ علم پر سنجیدگی سے تلاش، ان کے بارے میں سوال اور ان کے علوم سے فیض اٹھانا لازم ہے، اور جسے کوئی رہنما اور مربی شیخ نہ ملے وہ نبی پر کثرت سے صلاۃ و سلام بھیجے، ذکر اور عبادت کی پابندی اور حرام چیزوں سے بچنے کے ساتھ، کیونکہ یہ اسے اللہ کی طرف سفر میں اس کے مقصد تک پہنچاتا ہے۔ اس نے امام محمد سنوسی سے نقل کیا کہ انہوں نے بعض ائمۂ تصوف کے کلام میں دیکھا کہ جو تربیت کرنے والے شیوخ سے محروم ہو وہ نبی پر کثرت سے صلاۃ بھیجے، وہ اس سے اپنے مقصد تک پہنچے گا، اور احمد زروق کی قواعد التصوف (ص 86، قاعدہ 114) سے کہ ذکر ولایت کا پروانہ ہے، ان کے شیخ ابو العباس حضرمی کے اس قول کے ساتھ کہ ذکر کی پابندی اور نبی پر کثرت سے صلاۃ کو لازم پکڑو، کیونکہ یہ سیڑھی، معراج اور اللہ کی طرف سلوک ہے جب طالب کو کوئی رہنما شیخ نہ ملے۔

    اصل صفحہ

  • حاملہ اور دودھ پلانے والی کا فدیہ کون دے

    حاملہ اور دودھ پلانے والی کا فدیہ کون دے کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ فدیہ بیوی کے اپنے مال سے واجب ہے، اور شوہر پر واجب نہیں سوائے اس کے کہ وہ رضاکارانہ ادا کرے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ فدیہ بیوی کے مال سے واجب ہے، اور شوہر پر واجب نہیں سوائے اس کے کہ وہ خود ادا کرنا چاہے۔ اس نے مغنی المحتاج (2/174) سے نقل کیا کہ حاملہ اور دودھ پلانے والی صرف بچے پر خوف کریں، جیسے حاملہ کو اسقاط کا یا دودھ پلانے والی کو دودھ کم ہونے سے بچے کی ہلاکت کا خوف ہو، تو ان پر قضا کے ساتھ اپنے مال سے فدیہ لازم ہے۔

    اصل صفحہ

  • تھوک سونا ادھار پر بیچنا

    تھوک سونا ادھار پر بیچنا کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ سونا قسطوں یا ادھار قیمت پر بیچنا حرام ہے، ہاتھوں ہاتھ قبضہ اور تبادلے میں برابر وزن لازم ہے، اور حل دو الگ نقد عقد یا ڈھلائی کی اجرت ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ سونا یا چاندی قسطوں یا ادھار قیمت پر بیچنا حرام ہے، بلکہ فوری باہمی قبضہ ضروری ہے ورنہ یہ سود ہے، اور چھ اشیا کے بارے میں مسلم کی روایت کردہ حدیث سے استدلال کیا جس کا مفہوم ہے کہ سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے بدلے اور باقی اشیا برابر برابر اور ہاتھوں ہاتھ ہوں، اور زیادتی سود ہے جس میں لینے والا اور دینے والا برابر ہیں۔ اس نے کہا کہ نئے سونے کا پرانے سونے سے تبادلہ ہو تو وزن برابر ہونا ضروری ہے ورنہ سود ہوگا۔ اس نے کہا کہ حل یہ ہے کہ تاجر پرانا سونا رقم کے بدلے خریدے پھر نیا سونا رقم کے بدلے بیچے، اور دونوں عقدوں میں قیمت مجلسِ عقد میں ادا ہو، یا پرانا سونا دوبارہ ڈھالنے یا مرمت کے لیے لے اور پھر ڈھلائی یا مرمت کی اجرت لے۔

    اصل صفحہ

  • جرابوں پر مسح

    جرابوں پر مسح کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ آج کل کی زیادہ تر جرابوں پر مسح جائز نہیں کیونکہ ان میں مسح کی شرائط پوری نہیں ہوتیں، اور وہ شرائط بیان کیں۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ آج کل معروف زیادہ تر جرابوں پر مسح جائز نہیں، کیونکہ ان میں مسح کی شرائط پوری نہیں ہوتیں۔ اس نے کہا کہ رخصت چمڑے کے موزوں اور جرابوں پر ان شرائط کے ساتھ آئی ہے: وہ موٹے ہوں اور ڈالا گیا پانی ان سے نہ گزرے، ان میں مسلسل چلنا ممکن ہو، انہیں طہارت کی حالت میں پہنا گیا ہو، وہ پورے پاؤں کو ٹخنوں یعنی ابھری ہوئی ہڈیوں تک ڈھانپیں، اور پھٹے ہوئے نہ ہوں۔

    اصل صفحہ

  • ہوٹل میں ملازمت

    ہوٹل میں ملازمت کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ ایسی ملازمتوں میں جائز ہے جن میں حرام کا براہِ راست ارتکاب یا اس میں مدد نہ ہو، جیسے انتظامی کام، اور ایسی ملازمتوں میں حرام ہے جن میں ہو، جیسے شراب پیش کرنا یا لانا لے جانا۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ ہوٹلوں، ریستورانوں اور دکانوں میں ایسے کاموں میں ملازمت جائز ہے جن میں حرام کا براہِ راست ارتکاب یا اس میں مدد نہ ہو، جیسے انتظامی کام۔ اس نے کہا کہ جن کاموں میں حرام کا براہِ راست ارتکاب یا اس میں مدد ہو، جیسے شراب پیش کرنا، لانا لے جانا، خریدنا، اس کا حساب رکھنا یا اس کی خریداری طے کرنا، ان میں ملازمت حرام ہے، اور سورۃ المائدہ 5:2 کا حوالہ دیا۔ اس نے وضاحت کی کہ ہوٹلوں اور ریستورانوں کا اصل کاروبار مباح ہے، ان میں کبھی ہونے والے حرام کا گناہ ان کے منتظمین پر ہے، اور علما نے ایسے شخص سے معاملہ جائز قرار دیا ہے جس کا حلال مال حرام سے مل گیا ہو، اور اپنے فتویٰ نمبر 2697 کا حوالہ دیا۔

    اصل صفحہ

  • قرض معاف کر کے اسے زکوٰۃ شمار کرنا

    قرض معاف کر کے اسے زکوٰۃ شمار کرنا کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ یہ زکوٰۃ کے لیے کافی نہیں بلکہ صدقہ ہے، اور بہتر یہ ہے کہ قرض خواہ قرض وصول کر کے، اگر مقروض مستحق ہو، اسے اپنی زکوٰۃ دے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ زکوٰۃ شمار کرنے کی نیت سے قرض معاف کرنا زکوٰۃ کے لیے کافی نہیں، بلکہ ایک صدقہ ہے جس پر ثواب ملتا ہے، کیونکہ زکوٰۃ کی شرط ہے کہ دینے والا مال دیتے وقت زکوٰۃ کی نیت کرے، اور قرض پہلے ہی مقروض کے ذمے ثابت ہے، اس لیے نیت کو زکوٰۃ کی طرف منتقل کرنا درست نہیں۔ اس نے کہا کہ بہتر یہ ہے کہ قرض خواہ مقروض سے قرض وصول کرے، پھر اگر مقروض زکوٰۃ کے آٹھ مستحق طبقات میں سے ہو تو اپنی واجب زکوٰۃ یا اس کا کچھ حصہ اسے لوٹا دے۔ اس نے عمدۃ السالک سے نقل کیا کہ اگر کوئی فقیر کو اس شرط پر دے کہ وہ اسے قرض کی ادائیگی میں واپس کرے، یا کہے کہ میں نے تمہارے ذمے اپنا قرض زکوٰۃ بنا دیا، تو کافی نہیں، اور اگر بغیر شرط اس نیت سے دے کہ مقروض اسی سے ادا کرے گا تو کافی ہے، اور مقروض پر ادائیگی لازم نہیں۔

    اصل صفحہ

  • زمزم کے پانی سے وضو اور غسل

    زمزم کے پانی سے وضو اور غسل کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ دونوں جائز ہیں، اور علما نے صرف اس سے استنجا کو مکروہ کہا ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ زمزم کے پانی سے وضو اور غسل جائز ہے۔ اس نے کہا کہ علما نے صرف اس سے استنجا کو مکروہ کہا ہے۔

    اصل صفحہ

  • ہاتھ پر چپکنے والا مادہ ہو تو وضو

    ہاتھ پر چپکنے والا مادہ ہو تو وضو کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ اعضائے وضو پر موجود چیز اگر پانی کو جلد تک پہنچنے سے روکنے والی رکاوٹ نہ ہو تو وضو درست ہے، اور اگر پانی کو جلد تک پہنچنے سے روکے تو وضو درست نہیں اور اسے ہٹانا واجب ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ عام قاعدہ یہ ہے کہ اعضائے وضو پر لگی چیز اگر ایسی رکاوٹ نہ بنے جو پانی کو جلد تک پہنچنے سے روکے تو اس کے ساتھ وضو درست ہے؛ اور اگر وہ پانی کو جلد تک پہنچنے سے روکے تو وضو درست نہیں، اور اسے ہٹانا واجب ہے تاکہ پانی بغیر رکاوٹ بالوں یا جلد تک پہنچے۔ اس نے المجموع (1/529) میں نووی سے نقل کیا کہ اگر موم، آٹا، مہندی یا اس جیسی چیز عضو کے کسی حصے تک پانی پہنچنے سے روکے تو طہارت درست نہیں، کم ہو یا زیادہ، جبکہ مہندی کا اثر یا رنگ بغیر جرم کے، یا مائع تیل کا اثر جس پر پانی جلد پر بہتا رہے، طہارت کی صحت کو متاثر نہیں کرتا۔

    اصل صفحہ

  • دائمی حدث والے کا وضو، جیسے سلس البول یا استحاضہ

    دائمی حدث میں مبتلا شخص، جیسے سلس البول والے یا مستحاضہ، کے وضو کے طریقے کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ اس پر تین باتیں لازم ہیں: نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد ہی وضو کرے، صفائی کر کے فوراً وضو کرے، اور لگاتار اعضا دھو کر فوراً نماز پڑھے، اور ہر فرض کے لیے نیا وضو کرے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ ایسے شخص پر تین باتیں واجب ہیں؛ پہلی یہ کہ نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد ہی وضو کرے۔ دوسری یہ کہ وقت داخل ہونے کے بعد پیشاب یا خون کم کرنے کے لیے لگایا گیا تھیلا یا پیڈ بدلے، شرمگاہ کو اس سے دھوئے، پھر فوراً وضو کرے۔ تیسری یہ کہ وضو کے اعضا لگاتار دھوئے اور پھر بلا تاخیر فوراً نماز پڑھے، سوائے اس کے کہ جماعت کے ساتھ نماز کے لیے انتظار کرے۔ اس نے مزید کہا کہ ایسا شخص ایک وضو سے دو فرض جمع نہیں کر سکتا، بلکہ ہر فرض کے لیے، چاہے قضا ہو، وضو واجب ہے۔

    اصل صفحہ

  • رمضان میں روزے دار کا ایکسرے

    رمضان میں روزے دار کا ایکسرے کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ ایکسرے بذات خود روزہ نہیں توڑتا، لیکن تصویر واضح کرنے والا مادہ کھلے راستے سے جوف میں لینا روزہ توڑ دیتا ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ ایکسرے بذات خود روزہ نہیں توڑتا۔ اس نے کہا کہ اگر روزے دار تصویر واضح کرنے کے لیے کوئی دوا یا مادہ جوف تک کھلے راستے، جیسے منہ یا مقعد، سے لے تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔

    اصل صفحہ

  • یوٹیوب اشتہارات کی آمدنی جب کچھ ممنوعہ مواد آ جائے

    اشتہارات سے کمانے اور انہیں فلٹر کرنے والے یوٹیوب کریئیٹر کا سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ حکم ممنوعہ اشتہارات کے غالب یا کم ہونے پر ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ اسلام نے ہر اس کام کو حرام کیا جو براہِ راست حرام میں مدد دے، اور ممنوعہ اشتہار کی تشہیر اسی میں سے ہے، اس لیے کریئیٹر پر اشتہارات فلٹر کرنا اور ممنوعہ اشتہارات ہٹانا لازم ہے۔ اس نے کہا کہ اگر وہ ممنوعہ اشتہارات ہٹانے پر قادر نہ ہو یا فلٹر کے باوجود وہ زیادہ تر ظاہر ہوں تو ان سے کمانا حرام ہے، کیونکہ حکم غالب کا ہوتا ہے۔ اور اگر فلٹر کے بعد کم ظاہر ہوں، یا ممنوعہ چیز ضمنی ہو جیسے جائز مصنوعات کے اشتہارات میں تصاویر، تو اس کے نزدیک کم از کم شبہ ہے اور چھوڑنا بہتر ہے، اور ذمہ داری سے بری ہونے کے لیے منافع کا کچھ حصہ صدقہ کرنے کا مشورہ دیا۔

    اصل صفحہ

  • صدقۂ فطر گوشت کی صورت میں ادا کرنا

    صدقۂ فطر گائے یا مرغی کے گوشت کی صورت میں ادا کرنے کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے مذاہب کے اقوال بیان کیے اور کہا کہ بہتر یہ ہے کہ گوشت میں ادا نہ کیا جائے، البتہ جو اسے جائز کہنے والے مذہب کی پیروی کرے اس کی ادائیگی درست ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے واضح کیا کہ صدقۂ فطر روزہ دار کی پاکیزگی اور مسکینوں کی خوراک کے لیے فرض ہوا، اور اس میں گندم، جو، کھجور، کشمش، چاول یا ایسی ہی غالب خوراک کا ایک صاع واجب ہے، اور ابن عمر اور ابو سعید الخدری کی روایات سے استدلال کیا۔ اس نے شافعیہ کا قول نقل کیا کہ یہ علاقے کی غالب خوراک سے ادا ہوتا ہے اور گوشت کافی نہیں چاہے وہ مقامی غذا ہو، کیونکہ وہ عام طور پر بنیادی خوراک نہیں؛ جن کے پاس کوئی معتبر خوراک نہ ہو وہ قریب ترین جگہ کی خوراک سے ادا کریں۔ اس نے حنفیہ کا قول نقل کیا کہ گوشت جائز ہے کیونکہ وہ آسانی اور فقیر کی مصلحت کے لیے قیمت دینے کو جائز سمجھتے ہیں، آدھے صاع گندم یعنی 1625 گرام کی قیمت کے برابر؛ اور مالکیہ کا قول کہ یہ نو مخصوص اجناس سے ادا ہوتا ہے، اور صرف ان کی عدم موجودگی میں غالب خوراک سے، چاہے گوشت ہو، گندم کے ایک صاع کے برابر۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ منع کرنے والوں کے اختلاف سے بچنے کے لیے بہتر ہے کہ گوشت میں ادا نہ کیا جائے، لیکن جو اسے جائز کہنے والے قول کی پیروی کرے اس کی ادائیگی درست ہے۔

    اصل صفحہ

  • ضرورت مند طلبہ کی مدد کرنے والے فنڈز کو زکات دینا

    ضرورت مند طلبہ کی مدد کرنے والے نجی فنڈز کو زکات دینے کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ طلبہ کو زکات فقیر ہونے کی بنا پر دی جاتی ہے، طالب علم ہونے کی بنا پر نہیں، اور اس کی کچھ شرطیں ہیں؛ اور امانت دار فنڈ کو زکات سے اجرت لیے بغیر انہیں پہنچانے کا وکیل بنایا جا سکتا ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ زکات کے مصارف قرآن میں مذکور آٹھ اقسام میں محدود ہیں، اور بیضاوی کی تفسیر سے نقل کیا کہ زکات انہی کے لیے ہے، اس لیے ان کے علاوہ کسی کو نہیں دی جا سکتی۔ اس نے کہا کہ غریب طلبہ کو زکات فقیر ہونے کی بنا پر دی جاتی ہے، اس شرط کے ساتھ کہ تعلیم انہیں کمانے سے روکتی ہو اور وہ محنتی ہوں؛ اس نے خطیب شربینی کی مغنی المحتاج سے نقل کیا کہ جو دینی علم میں مشغول ہو اور کمائی اس میں رکاوٹ بنے وہ زکات لے سکتا ہے۔ اس نے یہ شرطیں بھی رکھیں کہ علم ایسا ہو جو امت کی اجتماعی ضرورت پوری کرے، اور اس کی رائے میں آج طب، انجینئرنگ اور فزکس جیسے ضروری دنیوی علوم بھی اس میں دینی علوم کے ساتھ شامل ہیں، اور یہ کہ طالب علم ان لوگوں میں سے نہ ہو جن کا نفقہ زکات دینے والے پر واجب ہے۔ اس نے کہا کہ زکات دینے والا کسی امانت دار شخص یا ادارے کو غریب طلبہ تک زکات پہنچانے کا وکیل بنا سکتا ہے، جو انہیں فیس ادا کرنے کے لیے رقم دے یا ان کی اجازت سے ان کی قسطیں براہ راست یونیورسٹی کو ادا کرے۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ اگر یہ فنڈ امانت دار ہوں اور زکات سے اجرت نہ لیں بلکہ رضاکارانہ طور پر پہنچائیں تو انہیں زکات دینا اور غریب محنتی طلبہ تک پہنچانے کا وکیل بنانا جائز ہے۔

    اصل صفحہ

  • اسکولوں اور اسپتالوں کی عمارتوں کی مرمت پر زکوٰۃ خرچ کرنا

    اسکولوں اور اسپتالوں کی عمارتوں کی مرمت پر زکوٰۃ خرچ کرنا کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ زکوٰۃ کے مصارف آٹھ اقسام میں محدود ہیں اور اسکول بنانا یا ان کی مرمت ان میں شامل نہیں، اس لیے اس کے لیے زکوٰۃ دینا جائز نہیں؛ اس کے بجائے نفلی صدقات جمع کیے جا سکتے ہیں یا عطیہ دہندگان کو تعلیمی وقف کی طرف متوجہ کیا جا سکتا ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ زکوٰۃ کے مصارف شریعت میں مقرر ہیں اور سورۃ التوبہ 9:60 میں مذکور آٹھ اقسام میں محدود ہیں، اور ابو داود کی زیاد بن حارث صدائی سے روایت کردہ حدیث کا حوالہ دیا جس کا مفہوم ہے کہ اللہ نے صدقات کے بارے میں کسی نبی یا کسی اور کا فیصلہ قبول نہیں کیا یہاں تک کہ خود ان کا حکم دیا اور انہیں آٹھ حصوں میں تقسیم کیا۔ اس نے کہا کہ اسکول بنانا یا ان کی مرمت ان اقسام میں شامل نہیں، اس لیے اس کے لیے زکوٰۃ دینا جائز نہیں، البتہ اس مقصد کے لیے نفلی صدقات جمع کیے جا سکتے ہیں یا عطیہ دہندگان کو تعلیمی وقف کی طرف متوجہ کیا جا سکتا ہے۔ اس نے ذکر کیا کہ اردن کی افتا کونسل نے قرارداد 6/2018 جاری کی، جس میں تعلیم کی بہتری کے لیے عطیہ اور تعلیمی وقف کے منصوبے کے لیے مال وقف کرنے کو شرعاً مطلوب کاموں میں شمار کیا گیا، بشرطیکہ عطیہ وزارتِ تعلیم کی ہدایات سے متصادم نہ ہو۔

    اصل صفحہ

  • زکوٰۃ کو ولادت کے تحفے کے طور پر دینا

    کسی ضرورت مند سہیلی کو ولادت کے تحفے کی صورت میں زکوٰۃ دینے کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ یہ جائز ہے اگر سہیلی کے پاس بقدرِ کفایت مال نہ ہو اور جس پر اس کا نفقہ واجب ہے وہ اس کی کفالت نہ کر رہا ہو۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ زکوٰۃ اپنی شرائط کے ساتھ مال میں واجب حق ہے، جو قرآن میں مذکور آٹھ مصارف کو دی جاتی ہے۔ اس نے نقوط کی تعریف کی کہ یہ خوشی اور مواقع پر دیا جانے والا مال یا دوسری چیزیں ہیں، اور کہا کہ راجح یہ ہے کہ یہ صاحبِ تقریب کو ہبہ ہے، واپس لیا جانے والا قرض نہیں، اور یہ ابن حجر الہیتمی سے نقل کیا۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ اگر سہیلی کے پاس بقدرِ کفایت مال نہ ہو اور جس پر اس کا نفقہ واجب ہے وہ اس کی کفالت نہ کر رہا ہو، تو اسے یہ تحفہ دے کر زکوٰۃ میں شمار کیا جا سکتا ہے۔

    اصل صفحہ

  • زکات جو دوسرا سال گزرنے تک ادا نہ ہوئی

    ایسے شخص کے بارے میں سوال جو نصاب کا مالک تھا اور دوسرا سال گزرنے تک زکات ادا نہ کی، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ زکات فوراً واجب ہوتی ہے اور بلا عذر تاخیر گناہ ہے، اور واجب شدہ مقدار پر دوبارہ زکات نہیں بلکہ وہ اگلے سال کے حساب سے منہا ہوگی۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ زکات فرض مالی عبادت ہے جو واجب ہونے کے دن سے فوراً ادا کرنی ہوتی ہے کیونکہ یہ فقرا کا حق ہے، اور جو بلا عذر تاخیر کرے وہ گناہ گار اور اس کا ضامن ہے؛ اس نے اس پر المجموع میں نووی کا قول نقل کیا۔ اس نے کہا کہ جو مال زکات کے طور پر الگ کر کے رکھا گیا اس پر دوبارہ زکات واجب نہیں کیونکہ وہ فقرا کی ملکیت بن چکا، البتہ اگر قدرت کے باوجود ادا نہ کیا تو تاخیر کا گناہ ہے۔ اس نے المہذب میں ابو اسحاق شیرازی کا قول نقل کیا کہ جس کے پاس ایسا نصاب ہو جس پر زکات واجب ہوئی اور اس نے دوسرا سال گزرنے تک ادا نہ کی، اس پر اس مقدار میں دوسرے سال کی زکات واجب نہیں، کیونکہ فقرا نصاب میں سے فرض کی مقدار کے مالک ہو گئے۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ زکات میں واجب مقدار پر دوبارہ زکات نہیں: ہر سال کی زکات الگ کی جائے اور اگلے سال مال کے حساب سے منہا کی جائے۔

    اصل صفحہ

  • برسوں بعد دریافت ہونے والے میت کے مال کی زکوٰۃ

    ایک شخص کی وفات کے پندرہ سال بعد دریافت ہونے والی بینک رقوم اور حصص کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ شافعیہ کے قول پر گزشتہ برسوں کی زکوٰۃ دینا زیادہ احتیاط ہے، اور مالکیہ کا قول بھی بیان کیا کہ نیا سال شروع ہوتا ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے آغاز میں کہا کہ زکوٰۃ اسلام کا رکن ہے، جو نصاب کو پہنچنے والے اور سال بھر رکھے گئے مال پر واجب ہوتی ہے اور ہر قمری سال ادا کی جاتی ہے۔ اس نے کہا کہ زکوٰۃ ہر مملوکہ مال پر واجب ہے چاہے مالک کو علم ہو یا نہ ہو، لہٰذا لاعلمی گزشتہ برسوں سے معاف نہیں کرتی کیونکہ اس دوران ملکیت ختم نہیں ہوئی، اور خطیب شربینی کی مغنی المحتاج سے نقل کیا کہ غصب شدہ، گم شدہ یا بھولا ہوا دفن مال واپس ملنے پر گزشتہ برسوں کی زکوٰۃ دی جاتی ہے۔ اس نے مالکیہ کا قول، دردیر کی الشرح الکبیر اور حاشیہ دسوقی سے، نقل کیا کہ جس موروثی مال کا علم نہ ہو اس پر گزشتہ برسوں کی زکوٰۃ نہیں، اور وصولی پر نیا سال شروع ہوتا ہے۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ شافعیہ کے نزدیک ورثہ پر وصولی کے وقت حصص، رقم اور منافع کی گزشتہ برسوں کی زکوٰۃ ہے، جو زیادہ احتیاط ہے، اور جو مالکیہ کے قول پر عمل کرے اس کے لیے قبولیت کی امید ہے۔ اس نے مزید کہا کہ اگر منافع سودی بینک سے ہوں تو سب صدقہ کرنا اور حرام حصص سے چھٹکارا پانا لازم ہے، اور اسلامی بینک کے منافع رکھے جا سکتے ہیں، ان کی زکوٰۃ کے ساتھ۔

    اصل صفحہ

  • اسٹاک والی مگر نقدی سے خالی فارمیسی کی زکوٰۃ

    اسٹاک والی مگر نقدی سے خالی فارمیسی کی زکوٰۃ کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ زکوٰۃ فوراً واجب ہے اور قدرت کے باوجود اس میں تاخیر حرام ہے؛ اگر نقد نہ ہو اور صرف قسطوں میں ممکن ہو تو وجوب کے بعد بکنے والے سامان کی قیمت سے قسطوں میں ہی سہی، ادا کرنا واجب ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ زکوٰۃ وجوب کے دن سے فوراً ادا کرنا واجب ہے اور قدرت ہوتے ہوئے اس میں تاخیر حرام ہے کیونکہ یہ فقرا کا حق ہے، اور المجموع (5/333) میں نووی سے نقل کیا کہ شافعیہ کے نزدیک زکوٰۃ فوراً واجب ہے؛ واجب ہونے اور ادائیگی ممکن ہونے کے بعد تاخیر جائز نہیں، اور جو قدرت کے بعد تاخیر کرے وہ گناہگار اور ضامن ہے۔ اس نے کہا کہ اگر زکوٰۃ کے لیے نقد نہ ہو اور صرف قسطیں ممکن ہوں تو بھی وجوب کے بعد بکنے والے سامان کی قیمت سے، ہر دن کی آمدنی سے ایک مقررہ رقم الگ کر کے، قسطوں میں ہی سہی، زکوٰۃ ادا کرنا واجب ہے۔

    اصل صفحہ

  • رکے ہوئے رہائشی منصوبے پر زکوٰۃ

    رکے ہوئے رہائشی منصوبے پر زکوٰۃ کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ فروخت کے لیے رکھے فلیٹوں پر ہر سال تجارتی سامان کی زکوٰۃ ہے، لیکن اگر تعمیر رک جائے اور مالک ان میں تصرف نہ کر سکے تو ہر سال زکوٰۃ واجب نہیں، اور مالکی مذہب کے مطابق فروخت پر ایک سال کی زکوٰۃ دی جائے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ اصل یہ ہے کہ تجارت کے لیے رکھی ہر چیز پر زکوٰۃ واجب ہے، اور سورۃ البقرہ 2:267 اور مجاہد بن جبر کی اس تفسیر کا حوالہ دیا کہ اس سے مراد تجارت ہے، جیسا کہ تفسیر ابن کثیر (1/697) میں ہے؛ اس نے کہا کہ فروخت کے لیے رکھے فلیٹوں کی ہر قمری سال قیمت لگائی جائے اور تجارتی سامان کی زکوٰۃ دی جائے، اور سمرہ بن جندب کی حدیث سے استدلال کیا جسے ابو داود اور بیہقی نے روایت کیا، کہ فروخت کے لیے تیار مال سے صدقہ نکالا جائے۔ اس نے کہا کہ مالکیہ کے نزدیک جب فروخت مندی کا شکار ہو یا تعمیر رک جائے تو ہر سال زکوٰۃ واجب نہیں، بلکہ فروخت پر صرف ایک سال کی زکوٰۃ ہے، اور المدونۃ الکبریٰ (1/309) سے نقل کیا کہ جو شخص بیچنے کے لیے سامان خریدے اور تجارت میں مسلسل سرمایہ نہ گھماتا ہو، اور سامان کئی سال نہ بکے، اس پر بیچنے تک زکوٰۃ نہیں، اور بیچنے پر ایک زکوٰۃ دے۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ فلیٹوں کے مالک پر اس وقت تک زکوٰۃ واجب نہیں جب تک تعمیر اس طرح رکی ہو کہ وہ ان میں تصرف نہ کر سکے، اور مالکی مذہب کے مطابق فروخت کے وقت ایک سال کی زکوٰۃ دے۔

    اصل صفحہ

  • منجمد کھاتوں میں رقم کی زکات

    منجمد بینک کھاتوں میں رقم کی زکات کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ جس منجمد کھاتے کو بینک مالک کے لیے سرمایہ کاری میں لگائے اس پر ہر سال زکات ہے، اور جسے مالک استعمال نہ کر سکے اور اس سے منافع نہ ہو اس پر وصولی تک زکات نہیں، وصول ہونے پر ایک سال کی زکات ادا کی جائے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ زکات اسلام کا رکن ہے، جو ملکیت کے اس مال پر واجب ہے جو نصاب کو پہنچے اور اس پر سال گزرے، اور ہر قمری سال ادا کی جاتی ہے۔ اس نے کہا کہ جن منجمد کھاتوں میں مالک تصرف نہیں کر سکتے وہ دو قسم کے ہیں: ایک جسے بینک چلاتا ہے اور اس سے مالک کو منافع ہوتا ہے، اس پر زکات واجب ہے کیونکہ مال اس کے لیے بڑھ رہا ہے؛ اور دوسرا جسے مالک نہ نکال سکتا ہے نہ استعمال کر سکتا ہے اور اس سے منافع نہیں ہوتا، اس پر مالک کے وصول کرنے تک زکات نہیں، وصول کرنے پر وہ ایک سال کی زکات دے۔ اس نے بین الاقوامی اسلامی فقہ اکیڈمی کے سولہویں اجلاس کی قانونی ڈپازٹ سے متعلق قرارداد کا حوالہ دیا کہ عارضی طور پر روکی گئی رقم کمپنی کے اثاثوں کے ساتھ زکات میں شامل ہوگی، اور مستقل روکی گئی رقم کمپنی کو واپس ملنے پر ایک سال کی زکات دی جائے گی۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ مالکوں کے لیے سرمایہ کاری میں لگے منجمد کھاتوں پر ہر سال زکات ہے، اور جن کھاتوں سے مالک رقم نہیں نکال سکتے ان پر وصولی تک زکات نہیں، پھر ایک سال کی زکات دی جائے۔

    اصل صفحہ

  • ہول سیل گودام میں گیس سلنڈروں کی زکوٰۃ

    ہول سیل گودام میں گیس سلنڈروں کی زکوٰۃ کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ اگر گودام کی تجارت صرف گیس بیچنے اور سلنڈر بدلنے تک محدود ہو تو زکوٰۃ صرف گیس کی قیمت پر ہے کیونکہ سلنڈر برتن ہیں؛ اور اگر وہ خالی اور بھرے دونوں سلنڈر بیچتا ہو تو وہ تجارتی سامان ہیں اور گیس سمیت ان کی قیمت پر زکوٰۃ واجب ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ اصلاً ہر وہ چیز جو تجارت کے لیے رکھی جائے اس پر زکوٰۃ واجب ہے، اور سورۃ البقرہ 2:267 اور تفسیر ابن کثیر (1/697) میں منقول مجاہد کی تفسیر کا حوالہ دیا کہ اس سے مراد تجارت ہے۔ اس نے کہا کہ اگر گودام صرف سلنڈر بھرتا، بھرے ہوئے بیچتا اور خالی سلنڈروں سے بدلتا ہے تو تجارت گیس تک محدود ہے، اس لیے زکوٰۃ گیس کی قیمت پر ہے، سلنڈروں پر نہیں، کیونکہ وہ سامان کے برتن ہیں اور ان میں نمو کی شرط نہیں۔ اس نے بخاری کی روایت کردہ حدیث کا حوالہ دیا جس کا مفہوم ہے کہ مسلمان پر اس کے گھوڑے اور غلام میں صدقہ نہیں، اور عمیرہ کے حاشیے کا کہ زکوٰۃ صرف بڑھنے والے مال پر ہے۔ تاجر سال کے آخر میں اپنی ملکیت کی گیس کی قیمت لگائے، اس میں اپنی دوسری نقدی ملائے، اور اگر نصاب کو پہنچے تو سب پر 2.5% زکوٰۃ دے۔ لیکن اگر گودام خالی اور بھرے دونوں سلنڈر بیچتا اور دونوں سے کماتا ہے تو وہ تجارتی سامان ہیں، اور خالی سلنڈر کی قیمت اور اس میں بھری گیس کی قیمت دونوں پر زکوٰۃ واجب ہے۔

    اصل صفحہ

  • برسوں بغیر تقسیم کے رہنے والے وراثتی سونے کی زکات

    ایک دادی کے چھوڑے ہوئے سونے کے بارے میں سوال جو تیس برس بغیر تقسیم کے رہا، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے شوافع کا قول بیان کیا کہ قبضے پر تمام گزشتہ برسوں کی زکات واجب ہے، اور مالکیہ کا قول کہ زکات کا سال قبضے سے شروع ہوتا ہے، اور وارثوں کو کسی بھی قول پر عمل کی اجازت دی۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ میت کا مال وفات سے اس کی ملکیت سے نکل جاتا ہے، اس کی زکات کا سال منقطع ہو جاتا ہے اور وہ وارثوں کی ملکیت میں آ جاتا ہے، جس کا نیا سال وفات کے لمحے سے شروع ہوتا ہے؛ اگر ترکہ تقسیم ہو جائے تو ہر وارث اپنے حصے کا سال شمار کرے اگر وہ نصاب کو پہنچے۔ اس نے کہا کہ اگر مال مشترک اور غیر تقسیم شدہ رہے اور نصاب کو پہنچے، جو اس نے 24 قیراط سونے کے 85 گرام بتایا، تو شوافع کے نزدیک ہر سال اس کی زکات واجب ہے، چنانچہ ہر وارث اپنا حصہ لیتے وقت گزشتہ برسوں کی زکات 2.5% کے حساب سے ادا کرے کیونکہ اس کی ملکیت منقطع نہیں ہوئی؛ اس نے غصب شدہ یا گم شدہ مال کے مالک کو واپس ملنے پر اس کی زکات کے بارے میں مغنی المحتاج سے خطیب شربینی کا قول نقل کیا۔ اس نے نقل کیا کہ مالکیہ قبضے اور سال گزرنے کا اعتبار کرتے ہیں، لہٰذا وراثتی مال پر قبضے سے پہلے کے برسوں کی زکات نہیں اور وارث قبضے کے بعد نیا سال شروع کرے؛ اس نے الشرح الکبیر پر دسوقی کے حاشیے کا حوالہ دیا کہ معتمد المدونہ کا مذہب ہے جو قبضے کا اعتبار کرتا ہے۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ جو وارث احتیاط چاہے وہ شوافع کی تقلید میں گزشتہ برسوں کی زکات ادا کر سکتا ہے، اور جو مالکیہ کی تقلید میں، مال کے طویل عرصہ رکے رہنے کے پیش نظر، اپنا حصہ لینے کے دن سے سال شروع کرے اس پر کوئی حرج نہیں۔

    اصل صفحہ

  • ذہنی معذور غیر مکلف بہن کے مال میں زکات

    ذہنی اور جسمانی طور پر بیمار غیر مکلف بہن کے مال میں زکات کے بارے میں سوال جو نصاب کو پہنچ گیا ہو، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے جمہور کا قول کہ زکات واجب ہے اور حنفیہ کا قول کہ واجب نہیں، دونوں بیان کیے، اور نتیجہ نکالا کہ جمہور کے قول پر یہ واجب ہے اور ولی ادا کرے گا، اور اگر مال سرکاری اداروں میں ہو تو شرعی قاضی ادائیگی کی اجازت دیتا ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ زکات اپنی شرائط پوری ہونے پر واجب ہوتی ہے: اسلام، آزادی، مالک کا متعین ہونا، ملکیت کا مکمل ہونا، نصاب کو پہنچنا، اور جہاں سال شرط ہو وہاں سال کا گزرنا۔ اس نے کہا کہ شافعیہ، اور ان کے ساتھ مالکیہ اور حنابلہ، نصوص کے عموم کی وجہ سے نابالغ اور فاتر العقل کے مال میں زکات واجب کہتے ہیں، اور نہایۃ المحتاج میں شمس الدین رملی کا قول نقل کیا کہ زکات محض عبادت نہیں کہ مکلف کے ساتھ خاص ہو، اور اس کی ادائیگی کا مخاطب ولی ہے۔ اس نے ذکر کیا کہ حنفیہ اسے واجب نہیں کہتے، کیونکہ یہ عبادت ہے جو اختیار اور نیت کے بغیر ادا نہیں ہوتی، اور اس پر الہدایہ میں مرغینانی کا قول نقل کیا۔ اس نے تنبیہ کی کہ یہ حکم اس وقت ہے جب مال ولی کے ہاتھ میں ہو؛ اگر وہ سرکاری اداروں میں محفوظ ہو تو زکات نکالنے کی اجازت کا اختیار شرعی قاضی کو ہے، اور قاضی عموماً یتیم کے مال میں زکات واجب نہ ہونے کے بارے میں ابو حنیفہ کا مذہب لیتے ہیں، جیسا کہ اردنی مجلس افتاء کے فیصلہ نمبر 83 میں ہے۔ اس نے نتیجہ نکالا کہ جمہور کے قول پر نابالغ اور فاتر العقل کے مال میں زکات واجب ہے جب وہ نصاب کو پہنچے اور سال اس طرح گزرے کہ درمیان میں نصاب سے کم نہ ہو، اور یہ ہر سال دہرائی جاتی ہے، اور جب مال ولی کے قبضے میں ہو تو ولی اسے ادا کرے۔

    اصل صفحہ

  • فوت شدہ والد پر واجب زکوٰۃ جسے ورثا نے روکے رکھا

    فوت شدہ والد پر واجب زکوٰۃ جسے ورثا نے روکے رکھا کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ زکوٰۃ میت پر قرض ہے جو ترکے کی تقسیم سے پہلے تمام چھوٹے ہوئے سالوں کی ادا کی جائے گی، اور زکوٰۃ کے لیے الگ رکھے ہوئے مال پر دوبارہ زکوٰۃ نہیں کیونکہ وہ اب فقرا کا ہے، البتہ جو قدرت کے باوجود ادائیگی میں تاخیر کرے وہ گناہگار ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ زکوٰۃ میت پر قرض ہے، اور اگر یقین ہو کہ اس نے ادا نہیں کی تو ترکے کی تقسیم سے پہلے اس مدت کی زکوٰۃ نکالنا واجب ہے؛ اس کا حساب اس دن سے ہوگا جب وہ نصاب کا مالک ہوا اور اس پر سال گزرا، اس لیے تمام پچھلے سالوں کی زکوٰۃ تقسیم سے پہلے ترکے سے نکالی جائے گی۔ اس نے کہا کہ زکوٰۃ کے طور پر الگ کر کے رکھے گئے مال پر دوبارہ زکوٰۃ واجب نہیں کیونکہ وہ فقرا کی ملکیت بن چکا ہے، لیکن ذمہ دار شخص قدرت کے باوجود ادائیگی میں تاخیر سے گناہگار ہے۔ اس نے المہذب (1/268) میں شیرازی سے زکوٰۃ کے تعلق کے بارے میں شافعی کے دو اقوال نقل کیے: قدیم یہ کہ زکوٰۃ ذمے میں ہے اور مال اس کے بدلے رہن ہے، اور جدید اور صحیح یہ کہ وہ مال کے عین سے متعلق ہے؛ اس بنا پر اگر کوئی دوسرا سال گزرنے تک ادا نہ کرے تو دوسرے سال کی زکوٰۃ واجب نہیں، کیونکہ فقرا نصاب میں سے فرض کی مقدار کے مالک بن چکے۔ اس نے مغنی المحتاج (2/137) میں شربینی سے بھی نقل کیا کہ زکوٰۃ مال سے اپنی مقدار میں شراکت کا تعلق رکھتی ہے، اور دوسرے اقوال میں اسے رہن کا تعلق یا صرف ذمے کا تعلق کہا گیا ہے، جو سب سے کمزور ہے۔

    اصل صفحہ

  • غریب بھائی کو زکوٰۃ اور صدقۂ فطر دینا

    غریب بھائی کو زکوٰۃ اور صدقۂ فطر دینا کے بارے میں سوال، جس میں اردن کے جنرل افتاء ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ یہ جائز ہے کیونکہ غریب بھائی زکوٰۃ کے مستحق طبقات میں شامل ہے۔ ڈیپارٹمنٹ نے جواب دیا کہ غریب بھائی کو زکوٰۃ اور صدقۂ فطر دینا جائز ہے۔ اس نے وجہ یہ بتائی کہ وہ ان طبقات میں شامل ہے جنہیں زکوٰۃ دی جاتی ہے۔

    اصل صفحہ

مصر کا دار الافتاء (dar-alifta.org) 29 فتاویٰ

  • وکیل کا موکل کے مال سے اس کی لاعلمی میں کام کے عوض رقم کاٹنے کا حکم

    ایک شخص کا سوال جس نے اپنی گاڑی کسی کو بیچی اور بعد میں خریدار کی طرف سے اسے بیچنے پر رضامند ہوا، تیس ہزار کے لائسنس اخراجات اپنے ذمے لیتے ہوئے؛ اس نے گاڑی چار لاکھ پچاس ہزار میں بیچی، موکل کو قیمت چار لاکھ بیس ہزار بتائی اور فرق لائسنس کے لیے اپنے پاس رکھا، اور اس کا حکم اور باقی رقم کو فروخت کی اجرت کے طور پر رکھنے کا حکم پوچھا۔ دار الافتاء مصر نے جواب دیا کہ اس پر شرعاً لازم ہے کہ موکل کو پوری حقیقی قیمت دے، کم قیمت بتانا جائز نہیں، اور تیس ہزار یا اس کا کوئی حصہ رکھنا جائز نہیں، کیونکہ یہ موکل کا حق ہے اور اس نے لائسنس کے اخراجات اپنے مال سے ادا کرنے کا وعدہ کیا تھا اور کوئی اجرت مقرر نہ ہوئی تھی، سوائے اس کے کہ موکل حقیقت جاننے اور خوشدلی سے راضی ہونے کے بعد اس میں سے کچھ ہبہ کر دے۔ دار الافتاء نے بیان کیا کہ وکیل کا موکل کے مال پر قبضہ امانت کا قبضہ ہے، یہ معاملہ بیع کی وکالت کا عقد ہے جس کے جواز پر فقہا کا اجماع ہے، مبیع کی قیمت چاروں مذاہب میں خالص موکل کی ملکیت ہے، اور حقیقی قیمت چھپانا جھوٹ، دھوکا اور امانت میں خیانت ہے؛ اس نے اس حدیث سے استدلال کیا کہ بیع کے دونوں فریق جدا ہونے تک اختیار رکھتے ہیں اور سچ اور وضاحت پر ان کے لیے برکت ہے، اس حدیث سے کہ جو ہمیں دھوکا دے وہ ہم میں سے نہیں، قاعدہ لا ضرر ولا ضرار، اس اصول سے کہ مسلمان کا مال اس کی خوشدلی کے بغیر حلال نہیں، اور اس قاعدے سے کہ جس وکیل نے اجرت مقرر نہ کی اس کا کام تبرع اور تعاون سمجھا جاتا ہے۔

    اصل صفحہ

  • اپنی ملکیت میں ملنے والے آثارِ قدیمہ کا حکم

    ایک شخص کے بارے میں سوال جس نے مصر کے ایک صوبے میں گھر بنانے کے لیے زمین خریدی اور کھدائی کے دوران قدیم اثری مجسمے پائے؛ دار الافتاء مصر نے جواب دیا کہ مصری زمین میں ملنے والے آثارِ قدیمہ ریاست کے عمومی اموال ہیں اور افراد کی ملکیت میں داخل نہیں ہوتے، چاہے وہ درست ملکیت والی زمین میں ملیں، لہٰذا اسے ان کی ملکیت، قبضے یا تصرف کا حق نہیں اور شرعاً ان کا متعلقہ اداروں کے حوالے کرنا واجب ہے۔ دار الافتاء نے رکاز کی حنفی اور جمہور کی تعریف اور چاروں مذاہب میں خمس کے ساتھ اس کے انجام کو بیان کیا، پھر آثار کی لغوی تعریف اور 1983 کے قانونِ تحفظِ آثار 117 کی تعریف پیش کی، اور فتوے کی بنیاد پہلے مالک کی لاعلمی، آثار کے جھگڑے اور لالچ کا سبب ہونے، ایک فرد کے پاس رہنے سے پوری امت کے نقصان، اور مصری تہذیب کی قدامت اور قرآن کی زمین میں چلنے اور گزشتہ امتوں کے آثار سے عبرت لینے کی دعوت پر رکھی۔ اس نے قانون کی وہ دفعات نقل کیں جو آثار کو عمومی مال قرار دیتی ہیں اور پانے والے پر اڑتالیس گھنٹے میں اطلاع دینا لازم کرتی ہیں، انعام کے امکان کے ساتھ، اور کہا کہ یہ فقہا کے اس فیصلے کے موافق ہے کہ معدنیات کا معاملہ فتنے کا دروازہ بند کرنے کے لیے امام کے سپرد ہے، امام کا تصرف مصلحت سے مشروط ہے، عمومی مصلحت خصوصی پر مقدم ہے، اور غیر معصیت میں ولی امر کی اطاعت بالاجماع واجب ہے۔

    اصل صفحہ

  • نافرمان بیٹے کو میراث سے محروم کرنے کی وصیت کا حکم

    ایک سائل اس شخص کے بارے میں پوچھتا ہے جو اپنے نافرمان بیٹے کو میراث سے محروم کرنے کی وصیت کر کے فوت ہوا۔ مصر کے دار الافتاء نے مفتی نظیر عیاد کے فتوے میں جواب دیا کہ والدین کی نافرمانی حرام اور کبیرہ گناہ ہے، مگر اس سے حقوق ساقط نہیں ہوتے؛ میراث وارث اور مورث کے اختیار کے بغیر لازمی طور پر وارث کی ملکیت میں آتی ہے، اس لیے محروم کرنے کی وصیت درست نہیں اور بیٹا اپنا حصہ پائے گا جب تک میراث کی کوئی رکاوٹ نہ ہو؛ اسے چاہیے کہ باپ کی وفات کے بعد اس کے لیے استغفار، اس کی طرف سے صدقہ اور صلہ رحمی کے ذریعے کوتاہی کی تلافی کرے۔

    اصل صفحہ

  • نماز میں بریل مصحف سے قرآن پڑھنے کا حکم

    ایک نابینا سائل اپنی فرض اور نفل نمازوں میں بریل میں لکھے مصحف سے قراءت کرنا چاہتا ہے، جس کے لیے ہاتھوں اور انگلیوں کو سطروں پر حرکت دینی پڑتی ہے۔ مصر کے دار الافتاء نے مفتی نظیر عیاد کے فتوے میں جواب دیا کہ امام اور اکیلے نمازی دونوں کے لیے یہ جائز ہے؛ سطروں کے پیچھے انگلیاں چلانا قراءت ہی کی حرکت ہے جو نماز کو باطل نہیں کرتی، بشرطیکہ باقی اعضاء حتی الامکان ساکن رہیں اور بریل مصحف متعلقہ کمیٹیوں سے جانچا ہوا ہو۔

    اصل صفحہ

  • خریداری سے پہلے سامان نہ دیکھنا اور قیمت کی ادائیگی حوالگی کے دن تک مؤخر کرنا

    ایک شخص کا سوال جس نے اپنے بھائی سے فون پر ایک ایسی ڈسپلے سکرین خریدی جو اس نے نہیں دیکھی تھی، اس شرط پر کہ بھائی مقررہ تاریخ پر اسے بھیجے گا اور حوالگی پر قیمت لے گا، اور اسے بتایا گیا کہ سکرین نہ دیکھنے کی وجہ سے بیع درست نہیں؛ دار الافتاء مصر نے جواب دیا کہ جہالت دور کرنے والے اوصاف سے متعین مخصوص سکرین کو مجلسِ عقد سے غائب حالت میں خریدنا بیع عینِ غائب ہے، جو شرعاً جائز ہے خریدار کے دیکھنے پر خیار کے ساتھ، اور قیمت کو حوالگی کے دن تک مؤخر کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں، کیونکہ یہ عین کی قرض کے عوض بیع ہے۔ دار الافتاء نے بیان کیا کہ بیع یا تو فریقین کی دیکھی ہوئی موجود عین پر ہوتی ہے، یا مجلسِ عقد سے غائب متعین عین پر، یا ذمے میں موصوف چیز پر جیسے سلم میں؛ حنفیہ، مالکیہ، ایک قول میں شافعیہ اور ایک روایت میں حنابلہ کا جمہور خریدار کے دیکھنے پر خیار کے ساتھ غائب عین کی بیع کو جائز سمجھتا ہے، بیع کی حلت کی عام آیت، اس حدیث کہ جس نے بن دیکھی چیز خریدی اسے دیکھنے پر اختیار ہے، اور عثمان اور طلحہ کے گھروں کے تبادلے اور جبیر بن مطعم کے فیصلے کی روایت کی بنا پر، بابرتی، مرغینانی، عینی، دردیر، نووی، ابن قدامہ اور مرداوی سے نقل کرتے ہوئے، جبکہ شافعیہ اظہر قول میں اور حنابلہ ایک روایت میں غرر کی بیع کی ممانعت کی وجہ سے اسے منع کرتے ہیں۔ اس نے فتوے کے لیے جمہور کے قول کو ترجیح دی، کیونکہ مدار مبیع کے ایسے علم پر ہے جس سے جھگڑے تک پہنچانے والی جہالت دور ہو، جو درست وصف سے بھی حاصل ہوتا ہے جیسے دیکھنے سے، اور یہاں جو غرر ہو سکتا ہے وہ معمولی ہے جو حاجت کی بنا پر بالاجماع معاف ہے جیسا کہ دردیر، نووی اور ابن مفلح نے کہا؛ پھر اس نے ابن المنذر کے نقل کردہ اجماع اور ابن عابدین اور ماوردی کے اقوال کی بنا پر قیمت کو معلوم مدت یا حوالگی کے دن تک مؤخر کرنے کی اجازت دی۔

    اصل صفحہ

  • مسجد کے قالینوں کو کیمیائی مواد سے پاک کرنا

    مسجد کے قالینوں سے مائع کیمیائی صفائی کے مواد کے ذریعے نجاست دور کرنے کے بارے میں سوال، جس میں مصر کے دار الافتاء نے کہا کہ یہ کافی ہے اور پانی شرط نہیں۔ دار الافتاء نے جواب دیا کہ نجاست کی جگہ کو پاک کرنا پانی کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ ہر پاک اور زائل کرنے والے مائع سے حاصل ہو جاتا ہے۔ اس نے کہا کہ یہ مواد اصلاً خود پاک اور نجاست کو دور کرنے والے ہیں، جیسا کہ ماہرین بتاتے ہیں اور مشاہدہ گواہ ہے، اس لیے ان سے قالین پاک کرنا کافی ہے۔ اس نے اس اصول پر بنیاد رکھی کہ اشیا میں اصل پاکی ہے، اور حطاب کی شرح مختصر خلیل اور ابن حجر ہیتمی کی تحفۃ المحتاج سے نقل کیا۔

    اصل صفحہ

  • نصیحت کی شرائط اور ضوابط

    ایک شخص کا سوال جس کے چھوٹے بھائی نے خاندانی مشاورت کے دوران سب سے بڑے بھائی پر آواز بلند کی اور وہ اسے نصیحت کرنا چاہتا ہے، کہ نصیحت کرتے وقت کون سی شرائط اور ضوابط کی پابندی کرے؛ دار الافتاء مصر نے جواب دیا کہ اسے نصیحت کرنا بہترین اخلاق اور اس مشروع باہمی نصیحت کے تقاضوں میں سے ہے جس کی شریعت نے ترغیب دی، بشرطیکہ نصیحت خالص اللہ کے لیے ہو، جہاں تک ممکن ہو خلوت میں دی جائے تاکہ نصیحت کیے جانے والے کی عزت محفوظ رہے، نرمی اور شفقت سے مناسب الفاظ میں بغیر شرمندہ کرنے کے پیش کی جائے، اس کے قبول کرنے پر مشروط نہ ہو، اور اس سے حال یا مستقبل میں کوئی معتبر نقصان نہ ہو۔ دار الافتاء نے نصیحت کا مقام جرجانی اور نسفی کی تعریف، حدیث 'دین نصیحت ہے' اور مسلمان کے مسلمان پر حقوق کی حدیث سے بیان کیا، اور اس کے حکم میں دو قول پیش کیے: ہر صورت میں واجب، عینی یا کفائی، جیسا کہ ابن بطال، عینی، نفراوی اور عدوی کہتے ہیں، یا یہ فرق کہ بن مانگی نصیحت مستحب اور مانگی گئی نصیحت واجب ہے، جیسا کہ ابن عاشور کہتے ہیں۔ پھر اس نے ضوابط کی تفصیل کی، حدیث 'اعمال نیتوں سے ہیں' سے؛ شافعی، سفیان بن عیینہ، ابن قدامہ، ابن رجب اور ابن حجر کے خلوت میں نصیحت کے اقوال سے؛ نبی کی 'ما بال اقوام' کے الفاظ سے بالواسطہ تنبیہ کی سنت سے جیسے بریرہ کے قصے میں؛ ابن حزم کے الاخلاق والسیر میں کنایے اور قبول کی شرط نہ لگانے کے الفاظ سے؛ نرمی کی حدیث اور نفراوی کے کلام سے؛ اور شاطبی اور زرکشی کے نقل کردہ قاعدہ لا ضرر ولا ضرار اور ابن بطال کے اس قول سے کہ اذیت کے خوف پر یہ فریضہ ساقط ہو جاتا ہے۔

    اصل صفحہ

  • ضرر کی وجہ سے طلاق کا مطالبہ کرنے والی بیوی کے لیے متعہ کا حکم

    ایک عورت کے بارے میں سوال جس نے قاضی کے سامنے ضرر کی وجہ سے شوہر سے طلاق کا مقدمہ دائر کیا، کہ کیا وہ طلاق کے بعد متعہ کی حق دار ہے یا اس کا مطالبہ طلاق پر رضامندی شمار ہو کر اس کا حق ساقط کر دیتا ہے؛ دار الافتاء مصر نے جواب دیا کہ متعۂ طلاق وہ مال ہے جو شوہر رخصتی کے بعد طلاق دی گئی بیوی کو ادا کرتا ہے، جو شوہر کی آسودگی یا تنگی کے مطابق کم سے کم دو سال کے نفقے کے برابر ہے، جس کا تعین باہمی رضامندی سے یا تنازع کی صورت میں عدالت سے ہوتا ہے، اور اس کی شرط یہ ہے کہ طلاق عورت کی طرف سے یا اس کے سبب نہ ہو، لہٰذا اگر طلاق اس کی رضامندی سے ہو تو متعہ ساقط ہے، لیکن اگر اس کے ضرر کی وجہ سے اس کے مطالبے پر ہو تو ساقط نہیں کیونکہ ساقط کرنے والی رضامندی موجود نہیں۔ دار الافتاء نے متعہ کا معنی خرشی کی شرح اور مغنی المحتاج سے بیان کیا؛ یہ کہ رخصتی سے پہلے طلاق دی گئی عورت کے لیے جس کا مہر مقرر نہ ہوا بالاتفاق واجب ہے، باقی صورتوں میں حنفیہ، مالکیہ اور ایک روایت میں حنابلہ کے جمہور کے نزدیک مستحب اور شافعیہ اور احمد کے ایک قول میں جسے ابن تیمیہ نے اختیار کیا واجب ہے؛ اس کی مقدار سورہ بقرہ کی آیت کی نص سے شوہر کی حالت پر منحصر ہے؛ اور چاروں مذاہب نے عورت کی طرف سے یا اس کے سبب ہونے والی ہر جدائی جیسے خلع میں اس کے سقوط کی تصریح کی، کاسانی، ابن جزی، رافعی اور ابن قدامہ سے نقل کرتے ہوئے۔ اس نے 1929 کے قانون 25 کی دفعہ 18 مکرر کا حوالہ دیا جو 1985 کے قانون 100 سے شامل کی گئی اور بغیر رضامندی طلاق دی گئی بیوی کو کم سے کم دو سال کے نفقے کا متعہ دیتی ہے، اور مصری عدالتِ نقض کے 1997 کے فیصلے کا کہ بیوی کا ضرر کی بنا پر طلاق کے لیے قاضی سے رجوع طلاق پر رضامندی نہیں۔

    اصل صفحہ

  • وصیت کرنے والے کی شرط پوری نہ ہو سکنے پر اس کی خلاف ورزی کا حکم

    ایک متوفیہ بہن کے بارے میں سوال جس نے اپنے بھائی کے پاس رقم چھوڑی اور کہا کہ وفات کے بعد اسے ایک یتیم دلہن کی شادی کے سامان میں دے، جبکہ خاندان صرف ایسی غریب دلہنوں کو جانتا ہے جو یتیم نہیں، اور یہ کہ کیا یتیم کی جگہ غریب دلہن کو سامان دیا جا سکتا ہے؛ دار الافتاء مصر نے جواب دیا کہ وصی پر لازم ہے کہ وصیت کرنے والے کی شرط پر عمل کرے جب تک وہ مشروع اور قابلِ عمل ہو اور اسے بدلنا حرام ہے، لہٰذا اسے سرکاری اداروں، رجسٹرڈ تنظیموں، یتیم خانوں اور سماجی امور کے دفاتر کے ذریعے جو یتیم لڑکیوں اور ان کی ضروریات کی فہرستیں رکھتے ہیں یتیم دلہن تلاش کرنی چاہیے؛ اگر وہ پوری کوشش کرے اور صرف غریب دلہن ملے تو استثنائی طور پر اس کی شادی میں مدد کے لیے اسے رقم دے سکتا ہے، بغیر حرج اور گناہ کے۔ دار الافتاء نے وصیت کی تعریف کی کہ یہ تبرع کے طور پر موت کے بعد کی طرف مضاف تملیک ہے، جیسا کہ حطاب نے کہا، بیان کیا کہ یہ مستحب ہے سوائے مکلف پر لازم حقوق کے جن میں واجب ہے، جیسا کہ سرخسی، کاسانی، ابن رشد جد، رافعی اور ابن قدامہ نے کہا، اور یہ کہ سعد بن ابی وقاص کی حدیث، ابن بطال کے نقل کردہ اجماع اور وصیت کے قانون کی دفعہ 37 سے یہ ترکے کے تہائی تک محدود ہے۔ پھر اس نے فیصلہ کیا کہ وصیت کرنے والے کی شرطیں معتبر ہیں اور سورہ بقرہ کی آیت کی نص سے جیسا کہ ابن کثیر، سرخسی، ابن رشد اور جوینی نے اس کی تفسیر کی انہیں بدلنا حرام ہے، لیکن اس اصول پر استثنا وارد ہوتے ہیں جن میں شرط پر عمل ناممکن ہونے پر وصیت کرنے والے کے مقاصد کا لحاظ کیا جاتا ہے، کیونکہ وصیت ایک نظری ولایت ہے اور وصی میت کا نائب ہے، اور وصیت میں یتیم کا وصف محتاجی اور ضرورت کے گمان کے لیے ہے، لہٰذا رقم غریب دلہن کو دینا اسی علت میں شریک قریب ترین جہت کی طرف منتقلی ہے نہ کہ کسی اجنبی جہت کی طرف۔

    اصل صفحہ

  • بے ہوشی کی دوا (اینستھیزیا) کا وضو پر اثر

    ایک مریض کے بارے میں سوال جس کا بے ہوشی کی دوا کے ساتھ آپریشن ہونا ہے، کہ کیا مکمل یا جزوی بے ہوشی سے اس کا وضو ٹوٹ جاتا ہے؛ دار الافتاء مصر نے جواب دیا کہ مکمل اور جزوی بے ہوشی دونوں شرعاً وضو توڑتی ہیں، کیونکہ دونوں میں بغیر ادراک اور احساس حدث نکلنے کا گمان ہوتا ہے۔ دار الافتاء نے بے ہوشی کی تعریف کشاف اصطلاحات الفنون، المعجم الوسیط اور عربی زبان اکیڈمی کی طبی اصطلاحات کی لغت سے کی اور اسے عام، ریڑھ کی اور مقامی میں تقسیم کیا؛ بیان کیا کہ کسی بھی صورت میں عقل کا زائل ہونا ابن المنذر کے نقل کردہ اجماع سے وضو توڑتا ہے، ابن قدامہ نے عقل زائل کرنے والی دواؤں کو بالاجماع ناقض شمار کیا کیونکہ ایسے لوگوں کا حس سونے والے سے زیادہ دور ہوتا ہے، اور نووی نے تصریح کی کہ بنج یا دوا سے عقل کا زائل ہونا وضو توڑتا ہے۔ اس نے فیصلہ کیا کہ مکمل بے ہوشی وضو توڑتی ہے کیونکہ یہ عقل زائل کرتی ہے، اور ریڑھ کی جزوی بے ہوشی، گو اس سے عقل زائل نہیں ہوتی، ناف سے نیچے کے اعضا پر کنٹرول اور احساس زائل کرتی ہے جن میں دونوں راستے شامل ہیں، لہٰذا اس میں ناقض چیز کے نکلنے کا گمان ہے؛ اس نے اس حدیث سے استدلال کیا کہ آنکھیں مقعد کا بندھن ہیں اور جوڑوں کے ڈھیلے ہونے کی حدیث سے، اور اس اصول سے کہ نیند کو صرف اس لیے ناقض بنایا گیا کہ وہ ایسے نکلنے کا گمان پیدا کرتی ہے، تو سبب کو مسبب کی جگہ رکھا گیا، جیسا کہ مناوی، شرنبلالی اور علی قاری نے بیان کیا۔

    اصل صفحہ

  • باپ کا بیٹے کو صدقہ دینے پر مجبور کرنا

    ایک سائل بتاتا ہے کہ اس کا تاجر باپ بہت صدقہ کرتا ہے اور اپنے اس بیٹے سے، جس نے الگ کاروبار شروع کیا ہے، ہر مہینے کچھ سامان صدقہ کرنے کو کہتا ہے۔ مصر کے دار الافتاء نے مفتی نظیر عیاد کے فتوے میں جواب دیا کہ نفلی صدقہ مستحب ہے اور اپنی اور زیرِ کفالت لوگوں کی ضرورت سے زائد مال میں سے خوش دلی اور اختیار سے دیا جاتا ہے؛ کسی کو اس پر مجبور کرنا جائز نہیں، لہٰذا باپ بیٹے کو مجبور نہیں کر سکتا، البتہ اس کی فضیلت بیان کر کے ترغیب دے سکتا ہے۔

    اصل صفحہ

  • مصنف کی وفات کے بعد تحقیقی کاموں میں فکری ملکیت کے حقوق کا حکم

    ایک شخص کا سوال جس کے والد کا ایک ویب سائٹ پر اکاؤنٹ تھا جس میں ان کی تحقیقات تھیں اور انہوں نے وفات سے پہلے اسے اکاؤنٹ اور پاس ورڈ دکھایا تھا؛ اس نے پوچھا کہ کیا یہ تحقیقات وراثت میں داخل ہیں یا اس کی ذاتی ملکیت ہیں۔ دار الافتاء مصر نے جواب دیا کہ مصنف کے مالی حقوق اس کی زندگی اور وفات کے بعد پچاس سال تک جاری رہتے ہیں، والد کی چھوڑی ہوئی تحقیقات سے فائدے کے حقوق ان کے اموال میں شامل ہیں جو ترکے میں داخل ہو کر ورثا کو منتقل ہوتے ہیں، اور وفات سے پہلے ملکیت منتقل کرنے والے کسی درست سبب جیسے بیع، ہبہ یا وصیت کے بغیر کوئی ایک وارث ان کا تنہا حق دار نہیں۔ دار الافتاء نے بیان کیا کہ مال کی حفاظت شریعت کے کلی مقاصد میں سے ہے جیسا کہ غزالی نے کہا، اور فکری ملکیت اور تصنیف کے حقوق شرعاً اور عرفاً ان کے مالکوں کے لیے مال کے طور پر ثابت حقوق ہیں، کیونکہ مال اعیان، منافع اور حقوق سب کو شامل ہے؛ اس نے ابن سیدہ، زبیدی، مازری، جوینی، رافعی، ابن قدامہ اور بہوتی سے نقل کیا کہ منافع اعیان کی طرح مال ہیں، کہا کہ فکری پیداوار سے فائدہ اٹھایا جاتا، اس کی تجارت ہوتی اور عرفاً اس کی قیمت لگائی جاتی ہے لہٰذا اسے مال کا حکم ہے، اور مصر کے 2002 کے فکری ملکیت کے قانون 82 کی دفعات 140 اور 160 کا حوالہ دیا۔ اس نے کہا کہ والد کا بیٹے کو اپنی تحقیقات دیکھنے یا اکاؤنٹ چلانے کی اجازت دینا اسے مالک نہیں بناتا، کیونکہ ملکیت صرف اسبابِ تملک میں سے کسی سبب سے حاصل ہوتی ہے جنہیں زیلعی، ماوردی اور ابن الرفعہ نے شمار کیا؛ زیادہ سے زیادہ والد نے اپنی زندگی میں بیٹے کو اس پر امین بنایا، لہٰذا اگر وہ ملکیت منتقل کیے بغیر فوت ہوئے تو یہ ترکہ ہے اور فائدے کے حقوق ورثا میں ان کے حصوں کے مطابق تقسیم ہوں گے۔

    اصل صفحہ

  • نماز کے بعد کے اذکار کے لیے وضو شرط ہے یا نہیں

    اس بارے میں سوال کہ کیا فرض نماز کے بعد کے اذکار کے لیے طہارت لازم ہے؛ دار الافتاء مصر نے جواب دیا کہ نماز کے اختتامی اذکار کے وقت طہارت برقرار رکھنا اکمل اور مستحب ہے، نماز کے بعد ذکر کی عظمت کی وجہ سے اور اس لیے کہ ذاکر اس سے اپنی نماز ختم کرتا ہے، لہٰذا مناسب ہے کہ وہ نمازیوں کی طرح طہارت پر ہو، لیکن اگر نمازی بغیر طہارت اپنی نماز ختم کرے تو درست ہے اور کوئی حرج نہیں، کیونکہ طہارت ذکر کی شرط نہیں۔ دار الافتاء نے نمازوں کے بعد ذکر کے استحباب کو سورہ احزاب اور نساء کی آیات، ذکر کی فضیلت پر ابو درداء کی حدیث اور نماز کے بعد نبی کے تین بار استغفار پر ثوبان کی حدیث سے بیان کیا؛ واضح کیا کہ فقہا کے اتفاق سے طہارت ذکر کی شرط نہیں، اختتامی اذکار عام ذکر ہیں جن کے جواز پر چھوٹی یا بڑی ناپاکی والے کے لیے اجماع ہے، عائشہ کی اس حدیث سے کہ نبی ہر وقت اللہ کا ذکر کرتے تھے، جیسا کہ قاضی عیاض نے شرح کی، اور کاسانی اور نووی کے الاذکار میں اجماع کے بیان سے؛ البتہ طہارت مستحب ہے، مہاجر بن قنفذ کی اس حدیث سے کہ نبی نے ان کے سلام کا جواب وضو کرنے تک نہ دیا اور فرمایا کہ میں طہارت کے بغیر اللہ کا ذکر ناپسند کرتا ہوں، جیسا کہ ابن الملک نے شرح کی، اور اس لیے کہ معظم ذکر کے لیے طہارت مناسب ہے جیسا کہ کاسانی نے مؤذن کے بارے میں کہا؛ عمومی اجازت قضائے حاجت کی حالت اور جنبی کے قرآن پڑھنے کے لیے مخصوص ہے جیسا کہ مناوی نے کہا، اور حدیث میں کراہت افضل کے خلاف ہونے کے معنی میں ہے جیسا کہ علی قاری نے کہا۔

    اصل صفحہ

  • متحدہ اذان سننے کے بعد مسجد سے نکلنے کا حکم

    متحدہ اذان سننے کے بعد مسجد سے نکلنے کے حکم کے بارے میں سوال، جس میں دار الافتاء مصر نے جواب دیا کہ متحدہ اذان، جو مرکزی مسجد سے دی جاتی اور باقی مساجد میں نشر ہوتی ہے، شرعاً جائز ہے اور نشریات میں شامل تمام مساجد کی اذان شمار ہوتی ہے، لہٰذا اسے سننے پر وہی اثر ہے جو کسی اذان کو سننے پر ہے، یعنی نماز کی تیاری؛ اس کے بعد اور اقامت سے پہلے بغیر عذر مسجد سے نکلنا مکروہ ہے، لیکن عذر یا حاجت کے لیے، جیسے دوسری مسجد کا امام ہونا یا علم کی مجلس میں جانا، بلا کراہت جائز ہے۔ دار الافتاء نے اذان کی فضیلت اور مؤذنوں کے اجر کو بیان کیا، واضح کیا کہ اس کا مقصد وقت کے داخل ہونے کی اطلاع ہے، اور ذکر کیا کہ مصر اور دیگر ممالک کے حکام نے مساجد کی کثرت اور قربت اور اس سے پیدا ہونے والی آوازوں کی گڑبڑ اور فرق کی وجہ سے اذان کو متحد کیا؛ وزارتِ اوقاف کا منصوبہ ایک براہِ راست اذان ہے جو ایک مؤذن وقت داخل ہونے کے بعد دیتا ہے اور مساجد میں نشر ہوتی ہے، جو جائز ہے کیونکہ مقصد حاصل ہوتا ہے۔ اس نے ابن مسعود کے محلے کی اذان پر اکتفا کے اثر اور بکیر بن اشج کے مدینہ کی نو مساجد کے اثر سے استدلال کیا جن کے لوگ بلال کی اذان سنتے تھے، اور ابن نجیم، ابن قدامہ اور مرداوی کے اقوال سے کہ شہر کے لیے ایک اذان کافی ہے، اور شرط لگائی کہ اذان براہِ راست ہو نہ کہ ریکارڈ شدہ، اوقات کے فرق کے لحاظ کے ساتھ، اور اس کا انتظام ذمہ دار اداروں کے سپرد ہو۔ پھر اس نے بغیر عذر اذان کے بعد نکلنے میں فقہا کا اختلاف بیان کیا: جمہور مالکیہ، شافعیہ اور بعض حنابلہ کے نزدیک کراہت، حنفیہ کے نزدیک کراہتِ تحریمی، اور حنابلہ کے صحیح قول اور ابن حزم کے نزدیک حرمت، عذر کے لیے جواز پر اتفاق کے ساتھ۔

    اصل صفحہ

  • مرمت کی دکان میں کام کرنے والے ٹیکنیشن کے ضمان کا حکم

    کمپیوٹر مرمت کی دکان کے مالک کا سوال جس نے اپنے پاس کام کرنے والے ٹیکنیشن کو ایک گاہک کا آلہ ٹھیک کرنے کو کہا؛ مرمت کے دوران اندرونی کنٹرول بورڈ اور کچھ دیگر پرزے خراب ہو گئے جس سے بڑا نقصان ہوا، اور اس نے پوچھا کہ یہ نقصان کون اٹھائے گا۔ دار الافتاء مصر نے جواب دیا کہ ٹیکنیشن دکان کے مالک کے ساتھ اپنے تعلق میں اجیرِ خاص ہے کیونکہ وہ کام کے اوقات میں صرف اس کے لیے کام کرتا ہے، اور اس کا حکم یہ ہے کہ وہ اپنے ہاتھ میں خراب ہونے والی چیز کا ضامن نہیں سوائے زیادتی یا غفلت کی صورت میں: اگر اس نے پیشے کے مستقر طریقوں سے تجاوز کیا یا غفلت کی اور احتیاط نہ کی تو وہ دکان کے مالک کے لیے خراب شدہ چیز کا ضامن ہے، ورنہ اس پر کوئی ضمان نہیں، اور زیادتی یا غفلت کے واقع ہونے کا فیصلہ اہلِ خبرہ کی طرف رجوع سے ہوتا ہے۔ دار الافتاء نے معاملے کو تین فریقوں کے درمیان اجارہ قرار دیا: گاہک جو اجرت پر لیتا ہے، دکان کا مالک جو اجیرِ مشترک ہے، عام لوگوں کے لیے کام کرتا ہے اور اپنے یا اپنے کارکنوں کے فعل سے خراب ہونے والے گاہکوں کے آلات کا عقد کی بنا پر ضامن ہے، اور ٹیکنیشن جو اجیرِ خاص ہے اور صرف زیادتی یا غفلت پر ضامن ہے؛ اس نے کاسانی، ابن مازہ، المدونہ، دردیر، رملی، ابن قدامہ اور بہوتی کی عبارتیں اجیرِ خاص کے بلا زیادتی ضامن نہ ہونے پر، اور ابن شاس، مرداوی اور بعلی کی عبارتیں اس پر نقل کیں کہ اجیرِ مشترک کے پاس اجیرِ خاص کے ہاتھ میں خراب ہونے والی چیز کا مالک کے لیے ضامن اجیرِ مشترک ہے، اور فرق کی وجہ یہ بتائی کہ اجیرِ مشترک عقد سے ضامن ہے نہ کہ اتلاف سے، جیسا کہ مجلۃ الاحکام العدلیہ میں بھی ہے۔

    اصل صفحہ

  • مرد کا سونے کی پالش والی گھڑی یا عینک پہننا

    مرد کے سونے کی پالش یا ملمع والی گھڑی یا عینک پہننے کے بارے میں سوال؛ دار الافتاء مصر نے جواب دیا کہ جب پالش محض رنگ ہو جس میں سونے کا کوئی اثر نہ ہو، یا اتنی معمولی ہو کہ اتارنے سے سونا حاصل نہ ہو، تو کوئی رکاوٹ نہیں، لیکن جب سونا زیادہ ہو، جیسے موٹی تہہ، یا ایسا ہو کہ چیز کو پگھلانے سے سونا نکل آئے، تو پہننا حرام ہے۔ دار الافتاء نے مردوں پر سونے کی حرمت ابو داود کے پاس علی کی حدیث سے بیان کی کہ ریشم اور سونا امت کے مردوں پر حرام ہیں اور ابو موسیٰ اشعری کی حدیث سے، اور نووی کے نقل کردہ اجماع سے جو مردوں پر سونے کی انگوٹھی حرام کرتا ہے؛ اس نے ذکر کیا کہ نص خالص سونے یا بنیادی مادے کے طور پر سونے سے متعلق ہے، اور فقہا ملمع میں حرمت کی علت کے اختلاف کے مطابق مختلف ہیں: حنفیہ اس ملمع کے جواز پر متفق ہیں جس سے آگ پر رکھنے سے کچھ حاصل نہ ہو اور جس سے کچھ حاصل ہو اس میں مختلف ہیں، جیسا کہ کاسانی اور ابن نجیم نے کہا؛ مالکیہ اس چیز کو حرام کہتے ہیں جس میں سونا اصل کے برابر یا زیادہ ہو اور کم کو مکروہ، جیسا کہ دردیر اور دسوقی نے کہا؛ شافعیہ اصح قول میں اور حنابلہ اس تھوڑی مقدار کو جائز کہتے ہیں جس سے آگ پر رکھنے سے کچھ حاصل نہ ہو اور جس سے سونا نکلے اسے حرام، کیونکہ تب تکبر اور فقرا کی دل شکنی موجود ہے، جیسا کہ خطیب شربینی اور بہوتی نے کہا، معاویہ کی حدیث کے ساتھ جس میں سونا پہننے سے منع کیا گیا سوائے چھوٹے ٹکڑوں کے اور علی قاری کی شرح کے ساتھ۔ فتوے کے لیے مختار یہ ہے کہ جس سے سونا نکلے وہ حرام ہے، اختلاف سے بچنے کے لیے، جیسا کہ سیوطی نے کہا۔

    اصل صفحہ

  • ضرورت کے تحت دفن کے بعد میت کو قبر سے منتقل کرنا

    ضرورت کے تحت میت کو ایک قبر سے دوسری قبر منتقل کرنے کے بارے میں سوال، جس میں مصر کے دار الافتاء نے کہا کہ اصل حرمت ہے مگر ضرورت، حاجت یا معتبر مصلحت کے لیے جائز ہے۔ دار الافتاء نے جواب دیا کہ قبر کھولنا اور میت کو منتقل کرنا اصلاً حرام ہے، سوائے کسی ایسی ضرورت، حاجت یا شرعی مصلحت کے جو منتقلی کے بغیر پوری نہ ہو۔ اس نے شرط رکھی کہ منتقلی میں میت کا احترام ہو، اس کا جسم یا باقی ماندہ حصہ محفوظ اور ڈھکا رہے، نرمی سے اٹھایا جائے، اور متعلقہ سرکاری اداروں کی اجازت اور ضوابط کی پابندی ہو۔ اس نے فقہا کی ذکر کردہ وجوہات کی مثالیں دیں: قبلے کے بغیر، غسل یا کفن کے بغیر یا غصب شدہ زمین میں دفن، قبر میں مال گر جانا، پانی سے قبروں کو نقصان کا خطرہ، یا سڑک بنانے جیسی عام مصلحت۔

    اصل صفحہ

  • مسجد کو اس کی تعمیر کا خرچ دینے والے کے نام سے موسوم کرنے کا حکم

    ایک شخص کا سوال جس نے مسجد کی تعمیر کا خرچ دیا اور اسے اپنے نام سے موسوم کرنا چاہتا ہے؛ دار الافتاء مصر نے جواب دیا کہ مساجد کو لوگوں کے ناموں سے موسوم کرنا، خواہ تعمیر کرنے والے کے نام سے یا کسی اور کے، جیسے کسی عالم، حاکم یا مصلح کی یاد یا محض ایک مسجد کو دوسری سے ممتاز کرنے کے لیے، شرعاً جائز ہے جب نیت اچھی ہو اور ریا نہ ہو، مصلحت، نقصان کے نہ ہونے اور رائج عرف کے لحاظ کے ساتھ، اور اس شرط پر کہ مصر کی وزارتِ اوقاف سے رجوع کیا جائے جو مساجد کی ذمہ دار ہے۔ دار الافتاء نے سورہ توبہ کی آیت اور حدیث 'جس نے اللہ کے لیے مسجد بنائی' سے مساجد کی تعمیر کی ترغیب بیان کی؛ واضح کیا کہ نام تعارف اور تمیز کے لیے ہیں نہ کہ ریا کے لیے، جیسا کہ طبری، جصاص، سمرقندی، ابو یعلیٰ اور آمدی نے کہا؛ کہا کہ مسجد کی کسی شخص کی طرف نسبت تمیز کی نسبت ہے نہ کہ ملکیت کی، بخاری کے باب 'کیا کہا جائے مسجد بنی فلاں' اور مسجد بنی زریق کی حدیث اور ابن بطال اور نووی کے کلام سے استدلال کرتے ہوئے؛ یاد دلایا کہ اعمال نیتوں سے ہیں اور غزالی کی ریا سے تنبیہ؛ سورہ جن کی آیت 'مساجد اللہ کے لیے ہیں' کی تفسیر یہ کی کہ مراد ان کا اللہ کی عبادت کے لیے خاص ہونا یا ملکیت کی نسبت ہے نہ کہ نام رکھنے کی ممانعت، جیسا کہ ابن العربی اور جصاص نے کہا؛ اور وزارتِ اوقاف سے رجوع لازم کیا کیونکہ حاکم کا فیصلہ اختلاف ختم کرتا ہے اور ولی امر مباح کو محدود کر سکتا ہے، جیسا کہ قرافی نے کہا۔

    اصل صفحہ

  • تفریحی گیمز والا انٹرنیٹ کیفے (سائبر) چلانے کا حکم

    ایک شخص کا سوال جو اپنے دوست کے ساتھ تفریحی انٹرنیٹ کیفے کھولنا چاہتا ہے جس میں الیکٹرانک گیمز، لامحدود انٹرنیٹ، پرنٹنگ اور فیکس ہوں، اور جسے بتایا گیا کہ یہ حرام ہے کیونکہ یہ ایسا لہو ہے جو نماز سے غافل کرتا ہے؛ دار الافتاء مصر نے جواب دیا کہ اگر منصوبہ شرعی محذورات سے خالی ہو، جیسے ایسی گیمز اور ویب سائٹیں جو عورتوں پر مشتمل ہوں یا برائی کی دعوت دیں، اور مالک گاہکوں کو نماز جیسے دینی فرائض سے غافل کرنے میں مدد نہ کرنے کا التزام کریں، تو یہ جائز ہے اور اس کا منافع حلال؛ لیکن اگر اس میں حرام چیزیں شامل ہوں، جیسے فحش مواد یا حرام گیمز میں نرمی، یا یہ گاہکوں کے فرائض ضائع کرنے کا سبب بنے، تو حرام ہو جاتا ہے اور اس میں شراکت گناہ میں تعاون ہے، اور اعتبار مواد اور مقصد کا ہے۔ دار الافتاء نے شریعت کی وسعت اور روح اور جسم کی ضرورتوں میں اس کے توازن کو سورہ قصص کی آیت اور حنظلہ کی حدیث 'ایک گھڑی اور ایک گھڑی' سے بیان کیا، کہا کہ لہو اور تفریح میں اصل اباحت ہے جب تک کسی محذور کے ساتھ نہ جڑے، سورہ یوسف کی آیت، حبشیوں کے نیزوں سے کھیلنے کی حدیث اور عمر کے قول 'اپنے لڑکوں کو تیرنا سکھاؤ' سے استدلال کرتے ہوئے، اور ابن القاص سے بچوں کے ایسے کھیلوں کا جواز نقل کیا جو ممنوع لہویات میں سے نہ ہوں، اور ذکر کیا کہ پرنٹنگ اور فیکس کی خدمات اصلاً مباح ہیں اور مشکل گیمز اور کھلے انٹرنیٹ میں ہے۔ پھر اس نے جائز تفریح کی آٹھ شرطیں شمار کیں: وہ نقصان دہ لت نہ بن جائے، اللہ کے حقوق ضائع نہ کرے، جوئے پر مشتمل نہ ہو، حرام رویے جیسے عورتوں کی تصویر کشی سے نہ جڑے، مسلمانوں کے عقیدے کے خلاف رسوم پر مشتمل نہ ہو، جھگڑے اور تشدد تک نہ لے جائے، ممنوعہ جاسوسی گیمز میں سے نہ ہو، اور بندوں کے حقوق ضائع نہ کرے؛ اور کہا کہ حرام مواد فراہم کرنا منکر کو ممکن بنانا اور گناہ میں شرکت ہے۔

    اصل صفحہ

  • مصنوعات کی متوقع عمر تک مفت مرمت کی شرط کے ساتھ بیع کا حکم

    استعمال شدہ گھریلو آلات بیچنے والے کا سوال جس کے گاہک نے خریدے گئے آلات کی ضمانت ختم ہونے کے بعد ان کی متوقع عمر تک مرمت کی شرط لگائی؛ دار الافتاء مصر نے جواب دیا کہ خریدار کا بیچنے والے پر آلات کی معلوم اور متفق علیہ متوقع عمر بھر مرمت کی شرط لگانا، معلوم معاوضے کے عوض، شرعاً جائز ہے اور عقد کے تقاضے کے خلاف نہیں۔ دار الافتاء نے عقود کی عمومی شرائط یاد دلائیں، یعنی اہلیت، رضامندی، غرر کا نہ ہونا اور ممنوع شرائط سے خالی ہونا، اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے کہ مسلمان اپنی شرطوں کے پابند ہیں سوائے اس شرط کے جو حلال کو حرام یا حرام کو حلال کرے؛ اس نے متوقع عمر کی تعریف صارف تحفظ ادارے کے 2022 کے فیصلے 1/4 سے کی، اور معاملے کو بیع مع شرط قرار دیا جسے مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ کا جمہور جائز سمجھتا ہے جب تک شرط عقد کے تقاضے کے خلاف نہ ہو اور غرر تک نہ پہنچائے، ابن رشد، خرشی، زرقانی، نووی، ابن رجب اور حجاوی سے نقل کرتے ہوئے۔ جھگڑے سے بچنے کے لیے اس نے لازم کیا کہ مرمت میں شامل پرزے اور کام، فاضل پرزوں کی شمولیت یا صرف مرمت کی اجرت، اور معلوم معاوضہ واضح کیے جائیں، قاعدہ لا ضرر ولا ضرار کی بنیاد پر، اور اسلامی فقہ اکیڈمی کی قرارداد 103 (6/11) کا حوالہ دیا جس نے معلوم مدت کے لیے بیچنے والے پر مشروط مرمت کو جائز بیع مع شرط قرار دیا۔

    اصل صفحہ

  • علمی غلطیوں اور شرعی خلاف ورزیوں والی کتابیں بیچنا

    ایسی کتابیں بیچنے کے بارے میں سوال جن میں شرعی خلاف ورزیاں بتائی گئیں، جس کا جواب مصر کے دار الافتاء نے بیع کے مقصد اور خریدار کے لحاظ سے تفصیل سے دیا۔ دار الافتاء نے جواب دیا کہ علمی کتابوں کی بیع جائز ہے جب وہ بیچنے والے کی ملکیت ہوں اور ان میں فائدے کی چیز ہو۔ اس نے کہا کہ جن کتابوں میں متعلقہ علمی کمیٹیوں نے خلاف ورزیاں اور غلطیاں طے کی ہوں اور اشاعت کی اجازت نہ دی ہو، انہیں علما، ماہرین اور طلبہ کو مطالعے اور رد کے لیے، یا ری سائیکلنگ کے لیے بیچنا جائز ہے۔ اور دوسروں کو ان کے مواد کے پھیلاؤ اور استعمال کے لیے بیچنا اس کے نزدیک حرام ہے کیونکہ یہ باطل میں مدد ہے، اس اصول پر کہ وسائل کا حکم مقاصد والا ہے۔

    اصل صفحہ

  • میعاد ختم ہونے کے قریب سامان کو رعایتی پیشکش میں بیچنا

    میعاد ختم ہونے کے قریب سامان کو وجہ بتائے بغیر رعایت پر بیچنے کے بارے میں سوال، جسے مصر کے دار الافتاء نے شرائط کے ساتھ جائز قرار دیا۔ دار الافتاء نے جواب دیا کہ یہ جائز ہے اگر سامان درست، قابلِ استعمال اور صارف کی صحت کے لیے ہر نقصان سے پاک ہو، اور میعاد کی تاریخ اس پر بغیر تبدیلی یا مٹائے درج رہے۔ اس نے کہا کہ ان میں سے کوئی شرط نہ ہو تو یہ فعل حرام ہے اور خریدار کو سامان واپس کرنے کا اختیار ہے۔ اس نے اس کی بنیاد یہ بتائی کہ خرید و فروخت میں اصل اباحت ہے جب تک باہمی رضامندی ہو اور دھوکا اور فریب نہ ہو، اور ذکر کیا کہ مالکیہ نے سامان کے پرانا ہونے اور بیچنے والے کے پاس دیر تک رہنے کو بتانا لازم کیا۔

    اصل صفحہ

  • کرائے پر لیے گئے فلیٹ کو مالک کے علاوہ کسی اور کو کرائے پر دینے کا حکم

    ایک شخص کے بارے میں سوال جس نے رہائشی فلیٹ کرائے پر لیا اور اسے مالک کے علاوہ کسی اور کو کرائے پر دینا چاہا؛ دار الافتاء مصر نے جواب دیا کہ کرایہ دار کرائے کی چیز کو آگے کرائے پر دے سکتا ہے اور اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ دوسرے کرائے سے چیز کو نقصان نہ ہو، چیز ایسی ہو جس کے استعمال میں لوگ مختلف نہ ہوں، اور دوسرا کرایہ پہلے سے زیادہ ہو سکتا ہے، گو مستحب یہ ہے کہ کرایہ دار نے چیز میں کوئی ایسا اضافہ کیا ہو جو زیادہ کرایہ مانگنے کا جواز بنے، تاکہ اس کی شرط لگانے والے فقہا کے اختلاف سے نکلا جائے؛ یہ سب مالک کے ساتھ معاہدے کی خلاف ورزی نہ کرنے اور کرائے کے تعلق کو منظم کرنے والے قوانین اور ان کی پابندیوں کی تعمیل سے مشروط ہے۔ دار الافتاء نے اجارے کی مشروعیت قرآن، سنت اور اجماع سے بیان کی، کرایہ دار کے آگے کرائے پر دینے کے جواز کو حنفیہ، مالکیہ، شافعیہ اور اصح قول پر حنابلہ کے جمہور اور سلف کے ایک گروہ کی طرف منسوب کیا، اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ کرایہ دار پہلے اجارے سے منفعت کا مالک ہو گیا تو اس میں تصرف کر سکتا ہے، اور اجارہ بیع کی طرح ہے اور مبیع کو قبضے کے بعد آگے بیچنا جائز ہے۔ اس نے حنفیہ کی یہ شرط نقل کی کہ اگر دوسرا کرایہ زیادہ ہو تو کرایہ دار نے چیز میں اضافہ کیا ہو ورنہ زائد رقم صدقہ کرے، کاسانی، ابن مازہ، حطاب، شیرازی اور بہوتی کے اقوال نقل کیے، اور مصری دیوانی قانون کی دفعہ 593 اور 1981 کے قانون 136 کی دفعہ 18 کا حوالہ دیا جو پرانے کرائے کے معاہدوں میں صریح تحریری اجازت کے بغیر آگے کرائے پر دینے کی صورت میں مالک کو بے دخلی کا مطالبہ کرنے کی اجازت دیتی ہے۔

    اصل صفحہ

  • درزی کے ہاتھ میں خراب ہونے والے کپڑے کے ضمان کا حکم

    ایک درزی کے بارے میں سوال جس نے ایک قیمتی کپڑا مقررہ تفصیلات کے لباس کے لیے کاٹنے کو لیا، کاٹتے وقت پیٹرن کی پیمائش میں غلطی کی، اور کپڑا اس طرح خراب ہوا کہ مطلوبہ لباس کے قابل نہ رہا؛ دار الافتاء مصر نے جواب دیا کہ درزی کے ہاتھ میں کاٹنے اور پیمائش کے وقت جو خراب ہو وہ شرعاً اس پر ضامن ہے، اور ضمان کا اصول یہ ہے کہ وہ خراب کیے گئے کپڑے جیسی تفصیلات کا کپڑا دے، اور اگر مثل نہ مل سکے تو خرابی کے دن کی قیمت۔ دار الافتاء نے بیان کیا کہ کسی انسان کو معلوم کام پر اجرت پر لینا بلا اختلاف جائز ہے، اجیرِ خاص جو ایک شخص کے لیے معلوم مدت تک کام کرے اور اجیرِ مشترک جو عام لوگوں سے کام لے، جیسے رنگریز، دھوبی اور درزی، میں فرق کیا، سمرقندی کی تحفۃ الفقہاء اور مجلۃ الاحکام العدلیہ سے دونوں کی تعریف نقل کی، اور فیصلہ کیا کہ چاروں مذاہب کے جمہور فقہا اجیرِ مشترک کو اس کے ہاتھ کے کام سے خراب ہونے والی چیز کا ضامن قرار دیتے ہیں، کیونکہ اس میں کاریگروں اور مالِ تجارت کے مالکوں دونوں کی مصلحت ہے اور اسے چھوڑنے میں لوگوں کے اموال کے ضیاع کا راستہ کھلتا ہے؛ اس نے اس روایت سے استدلال کیا کہ علی بن ابی طالب دھوبیوں اور سناروں کو ضامن قرار دیتے اور کہتے کہ لوگوں کی اصلاح اسی سے ہوتی ہے، اور سغدی، ابن شاس، قاضی عبد الوہاب، خطیب شربینی اور بہوتی سے نقل کیا۔ پھر اس نے بیان کیا کہ ضمان کا اصول یہ ہے کہ مثلی کا ضمان مثل سے اور قیمی کا قیمت سے ہے، اور قیمت کی طرف صرف مثل کے ناممکن ہونے پر جایا جاتا ہے، جیسا کہ عز بن عبد السلام نے کہا، اور قیمت خرابی کے دن کی معتبر ہے، جیسا کہ ابن نجیم اور ابن حجر ہیتمی نے کہا۔

    اصل صفحہ

  • زمین کی الاٹمنٹ کی باری رقم کے عوض دوسرے کو دینے کا حکم

    ایک خاتون کے بارے میں سوال جس نے مصر کے ایک نئے شہری علاقے کے ادارے کے پاس زمین کا ایک پلاٹ بک کرایا اور بکنگ کی رقم ادا کی، پھر ایک شخص نے پیشکش کی کہ وہ اس کی الاٹمنٹ کی باری لے لے اور اس کے عوض ادا کی گئی رقم کے ساتھ ایک اضافی رقم (اوور) دے؛ دار الافتاء مصر نے جواب دیا کہ متعلقہ ادارے کی طرف رجوع کیے بغیر اور اس کی شرائط پوری کیے بغیر باری دوسرے کو دینا اور رقم لینا حرام ہے، کیونکہ یہ ضوابط سے حیلہ بازی اور باری میں بعد والے کے حق پر زیادتی ہے، جبکہ اگر متعلقہ ادارے کی منظوری اور قواعد کی تکمیل کے بعد فریقین کی رضامندی سے معاوضہ لیا جائے تو شرعاً درست ہے۔ دار الافتاء نے بیان کیا کہ شہر کا ادارہ 1979 کے قانون 59 سے قائم نئے شہری علاقوں کی اتھارٹی کے تحت ہے، اور 1995 کے وزرائی فیصلے 2904 سے نقل کیا کہ زمین وصولی کے دس سال سے پہلے ادارے کے سربراہ کی تحریری منظوری کے بغیر اس میں تصرف ممنوع ہے۔ رضامندی سے منتقلی کے درست ہونے پر اس حدیث سے استدلال کیا کہ مسلمان کا مال اس کی خوشدلی کے بغیر حلال نہیں، اور اس اصول سے کہ عقود اور شرائط میں اصل صحت ہے؛ اور چور راستے سے منتقلی کی حرمت پر حیلوں کی ممانعت سے، ابن حزم، ابن قدامہ، شاطبی اور خطابی سے نقل کرتے ہوئے۔

    اصل صفحہ

  • وضو میں صرف خمار کے اوپر مسح کرنے کا حکم

    ایک خاتون کے بارے میں سوال جسے کام کے دوران وضو کے لیے خمار اتارنا مشکل ہے اور وہ پوچھتی ہے کہ کیا سر کے مسح کی جگہ اس پر مسح کر سکتی ہے؛ دار الافتاء مصر نے جواب دیا کہ سر کے مسح میں واجب مقدار اس کے کسی بھی حصے تک تری پہنچانا ہے خواہ کم ہو، جیسے ایک بال یا اس کا حصہ، جو عورت اپنے خمار کے نیچے سے سر کے اگلے حصے کا مسح کر کے کر سکتی ہے، لہٰذا وہ خمار پر مسح پر اکتفا نہ کرے بلکہ جتنا ہو سکے بالوں پر مسح کرے؛ اگر وہ گیلا ہاتھ خمار پر رکھے اور تری بالوں تک پہنچ جائے تو کافی ہے اور وضو درست ہے۔ دار الافتاء نے بیان کیا کہ فقہا کا اجماع ہے کہ سر کا مسح وضو کے ارکان میں سے ہے گو واجب مقدار میں اختلاف ہے، فتویٰ شافعیہ کے اس قول پر ہے کہ سر کی حد میں کچھ بالوں کا مسح کافی ہے، اور صرف خمار پر مسح سے حنفیہ، مالکیہ، ایک روایت میں حنابلہ اور سلف کے ایک گروہ کے نزدیک وضو درست نہیں کیونکہ مامور مسح حاصل نہیں ہوتا اور خمار ٹوپی کی طرح اتارنے میں مشکل نہیں؛ شافعیہ اس وقت ان سے متفق ہیں جب تری بالوں تک نہ پہنچے۔ اس نے عائشہ کا چادر کے نیچے ہاتھ ڈالنے کا عمل نقل کیا، پھر ذکر کیا کہ حنابلہ اپنے مذہب میں اور ابن حزم خمار پر مسح کی اجازت دیتے ہیں، بلال کی موزوں اور خمار پر مسح کی حدیث اور ام سلمہ اور حسن کے عمل کی بنا پر، بشرطیکہ وہ گلے کے نیچے لپٹا ہو، مکمل طہارت پر پہنا گیا ہو اور موزوں پر مسح کی مدت کے اندر ہو۔

    اصل صفحہ

  • مریض سے اس کی بھلائی کے لیے بیماری کی حقیقت چھپانے کا حکم

    ایک سائل بتاتا ہے کہ اس کے بہنوئی کو کینسر ہے، اور ڈاکٹر نے تیزی سے بگڑنے کے خوف سے مریض کو نہیں بتایا بلکہ سائل کو بتایا۔ مصر کے دار الافتاء نے مفتی نظیر عیاد کے فتوے میں جواب دیا کہ اصل یہ ہے کہ مریض کو بتایا جائے، لیکن اگر ڈاکٹر اپنے تجربے سے سمجھے کہ بتانے سے سنگین جسمانی یا نفسیاتی بگاڑ ہوگا تو وہ نہ بتائے؛ یہ قابلِ مذمت چھپانا نہیں بلکہ ضرورت کے بقدر جائز توریہ ہے، بشرطیکہ چھپانا صرف مریض سے ہو، ضروری رشتہ داروں کو بتایا جائے تاکہ اس کے حقوق محفوظ رہیں، اور دوسروں کو نقصان نہ پہنچے۔

    اصل صفحہ

  • کلورین ملے نلکے کے پانی سے وضو کا حکم

    ایک سائل کو نلکے کے پانی میں کبھی عجیب ذائقہ اور سفیدی مائل رنگ محسوس ہوتا ہے اور وہ اس سے وضو کے بارے میں پوچھتا ہے۔ مصر کے دار الافتاء نے مفتی نظیر عیاد کے فتوے میں جواب دیا کہ اس سے وضو جائز ہے، کیونکہ کسی پاک چیز کے ملنے سے ذائقے یا رنگ میں معمولی تبدیلی نقصان نہیں دیتی جب تک پانی کا نام، اس کی رقت اور روانی باقی رہے اور کسی ایسی نجاست کا ملنا ثابت نہ ہو جو اس کے اوصاف بدل دے۔

    اصل صفحہ

  • ملازمت کے اختتامی انعام پر زکوٰۃ کی ادائیگی

    ملازمت کے اختتامی انعام پر زکوٰۃ کے بارے میں سوال، جس میں مصر کے دار الافتاء نے کہا کہ زکوٰۃ وصولی کے بعد ہی واجب ہوتی ہے، پھر یا تو اس سے نیا سال شروع ہوتا ہے یا وہ پہلے سے جاری سال والی بچت میں شامل ہو جاتی ہے۔ دار الافتاء نے جواب دیا کہ اختتامی انعام پر زکوٰۃ وصولی کے بعد ہی متعلق ہوتی ہے، کیونکہ اس سے پہلے ملکیت مکمل نہیں ہوتی۔ اس نے کہا کہ جس کے پاس کوئی اور بچت نہ ہو وہ وصولی کی تاریخ سے نیا سال شروع کرے، اور جس کی بچت کا سال پہلے سے چل رہا ہو وہ اسے اس میں ملا کر سال کے آخر میں سب پر چالیسواں حصہ (2.5٪) ادا کرے، بشرطیکہ وجوب کی شرائط پوری ہوں۔ اس نے انعام کی تعریف ایسی رقم سے کی جو کارکن کو معاہدے یا ضوابط کے مطابق اس کی خدمت کے سالوں کے اعتراف میں ملتی ہے، اور مصر کے لیبر قانون نمبر 14 بابت 2025 کی دفعہ 172 کا حوالہ دیا۔

    اصل صفحہ

موقع ابن باز 20 فتاویٰ

  • کیا ضعیف حدیث پر عمل کیا جائے؟

    ضعیف حدیث پر عمل کے بارے میں ایک مختصر سوال۔ ابن باز نے جواب دیا کہ ضعیف کی کئی قسمیں ہیں: جو حسن اور عمدہ سند والی ہو اس پر عمل کیا جاتا ہے، اور جو سخت ضعیف ہو اس پر عمل نہیں کیا جاتا؛ سخت ضعف کی مثال میں سند میں جھوٹا راوی، بہت کمزور حافظے والا راوی یا سند کا انقطاع ذکر کیا۔

    اصل صفحہ

  • دعا میں 'فلاں کی برکت سے' یا 'قرآن کی برکت سے' کہنے کا حکم

    دعا میں یہ کہنے کے حکم کے بارے میں سوال کہ 'اے اللہ، میرے لیے یہ کام فلاں کی برکت سے یا قرآن کی برکت سے کر دے'، جس میں ابن باز نے جواب دیا کہ اگر اس کام میں فلاں کا کوئی سبب ہو یا ہو سکتا ہو تو کوئی حرج نہیں، جیسے 'اے اللہ، فلاں کی برکت سے میرا کام آسان کر' یا 'اے اللہ، فلاں کے ذریعے میرا قرض ادا کر'، یعنی فلاں کے اسباب سے؛ لیکن جس میں اس شخص کا کوئی سبب نہ ہو وہ جھوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہنا کہ 'اے اللہ، میرے قرآن پڑھنے، اس کے علم، اس کی تلاوت یا اسے حفظ کرنے کے سبب مجھے بخش دے' نقصان نہیں دیتا، کیونکہ قرآن اللہ کا کلام ہے، لہٰذا یہ اللہ کے کلام سے توسل ہے۔

    اصل صفحہ

  • ٹھہرے ہوئے تالابوں میں غسل اور وضو کا حکم

    دیہات کا ایک سائل ایسے تالاب کا ذکر کرتا ہے جس کا پانی مہینوں ٹھہرا رہتا ہے اور لوگ اس میں غسلِ جنابت کرتے اور بعض وضو کرتے ہیں۔ ابن باز نے جواب دیا کہ وسیع اور زیادہ پانی والا تالاب اس وقت تک پاک رہتا ہے جب تک نجاست سے اس کا ذائقہ، رنگ یا بو نہ بدلے، لیکن انہوں نے ٹھہرے پانی میں غسل کی ممانعت کی بنیاد پر اس میں غسلِ جنابت، پیشاب اور استنجا سے منع کیا، اور ہدایت کی کہ پانی باہر نکال کر تالاب سے باہر طہارت کی جائے تاکہ وہ دوسروں کے لیے گندا نہ ہو۔

    اصل صفحہ

  • غیر مسلموں کے کمزور بچوں کو عطیہ دینے کا حکم

    ایک قاری کا ابن باز کے مجلہ الدعوۃ میں شائع شدہ سابقہ فتوے پر اعتراض، جس میں انہوں نے دنیا کے بچوں کو قومیت اور مذہب سے قطع نظر عطیہ دینے کی اجازت دی تھی بشرطیکہ ان کی ریاست دشمن نہ ہو؛ سائل کا کہنا تھا کہ یہ عطیہ اسلام کو نقصان دیتا ہے کیونکہ رقم کے بچوں تک پہنچنے کی ضمانت نہیں اور یہ مسلمانوں سے دشمنی رکھنے والی غیر مسلم ریاستوں کے اخراجات بچاتا ہے۔ ابن باز نے جواب دیا کہ مراد وہ کمزور لوگ ہیں جن سے بھلائی کی جاتی ہے، جیسے جنگوں کے نتیجے میں جمع کیے گئے بچے، جب امداد کی تقسیم کوئی معتبر شخص کرے، ایسے بے گناہ بچوں کو بچانے کے لیے جو مسلمانوں سے برسرِ جنگ لوگوں کے نہیں بلکہ مستأمن، معاہد یا صلح والے لوگوں کے بچے ہیں۔ انہوں نے استدلال کیا کہ نبی نے غیر محارب کافروں کو دینے کی اجازت دی اور اسما بنت ابی بکر کو اپنی کافر ماں کو اپنے مال سے دینے کی اجازت دی، اور سورہ ممتحنہ کی آیت کا حوالہ دیا کہ اللہ ان لوگوں سے بھلائی سے منع نہیں کرتا جنہوں نے مسلمانوں سے جنگ نہ کی۔ انہوں نے کہا کہ بچوں، عورتوں اور دیگر کمزوروں سے، چاہے وہ مشرک ہوں، جب وہ مستأمن یا معاہد ہوں یا کمزور پناہ گزین ہوں، بھلائی کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں، لیکن کمزور مسلمان ان سے زیادہ حق دار ہیں؛ اگر دونوں کے لیے گنجائش ہو تو کوئی حرج نہیں۔

    اصل صفحہ

  • خودکشی کرنے والے کا غسل اور نمازِ جنازہ

    خودکشی کرنے والے کے غسل اور نمازِ جنازہ کے بارے میں سوال، جس میں ابن باز نے کہا کہ اسے غسل دیا جائے، اس کی نماز پڑھی جائے اور مسلمانوں کے ساتھ دفن کیا جائے۔ ابن باز نے جواب دیا کہ اسے غسل اور کفن دیا جائے، اس کی نماز پڑھی جائے اور مسلمانوں کے ساتھ دفن کیا جائے، کیونکہ اپنی جان لینا گناہ ہے، کفر نہیں۔ ان کے نزدیک اچھا یہ ہے کہ حاکم، قاضی، شہر کا امیر یا کوئی صاحبِ حیثیت اس کی نماز سے رک جائے تاکہ اس فعل پر انکار ظاہر ہو اور یہ گمان نہ ہو کہ وہ اس سے راضی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود دوسرے مسلمان اس کی نماز پڑھیں۔

    اصل صفحہ

  • کیا قرآن خوانی کا ثواب میت کو پہنچتا ہے؟

    میت کو قرآن خوانی کا ثواب ہدیہ کرنے کے بارے میں سوال، جس میں ابن باز نے اختلاف ذکر کیا اور صدقہ اور دعا پر اکتفا کو بہتر قرار دیا۔ ابن باز نے کہا کہ اس مسئلے میں اختلاف ہے: اکثر اہلِ علم کے نزدیک ثواب پہنچتا ہے، جبکہ دوسروں کا کہنا ہے کہ یہ عمل نبی یا صحابہ سے منقول نہیں۔ ان کے نزدیک بہتر یہ ہے کہ اسے چھوڑ دیا جائے اور ہر شخص اپنے لیے پڑھے، اور میت کی طرف سے صدقہ اور اس کے لیے دعا مسلمانوں کے اجماع سے اسے نفع دیتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو شخص شفا کے بعد کوتاہی سے روزے چھوڑ کر فوت ہو اس کی طرف سے روزے رکھے جائیں، اور فرض یا نذر کا حج اس کی طرف سے کیا جائے، لیکن میت کی طرف سے نماز پڑھنے کی کوئی اصل نہیں۔

    اصل صفحہ

  • منی پاک ہے یا ناپاک؟

    منی کے پاک یا ناپاک ہونے اور یہ کہ خشک ہو تو کھرچنا اور تر ہو تو دھونا کافی ہے یا نہیں، کے بارے میں سوال؛ ابن باز نے جواب دیا کہ صحیح قول پر منی پاک ہے اور انسان کی اصل ہے، عائشہ کے اس قول سے استدلال کرتے ہوئے کہ نبی کبھی اسے دھوتے اور کبھی کھرچتے تھے، اور وہ خود اسے ان کے کپڑے سے خشک کھرچتی تھیں، جو اس کی پاکی پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ اگر ناپاک ہوتا تو دھونا ضروری ہوتا نہ کہ محض کھرچ کر پانی کے بغیر صاف کرنا؛ اور اس لیے کہ انسان پاک ہے، اس کی اصل مٹی پاک ہے، اور پھر منی جو اس کے بعد ہے وہ بھی پاک ہے۔

    اصل صفحہ

  • امام کو مغرب کی آخری رکعت میں پانے والے کا حکم

    ایک نمازی کا سوال جو مغرب کی نماز میں امام کو آخری رکعت میں ملا اور اس کے ساتھ آخری تشہد میں بیٹھا، کہ وہ اپنی نماز کیسے مکمل کرے؛ ابن باز نے جواب دیا کہ امام کے سلام کے بعد وہ دوسری رکعت ادا کرے، پھر اس کے بعد پہلے تشہد کے لیے بیٹھے، پھر کھڑا ہو کر تیسری رکعت فاتحہ کے ساتھ ادا کرے، پھر تشہد اور سلام کرے۔

    اصل صفحہ

  • ایک عورت اور اس کی خالہ زاد بہن کو بیک وقت نکاح میں رکھنے کا حکم

    تین بیویوں والے ایک شخص کا سوال جو چوتھی شادی ان میں سے ایک کی خالہ زاد سے دونوں عورتوں کی رضامندی سے کرنا چاہتا ہے؛ ابن باز نے جواب دیا کہ بیوی اور اس کی خالہ زاد یا پھوپھی زاد کو بیک وقت نکاح میں رکھنے میں کوئی حرج نہیں، نہ دو چچا زاد، دو ماموں زاد یا دو خالاؤں یا پھوپھیوں کی بیٹیوں کو جمع کرنے میں، اور جو ممنوع ہے وہ سورہ نساء کی نص سے دو بہنوں کو جمع کرنا ہے، اور عورت کو اس کی پھوپھی یا خالہ یا اس کے بھائی یا بہن کی بیٹی کے ساتھ جمع کرنا، کیونکہ نبی نے اس سے منع کیا کہ چھوٹی کا بڑی پر یا بڑی کا چھوٹی پر نکاح نہ کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ممانعت دور کی پھوپھی اور خالہ کو بھی شامل ہے: عورت کو اس کے باپ یا ماں کی پھوپھی یا اس کے دادا یا دادی کی پھوپھی کے ساتھ جمع نہیں کیا جا سکتا، نہ اس کی ماں، باپ یا دادی کی خالہ کے ساتھ، کیونکہ باپ اور ماں کی خالہ اس کی اپنی خالہ شمار ہوتی ہے۔

    اصل صفحہ

  • بوڑھی بیوہ کا سوگ اور مشکل سے اترنے والا زیور

    اس سوال کا جواب کہ کیا سوگ بوڑھی بیوہ پر بھی ہے اور مشکل سے اترنے والا زیور اتارا جائے، جس میں ابن باز نے کہا کہ سوگ سب پر ہے اور زیور اتارا جائے گا۔ ابن باز نے جواب دیا کہ سوگ جوان اور عمر رسیدہ دونوں پر ہے، اور اس بیوی پر بھی جس کی رخصتی ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو۔ انہوں نے بیوہ اور مطلقہ میں فرق کیا: جس عورت کا شوہر نکاح کے بعد رخصتی سے پہلے فوت ہو جائے اس پر عدت اور سوگ ہے اور وہ وارث ہے، جبکہ رخصتی سے پہلے طلاق پانے والی پر عدت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ زیور اتارا جائے، اور اگر کنگن کلائی پر تنگ ہو گیا ہو تو اسے کاٹ کر نکالا جائے، باقی نہ رکھا جائے۔

    اصل صفحہ

  • نمازِ جنازہ میں دعائے استفتاح کا حکم

    میت پر نماز میں دعائے استفتاح کے واجب ہونے کے بارے میں سوال، جس میں ابن باز نے جواب دیا کہ نمازِ جنازہ ایک ہلکی نماز ہے، اور علما نے کہا ہے کہ اس میں استفتاح نہیں: نمازی تعوذ اور بسم اللہ سے شروع کر کے فاتحہ پڑھتا ہے، کیونکہ یہ ایسی نماز ہے جس میں میت کو جلد لے جانا مطلوب ہے، لہٰذا بہتر یہ ہے کہ اس میں استفتاح نہ ہو، اور اہلِ علم کے نزدیک یہی منصوص ہے۔ انہوں نے ذکر کیا کہ بعض اہلِ علم اس میں استفتاح کے قائل ہیں، لیکن ان کے نزدیک قریب تر یہ ہے کہ نہ ہو، کیونکہ یہ ہلکی نماز ہے جس میں نہ رکوع ہے نہ سجود۔

    اصل صفحہ

  • معتکف کا مریض کی عیادت کرنا اور جنازے میں شریک ہونا

    اس بارے میں سوال کہ کیا معتکف مریض کی عیادت کر سکتا اور جنازے میں شریک ہو سکتا ہے، جبکہ بعض علما نے کہا کہ یہ صرف اس صورت میں جائز ہے جب اس نے اعتکاف سے پہلے اس کی شرط لگائی ہو؛ ابن باز نے جواب دیا کہ اگر مریض مسجد میں ہو تو اس کی عیادت میں کوئی حرج نہیں، اور اسی طرح مسجد میں نمازِ جنازہ پڑھنے میں، ورنہ وہ نہ جائے، کیونکہ معتکف کے لیے سنت یہ ہے کہ وہ مریض کی عیادت نہ کرے اور جنازے میں شریک نہ ہو سوائے اس کے کہ یہ اس کی مسجد میں ہو۔

    اصل صفحہ

  • صاف کیے گئے سیوریج کے پانی کا حکم

    ایک ہسپتال کا ملازم، جس کے باغات صاف کیے گئے سیوریج کے پانی سے سیراب ہوتے ہیں، اس کے چھینٹوں اور اس سے سیراب درختوں کے پھلوں کے بارے میں پوچھتا ہے۔ ابن باز نے جواب دیا کہ جب اسے پوری طرح صاف کر لیا جائے یہاں تک کہ نجاست کا رنگ، ذائقہ اور بو ختم ہو جائے تو وہ پاک کے حکم میں ہے، اس کے چھینٹے نقصان نہیں دیتے اور اس سے سیراب پھل درست ہیں؛ لیکن اگر نجاست کے آثار باقی ہوں تو اسے آبپاشی یا کسی اور کام میں استعمال نہ کیا جائے اور ایسی جگہ بہا دیا جائے جہاں کسی کو تکلیف نہ ہو۔

    اصل صفحہ

  • نمازِ جنازہ دوبارہ پڑھنا

    نمازِ جنازہ دوبارہ پڑھنے کے بارے میں سوال، جس میں ابن باز نے کہا کہ اگر کوئی جماعت میت کی نماز پڑھ رہی ہو اور آدمی ساتھ مل جائے تو حرج نہیں۔ ابن باز نے جواب دیا کہ جس نے میت کی نماز پڑھ لی ہو پھر قبر کے پاس کچھ لوگوں کو اس کی نماز پڑھتے پائے اور ان کے ساتھ پڑھ لے تو کوئی حرج نہیں۔ انہوں نے اسے فرض نماز دہرانے پر قیاس کیا، جیسے کوئی نماز پڑھ کر کسی ضرورت یا درس کے لیے دوسری مسجد آئے اور لوگ نماز پڑھ رہے ہوں تو ان کے ساتھ پڑھ لے۔ انہوں نے کہا کہ شرعی سبب سے دہرانا درست ہے۔

    اصل صفحہ

  • یہ کہنا کہ 'اللہ کے بعد تم نے میری مدد کی' کا حکم

    اس بارے میں سوال کہ کیا کسی شخص سے یہ کہنا جائز ہے کہ 'اللہ کے بعد تم ہی نے فلاں کام میں میری مدد کی'، جس میں ابن باز نے جواب دیا کہ اس میں کوئی حرج نہیں، نہ یہ کہنے میں کہ 'اگر اللہ نہ ہوتا پھر تم'، 'یہ اللہ کی طرف سے ہے پھر تمہاری طرف سے'، یا 'تم نے اللہ کے بعد فلاں کام میں میری مدد کی'؛ جو جائز نہیں وہ 'اور' کے ساتھ ملانا ہے، جیسے 'اگر اللہ اور تم نہ ہوتے'، 'یہ اللہ اور تمہاری طرف سے ہے'، یا 'جو اللہ چاہے اور تم'، کیونکہ یہی 'اور' ناجائز ہے، جبکہ 'پھر' اور 'بعد' میں کوئی حرج نہیں۔

    اصل صفحہ

  • استاد کے داخل ہونے پر طلبہ کے کھڑے ہونے کا حکم

    ایک مڈل اسکول استاد کا سوال جس کے شاگرد اس کے کلاس میں داخل ہونے پر بغیر اس کے کہنے کے احتراماً کھڑے ہو جاتے ہیں، جو اسے ناپسند ہے؛ ابن باز نے جواب دیا کہ داخل ہونے والے کے لیے تعظیماً کھڑا ہونا ان چیزوں میں سے ہے جن سے سنت میں منع آیا ہے: صحابہ نبی کے لیے کھڑے نہیں ہوتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ انہیں یہ ناپسند ہے، اور نبی نے فرمایا کہ جو چاہے کہ لوگ اس کے لیے کھڑے ہوں وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے؛ لہٰذا طلبہ پر لازم ہے کہ کھڑے نہ ہوں بلکہ اپنی جگہ رہیں اور اسے سلام کریں، اس کھڑے ہونے کا کم سے کم درجہ سخت کراہت ہے، اور استاد کے لیے جائز نہیں کہ اسے پسند کرے یا اس کا حکم دے، بلکہ اسے صدق سے انہیں نصیحت اور منع کرنا چاہیے، کیونکہ جب وہ دیکھیں گے کہ وہ سچا ہے تو بیٹھ جائیں گے؛ وزارتِ تعلیم اور تعلیم کی جنرل پریزیڈنسی کو لڑکوں اور لڑکیوں کے اسکولوں میں اس کی ہدایت کرنی چاہیے۔ انہوں نے اس میں اور آنے والے سے ملنے اور مصافحہ کرنے، اسے اپنی جگہ بٹھانے یا اس کے ساتھ چلنے کے لیے کھڑے ہونے میں فرق کیا، جو بلا مضائقہ ہے، طلحہ بن عبید اللہ کے کعب بن مالک کی طرف کھڑے ہونے سے جب اللہ نے نبی کی موجودگی میں ان کی توبہ قبول کی، نبی کے انصار سے فرمان 'اپنے سردار کے لیے کھڑے ہو جاؤ' سے جب سعد بن معاذ آئے، اور فاطمہ کے اپنے والد کے لیے اور ان کے فاطمہ کے لیے کھڑے ہونے سے استدلال کرتے ہوئے۔ جو کہتے ہیں کہ کھڑا ہونا طلبہ کو متوجہ کرنے کے لیے ہے انہیں جواب دیا کہ یہ شیطانی بہانہ ہے کیونکہ اس کا سلام انہیں متوجہ کرتا ہے، اور جس کا افسر کھڑے نہ ہونے پر ناراض ہو اسے مشورہ دیا کہ اسے سمجھائے کہ یہ جائز نہیں اور رسول نے اسے ناپسند کیا۔

    اصل صفحہ

  • سائنسی طریقوں سے صاف کیے گئے ناپاک پانی کا حکم

    اس ناپاک پانی کے بارے میں سوال جسے دوبارہ صاف کیا جائے یہاں تک کہ اس کی بو، رنگ اور ذائقہ قدرتی پانی جیسا ہو جائے۔ ابن باز نے کم اور زیادہ پانی میں فرق کیا: زیادہ پانی، دو قلے یا اس سے زیادہ، جب علاج سے یا بغیر علاج کے اس کی تبدیلی ختم ہو جائے تو پھر پاک کرنے والا ہو جاتا ہے؛ دو قلے سے کم میں اختلاف ہے؛ اور بہت تھوڑا پانی محض نجاست کے اوصاف ختم ہونے سے پاک نہیں ہوتا، اور اس پر اس برتن کو انڈیل دینے کے حکم سے استدلال کیا جس سے کتا پی لے۔

    اصل صفحہ

  • شوہر کے بچوں کو تادیب کرتے وقت بیوی کے مداخلت کرنے کا حکم

    شوہر کے اپنے بچوں کو تادیب کرنے پر بیوی کے اس سے بات کرنے کے حق کے بارے میں سوال، جس میں ابن باز نے جواب دیا کہ اگر شوہر تادیب میں حد سے بڑھے اور اس میں بصیرت نہ رکھتا ہو تو بیوی کے مداخلت کرنے میں کوئی حرج نہیں، لیکن حکمت اور اچھے انداز سے، نہ سختی اور درشتی سے اور نہ ایسے طریقے سے جو اس کے الگ ہونے یا گالی دینے کا سبب بنے؛ بہتر یہ ہے کہ اس کی مداخلت بچوں کی موجودگی کے بغیر کسی اور وقت نصیحت اور نیکی میں تعاون کے طور پر ہو، سوائے اس کے کہ معاملہ اتنا بڑا ہو کہ برداشت نہ ہو سکے تو وہ ان کی موجودگی میں مداخلت کر سکتی ہے۔ لیکن جب تادیب درست اور مناسب ہو اور حدود سے نہ بڑھے تو اسے مداخلت نہیں کرنی چاہیے کیونکہ یہ بچوں کو اس کے خلاف کر دیتی ہے؛ بلکہ وہ اس کی مدد کرے، اس کے لیے دعا کرے اور اسے بچوں کے سامنے اور ان کی غیر موجودگی میں حوصلہ دے۔

    اصل صفحہ

  • عورتوں کا نمازِ جنازہ پڑھنا اور جنازے کے ساتھ جانا

    عورتوں کے جنازوں میں شریک ہونے کے بارے میں سوال، جس میں ابن باز نے میت کی نماز اور قبرستان تک جنازے کے ساتھ جانے میں فرق کیا۔ ابن باز نے جواب دیا کہ عورت لوگوں کے ساتھ میت کی نماز پڑھے تو کوئی حرج نہیں، اور ذکر کیا کہ عورتوں نے نبی کی نمازِ جنازہ پڑھی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے لیے ممنوع یہ ہے کہ میت کے ساتھ قبرستان جائیں اور قبروں کی زیارت کریں۔ انہوں نے لوگوں کے ساتھ ان کی نمازِ جنازہ کو مشروع قرار دیا۔

    اصل صفحہ

  • رکوع سے اٹھنے کے بعد کیا کہا جائے

    رکوع سے اٹھنے کے بعد افضل ذکر کے بارے میں سوال۔ ابن باز نے جواب دیا کہ چاروں الفاظ منقول ہیں: «ربنا لک الحمد»، «ربنا ولک الحمد»، «اللہم ربنا لک الحمد» اور «اللہم ربنا ولک الحمد»؛ ان میں باری باری پڑھنا اچھا ہے، اور امام اور اکیلے نمازی دونوں کے لیے اس میں گنجائش ہے۔

    اصل صفحہ

اسلام ویب کا مرکزِ فتویٰ (islamweb.net) 14 فتاویٰ

  • مختلف کانفرنسوں کے شرکا کے لیے ہوٹل کے کمرے بک کرنے کے کام کا حکم

    ایک کمپنی کے انتظامی ملازم کا سوال جس کا کام مختلف ملکوں میں ہونے والی کانفرنسوں کی تلاش اور شرکا کے لیے کم قیمت ہوٹل تلاش کر کے معلومات اپنے افسر کو بھیجنا ہے؛ بعض کانفرنسیں حرام امور سے متعلق ہو سکتی ہیں جیسے شراب کمپنیوں کی کانفرنسیں یا فیشن شو، اور بعض ہوٹلوں میں کسینو یا بار ہیں، گو وہ صرف کمرے بک کرتا ہے۔ اسلام ویب کے فتویٰ مرکز نے جواب دیا کہ ہوٹلوں کی قیمتیں تلاش کرنا اور کانفرنس کے شرکا کے لیے کمرے بک کرنا مباح کام ہے، کیونکہ یہ مباح منفعت یعنی رہائش کے کرائے پر دلالت اور واسطہ ہے، لہٰذا اس کی تنخواہ حلال ہے؛ لیکن جہاں معلوم ہو یا غالب گمان ہو کہ کانفرنس کا موضوع حرام ہے، وہاں اس کے شرکا کے لیے ہوٹل بک کرنا حرام میں سہولت اور تعاون ہے جس سے سورہ مائدہ کی آیت میں منع کیا گیا؛ جن کانفرنسوں کا موضوع مباح ہو یا معلوم نہ ہو ان کے شرکا کے لیے بکنگ میں کوئی حرج نہیں اور تحقیق لازم نہیں، اور ان ہوٹلوں میں منکرات کا ہونا بھی رکاوٹ نہیں کیونکہ عقد رہائش کی منفعت پر ہے۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ حرام کانفرنسوں میں تعاون سے بچتے ہوئے کام جاری رکھ سکتا ہے، اور اگر منیجر اسے ایسی کانفرنس کی بکنگ کا حکم دے جس کی حرمت اسے معلوم یا غالب گمان ہو تو وہ معذرت کرے کیونکہ خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں؛ اس کی تنخواہ حرام نہیں قرار دی جائے گی جب تک اس کا زیادہ تر کام مباح ہو، اور احتیاط یہ ہے کہ وہ تنخواہ کا اتنا حصہ صدقہ کرے جو ماضی میں حرام کانفرنسوں کی بکنگ پر گزرے وقت کے برابر ہو تاکہ ذمہ بری ہو۔

    اصل صفحہ

  • سودی کریڈٹ کارڈ کے استعمال پر ملنے والے کیش بیک کا حکم

    مغربی ملک میں رہنے والے ایک انجینئر کا سوال جس نے اپنا کریڈٹ سکور بڑھانے کے لیے امریکن ایکسپریس کا کریڈٹ کارڈ لیا، یہ جاننے سے پہلے کہ تاخیر پر سودی جرمانوں کی وجہ سے اس کے معاہدے پر دستخط کرنا ناجائز ہے؛ اس نے ہمیشہ وقت پر ادائیگی کی، حکم جاننے پر کارڈ کا استعمال چھوڑ دیا، اور پھر کمپنی نے سابقہ استعمال پر اسے کیش بیک انعام دیا۔ اسلام ویب کے فتویٰ مرکز نے جواب دیا کہ وہ اس کیش بیک سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا، کیونکہ جاری کرنے والا بینک اسے حرام کارڈ کے استعمال کی وجہ سے دیتا ہے، لہٰذا یہ فاسد معاہداتی تعلق سے جڑا مشروط انعام ہے نہ کہ مطلق ہبہ، اور اسی حرمت کا حکم لیتا ہے؛ حرام منافع کا معاوضہ لینا جائز نہیں۔ اس نے قرافی کی الذخیرہ سے نقل کیا کہ حرام منافع کا معاوضہ نہیں لیا جاتا، اور ابن عقیل کی کتاب الفنون سے کہ احمد کا مذہب ہر حرام چیز کے معاوضے کی حرمت ہے، اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے کہ اللہ جب کسی چیز کو حرام کرتا ہے تو اس کی قیمت بھی حرام کرتا ہے۔ اس نے لازم کیا کہ اس رقم کو مسلمانوں کے مفادات میں خرچ کر کے اور فقرا و مساکین کو دے کر اس سے خلاصی حاصل کی جائے، اور کہا کہ کارڈ رکھنا اور استعمال کرنا جائز نہیں سوائے اس صورت کے کہ اسے اس کی ضرورت ہو اور شرعی محذورات سے خالی کوئی متبادل نہ ملے۔

    اصل صفحہ

  • نکاح میں دف کے ساتھ خوشی کا اظہار، تکلف اور اسراف کے بغیر

    ایک منگیتر کا سوال جس کی منگیتر ہال میں دف اور نظموں کے ساتھ بغیر آلاتِ موسیقی ایک شرعی، غیر مخلوط شادی چاہتی ہے، جہاں عورتوں کی شادیوں میں رواج یہ ہے کہ ساتر لباس کی پابندی نہیں ہوتی اور غیبت عام ہے؛ اس نے پوچھا کہ اگر وہ مہمانوں کو لباس اور غیبت کے بارے میں متنبہ کریں تو ان خلاف ورزیوں کا بوجھ کس پر ہوگا، اور ڈرا کہ تقریب پر خرچ اللہ کے دیے ہوئے رزق کا بے جا استعمال ہو۔ اسلام ویب کے فتویٰ مرکز نے جواب دیا کہ ہال میں تقریب منعقد کرنے میں کوئی حرج نہیں اور کچھ لہو اور دف بجانے میں کوئی مضائقہ نہیں، حدیث 'اس نکاح کا اعلان کرو' سے، اس حدیث سے کہ حلال اور حرام کے درمیان فرق نکاح میں دف اور آواز ہے، شادی میں لہو کی اجازت کے اثر سے، عائشہ کی حدیث 'کیا تمہارے ساتھ لہو نہ تھا، کیونکہ انصار کو لہو پسند ہے' سے، اور احمد کے اس قول سے جو ابن قدامہ نے نقل کیا کہ نکاح کو ظاہر کرنا اور اس پر دف بجانا مستحب ہے اور شادی میں شاعری میں کوئی حرج نہیں۔ اس نے فیصلہ کیا کہ جو غیبت یا خلاف ورزیاں کریں ان کے فعل سے سائل پر کچھ نہیں اگر وہ اس پر راضی نہ ہو اور انہیں متنبہ اور منع کرے، ابن تیمیہ کے اس کلام کو نقل کرتے ہوئے جو گزرتے ہوئے منکر سننے والے اور بغیر انکار بیٹھ کر سننے والے کے فرق کے بارے میں ہے، اور اس قول کو کہ جو گناہ دیکھے اور اسے ناپسند کرے وہ غائب رہنے والے جیسا ہے۔ اس نے تکلف، اسراف اور زیادتی سے بچنے کی نصیحت کی، تبذیر اور اسراف کی آیات، عمر کے الفاظ 'ہمیں تکلف سے منع کیا گیا' اور سلمان کی مہمان کے لیے تکلف سے ممانعت کی حدیث سے، اور قرض تک لے جانے والے اخراجات کم کرنے کی۔

    اصل صفحہ

  • کرنسی کے تبادلے میں ادائیگی مؤخر کرنا

    یہ سوال کہ کیا صراف تبادلے کے بعد رقم دینا مؤخر کر سکتا ہے۔ اسلام ویب کے مرکزِ فتویٰ نے جواب دیا کہ ایک کرنسی دوسری کے بدلے بیچتے وقت اسی مجلس میں دونوں طرف سے قبضہ ضروری ہے، اور صحیح مسلم کی «ہاتھوں ہاتھ» والی حدیث سے استدلال کیا؛ دونوں عوض یا ان میں سے کسی ایک یا اس کے کچھ حصے کا قبضہ مجلس سے مؤخر کرنا جائز نہیں کیونکہ یہ ربا النسیئہ کی ایک صورت ہے، اور ربا النسیئہ اور ربا الفضل پر دوسرے فتاویٰ کا حوالہ دیا۔

    اصل صفحہ

  • خواب میں خود کو اللہ کی شان میں گستاخی کرتے دیکھنا

    ایک نمازی سائل نے، ایک فون کال میں کسی کو ایسا کرتے سننے کے چند دن بعد، خواب دیکھا کہ وہ رب کو برا بھلا کہہ رہا ہے، اور اس کا حکم پوچھتا ہے۔ اسلام ویب کے مرکزِ فتویٰ نے جواب دیا کہ خواب میں جو کچھ وہ کہتا یا کرتا دیکھے اس پر مؤاخذہ نہیں، کیونکہ سویا ہوا شخص جاگنے تک مکلف نہیں، اور اس پر اس حدیث سے استدلال کیا کہ تین افراد سے قلم اٹھا لیا گیا ہے۔

    اصل صفحہ

  • میت کا بیٹا سمجھ کر وراثت کے لیے گواہی دینا، پھر معلوم ہونا کہ وہ بیٹا نہیں تھا

    ایک شخص کا سوال جس نے قاضی کے سامنے گواہی دی کہ فلاں شخص ایک متوفی کا بیٹا ہے تاکہ وہ وارث بنے، جبکہ وہ شخص دراصل منہ بولا بیٹا تھا جو خاندانی رجسٹر میں بیٹے کے طور پر درج تھا کیونکہ متوفی کی اولاد نہیں ہوتی تھی؛ سائل پہلے اسے حقیقی بیٹا سمجھتا تھا، پھر نادم ہوا اور پوچھا کہ کیا یہ جھوٹی گواہی ہے اور کیا اس پر کفارہ ہے۔ اسلام ویب کے فتویٰ مرکز نے جواب دیا کہ جھوٹی گواہی حق کے خلاف گواہی ہے اور صحیح بخاری میں ابو بکرہ کی حدیث کی بنا پر بڑے گناہوں میں سب سے بڑے گناہوں میں سے ہے، اور ابن حجر کے نزدیک جھوٹ کا ضابطہ کسی چیز کو اس کے خلاف بیان کرنا ہے جو وہ ہے؛ لہٰذا اگر اس نے گواہی کے وقت اپنے علم کے خلاف گواہی دی تو اس نے جھوٹی گواہی دی، اور اسے فوراً توبہ اور استغفار کرنا چاہیے، اور اس کی توبہ کی تکمیل یہ ہے کہ وہ اس عدالت میں جائے جہاں گواہی دی اور اپنی گواہی کے باطل ہونے اور یہ کہ جس کے لیے گواہی دی اس کا متوفی سے کوئی نسبی رشتہ نہیں، صراحت کرے، جیسا کہ الاقناع فی حل الفاظ ابی شجاع میں ہے کہ قولی گناہ سے توبہ قول سے ہوتی ہے، جھوٹی گواہی میں کہے 'میری گواہی باطل ہے اور میں اس پر نادم ہوں'، انسان کے ناحق لیے گئے حق کی واپسی کے ساتھ؛ اور یہ کہ اس گواہی کے بہت سے نقصان دہ نتائج ہو سکتے ہیں، کیونکہ وہ شخص دوسرے کا مال وراثت میں لے گا اور ایک خاص خاندان سے منسوب ہوگا، لہٰذا وہ جو خراب کیا اسے درست کرنے میں جلدی کرے۔

    اصل صفحہ

  • مغرب میں امام کے ساتھ آخری رکعت پانے والا کیا کرے

    اس شخص کے بارے میں سوال جس نے مغرب کی آخری رکعت امام کے ساتھ پڑھی۔ اسلام ویب کے مرکزِ فتویٰ نے جواب دیا کہ اگر اس نے رکوع پا لیا تو ایک رکعت پا لی اور دو باقی ہیں؛ اگر تیسرے رکوع کے بعد سجدے یا آخری تشہد میں شامل ہوا تو امام کے ساتھ پوری کرے پھر سلام کے بعد تین رکعتیں پڑھے؛ قضا کی ہیئت ادا سے مختلف ہونے میں حرج نہیں، اور اسے جماعت کا ثواب ملے گا اگرچہ شروع سے شامل ہونے والے سے کم۔

    اصل صفحہ

  • طبی ٹیسٹ کی علامات کی وجہ سے دو نمازیں جمع کرنے کا جواز

    ایک مریض کا سوال جو چھوٹی آنت میں بیکٹیریا کی زیادتی کا ٹیسٹ کروانا چاہتا ہے جس میں شکر کا محلول پلایا جاتا ہے جو گھنٹوں یا پورے دن کے لیے اسہال، مروڑ اور گیس کا سبب بن سکتا ہے؛ اس نے پوچھا کہ کیا نبی کا دو نمازوں کو حقیقی طور پر جمع کرنا ثابت ہے اور کیا وہ ان علامات کی وجہ سے جمع کر سکتا ہے۔ اسلام ویب کے فتویٰ مرکز نے جواب دیا کہ صحیح مسلم میں ابن عباس سے ثابت ہے کہ نبی نے مدینہ میں بغیر خوف اور بارش کے ظہر و عصر اور مغرب و عشا کو جمع کیا تاکہ اپنی امت کو تنگی میں نہ ڈالیں؛ بعض علما نے اسے صوری جمع قرار دیا، لیکن محققین کی ایک جماعت نے اسے بیماری یا حاجت کے لیے حقیقی جمع مانا، جیسا کہ نووی نے احمد، قاضی حسین، خطابی، متولی اور رویانی سے نقل کیا، اور اماموں کے ایک گروہ نے حاجت پر حضر میں جمع کی اجازت دی اس کے لیے جو اسے عادت نہ بنائے۔ اس نے فیصلہ کیا کہ سائل ظہر و عصر اور مغرب و عشا کو اپنی حالت کے لیے آسان صورت میں تقدیم یا تاخیر سے جمع کر سکتا ہے، تاکہ شدید اسہال، بار بار گیس اور ہر نماز کے لیے استبرا اور وضو کی مشقت دور ہو؛ علاج اور طبی ٹیسٹ مشروع ہیں اور اس پر ٹیسٹ چھوڑنا لازم نہیں؛ اور اگر علامات دونوں نمازوں کے پورے وقت جاری رہیں تو اس کا حکم دائمی معذوروں کا ہے جیسے پیشاب کے قطروں والا، لہٰذا وہ طہارت اور وضو کر کے دونوں نمازیں جمع کر کے پڑھے اور جو کچھ نکلے اس سے اسے نقصان نہیں، بہوتی کی کشاف القناع سے مستحاضہ اور اس جیسے معذوروں کے لیے حمنہ کی حدیث کی بنا پر جمع کی اجازت نقل کرتے ہوئے۔

    اصل صفحہ

  • مرد ڈاکٹر کے خواتین کا معائنہ کرنے اور چھونے کے ضوابط

    ایسے طبی پیشے میں کام کرنے کے بارے میں سوال جس میں تشخیص کی غرض سے بغیر شہوت عورتوں کو چھونا پڑتا ہے، جہاں خواتین عملہ موجود ہے لیکن ڈاکٹر مغربی ملک میں قانون کی وجہ سے یا مسلم ملک میں شرمندگی اور مشقت کی وجہ سے مریضاؤں کی تشخیص سے انکار نہیں کر سکتا؛ اسلام ویب کے فتویٰ مرکز نے جواب دیا کہ اصل یہ ہے کہ عورت کا علاج عورت اور مرد کا علاج مرد کرے، اس اصل سے صرف ضرورت یا حاجت کی بنا پر نکلا جا سکتا ہے، اور ہمیشہ ہلاکت کا خوف شرط نہیں بلکہ معمول کی طبی حاجت کافی ہے، کیونکہ علاج میں دیکھنے اور چھونے کی حرمت ذرائع کی حرمت ہے جو سدِّ ذریعہ کے لیے ہے، اور جو اس طرح حرام ہو وہ راجح مصلحت کے لیے مباح ہو جاتا ہے۔ اس نے یہ ابن تیمیہ کی مجموع الفتاویٰ اور ابن القیم کی روضۃ المحبین سے نقل کیا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ اگر سائل کو اس کام کی ضرورت ہے اور ہسپتال کے نظام کی وجہ سے مریضہ کو خاتون ڈاکٹر کے پاس بھیجنا ممکن نہیں، یا انکار سے اسے نقصان پہنچے، تو عورتوں کا معائنہ کرنے میں اس پر کوئی حرج نہیں، ان ضوابط کے ساتھ: معائنے اور چھونے کے دوران پردہ استعمال کرنا، جلد کو براہِ راست نہ چھونا جب تک پردے کے ساتھ تشخیص ناممکن نہ ہو، دیکھنے اور چھونے کو تشخیص کی ضرورت کی جگہ تک محدود رکھنا، اور حرام خلوت سے بچنا؛ اس نے بہوتی کی کشاف القناع سے نقل کیا کہ طبیب حاجت کے مطابق دیکھ اور چھو سکتا ہے، محرم یا شوہر کی موجودگی میں۔

    اصل صفحہ

  • انسانوں پر طبی تجربات کا حکم

    یہ سوال کہ کیا انسانوں پر طبی تجربات جائز ہیں اور ان کی حدود کیا ہیں۔ اسلام ویب کے مرکزِ فتویٰ کے جواب میں میت کی چیر پھاڑ (پوسٹ مارٹم) پر بات کی گئی: مسلمان کی حرمت موت کے بعد بھی باقی رہتی ہے اور اس کا حق غسل، کفن، نمازِ جنازہ اور تدفین ہے؛ چیر پھاڑ صرف معتبر مصلحت یا ضرورت کے لیے اور اسی کے بقدر جائز ہے؛ اور قدیم فقہاء سے نظائر ذکر کیے، جن میں حنفیہ، شافعیہ اور ان کے موافقین کا یہ قول ہے کہ مردہ عورت کا پیٹ چاک کر کے ایسا بچہ نکالا جا سکتا ہے جس کے زندہ ہونے کی امید ہو۔

    اصل صفحہ

  • سننِ مؤکدہ کی پابندی کی فضیلت

    سننِ رواتب کی فضیلت کے بارے میں سوال۔ اسلام ویب کے مرکزِ فتویٰ نے جواب دیا کہ ان کی بڑی فضیلت ہے، اور صحیح مسلم میں ام حبیبہ کی حدیث ذکر کی کہ جو روزانہ بارہ نفل رکعتیں پڑھے اس کے لیے جنت میں گھر بنایا جاتا ہے، اور ترمذی کی روایت جو ان کی تفصیل دیتی ہے: ظہر سے پہلے چار اور بعد دو، مغرب کے بعد دو، عشاء کے بعد دو اور فجر سے پہلے دو، پھر بعض کی خاص فضیلت میں وارد روایات ذکر کیں۔

    اصل صفحہ

  • نوکری ملنے پر صدقے کا وعدہ: کیا یہ نذر ہے، اور شک کی صورت میں کیا حکم ہے؟

    ایک شخص کا سوال جس نے سخت پریشانی میں اللہ سے دعا کی اور وعدہ کیا کہ اگر وہ نوکری میں قبول ہوا تو اپنی تنخواہ کا بیس فیصد صدقہ کرے گا اور تنخواہ بڑھنے پر حصہ بڑھاتا جائے گا؛ اسے یقین نہیں کہ اس نے لفظ نذر کہا یا نہیں، وہ قبول ہوا، تقریباً تین سال تک اپنا کہا بھول گیا جبکہ ماہانہ صدقہ جاری رکھا، پھر ڈرا کہ شاید یہ نذر تھی اور اللہ سے وعدہ خلافی کی آیت سے خوفزدہ ہوا۔ اسلام ویب کے فتویٰ مرکز نے جواب دیا کہ یہ کہنا کہ 'اے رب، میں وعدہ کرتا ہوں کہ اگر مجھے کام ملا تو اتنا صدقہ کروں گا' بذاتِ خود نذر نہیں، کیونکہ نذر صرف ایسے لفظ سے منعقد ہوتی ہے جو التزام ظاہر کرے، اور محض وعدہ تب نذر بنتا ہے جب اس کے ساتھ نیت ہو، اس صورت میں یہ کنایہ ہے اور صحیح قول پر نذر کنایے سے منعقد ہوتی ہے، خطیب شربینی کی مغنی المحتاج اور رملی کی نہایۃ المحتاج سے نقل کرتے ہوئے۔ اس نے فیصلہ کیا کہ جہاں اسے شک ہو کہ اس نے لفظ نذر کہا یا وعدے کے وقت نیت تھی، وہاں اصل عدم ہے لہٰذا اس پر کچھ لازم نہیں، استصحابِ اصل اور براءتِ ذمہ کے اس قاعدے کی بنا پر جو عز بن عبد السلام نے قواعد الاحکام میں بیان کیا؛ اگر اسے پختہ یقین ہو جائے کہ اس نے صریح لفظ سے یا نیت کے ساتھ کنایے سے نذر مانی تو اس پر اسے پورا کرنا لازم ہے، نذر پوری کرنے کی نیت سے جو صدقہ دیا وہ شمار ہوگا اور باقی مکمل کرے، کیونکہ نذر کو پورا کرنا واجب ہے اور مکمل عاجزی کے سوا اس سے نکلنا جائز نہیں، اس حدیث کی بنا پر کہ جو اللہ کی اطاعت کی نذر مانے وہ اس کی اطاعت کرے۔

    اصل صفحہ

  • شوہر کے کہنے پر بیچا گیا بیوی کا سونا: وزن سے واپس ملے یا قیمت سے؟

    ایک بیوی کا سوال جس کا دیناروں میں مقرر مہر اس کے ملک کے عرف کے مطابق اس کے لیے سونا خریدنے پر خرچ ہوا؛ بعد میں شوہر نے کسی ضرورت کے لیے اس کا کچھ حصہ بیچنے کو کہا اور واپس کرنے کا وعدہ کیا، اور باقی سونا اس نے اپنی مرضی سے گھر کی تعمیر مکمل کرنے کے لیے اس شرط پر بیچا کہ شوہر وہ بھی واپس کرے گا؛ سونے کی قیمت برسوں میں کئی گنا بڑھ گئی، تو اس نے پوچھا کہ وہ مہر کی قیمت دیناروں میں واپس لے یا سونے کی قیمت، کیا منگنی کا تحفہ مہر میں شمار ہوگا، اور کیا شوہر پر اس کے علاج کا خرچ لازم ہے۔ اسلام ویب کے فتویٰ مرکز نے جواب دیا کہ اگر شوہر نے اس سے خود سونا قرض لیا اور پھر اسے بیچنے کو کہا تو یہ اس کے ذمے قرض ہے جس کی مثل واپس کرنا لازم ہے نہ کہ قیمت، قیمت کے بدلنے سے قطع نظر، کیونکہ قرض مثل سے ادا ہوتے ہیں جیسا کہ اسلامی فقہ اکیڈمی نے 1988 میں کویت میں قرارداد دی، سوائے اس کے کہ دونوں قیمت کی ادائیگی پر راضی ہوں تو ابن عمر کی حدیث کے مطابق ادائیگی کے دن کی قیمت لگائی جائے گی؛ جن دیناروں میں مہر مقرر ہوا ان کا کوئی تعلق نہیں کیونکہ وہ سونے سے بدلے گئے جو اس کی ملکیت بن گیا۔ لیکن اگر اس نے خود سونا بیچ کر نقد رقم قرض دی تو قرض وہ نقد رقم ہے، سونے کی قیمت کا لحاظ نہیں، جیسا کہ فقہی انسائیکلوپیڈیا میں ہے۔ رہا منگنی کا تحفہ، تو خواہ اسے مہر کا حصہ سمجھا جائے یا الگ ہبہ، عقد اور رخصتی کی تکمیل سے وہ بیوی کی خالص ملکیت ہے، اور اگر شوہر کی ضرورت کے لیے واپسی کے وعدے پر بیچا گیا تو باقی سونے کی طرح قرض ہے۔ شوہر کے بیوی کے علاج کا خرچ اٹھانے میں مرکز نے اختلاف کا ذکر کیا اور ایک سابقہ فتوے کا حوالہ دیا جس میں کہا تھا کہ اس دور میں اس کے وجوب کا قول وزنی ہے۔

    اصل صفحہ

  • چہرے کے بالوں کی قسمیں، کون سے داڑھی میں شامل ہیں اور انہیں کم کرنے کے احکام

    ایک نوجوان کا سوال جس کی داڑھی ابھی پوری نہیں آئی اور صرف قلموں کے بال نکلے ہیں جو کان کے نیچے ایک دو انچ تک جاتے ہیں، کہ کیا یہ بال داڑھی میں شمار ہیں اور ان پر اس کے احکام جاری ہیں، اور بے ترتیب حلیے کی وجہ سے وہ کتنا کم کر سکتا ہے؛ اسلام ویب کے فتویٰ مرکز نے بالوں کی قسموں کی تفصیل سے جواب دیا: کان کے اوپری سرے کے برابر کنپٹی کے بال سر کے بالوں میں سے ہیں نہ کہ داڑھی میں، لہٰذا انہیں مونڈنے یا کاٹنے میں کوئی حرج نہیں، جبکہ کان کے سوراخ کے برابر بال اور اس کے نیچے رخسار کے بال داڑھی میں سے ہیں، بہوتی کی چہرے، عذار، عارض اور کنپٹی کی حد کی تعریف اور ابن حجر ہیتمی کے التحفہ میں اس قول کے حوالے سے کہ جو کنپٹی سے داڑھی کی طرف اترے وہ عارض ہے جس کا حکم داڑھی کا ہے، اور داڑھی ٹھوڑی پر نکلنے والے بال ہیں اور عارض بھی اسی طرح ہے۔ اس نے فیصلہ کیا کہ کان کے اوپری سرے کے برابر بال کاٹے اور مونڈے جا سکتے ہیں، جبکہ رخساروں کے بال اور جو کان کے سوراخ کے برابر ہوں وہ داڑھی میں سے ہیں جسے راجح قول پر بڑھانا واجب اور مونڈنا ناجائز ہے، البتہ حلیہ بہتر کرنے کے لیے اس میں سے لینا بلا مضائقہ ہے؛ جائز مقدار وہ ہے جس سے بدنما حلیے کے ضرر کو دور کرنے کا مقصد حاصل ہو، کیونکہ ضرر دور کیا جاتا ہے، اور اگر وہ صبر کرے اور نہ کاٹے تو بہتر ہے۔

    اصل صفحہ

فتاوائمۃ المسلمین بقطع لسان المبتدعین 12 فتاویٰ

  • فتاوائمۃ المسلمین بقطع لسان المبتدعین

    محمود خطاب السبکی کا جمع کردہ فتاوے کا مجموعہ جو جنازوں، تقریبات اور میلاد میں عوامی بدعات کے خلاف ازہر کے علماء کے جوابات پر مشتمل ہے۔

  • فتوى في الترقية ورفع الصوت بالجنازة والأذان

    سوال: خطیب کے سامنے ترقیہ، جنازے پر قرآن یا بردہ بلند آواز سے پڑھنا، اور مسجد کے اندر اذان ثانی: سنت ہیں یا بدعت؟ جواب: ازہر کے علماء کے نزدیک یہ سب بدعت ہیں، قادر لوگوں پر ان کا روکنا لازم ہے، اور بدعت کو سنت پر مقدم نہیں کیا جا سکتا۔

  • فتوى السخرية بالشعائر في الترقية والمجالس

    A question on acclaiming the dead and raising voices at funerals, and on gatherings that mock the Qur'an, angels and prayer; the Al-Azhar answer calls them innovations and holds that such mockery takes its doer out of religion.

  • حكم إعمال الأموال في آلات الملاهي واختلاط النساء بالرجال

    Question on spending money on instruments of entertainment, mixing of men and women there, helping to fund it, and attending it. The answer: those able must stop it, a Muslim may not attend, since this is helping in wrongdoing, which is forbidden by consensus.

  • قراءة القرآن على المقابر والمشي بالنعال عليها

    Question on reciting the Qur'an at graves with the intent of asking, and on walking in shoes or sitting on graves. The answer: reciting with that intent is forbidden without dispute; walking in shoes or sitting on graves is discouraged, since it disrespects the dead and goes against the Prophet's prohibition.

  • حكم إعمال الميت من الطعام في المآتم

    Question on the food the bereaved family prepares for mourning gatherings, to which people gather. The answer: a disliked innovation when there are no minor heirs; if there are minors among the heirs it is forbidden, and so is eating from it.

  • «أه» کو اللہ کا نام قرار دینے پر فتویٰ

    سوال: ایک صوفی گروہ «أه» کی آواز دہراتا ہے اور اسے اللہ کا نام اور «اسمِ صدر» کہتا ہے۔ جواب: اللہ کے نام وحی سے طے ہیں، اور «أه» عربی میں درد کے اظہار کے سوا کوئی معنی نہیں رکھتا، اس لیے اسے اللہ کا نام نہیں کہا جا سکتا۔

  • تحریفِ اللہ کے نام کا حلقۂ ذکر میں فتویٰ

    سوال: ایک گروہ حلقات ذکر میں اللہ کے نام اور کلمۂ توحید کو کھینچ کر، بھاری کر کے اور حروف بڑھا کر بگاڑتا ہے۔ جواب: یہ گناہ ہے جس پر تعزیر لازم ہے، اور جو اس پر راضی ہو یا سنے وہ انہی جیسا ہے۔

  • جنازے میں بلند آواز سے ذکر پر فتویٰ

    جواب: جنازے کے ساتھ منظم اجتماعی بلند ذکر سنت کے خلاف بدعت ہے۔ مطلوب خاموشی اور غور و فکر ہے، جیسا کہ اسلاف کا اجماع ہے، کیونکہ جنازہ عاجزی اور موت پر غور کے لیے ہے۔

  • جمعہ کے دن سورۃ الکہف بلند آواز سے پڑھنے پر فتویٰ

    سوال: جمعہ کے دن سورۃ الکہف بلند آواز سے پڑھنا، جب لوگ رکوع، سجود اور ذکر میں مشغول ہوں، اور مسجد میں بلند آواز سے اوراد پڑھنے کا کیا حکم ہے؟ جواب: امام مالک کے مذہب پر یہ مکروہ ہے، جب تک خلل کا سبب نہ بنے۔

  • خطیب کے سامنے ترقیہ اور مسجد میں اذان

    سوال: خطیب کے سامنے ترقیہ اور مسجد کے اندر اذان سنت ہے یا بدعت؟ جواب: حنفی موقف کے مطابق ترقیہ مکروہ ہے، اور اذانِ اول ایک خاص مقصد کے لیے مقرر ہوئی ہے، اس لیے اس میں ایسا اضافہ نہ کیا جائے جو وقت میں خلل ڈالے۔

  • تمباکو نوشی کا حکم

    سوال: تمباکو نوشی کا کیا حکم ہے؟ جواب: طبیبوں کا اتفاق ہے کہ یہ نقصان دہ ہے، اور نقصان دہ چیز کا استعمال حرام ہے، اور جمہور علماء نے اس کی حرمت صراحت سے بیان کی ہے۔

اسلام سوال و جواب (islamqa.info) 7 فتاویٰ

  • بھائی کا اپنی بے حجاب بہن کو نصیحت کرنا

    ایک بھائی بتاتا ہے کہ اس کی بالغ بہن حجاب نہیں کرتی، گھر کا ذمہ دار باپ بھی یہی چاہتا ہے اور نصیحت کرنے پر اس نے بیٹے کو تکلیف دی ہے، اور پوچھتا ہے کہ کیا وہ گناہگار ہے اور کیا کرے۔ اسلام سوال و جواب نے جواب دیا کہ اگر بھائی نے اپنی استطاعت کے مطابق نصیحت کر دی ہے تو محض بہن کی بے پردگی سے وہ گناہگار نہیں؛ اسے حکمت اور نرمی سے دعوت دینی چاہیے، اس کے ایمان کو مضبوط کرنے اور خیالات درست کرنے پر توجہ دے، اور تعلق قائم رکھے، توڑے نہیں۔

    اصل صفحہ

  • کیا مصنوعی ذہانت سے فتویٰ لینا جائز ہے؟

    شرعی مسائل میں مصنوعی ذہانت کی ایپلی کیشنوں سے سوال کرنے اور ان کے احکام پر اعتماد کرنے کے بارے میں سوال، جس میں اسلام سوال و جواب نے جواب دیا کہ مصنوعی ذہانت اصل میں ایک مباح آلہ ہے، لیکن اس سے فتویٰ لینا یا دینی معاملات میں اس کے جوابوں پر اعتماد کرنا جائز نہیں، کیونکہ اس میں مفتی کی اہلیت نہیں، یعنی دین کی سمجھ، واقعے کی سمجھ اور مفتی کی وہ دیگر شرائط جو شافعی اور ابن القیم نے بیان کیں، اور کیونکہ اس کے جواب ایسے ڈیٹا سے خودکار طریقے سے پیدا ہوتے ہیں جس کا ماخذ نامعلوم، غلط یا من گھڑت ہو سکتا ہے، جن میں تربیت دینے والوں کا تعصب ہو سکتا ہے، اور جو اجتہادی احکام کے عرف اور حالات کے ساتھ بدلنے کا لحاظ نہیں رکھتے۔ سائٹ نے مصنوعی ذہانت اور فتویٰ کی ویب سائٹوں میں فرق کیا جہاں حقیقی لوگ جواب دیتے ہیں، اور کہا کہ شرعی محقق اس سے مواد جمع کرنے، مصادر تک پہنچنے، خلاصہ کرنے اور واقعے کو سمجھنے میں فائدہ اٹھا سکتا ہے بشرطیکہ ہر نقل کی تصدیق کرے، اور عام آدمی اسے عمومی تصور لینے یا فتاویٰ کے لنک مانگنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے جن کی طرف وہ خود رجوع کرے، ایک ذہین سرچ انجن کے طور پر، لیکن نظام کے خود پیدا کیے گئے فتوے پر عمل نہیں کر سکتا۔ اس نے معاصرین کے دو رجحان بیان کیے: مطلق ممانعت، یا ان ثابت احکام میں فرق جن میں سب مکلف برابر ہیں جہاں چار شرطوں کے ساتھ اس کے جوابوں سے فائدہ لیا جا سکتا ہے، اور عرف اور حالات پر مبنی احکام جہاں جائز نہیں؛ سائٹ نے موجودہ حالت میں ممانعت کے رجحان کو زیادہ قوی قرار دیا۔

    اصل صفحہ

  • کیا کوئی کتاب اختلافی مسائل میں احتیاط والا قول بتاتی ہے؟

    ایک سائل ایسی فقہی کتاب چاہتا ہے جو ہر اختلافی مسئلے میں دلیل اور وہ احتیاط والا قول بتائے جس سے آدمی اختلاف سے نکل جائے، نہ صرف راجح قول۔ اسلام سوال و جواب نے جواب دیا کہ احتیاط پر عمل ہمیشہ افضل یا ہمیشہ مطلوب نہیں، اور اسے کوئی ایک کتاب معلوم نہیں جو فقہ کے ہر مسئلے میں احتیاط والا قول بیان کرے؛ ساتھ احتیاط کی تعریف اور مشروع ورع پر علماء کے اقوال ذکر کیے۔

    اصل صفحہ

  • کیا سالن کے بغیر روٹی کھانے کی ممانعت ہے؟

    سوال کہ کیا سالن کے بغیر روٹی کھانے کی کوئی ممانعت آئی ہے۔ اسلام سوال و جواب نے جواب دیا کہ اسے اس بارے میں کوئی ثابت حدیث نہیں ملی، اصل یہ ہے کہ روٹی اکیلی یا جو سالن میسر ہو اس کے ساتھ کھانا جائز ہے، اور سالن حاصل کرنے کا تکلف لازم نہیں؛ اور ذکر کیا کہ نبی اپنی قوم کی طرح جو میسر ہوتا وہی کھاتے تھے۔

    اصل صفحہ

  • جلد نوچنے کی جبری عادت روکنے کے لیے ناخن جیل پر مسح کا حکم

    ایک خاتون برسوں سے ناخنوں کے گرد جلد کو جبری طور پر نوچتی ہیں جس سے زخم اور سوزش ہوتی ہے، اور انہیں معلوم ہوا کہ ناخنوں پر جیل کی تہہ اس عادت کو کم کرتی ہے؛ وہ وضو اور غسل میں اسے باقی رکھنے کے بارے میں پوچھتی ہیں۔ اسلام سوال و جواب نے جواب دیا کہ اصل یہ ہے کہ ناخنوں تک پانی پہنچنے سے روکنے والی چیز ہٹائی جائے، لیکن اگر اس نقصان سے بچنے کے لیے جیل رکھنا ضروری ہو اور کوئی مناسب متبادل نہ ہو تو جب تک ضرورت باقی ہے اسے رکھا جا سکتا ہے اور جبیرہ کے حکم پر اس پر مسح کیا جائے، ساتھ ہی اس جبری عادت کا علاج کرایا جائے۔

    اصل صفحہ

  • جمعہ کے دن نبی پر کثرت سے درود کیوں مستحب ہے؟

    یہ سوال کہ جمعہ کو درود کے لیے کیوں خاص کیا گیا۔ اسلام سوال و جواب نے جواب دیا کہ نبی پر درود ہر وقت مشروع ہے، اور جمعہ کی خصوصیت اس کی کثرت کی ترغیب ہے، اس دن کی فضیلت کی وجہ سے اور اس لیے کہ سنت کے مطابق اس دن درود خاص طور پر ان پر پیش کیا جاتا ہے؛ علماء نے اور حکمتیں بھی ذکر کی ہیں، اور بنیاد اطاعت ہے، حکمت سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔

    اصل صفحہ

  • سننِ فطرت پانچ ہیں یا دس، اور وہ کیا ہیں؟

    ابو ہریرہ کی حدیث کہ فطرت کی خصلتیں پانچ ہیں اور عائشہ کی حدیث کہ وہ دس ہیں کے درمیان تطبیق، اور تمام خصلتوں کی فہرست اور ہر ایک کے حکم کے بارے میں سوال؛ اسلام سوال و جواب نے جواب دیا کہ حدیث میں عدد حصر کے لیے نہیں اور اس کا مفہوم معتبر نہیں، جیسا کہ نووی اور ابن دقیق العید نے کہا؛ عائشہ کی حدیث کے مرفوع ہونے میں اختلاف ہے، احمد، نسائی اور دارقطنی نے اس پر اعتراض کیا، لہٰذا محفوظ یہ ہے کہ یہ طلق بن حبیب کا قول ہے، احمد اور ابو داود کے پاس عمار بن یاسر کی حدیث کے ساتھ؛ اور احادیث میں وارد خصلتوں کا مجموعہ پندرہ ہے جیسا کہ ابن حجر نے کہا: ختنہ، زیرِ ناف بال مونڈنا، ناخن تراشنا، بغل کے بال اکھاڑنا، مونچھ کاٹنا، داڑھی بڑھانا، مسواک، کلی، ناک میں پانی ڈالنا، ناک جھاڑنا، انگلیوں کے جوڑ دھونا، زیرِ ناف مونڈنا، استنجا، پانی چھڑکنا اور سر میں مانگ نکالنا۔ پھر اس نے ہر خصلت کا حکم بیان کیا: ختنہ ابن قدامہ اور ابن عثیمین کے نزدیک مردوں پر واجب اور عورتوں کے لیے اعزاز ہے اور ہلاکت کے خوف پر ساقط ہوتا ہے؛ زیرِ ناف بال مونڈنا، ناخن تراشنا، بغل کے بال اکھاڑنا اور مونچھ کاٹنا متفقہ سنتیں ہیں، گو ابن حزم، ابن العربی اور ابن القیم نے کاٹنے کو واجب کہا؛ داڑھی بڑھانا جمہور کے نزدیک واجب اور مونڈنا حرام ہے؛ مسواک بالاجماع سنت ہے؛ انگلیوں کے جوڑ دھونا مستحب ہے؛ کلی اور ناک میں پانی ڈالنا حنابلہ اور ابن تیمیہ کے نزدیک وضو میں واجب ہیں؛ ناک جھاڑنا سنت ہے؛ استنجا جمہور کے نزدیک واجب ہے؛ پانی چھڑکنا وسوسے کے مبتلا کے لیے مستحب ہے؛ مانگ نکالنا سنت ہے اور ابن عبد البر کے نزدیک بال لٹکانے سے بہتر ہے؛ اور ان خصلتوں کو چالیس دن سے زیادہ چھوڑنا شافعیہ اور حنابلہ کے نزدیک مکروہ اور حنفیہ کے نزدیک حرام ہے، جسے شوکانی اور ابن باز نے اختیار کیا۔

    اصل صفحہ

مجمع الفقه الإسلامي الدولي 6 فتاویٰ

  • بین الاقوامی اسلامی فقہ اکیڈمی کی قرارداد 260 (5/26): ڈیجیٹل (الیکٹرانک) گیمز کے احکام اور ضوابط

    بین الاقوامی اسلامی فقہ اکیڈمی کی دوحہ میں چھبیسویں اجلاس کی اجتماعی قرارداد، جس میں اس نے مقابلے کے کارڈوں کے بارے میں اپنی سابقہ قرارداد 127 (1/14) کی تاکید کی، ڈیجیٹل گیمز کی تعریف کی کہ یہ جدید ٹیکنالوجی یا ڈیجیٹل ایپلی کیشن کے ذریعے جسمانی اور ذہنی تعاملی سرگرمیاں ہیں جیسے ایکشن، ایڈونچر، پہیلیوں اور الیکٹرانک کھیلوں کی گیمز، اور فیصلہ کیا کہ انہیں کھیلنے میں اصل اباحت ہے: یہ جائز ہیں اگر ان میں کوئی حرام چیز نہ ہو، دین، جان، عقل، مال یا نسل کو نقصان نہ پہنچائیں، اور دوسروں پر زیادتی یا واجبات کے ضیاع تک نہ لے جائیں؛ ان کی تیاری اور تجارت ان مفاسد سے خالی ہونے پر جائز ہے اور بنانے والے کا فکری ملکیت کا حق ثابت ہے؛ اور گیم کارڈوں کی تجارت جائز ہے اگر وہ پیشگی ادائیگی والے ہوں اور معلوم منافع کی نمائندگی کریں۔ اس نے ڈیجیٹل تربیت کے رہنما اصول جاری کرنے اور گیمز کے خطرات کم کرنے والی قانون سازی، والدین کو عمر کے گروہ کے مطابق نگرانی کی ہدایت، ان کے فوائد اور نقصانات پر میڈیا سیمینار، اور پروگرامروں کو مفید اور پرکشش متبادل بنانے کی رہنمائی کی سفارش کی۔

    اصل صفحہ

  • بین الاقوامی اسلامی فقہ اکیڈمی کی قرارداد 261 (6/26): اسلامی شریعت میں نفسیاتی امراض کا اہلیت پر اثر

    بین الاقوامی اسلامی فقہ اکیڈمی کی دوحہ میں چھبیسویں اجلاس کی اجتماعی قرارداد، جس میں اہلیت کی تعریف کی گئی کہ یہ انسان کی حقوق اور فرائض کے ثبوت اور اس کے تصرفات کی صحت کی صلاحیت ہے، جو دو قسم کی ہے، اہلیتِ وجوب اور اہلیتِ ادا، اور اہلیتِ ادا عقل سے خطاب سمجھنے اور بدن سے اس پر عمل کرنے کی قدرت سے متعلق ہے؛ اور نفسیاتی امراض کی تعریف کی گئی کہ یہ طبی اعتبار سے معنی خیز علامات کے مجموعے ہیں جو فرد کے ادراک، رویے یا جذبات پر اثر ڈالتے اور اس کی کارکردگی میں کمزوری یا خلل پیدا کرتے ہیں۔ اس نے فیصلہ کیا کہ اصل یہ ہے کہ بالغ اور کامل اہلیت والا نفسیاتی مریض اپنے تصرفات کا پوری طرح ذمہ دار ہے جب تک کوئی معتبر مختص ادارہ اس کے خلاف ثابت نہ کرے؛ ماہرین نفسیاتی امراض کو تین قسموں میں بانٹتے ہیں: اہلیت ختم کرنے والے، کم کرنے والے اور اثر نہ ڈالنے والے؛ معیار ادراک، تمیز، فہم اور درست فیصلہ سازی پر اثر کی مقدار ہے، جو ماہرینِ نفسیات کے سپرد ایک تخصصی معاملہ ہے؛ مریض اہلیتِ ادا سے محروم ہوتا ہے جب ادراک و تمیز یا اپنے تصرفات پر کنٹرول کی قدرت کا فقدان ثابت ہو، اور ناقص الاہلیت جب وہ قدرت کم ہو؛ اور عدالت ہی قدرت کے فقدان یا کمی کا فیصلہ کرتی ہے۔ اس نے عدلیہ اور افتا میں کام کرنے والوں کے لیے نفسیاتی امراض پر تعلیمی کورسوں اور ڈاکٹروں، فقہا اور قاضیوں کے مشترکہ کورسوں کی سفارش کی تاکہ مشترکہ تخصصی رہنما اصول تیار کیے جائیں۔

    اصل صفحہ

  • بین الاقوامی اسلامی فقہ اکیڈمی کی قرارداد 262 (7/26): اسلامی مالیاتی اداروں میں شرعی حکمرانی

    بین الاقوامی اسلامی فقہ اکیڈمی کی اجتماعی قرارداد، جو اسلامی مالیاتی اداروں میں شرعی حکمرانی کی تعریف اور اس کے ضوابط طے کرتی ہے۔ اکیڈمی نے اسلامی بینکوں میں شرعی نگرانی کے کردار اور شرعی بورڈوں میں اجتہاد و فتویٰ کے ضوابط سے متعلق اپنی قرارداد 177 (3/19) کی توثیق کی۔ اس نے شرعی حکمرانی کی تعریف ایسے نظاموں، قواعد، پالیسیوں اور طریقۂ کار کے مجموعے سے کی جو شرعی پابندی کو یقینی بنائے اور معاشی اہداف، تعمیل اور ادارہ جاتی ساکھ میں توازن رکھے، اور اسلامی مالیاتی صنعت کے لیے متحد شرعی مرجع کی دعوت دی۔ اس نے طے کیا کہ اداروں کی انتظامیہ کو شرعی بورڈ کے ارکان کی آزادی پر اثر انداز ہونے کا کوئی اختیار نہیں؛ بورڈ اور درجہ بندی و آڈٹ کے ادارے اکیڈمی کی قراردادوں کے پابند ہوں اور ممنوعہ مصنوعات سے بچیں؛ اور نگران ادارے صکوک کے اجرا کو اس طرح منظم کریں کہ حاملین واقعی اثاثوں کے مالک ہوں اور ان کے نتائج برداشت کریں۔

    اصل صفحہ

  • بین الاقوامی اسلامی فقہ اکیڈمی کی قرارداد 264 (9/26): قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کو معلوم و نامعلوم عطیہ دہندگان کا دودھ پلانا

    بین الاقوامی اسلامی فقہ اکیڈمی کی اجتماعی قرارداد، جو قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کو عطیہ کردہ ماں کے دودھ سے متعلق ہے اور بچے کی ضرورت اور رضاعی محرمیت کے احکام میں توازن رکھتی ہے۔ اکیڈمی نے دودھ بینکوں سے متعلق اپنی قرارداد 6 (6/2) کی توثیق کی، اور رضاعت کی تعریف یہ کی کہ عورت کا دودھ دو سال تک کے بچے کے پیٹ میں پہنچے، خواہ پستان سے چوس کر یا منہ یا ناک میں ڈال کر۔ اس نے قبل از وقت بچے کی تعریف ایسے بچے سے کی جو حمل کے سینتیسویں ہفتے سے پہلے پیدا ہو، اور طے کیا کہ بچے کو دودھ پلانا اس کے گھر والوں پر واجب ہے اور ایسے بچے کے حق میں ضرورت کی وجہ سے اور زیادہ مؤکد ہے، اس لیے دودھ پلانے کے جائز ذرائع کا اہتمام ضروری ہے۔ اس نے عطیہ دہندگان کو یہ شرط رکھنے کی اجازت دی کہ ان کی معلومات شائع نہ ہوں اور اس کی پابندی لازم کی؛ عطیہ کردہ دودھ سے دوائیں بنانے والی کمپنیوں پر لازم کیا کہ بچوں کے گھر والوں کو عطیہ دہندگان کی پہچان کا موقع دیں تاکہ محرمیت محفوظ رہے؛ متعلقہ اداروں سے عطیے کے ضابطہ جاتی قوانین بنانے کو کہا؛ اور صحت کے حکام کو رضاعت کے اقدامات کی حوصلہ افزائی کی سفارش کی۔

    اصل صفحہ

  • بین الاقوامی اسلامی فقہ اکیڈمی کی قرارداد 265 (10/26): لیبارٹری میں تیار کردہ گوشت

    بین الاقوامی اسلامی فقہ اکیڈمی کی اجتماعی قرارداد، جس نے چھ شرائط کے ساتھ لیبارٹری میں تیار کردہ گوشت کھانے اور بیچنے کی اجازت دی۔ اکیڈمی نے غذا اور دوا میں استحالہ، استہلاک اور اضافی مواد سے متعلق اپنی قرارداد 198 (4/21) اور انسانی کلوننگ سے متعلق قرارداد 94 (2/10) کی توثیق کی۔ اس نے ایسے گوشت کی تعریف یہ کی کہ یہ غذا عموماً زندہ جانور سے لیے گئے خلیوں سے بنتی ہے جنہیں لیبارٹری میں گلوکوز، وٹامن اور نمکیات جیسے غذائی اجزا ڈال کر ہفتوں تک بڑھایا جاتا ہے، اور اسے لیبارٹری کا یا صاف گوشت بھی کہا جاتا ہے۔ اس نے شرائط کے ساتھ اسے کھانے اور بیچنے کی اجازت دی: خلیے حلال جانور سے لیے جائیں جو زندہ ہو یا شرعی طریقے سے ذبح کیا گیا ہو؛ انہیں بہتے خون جیسے حرام ماحول میں نہ بڑھایا جائے اور خنزیر کی جیلاٹین جیسی کوئی حرام چیز نہ ملائی جائے؛ پورا عمل کسی معتبر ماہر ادارے کی نگرانی میں ہو؛ حتمی پیداوار کھانے کے قابل اور بے ضرر ہو؛ یہ جانور کے گوشت کا متبادل نہیں بلکہ اس کے ساتھ اضافہ ہو؛ اور کمپنیاں صارفین کو ضروری معلومات بتائیں اور نگران ادارے اس کی پابندی جانچیں۔

    اصل صفحہ

  • بین الاقوامی اسلامی فقہ اکیڈمی کی قرارداد 266 (11/26): حیوانی اصل کی جینیاتی طور پر تبدیل شدہ غذائیں

    بین الاقوامی اسلامی فقہ اکیڈمی کی اجتماعی قرارداد، جس نے تین شرائط کے ساتھ حیوانی اصل کی جینیاتی طور پر تبدیل شدہ غذاؤں کو جائز قرار دیا۔ اکیڈمی نے ان غذاؤں کی تعریف ایسی مصنوعات سے کی جو ان زندہ جانوروں سے حاصل ہوں جن کا جینیاتی مادہ جینیاتی انجینئرنگ سے بدلا گیا ہو، دوسرے جانوروں کے جین داخل کر کے یا جین حذف، تبدیل یا از سرِ نو ترتیب دے کر۔ اس نے ذکر کیا کہ اس تبدیلی کا مقصد جانور کی بیماریوں کے خلاف مزاحمت بڑھانا، غذائی قدر بہتر کرنا، نشوونما تیز کرنا یا اسے خاص ماحول کے مطابق ڈھالنا ہے۔ اس نے شرائط کے ساتھ انہیں کھانے کی اجازت دی: تبدیلی محفوظ طریقوں سے ہو جو شریعت کے خلاف اور صحت کے لیے مضر نہ ہوں؛ یہ دو ایسے جانوروں کے درمیان ہو جن کا کھانا جائز ہے؛ اور تبدیل شدہ غذا اور اس کی تیاری کے طریقے کی ضروری معلومات ظاہر کی جائیں۔

    اصل صفحہ